بیعت غدیر

Rate this item
(0 votes)
بیعت غدیر

تحریر: سید آصف نقوی

پیغمبر اکرمؐ کی زندگی کا آخری سال تھا۔ ”حجۃ الوداع“ کے مراسم جس قدر باوقار اور باعظمت ہوسکتے تھے، وہ پیغمبر اکرمﷺ کی ہمراہی میں اختتام پذیر ہوئے، سب کے دل روحانیت سے سرشار تھے، ابھی تک ان کی روح اس عظیم عبادت کی معنوی لذت کا ذائقہ محسوس کر رہی تھی۔ اصحاب پیغمبرؐ کی کثیر تعداد آنحضرتؐ کے ساتھ اعمال حج انجام دینے کی عظیم سعادت پر بہت زیادہ خوش نظر آرہے تھے۔ پیغمبرؐ کے ساتھیوں کی تعداد بعض کے نزدیک 90 ہزار اور بعض کے نزدیک ایک لاکھ بارہ ہزار اور بعض کے نزدیک ایک لاکھ بیس ہزار اور بعض کے نزدیک ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔ نہ صرف مدینہ کے لوگ اس سفر میں پیغمبرؐ کے ساتھ تھے بلکہ جزیرہ نمائے عرب کے دیگر مختلف حصوں کے مسلمان بھی یہ عظیم تاریخی اعزاز و افتخار حاصل کرنے کے لئے آپؐ کے ہمراہ تھے۔

میدانِ غدیر خم کا پس منظر
سرزمین حجاز کا سورج در و دیوار اور پہاڑوں پر آگ برسا رہا تھا، لیکن اس سفر کی بے نظیر روحانی حلاوت نے تمام تکلیفوں کو آسان بنا دیا تھا۔ زوال کا وقت نزدیک تھا، آہستہ آہستہ ”جحفہ“ کی سرزمین اور اس کے بعد خشک اور جلانے والے ”غدیر خم“ کا بیابان نظر آنے لگا۔ در اصل یہاں ایک چوراہا ہے، جو حجاز کے لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے، شمالی راستہ مدینہ کی طرف، دوسرا مشرقی راستہ عراق کی طرف، تیسرا راستہ مغربی ممالک اور مصر کی طرف اور چوتھا جنوبی راستہ سرزمین یمن کو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام تھا، جہاں آخری اور اس عظیم سفر کا اہم ترین مقصد انجام دیا جانا تھا اور پیغمبرؐ مسلمانوں کے سامنے اپنی آخری اور اہم ذمہ داری کی بنا پر آخری حکم پہچانا چاہتے تھے۔

آیہ بلغ
یَااٴَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ إِنَّ اللهَ لاَیَہْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ ”اے پیغمبر! آپ اس حکم کو پہنچا دیں، جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔“(سورہ مائدہ ، آیت 67) اہل سنت کی متعدد کتابوں نیز تفسیر و حدیث اور تاریخ کی (تمام شیعہ مشہور کتابوں میں) بیان ہوا ہے کہ مذکورہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ ان احادیث کو بہت سے اصحاب نے نقل کیا ہے، منجملہ: ”ابوسعید خدری“، ”زید بن ارقم“، ”جابر بن عبد اللہ انصاری“، ”ابن عباس“، ”براء بن عازب“، ”حذیفہ“، ”ابو ہریرہ“، ”ابن مسعود“ اور ”عامر بن لیلی“، اور ان تمام روایات میں بیان ہوا کہ یہ آیت واقعہ غدیر سے متعلق ہے اور حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
ابن عساکر شافعی: الدر المنثور سے نقل کیا ہے، جلد دوم، صفحہ۲۹۸
فخر الدین رازی: ”تفسیر کبیر“، جلد ۳، صفحہ ۶۳۶
بد ر الدین حنفی: ”عمدۃ القاری فی شرح صحیح البخاری“، جلد ۸، صفحہ ۵۸۴
شیخ محمد عبدہ مصری: ”تفسیر المنار“، جلد ۶، صفحہ ۴۶۳
 اور ان کے علاوہ بہت سے دیگر علمانے اس حدیث کو بیان کیا ہے۔

