عید میلادالنبی(ص) اور ہفتہ وحدت

Rate this item
(0 votes)

عید میلادالنبی(ص) اور ہفتہ وحدت

عید میلادالنبی(ص) اور ہفتہ وحدت

عاشقان رسول کی جانب سے ہندوستان سمیت دنیا کے گوشہ و کنارمیں گزشتہ روز نماز مغرب کے ساتھ ہی خاتم النبین، سید المرسلین آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشیاں منانے کا سلسلہ شروع ہوا۔اس موقع پرپاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہروں قصبے اور گلیوں، کوچے، بازار اور چوراہوں پر سبز پرچموں کی بہار ہے جبکہ اہم عمارات، مارکیٹوں، بازاروں اور چوراہوں کو برقی قمقموں اور آرائشی سامان کے ذریعے انتہائی خوبصورتی سے سجایا گیا ہے،اس کے علاوہ گھروں میں چراغاں کیا گیا ہے، مساجد میں رسول اللہ کی سیرت مبارکہ اور سنتوں کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جارہی ہے، کئی مقامات پر محافل نعت و سلام کی تقاریب منعقد کی جارہی ہیں جس میں رسول اللہ کی شان میں نذرانہ عقیدت کے پھول نچھاور کئے جارہے ہیں اور ہفتہ وحدت کی اہمیت پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔

پاکستان میں اس مرتبہ عید میلادالنبی(ص) کے جلوسوں میں مسلمانوں اور علماء کرام کی بڑے پیمانے پر شرکت،استقبالیہ کیمپ اور جلوس کے راستوں پر سبیلیں لگانے جیسے اقدامات نے اس ملک میں اتحاد و وحدت کی ایک مثالی فضا بنا دی تھی۔

عید میلادالنبی(ص) کے موقع پرامن وامان کی مخدوش صورتحال کے باعث پاکستان بھر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ سیکیورٹی الرٹ کے مطابق کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں موبائل فون سروس بند کردی گئی تھی۔

رسول خدا (ص) کی ولادت با سعادت ہر چند ماہ ربیع الاول میں ہوئی تاہم اہلسنت12ربیع الاول اورشیعہ 17ربیع الاول کو عید میلادالنبی(ص) کا جشن مناتے ہیں لیکن بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد واتفاق کیلئے12 ربیع الاول سے17ربیع الاول تک کے ایام کو ہفتہ وحدت کا نام دیا۔اوراس کے بعد سے دنیا بھر میں ہفتہ وحدت کے موقع پر مختلف قسم کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ اور مسلمانوں کے مابین اتحاد و وحدت پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اور اسی سلسلسے میں بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ مسلمان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکت کو اپنے اتحاد کا محور قراردیں۔

حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ اپنی پوری زندگی درس وحدت دیتے رہے اور لوگوں کو اسلامی اتحاد کی طرف بلاتے رہے اور آخری سانسیں بھی اسلامی اتحاد کی بقاء کی فکر میں لیتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے بعد رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سیدعلی خامنہ ای نے بھی امام خمینی کی پیروی میں مسلمانوں کو اتحاد کی تلقین کا فریضہ انجام دیاآپ نے اتحاد اسلامی کے لئے وہ کارنامے انجام دئیے جس کی وجہ سے آج خود آپ کی شخصیت رمز وحدت کے طور پر دنیا میں ابھر کر سامنے آئی ہے ۔

بارہ سے سترہ ربیع الاول تک کے ایام یعنی ہفتۂ وحدت میں پورے عالم اسلام میں مختلف پروگرام منعقد کئیے جاتے ہیں اور اس پورے ہفتے میں عید میلادالنبی (ص) کے سلسلے میں جشن اور تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اسی حوالے سے تہران میں ہر سال عالمی وحدت کانفرنس کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔اس موضوع پرہندوستان کے اہلسنت عالم دین مفتی عبدالباطن کہتے ہیں۔

اللہ تعالی نے مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے اوراتحاد کو الہی نعمت سے تعبیر کیا ہے اور ان کو تفرقے اور فرقہ واریت سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد پروردگار ہوتا ہے کہ اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے پھر اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کی اور تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گۓ۔

ایسے وقت میں جب اسلام کے بارے میں اسلام دشمن طاقتیں فرقہ واریت اورمذہبی تعصبات کو ہوا دے کر شیعہ، سنی اختلافات سے اپنے مذموم اھداف حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ آج پاکستان، افغانستان، شام اورعراق سمیت کئی ممالک میں وہابیت اورانتھا پسندی کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے اور جسطرح انفرادی اور اجتماعی سطح پر دین اسلام اور مسلمانوں کو دہشتگرد کے طورپر متعارف کرایا جارہا ہے اس میں بنیادی کرداران طاقتوں کا ہے جنہوں نے پہلے مرحلے میں اسلام کے اندر فرقہ واریت کو فروغ دیا ہے اور بعد میں اسلام کی من مانی تشریح کرکے سامراجی اھداف کو پروان چڑھایا ۔ آج مغربی طاقتیں مسلمان ملکوں میں بالخصوص شام، پاکستان، عراق اوربحرین میں فرقہ واریت نیز لڑاواورتقسیم کرو کے سامراجی فارمولے کے تحت خطے میں اپنا اثرونفوذ بڑھانے کی کوشش کررہی ہیں۔ ایسی صورت حال میں ہفتہ وحدت منانا اوراسلامی وحدت کے لئے غوروفکر کرنا اسکی حقیقی تعلیمات کو فروغ دینے میں نہایت اہم کردارادا کرسکتا ہے۔

