امیرالمومنین حضرت علی علیہ السّلام کی حیات طیبہ پر ایک نظر

Rate this item
(0 votes)

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السّلام کی حیات طیبہ پر ایک نظر

پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کا نام اللہ کے نام پر علی رکھا ۔ حضرت ابوطالب و فاطمہ بنت اسد نے پیغمبر اسلام (ص) سے عرض کیا کہ ہم نے ہاتف غیبی سے یہی نام سنا تھا۔ آپ کے مشہور القاب امیر المومنین ، مرتضی، اسد اللہ، ید اللہ، نفس اللہ، حیدر، کرار، نفس رسول اور ساقی کوثر ہیں۔ جب کہ آپ کی مشہور کنیت ابو الحسن و ابو تراب ہیں۔

حضرت علی علیہ السلام ہاشمی خاندان کے وه پہلے فرزند ہیں جن کے والد اور والده دونوں ہاشمی ہیں ۔ آپ کے والد ابو طالب بن عبد المطلب بن ہاشم ہیں اور ماں فاطمہ بنت اسد بن ہاشم ہیں۔ہاشمی خاندان قبیلہ قریش میں اور قریش تمام عربوں میں اخلاقی فضائل کے لحاظ سے مشہور و معروف تھے ۔ جواں مردی ، دلیری ، شجاعت اور بہت سے فضائل بنی ہاشم سے مخصوص تھے اور یہ تمام فضائل حضرت علی علیہ السلام کی ذات مبارک میں بدرجہ اتم موجود تھے ۔

جب حضرت علی علیہ السلام کی ولادت کا وقت قریب آیا تو فاطمہ بنت اسد کعبہ کے پاس تشریف لائیں اور اپنے جسم کو اس کی دیوار سے مس کر کے عرض کیا: پروردگارا ! میں تجھ پر، تیرےنبیوں پر، تیری طرف سے نازل شده کتابوں پر اور اس مکان کی تعمیر کرنے والے، اپنے جد ابراھیم علیہ السلام کے کلام پر راسخ ایمان رکھتی ہوں۔

پروردگارا ! تجھے اس ذات کے احترام کا واسطہ جس نے اس مکان مقدس کی تعمیر کی اور اس بچہ کے حق کا واسطہ جو میرے شکم میں موجود ہے، اس کی ولادت کو میرے لئے آسان فرما ، ابھی ایک لمحہ بھی نہیں گزرا تھا کہ کعبہ کی جنوب مشرقی دیوار ، عباس بن عبد المطلب اور یزید بن تعف کی نظروں کے سامنے شگافتہ ہوئی، فاطمہ بنت اسد کعبہ میں داخل ہوئیں اور دیوار دوباره اصلی حالت میں متصل گئی ۔ فاطمہ بنت اسد تین دن تک روئے زمین کے اس سب سے مقدس مکان میں اللہ کی مہمان رہیں اور تیره رجب سن ۳۰/ عام الفیل کو بچہ کی ولادت ہوئی ۔ ولادت کے بعد جب فاطمہ بنت اسد نے کعبہ سے باھر آنا چاہا تو دیوار دو باره شگافتہ ہوئی، آپ کعبہ سے باہر تشریف لائیں اور فرمایا :” میں نے غیب سے یہ پیغام سنا ہے کہ اس بچے کا ” نام علی “ رکھنا “ ۔

حضرت علی علیہ السلام تین سال کی عمر تک اپنے والدین کے پاس رہے اور اس کے بعد پیغمبر اسلام (ص) کے پاس آگئے۔ کیونکہ جب آپ تین سال کے تھےاس وقت مکہ میں بہت سخت قحط پڑا ۔جس کی وجہ سے رسول خدا (ص) کے چچا ابو طالب کو اقتصادی مشکل کابہت سخت سامنا کرنا پڑا ۔ رسول اللہ (ص) نے اپنے دوسرے چچا عباس سے مشوره کرنے کے بعد یہ طے کیا کہ ہم میں سے ہر ایک، ابو طالب کے ایک ایک بچے کی کفالت اپنے ذمہ لے لے تاکہ ان کی مشکل آسان ہو جائے ۔ اس طرح عباس نے جعفر اور رسول خدا (ص) نے علی علیہ السلام کی کفالت اپنے ذمہ لے لی۔