ان مذکورہ روایات کے علاوہ بھی متعددروایات ہیں، جن میں وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ یہ آیت غدیر خم میں اس وقت نازل ہوئی کہ جب پیغمبر اکرم (ص) نے خطبہ دیا اور حضرت علی علیہ السلام کو اپنا وصی و خلیفہ بنایا، ان کی تعداد گذشتہ روایات کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے، یہاں تک محقق بزرگوار علامہ امینی نے کتابِ ”الغدیر“ میں ۱۱۰ اصحاب پیغمبر سے زندہ اسناد اور مدارک کے ساتھ نقل کیا ہے۔ جمعرات کا دن تھا اور ہجرت کا دسواں سال، آٹھ دن عید قربان کو گزرے تھے کہ جیسے ہی یہ آیت نازل ہوئی تو پیغمبرﷺ کی طرف سے سب کو ٹھہرنے کا حکم دیا گیا، مسلمانوں نے بلند آواز سے قافلہ سے آگے چلے جانے والے لوگوں کو واپس بلایا اور اتنی دیر تک رُکے رہے کہ پیچھے آنے والے لوگ بھی پہنچ گئے۔ آفتاب خط نصف النہار سے گزر گیا تو پیغمبرؐ کے موٴذن نے ”اللہ اکبر“ کی صدا کے ساتھ لوگوں کو نماز ظہر پڑھنے کی دعوت دی، مسلمان جلدی جلدی نماز پڑھنے کے لئے تیار ہوگئے، لیکن فضا اتنی گرم تھی کہ بعض لوگ اپنی عبا کا کچھ حصہ پاؤں کے نیچے اور باقی حصہ سر پر رکھنے کے لئے مجبور تھے، ورنہ بیابان کی گرم ریت اور سورج کی شعاعیں ان کے سر اور پاؤں کو تکلیف دے رہی تھیں۔

اس صحرا میں کوئی سایہ نظر نہیں آتا تھا اور نہ ہی کوئی سبزہ یا گھاس، صرف چند خشک جنگلی درخت تھے، جو گرمی کا سختی کے ساتھ مقابلہ کر رہے تھے۔ کچھ لوگ انہی چند درختوں کا سہارا لئے ہوئے تھے، انہوں نے ان برہنہ درختوں پر ایک کپڑا ڈال رکھا تھا اور پیغمبرؐ کے لئے ایک سائبان بنا رکھا تھا، لیکن سورج کی جلا دینے والی گرم ہوا اس سائبان کے نیچے سے گزر رہی تھی۔ نماز ظہر کے بعد رسول اللہ ؐنے انہیں آگاہ کیا کہ وہ سب کے سب خداوند تعالیٰ کا ایک نیا پیغام سننے کے لئے تیار ہو جائیں، جسے ایک مفصل خطبہ کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔ جو لوگ رسول اللہ ؐ سے دور تھے، وہ اس عظیم اجتماع میں پیغمبر کا ملکوتی اور نورانی چہرہ دیکھ نہیں پا رہے تھے، لہٰذا اونٹوں کے پالانوں کا منبر بنایا گیا، پیغمبرؐ اس پر تشریف لے گئے، پہلے پروردگار عالم کی حمد و ثنا بجا لائے اور خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے یوں خطاب فرمایا: "میں عنقریب خداوند ِ متعال کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے تمہارے درمیان سے جانے والا ہوں، میں بھی جوابدہ ہوں اور تم لوگ بھی جوابدہ ہو، تم میرے بارے میں کیا کہتے ہو؟ سب لوگوں نے بلند آواز میں کہا: ”نَشھَد اٴنّکَ قَد بَلَغْتَ وَ نَصَحْتَ وَ جَاھَدتَّ فَجَزَاکَ اللہُ خَیْراً“ ”ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے فریضہٴ رسالت انجام دیا اور خیر خواہی کی ذمہ داری کو انجام دیا اور ہماری ہدایت کی راہ میں سعی و کوشش کی،خدا آپ کو جزائے خیر دے۔“

اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: کیا تم لوگ خدا کی وحدانیت، میری رسالت اور روز قیامت کی حقانیت اور اس دن مردوں کے قبروں سے مبعوث ہونے کی گواہی نہیں دیتے۔؟ سب نے کہا: کیوں نہیں! ہم سب گواہی دیتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: خدایا! گواہ رہنا۔ آپؐ نے مزید فرمایا: اے لوگو! کیا تم میری آواز سن رہے ہو۔؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس کے بعد سارے بیابان پر سکوت کا عالم طاری ہوگیا، سوائے ہوا کی سنسناہٹ کے کوئی چیز سنائی نہیں دیتی تھی، پیغمبرؐ نے فرمایا: دیکھو! میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں بطور یادگار چھوڑے جا رہا ہوں، تم ان کے ساتھ کیا سلوک کرو گے۔؟ حاضرین میں سے ایک شخص نے پکار کر کہا: یارسول اللہؐ وہ دو گرا نقدر چیزیں کونسی ہیں۔؟ تو پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا: پہلی چیز تو اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، جو ثقل اکبر ہے، اس کا ایک سرا پروردگار عالم کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھ میں ہے، اس سے ہاتھ نہ ہٹانا، ورنہ تم گمراہ ہو جاؤ گے، دوسری گرانقدر یادگار میرے اہل بیت ؑہیں اور مجھے خدائے لطیف و خبیر نے خبر دی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ بہشت میں مجھ سے آملیں گے۔ ان دونوں سے آگے بڑھنے (اور ان سے تجاوز کرنے) کی کوشش نہ کرنا اور نہ ہی ان سے پیچھے رہنا کہ اس صورت میں بھی تم ہلاک ہو جاؤ گے۔

اچانک لوگوں نے دیکھا کہ رسول اللہؐ اپنے ارد گرد نگاہیں دوڑا رہے ہیں، گویا کسی کو تلاش کر رہے ہیں، جونہی آپؐ کی نظر حضرت علی علیہ السلام پر پڑی تو فوراً ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور انہیں اتنا بلند کیا کہ بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی اور سب لوگوں نے انہیں دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ تو اسلام کا وہی سپہ سالار ہے کہ جس نے کبھی شکست کا منہ نہیں دیکھا۔ اس موقع پر پیغمبرؐ کی آواز زیادہ نمایاں اور بلند ہوگئی اور آپؐ نے ارشاد فرمایا: ”اٴیُّھا النَّاس مَنْ اٴولیٰ النَّاسِ بِالمَوٴمِنِیْنَ مِنْ اٴَنْفُسِھم“ اے لوگو! بتاؤ وہ کون ہے، جو تمام لوگوں کی نسبت مومنین پر خود ان سے زیادہ اولیت رکھتا ہے۔؟ اس پر سب حاضرین نے بیک آواز جواب دیا کہ خدا اور اس کا پیغمبرؐ بہتر جانتے ہیں۔ تو پیغمبرؐ نے فرمایا: خدا میرا مولا اور رہبر ہے اور میں مومنین کا مولا اور رہبر ہوں اور میں ان کی نسبت خود ان سے زیادہ حق رکھتا ہوں(اور میرا ارادہ ان کے ارادے پر مقدم ہے)۔ اس کے بعد فرمایا: ”فَمَن کُنْتُ مَولَاہُ فَہذَا عَلِیّ مَولاہ۔“ ”یعنی جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کے مولا اور رہبر ہیں۔“