مسلمان ممالک میں قدرتی ذخائر کی کمی نہیں ہے۔اوراغیار ہمارے ہی ذخائر سے ہمیں دبوچنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے بھی اسلامی ممالک بڑی اہمیت کا حامل ہیں، تیل اور گیس کی دریافتوں نے اس کی سیاسی اہمیت کے نئے دروازے کھول دیئے اس پس منظر میں اگر مسلم دنیا اسلامی اقدار و اخوت کی بنیاد پر متحّد ہو گئی ہوتی، تواس کو سیاسی استحکام حاصل ہوا ہوتا اورعلمی پیش رفت میں ماضی کی طرح اس خطہ کا حصہ قابل تقلید ہوتا،اوراس صورت میں کسی بھی غیرملکی طاقت کو یہ جرات نہ ہوتی کہ وہ اسلامی ممالک پراپنا تسلط قائم کرتا۔

بد قسمتی سے مسلمانوں کے فرقوں اور مسلکوں کے درمیان نفرت و تفرقہ کے نتیجہ میں مغربی طاقتوں کو مسلم بلاک کے اندرانتشار پھیلانے کا موقعہ ملا، اُن کی کوششیں امّت مسلمہ کو پارہ پارہ کر نے پر مرکوز رہیں، جن کے پیچھے ان کے رذیّل مفادات و مقاصد کار فرما تھے،

آج جب امت مسلمہ عدم اتحاد و وحدت کی شکار ہو رہی ہے، ایسے میں بعض استعماری و استکباری زرخرید و نام نہاد مسلمانوں کی طرف سے امت واحدہ کے ساتھ خیانت ہورہی ہے۔ امت کے سنجیدہ طبقات، باشعور شخصیات اور مخلص افراد کو ایسے خائنوں کو خود سے اور اپنے معاشرے سے الگ کرنا ہو گا، حقیقت یہ ہے کہ فکری ارتقاء اور اسوہ رسول (ص) میں حسن تدبر کا مشاہدہ کرکے متفقہ سیرت سے استفادہ کرکے آج اور ہر دور کے مسلمان، رنگ و نسل، زبان اور قومیت کی دیواروں کو گرا کرایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرکے اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں، ورنہ عام طور پرمشرکانہ جاہلیت اور جماعتی عصبیت کی جھوٹی جلوہ نمائیوں سے انتشار کا مرض بڑھتا ہی جائے گا، اتحاد ہی سب سے بڑی طاقت ہے اور وحدت ہی واحد راستہ ہے جو امت مسلمہ کو اپنا کھویا ہوا مقام واپس دلوا سکتا ہے ۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کو زبردست چیلنجوں کا سامنا ہےاوراسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی سازشیں تیار کر رہی ہیں اورانہیں نیست ونابود کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں، مسلم اتحاد واتفاق وقت کا تقاضہ ہے کہ مختلف تنظیمی، جماعتی اور مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے ۔

عالم اسلام کو درپیش تمام اندورنی اور بیرونی مسائل کی جڑ اتحاد کا فقدان ہے۔ اگر مسلمان جسد واحد کی طرح ہوتے اور ایک دوسرے کے خلاف مسلکی اور جزوی اختلافات کو محاذ جنگ نہ بناتے تو دنیائے کفروالحاد اورہنود ویہود کی جرات نہ ہوتی کہ مسلمانوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کریں۔

اگرعالم اسلام رواداری اوراخوت کےعظیم الہٰی حکم پرعمل کرتے تو نہ مسئلہ فلسطین پیش آتا نہ مسلمانوں کا اسطرح خون بہتا، نہ شام و عراق و افغانستان اور پاکستان خاک وخون میں غلطاں ہوتا یہ سب مسلمانوں کے باہمی اختلافات کے سبب ہے۔

بہرحال جس طرح ابھی ہندوستان کے اہلسنت عالم دین مفتی عبدالباطن نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ہفتہ وحدت اورعید میلادالنبی(ص) کا پیغام یہ ہے کہ تمام مسلمانان عالم حضور پاک (ص ) کی سیرت پرعمل پیرا ہوکراورحبل المتین کو تھام کرتمام اسلام کے دشمنوں سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں اور دنیا میں امن و امان اور اخلاقی اقدار کا بول بالا کر سکتے ہیں

Read 1861 times

Add comment


Security code
Refresh