حضرت علی علیہ السّلام پوری طرح سے پیغمبر اکرم (ص) کی کفالت میں آگئے اور حضرت علی علیہ السّلام کی پرورش براهِ راست حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زیر نظر ہونے لگی ۔آپ نے انتہائی محبت اور توجہ سے اپنا پورا وقت، اس چھوٹے بھائی کی علمی اورا خلاقی تربیت میں صرف کیا. کچھ تو حضرت علی (ع) کے ذاتی جوہر اور پھراس پر رسول اسلام (ص) جیسے بلند مرتبہ مربیّ کا فیض تربیت ، چنانچہ علی علیہ السّلام دس برس کے سن میں ہی اتنی بلندی پر پہنچ گئے کہ جب پیغمبر اسلام (ص) نے رسالت کا اعلان کیا تو آپ نے ان کی تصدیق فرمائی ۔ آپ ہمیشہ رسول خدا(ص) کے ساتھ رہتے تھے، یہاں تک کہ جب پیغمبر اکرم (ص) شہر سے باہر، کوه و بیابان کی طرف جاتے تھے تو آپ کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے ۔

حضرت علی علیہ السّلام کے دیگر افتخارات میں سے ایک یہ ہے کہ جب شب ہجرت مشرکین مکہ نے رسول خدا (ص) کے قتل کی سازش رچی تو آپ نے پوری شجاعت کے ساتھ رسول خدا (ص) کے بستر پر سو کر ان کی سازش کو نا کام کر دیا

حضرت ابو طالب علیہ السّلام کی وفات سے پیغمبر کا دل ٹوٹ گیا اور آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کاارادہ کرلیا ۔ دشمنوں نے یہ سازش رچی کہ ایک رات جمع ہو کر پیغمبر کے گھر کو گھیر لیں اور حضرت کو شہید کرڈالیں۔ جب حضرت کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اپنے جاں نثار بھائی علی علیہ السّلام کو بلا کر اس سازش کے بارے میں اطلاع دی اور فرمایا: کہ آج رات تم میرے بستر پر سو جاؤ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا اے رسول خدا، کیا میرے سو رہنے سے آپ کی جان بچ جائے گی ؟ آنحظرت ص نےفرمایا: ہاں اے علی ، پھر آپ مخفی طور پر مکہ سے روانہ ہوگئے . کوئی دوسرا ہوتا تو یہ پیغام سنتے ہی اس کا دل دہل جاتا، مگر علی علیہ السّلام نے یہ سن کر کہ میرے ذریعہ سے رسول کی جان کی حفاظت ہوگی، خدا کاشکر ادا کیا اور بہت خوش ہوئے کہ مجھے رسول کافدیہ قرار دیا جارہا ہے۔ یہی ہوا کہ رسالت مآب شب کے سناٹے میں مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے اور علی بن ابی طالب علیہ السّلام رسول کے بستر پر سوگئے۔ چاروں طرف خون کے پیاسے دشمن تلواریں کھینچے نیزے لئے ہوئے مکان کوگھیرے ہوئے تھے . بس اس بات کی دیر تھی کہ ذرا صبح ہو اور سب کے سب گھر میں داخل ہو کر رسالت مآب کوقتل کر ڈالیں . علی علیہ السّلام اطمینان کے ساتھ بستر پرآرام سے سوتے رہے اور اپنی جان کا ذرا بھی خیال نہ کیا۔ جب دشمنوں کو صبح کے وقت یہ معلوم ہوا کہ محمد نہیں ہیں تو انھوں نے آپ پر یہ دباؤ ڈالا کہ آپ بتلادیں کہ رسول کہاں گئے ہیں ؟ مگر علی علیہ السّلام نے بڑے بہادرانہ انداز میں یہ بتانے سے قطعی طور پر انکار کردیا اور فرمایا: کہ کیا تم نے محمد کو میرے حوالے کیا تھا ۔ ادھر رسول خدا (ص) مکہ سے کافی دور بغیر کسی پریشانی اور رکاوٹ کے تشریف لے گئے .علی علیہ السّلام تین روز تک مکہ میں رہے . جن لوگوں کی امانتیں رسول خدا کے پاس تھیں ان کے سپرد کر کےخواتین کو اپنے ساتھ لے کرمدینہ کی طرف روانہ ہوئے . آپ کئ روز تک رات دن پیدل چل کر اس حالت میں رسول خدا کے پاس پہنچے کہ آپ کے پیروں سے خون بہ رہا تھا. اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ علی علیہ السّلام پر رسول خدا کو سب سے زیادہ اعتماد تھا اور جس وفاداری , ہمت اور دلیری سے علی علیہ السّلام نے اس ذمہ داری کو پورا کیا ہے وہ بھی اپنی آپ میں ایک مثال ہے۔