پیغمبر اکرمؐ نے اس جملے کی تین مرتبہ تکرار کی اور بعض راویوں کے قول کے مطابق پیغمبرؐ نے یہ جملہ چار مرتبہ دہرایا اور اس کے بعد آسمان کی طرف سر بلند کرکے بارگاہ خداوندی میں عرض کی: ”اَللّٰھُمَّ وَالِ مَنْ وَالاٰہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ وَاٴحب مَنْ اٴحبہُ وَ ابغِضْ مَنْ اٴبغَضہُ وَ انْصُرْمَنْ نَصَرُہُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَہُ، وَاٴدرِالحَقّ مَعَہُ حَیْثُ دَارَ“ یعنی "بار الٰہا! جو اس کو دوست رکھے تو اس کو دوست رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ، جو اس سے محبت کرے تو اس سے محبت کر اور جو اس سے بغض رکھے تو اس سے بغض رکھ، جو اس کی مدد کرے تو اس کی مدد کر، جو اس کی مدد سے کنارہ کشی کرے تو اسے اپنی مدد سے محروم رکھ اور حق کو ادھر موڑ دے جدھر وہ رُخ کرے۔" اس کے بعد فرمایا: ”اٴلَا فَلْیُبَلِّغ الشَّاہدُ الغائبُ“ ”تمام حاضرین آگاہ ہو جائیں کہ یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو ان لوگوں تک پہنچائیں، جو یہاں پر اس وقت موجود نہیں ہیں۔“ پیغمبر کا خطبہ ختم ہوگیا، پیغمبر پسینے میں شرابور تھے، حضرت علی علیہ السلام بھی پسینہ میں غرق تھے، دوسرے تمام حاضرین کے بھی سر سے پاؤں تک پسینہ بہہ رہا تھا۔

ابھی اس جمعیت کی صفیں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئی تھیں کہ جبرئیل امین وحی لے کر نازل ہوئے اور پیغمبر کو ان الفاظ میں تکمیلِ دین کی بشارت دی: "الْیَوْمَ اٴَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَاٴَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی" ”آج کے دن ہم نے تمہارے لئے تمہارے دین اور آئین کو کامل کر دیا اور اپنی نعمت کو تم پر تمام کر دیا۔“(سورہٴ مائدہ، آیت3)
اتمام نعمت کا پیغام سن کر پیغمبر اکرم ؐنے فرمایا: ”اللہُ اٴکبرُ اللہُ اٴکبرُ عَلیٰ إکْمَالِ الدِّینِ وَإتْمَام النِعْمَةِ وَرَضیٰ الربِّ بِرسَالَتِی وَالوِلاٰیَة لِعَلیّ مِنْ بَعْدِی“ ”ہر طرح کی بزرگی و بڑائی خدا ہی کے لئے ہے کہ جس نے اپنے دین کو کامل فرمایا اور اپنی نعمت کو ہم پر تمام کیا اور میری نبوت و رسالت اور میرے بعد علی کی ولایت کے لئے خوش ہوا۔“

واقعۂ غدیر میں تحقیق کی ضرورت:
 واقعۂ غدیر کی صحیح شناخت حاصل کرنے کا ایک راستہ اس عظیم واقعہ کی تاریخی حوالے سے صحیح تحقیق ہے، دیکھنا یہ چاہیئے کہ غدیر کے دن کون سے واقعات اور حادثات رونما ہوئے۔ رسول اکرمﷺ نے کیا کیا؟ اور دشمنوں اور مخالفوں نے کس قسم کا رویّہ اختیار کیا۔؟ تاکہ غدیر کی حقیقت واضح اور روشن ہو جائے، اگر غدیر کا دن صرف اعلان ولایت کے لئے تھا؛ تو پھر رسول اکرمﷺ کی گفتگو اور عمل کو بھی اسی حساب سے صرف ابلاغ و پیغام تک محدود ہونا چاہیئے تھا! یعنی رسول اکرمﷺ سب لوگوں کو جمع کرتے اور حضرت علیؑ کی لیاقت اور صلاحیّتوں کے بارے میں لوگوں کو آگاہ فرماتے؛ پھر کچھ اخلاقی نصیحتوں کے ساتھ لوگوں کے لئے دعا فرماتے اور خدا کی امان میں دے دیتے، بالکل اس طرح سے جیسے آج سے پہلے بعثت کے آغاز سے لے کر غدیر کے دن تک بارہا آنحضرتﷺ کی طرف سے دیکھا گیا تھا۔ اس کے بعد ہر شہر و دیار سے آئے ہوئے مسلمان اپنے اپنے وطن کی طرف لوٹ جاتے۔ رسول اکرمﷺ اس کام کو مکّہ کے عظیم اجتماع میں حج کے وقت بھی انجام دے سکتے تھے، عرفات اور منیٰ کے اجتماعات میں بھی یہ کام کیا جاسکتا تھا۔ لیکن غدیر کے تاریخی مطالعہ کے بعد یہ بات واضح ہو جائے گی اور یہ نظریہ بھی سامنے آئے گا کہ غدیر کی داستان کچھ اور ہی ہے۔

 آیات غدیر پر غور و خوص
آیت بلغ کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے کوئی ایسا عظیم کام رسول اکرمﷺ سپرد کیا ہے، جو پوری رسالت کے ابلاغ کے برابر ہے اور دشمنوں کی مایوسی کا سبب بھی ہے۔ اس سے بڑھ کر عظیم کام اور کیا ہوسکتا ہے کہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد کے سامنے حضرت علی علیہ السلام کو خلافت، وصایت اور جانشینی کے منصب پر معین کریں۔؟ بعض لوگوں نے سورۂ مبارکہ مائدہ کی آیت ۶۷ (یا أَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مٰا أُنْزِلَ إِلَیْک)کے ظاہر پر توجّہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ غدیر کا دن صرف ’’پیغام ولایت‘‘ پہچانے کا دن ہے اور رسول اکرمﷺ نے اس مبارک دن ’’حضرت علیؑ‘‘ کی ولایت کا پیغام لوگوں تک پہنچایا اور بس اتنے ہی کو کافی سمجھتے ہوئے خوش حال ہو جاتے ہیں یا تو غدیر کے دوسرے تمام زاویوں کو درک کرنے سے ان کی عقلیں قاصر ہیں یا کتب کے مطالعہ کے ذریعہ حقیقت تک پہنچنے کی زحمت نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ: لفظ ( بَلِّغْ) یعنی ابلاغ کر دو، لوگوں تک پہنچا دو اور (مٰا أُنْزِلَ إِلَیْک) یعنی ولایت اور امامت حضرت امیرالمؤمنینؑ۔ لہٰذا غدیر کا دن صرف ’’اعلان ولایت‘‘ کا دن ہے۔

اس گروہ کا جواب بھی مختلف طریقوں سے دیا جاسکتا ہے ،جیسا کہ:
1۔ آیات غدیر کی صحیح تحقیق: یہ صحیح ہے کہ لفظ ’’بلّغ‘‘ کے معنیٰ ہیں (پہنچا دو)؛ لوگوں میں ابلاغ کر دو اور لوگوں کو آگاہ کر دو، لیکن کس چیز کے پہنچانے کا حکم دیا جا رہا ہے؛ اس حکم کا متعلّق کیا ہے۔؟ یہ بات اس آیہ مبارکہ میں ذکر نہیں ہوئی ہے، کس چیز کو پہنچانا ہے؟ ظاہر آیت سے واضح نہیں ہے اور اس آیت کا باقی حصّہ یعنی (مٰا أُنْزِلَ إِلَیْک) جو کچھ تم پر نازل کیا گیا، یہ عام ہے؛ جو کچھ تم پر نازل کیا گیا، یہ کیا چیز ہے۔؟ آیا مقصود صرف ’’ اعلان ولایت‘‘ ہے۔؟ آیا مقصود ’’امام کا تعارف‘‘ ہے۔؟ آیا مراد ’’قیامت اور رجعت تک آنے والے اماموں کا تعارف‘‘ ہے۔؟ آیا مراد ’’اسلام کی رہبریت کا تعیّن‘‘ ہے۔؟ یا (مٰا أُنْزِلَ إِلَیْک) کا متعلّقہ موضوع ’’تھیوری اور پریکٹیکل‘‘ یعنی عملی و نظری پر مشتمل ہے، یعنی ائمّہ معصومین علیہم السّلام کا تعارف کروائیں اور ان ہستیوں کے لئے بیعت بھی طلب کریں۔؟ تاکہ ’’بیعت عمومی‘‘ کے بعد کوئی بھی شکوک و شبہات کا سہارا لیتے ہوئے مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل نہ کرسکے۔ چنانچہ یہ سمجھنا اور جاننا ضروری ہے کہ (مٰا أُنْزِلَ إِلَیْک) کیا ہے۔؟ جو کچھ پیغمبر اسلامﷺ پر نازل ہوچکا تھا، وہ کیا تھا۔؟