پیغمبر اکرم (ص) اپنی پر برکت زندگی کے آخری سال میں حج کا فریضہ انجام دینے کے بعد مکہ سے مدینے کی طرف پلٹ رہے تھے، جس وقت آپ کا قافلہ جحفہ کے نزدیک غدیر خم نامی مقام پر پہنچا تو جبرئیل امین یہ آیہ بلغ لیکر نازل ہوئے، پیغمبر اسلام (ص)نے قافلےکو ٹہرنے کا حکم دیا ۔ نماز ظہر کے بعد پیغمبر اکرم (ص) اونٹوں کے کجاؤں سے بنے منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا : ” ایھا الناس ! وہ وقت قریب ہے کہ میں دعوت حق پر لبیک کہتے ہوئے تمھارے درمیان سے چلا جاؤں ،لہذا بتاؤ کہ میرے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ “ سب نے ایک آواز میں کہا :” ہم گواھی دیتے ہیں کہ آپ نے الٰھی آئین و قوانین کی بہترین طریقے سے تبلیغ کی ہے ۔ رسول خدا(ص) نے فرمایا ” کیا تم گواہی دیتے ہو کہ خدائے واحد کے علاوہ کوئی دوسرا خدا نہیں ہے اور محمد خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہے ۔ پھر فرمایا: ” ایھا الناس ! مومنوں کے نزدیک خود ان سے بہتر اور سزا وار تر کون ہے ؟۔

لوگوں نے جواب دیا :” خدا اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں “۔

پھر رسول خدا (ص) نے حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں کو پکڑ کر بلند کیا اور فرمایا :من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ۔ جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے یہ علی مولا ہیں ۔ رسول خدا (ص) نے اس جملے کی تین مرتبہ تکرار کی ۔ اس کے بعد لوگوں نے حضرت علی علیہ السلام کواس منصب ولایت کے لئے مبارک باد دی اور آپ کے ھاتھوں پر بیعت کی ۔

حضرت علی علیہ السّلام کے امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول خدا (ص) آپ کی بہت عزت کرتے تھے اور اپنے قول و فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے کبھی یہ فرماتے تھے کہ " علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں" .کبھی یہ فرمایا کہ " میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں . کبھی یہ فرمایا کہ سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے . کبھی یہ فرمایا" علی کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی . کبھی یہ فرمایا: علی مجھ سے وہ نسبت ہے جو روح کو جسم سے یاسر کو بدن سے ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں علی علیہ السّلام کو نفسِ رسول کا خطاب ملا. عملی اعزاز یہ تھا کہ جب مسجد کے صحن میں کھلنے والے، سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کادروازہ کھلا رکھا گیا . جب مہاجرین وانصار میں بھائی کا رشتہ قائم کیا گیا تو علی علیہ السّلام کو پیغمبر نے اپنا بھائی قرار دیا۔

Read 2616 times

Add comment


Security code
Refresh