سورۂ مبارکہ مائدہ کی آیت ۶۷ میں موجودہ پیغامات اور مسلسل احتیاط اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ پہلا نظریہ (صرف اعلان ولایت) صحیح نہیں ہے، بلکہ دوسرے نظریئے (وسیع اہداف) کو ثابت کر رہے ہیں۔ اس آیہ مبارکہ میں مزید آیا ہے: (وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمٰا بَلَّغْتَ رِسٰالَتَہُ) (اگر تم نے یہ کام انجام نہ دیا تو گویا اس کی رسالت کا کوئی پیغام نہیں پہنچایا۔) (مٰا أُنْزِلَ) کا متعلق کیا اہم چیز ہے کہ جس کو انجام نہ دیا گیا تو پیغمبر اسلامﷺ کی رسالت ناقص و نامکمّل رہ جائے گی۔؟ ادھر رسول اکرمﷺ بھی اس کو انجام دینے سے گھبرا رہے ہیں کہ شاید اس کو قبول نہ کیا جائے اور رخنہ ڈال دیا جائے، اگر صرف ’’اعلان ولایت‘‘ تھا تو اس میں کس بات کا ڈر اور ہچکچاہٹ۔؟ کیونکہ اس سے پہلے بھی بارہا، محراب میں، منبر پر، مدینہ اور دوسرے شہروں میں، جنگ کے میدان میں اور جنگوں میں کامیابیوں کے بعد حضرت امام علیؑ کی ولایت اور وصایت کا اعلان کرچکے تھے، لوگوں تک اس بات کو پہنچا چکے تھے، کسی کا خوف نہ تھا اور کسی سے اس امر کی بجا آوری میں اجازت طلب نہ کی تھی۔

آپ ﷺ نے جنگ تبوک اور جنگ خیبر کے موقع پر حدیث ’’منزلت‘‘ میں حضرت علیؑ ابن ابی طالب ؑ کا تعارف بعنوان وزیر اور خلیفہ کروایا اور کسی بھی طاغوتی طاقت اور قدرت کی پروا نہ کی۔ غدیر کے دن ایسا کیا ہونے والا تھا، جو رسول خداﷺ کو خوفزدہ کئے ہوئے تھا اور فرشتۂ وحی آپﷺ کو تسلّی دیتے ہوئے اس آیت کو لے کر نازل ہوا (وَﷲُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ) (ﷲ تمہیں انسانوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔) جملۂ (مٰا أُنْزِلَ) کا متعلّق کونسی ایسی اہم چیز ہے کہ جس کے وجود میں آنے کے بعد اکمال دین: ( أَلْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ) اتمام نعمات الٰہی: (وَ أَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتٖیْ) بقاء اور جاویدانی اسلام: (وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْإِسْلٰامَ دِیْناً) کفّار کی ناامیدی: (أَ لْیَوْمَ  یَئسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) جیسے اہم فوائد حاصل ہونگے۔؟ چنانچہ یقیناً پہلا نظریہ صحیح نہیں ہے اور (مٰا أُنْزِلَ إِلَیْک) کا متعلّق ’’ولایت امیرالمؤمنینؑ کا اعلان‘‘ اور ’’مسلمانوں کی عمومی بیعت‘‘ ہونا چاہیئے۔

اے رسول خداﷺ! آج ہم نے جو کچھ تم پر نازل کیا ہے، لوگوں تک پہنچا دو، یعنی امام علیؑ اور ان ؑکی اولاد میں سے گیارہ بیٹوں کی ولایت اور امامت کا اعلان کر دو اور اس کے بعد حج کی برکت سے ساری دنیا سے آکر اس سرزمین پر جمع ہونے والے مسلمانوں سے بیعت اور اعتراف لے لو (کہ پھر اتنا بڑا اجتماع وجود میں نہ آئے گا) اور امامت کے مسئلے کو نظریہ اور عقیدہ میں عمومی اعتراف اور عملی طور پر عمومی بیعت کے ذریعہ انجام تک پہنچا دو، کیونکہ خدا کے انتخاب اور رسول خداﷺ کے ابلاغ کے بعد لوگوں کی عمومی بیعت بھی تحقق پذیر ہوئی اور دین کامل ہوگیا۔ (امامت راہ رسالت کی بقا اور دوام کا ذریعہ ہے۔) خداوند عالم کی نعمتیں انسانوں پر تمام ہوگئیں، دین اسلام ہمیشہ کے لئے کامیاب ہوگیا، کفّار ناامید ہوگئے کہ اب ارکان اسلام کو متزلزل نہ کرسکیں گے۔اس مقام پر وحی الٰہی یہ بشارت دے رہی ہے کہ (أَلْیَوْمَ  یَئسَ  الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) آج ’’روز غدیر‘‘ کفّار ناامید ہوگئے۔

وگرنہ صرف ’’اعلان ولایت تو غدیر سے پہلے بھی کئی بار ہوچکا تھا، کفّار نااُمید نہ ہوئے تھے اور صرف ’’اعلان ولایت کے ذریعہ دین کامل نہیں ہوتا، کیونکہ ممکن ہے کہ پیغمبر اکرمﷺ امامت کا پیغام پہنچا دیں، لیکن لوگ بیعت نہ کریں اور اُمّت میں اختلاف پیدا ہو جائے، گذشتہ اُمّتوں کی طرح پیغمبر اسلامﷺ کے خلاف قیام کیا جائے اور ان کو قتل کر دیا جائے۔ کیا گذشتہ اُمّت نے پیغمبر خدا حضرت زکریا علیہ السلام کو آرے سے دو حصّوں میں تقسیم نہیں کیا۔؟ کیا مخالفوں نے حضرت یحییٰ علیہ السلام جیسے پیغمبر کا سر تن سے جدا نہیں کیا اور اس زمانے کے طاغوت کے لئے اس سر کو ہدیے کے طور پر پیش نہیں کیا۔؟ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے پیغمبر کو ایک عرصہ کے لئے ہجرت کرنے اور پوشیدہ رہنے پر مجبور نہیں کیا اور یہودیوں کے جھوٹے دعوے اور مسیحیت کے جھوٹے عقیدے کو بنیاد بنا کر ان کو سولی پر نہیں لٹکایا۔؟

 اس مقام پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:
۱۔ صرف اعلان ولایت کشیدگی کا سبب نہیں ہے۔
۲۔ اُمّت کے درمیان اختلاف کا خطرہ نہیں ہے۔
۳۔ مسلّحانہ کارروائیوں کا حامل نہیں ہے۔
۴۔ پیغمبر اکرمﷺ کو خوفزدہ نہیں کرسکتا۔
یہ سارے وہم اور خوف ’’عمومی بیعت کے تحقّق‘‘ کی وجہ سے ہیں، جو کہ موقع کی تلاش میں رہنے والی سیاسی جماعتوں کو خوف و وحشت میں مبتلا کئے ہوئے ہے اور کفّار کی یاس و نااُمیدی اسی سبب سے ہے اور حکومت و قدرت کے پیاسوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ ایک مسلّحانہ بغاوت کریں۔

مولا علیؑ کی بیعت اللہ کی بیعت ہے
اپنے خطبہ کے آخری حصہ میں زبانی بیعت انجام پائی اور آپؐ نے فرمایا: ”خداوند عالم کا یہ حکم ہے کہ ہاتھ کے ذریعہ بیعت لینے سے پہلے تم سے زبانوں کے ذریعہ اقرار لوں“ اس کے بعد جس مطلب کی تمام لوگوں کو تائید کرنا تھی وہ معین فرمایا، جس کا خلاصہ بارہ اماموں کی اطاعت دین میں تبدیلی نہ کرنے کا عہد و پیمان، آئندہ نسلوں اور غائبین تک پیغام غدیر پہنچانا تھا۔ ضمناً یہ بیعت ہاتھ کی بیعت بھی شمار ہوتی تھی چونکہ آنحضرت ؐ نے فر مایا: کہو کہ ہم اپنی جان و زبان اور ہاتھوں سے بیعت کرتے ہیں۔ پیغمبر اکرمؐ کے خطبہ کے آخری کلمات آپؐ کے فرامین کی اطاعت کرنے والوں کے حق میں دعا اور آپؐ کے فرامین کا انکار کرنے والوں پر لعنت تھی اور خداوند عالم کی حمد و ثناء پر آپؐ نے خطبہ تمام فر مایا۔ آپﷺ نے فرمایا: مَعاشِرَ النّاسِ، إنّی قَدْ بَینْتُ لَکُمْ وَأَفْهَمْتُکُمْ، وَهذا عَلِی یفْهِمُکُمْ بَعْدی. أَلا وَاءنّی عِنْدَ انْقِضاءِ خُطْبَتی أَدْعُوکُمْ اءلی مُصافَقَتی عَلی بَیعَتِهِ وَالاْءقْرارِ بِهِ، ثُمَّ مُصافَقَتِهِ بَعْدی. أَلا وَاءنّی قَدْ بایعْتُ اللّه‏َ وَعَلِی قَدْ بایعَنی، وَأَنَا آخِذُکُمْ بِالْبَیعَةِ لَهُ عَنِ اللّه‏ِ عَزَّ وَجَلَّ. «إنَّ الَّذینَ یبایعُونَکَ إنَّما یبایعُونَ اللّه‏َ، یدُ اللّه‏ِ فَوْقَ أَیدیهِمْ. فَمَنْ نَکَثَ فَإنَّما ینْکُثُ عَلی نَفْسِهِ، وَمَنْ أَوْفی بِما عاهَدَ عَلَیهُ اللّه‏َ فَسَیؤْتیهِ أَجْرا عَظیما۔(بحار الانوار جلد ۳۷ صفحہ ۲۰۱ ۔۲۰۷۔ اثبات الھداۃ جلد ۲ صفحہ ۱۱۴، جلد ۳ صفحہ ۵۵۸۔) (سورہ فتح آیت نمبر 10)

ایھاالناس! میں نے سب بیان کر دیا اور سمجھا دیا، اب میرے بعد یہ علی تمہیں سمجھائیں گے۔ آگاہ ہو جاؤ! کہ میں تمہیں خطبہ کے اختتام پر اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ پہلے میرے ہاتھ پر ان کی بیعت کا اقرار کرو، اس کے بعد ان کے ہاتھ پر بیعت کرو، میں نے اللہ کے ساتھ بیعت کی ہے اور علیؑ نے میری بیعت کی ہے اور میں خداوند عالم کی جانب سے تم سے علیؑ کی بیعت لے رہا ہوں۔ (خدا فرماتا ہے:) ”بیشک جو لوگ آپ کی بیعت کرتے ہیں، وہ درحقیقت اللہ کی بیعت کرتے ہیں اور ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ ہی کا ہاتھ ہے، اب اس کے بعد جو بیعت کو توڑ دیتا ہے، وہ اپنے ہی خلاف اقدام کرتا ہے اور جو عہد الٰہی کو پورا کرتا ہے، خدا اسی کو اجر عظیم عطا کرے گا۔“ اس کا مفہوم یہ ہے کہ علی ؑ کی بیعت نبی کی بیعت ہے اور نبیﷺ کی بیعت اللہ کی بیعت ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کسی کی بیعت کا محتاج نہیں ہے، ویسے ہی نبیؐ بھی کسی کی بیعت کے محتاج نہیں اور اسی طرح علیؑ بھی کسی کی بیعت کے محتاج نہیں ہیں۔ چونکہ بیعت دو طرفہ چیز کا نام ہے۔ ایک وہ جس کی بیعت کی جائے اور دوسرا بیعت کرنے والا۔ اس لیے جو اس بیعت پر قائم رہے گا، اسی کے لیے اجر عظیم ہے اور جو اس بیعت کو توڑ دے گا، اس کے لیے ہلاکت ہے۔ یعنی جو مولا علیؑ کو امام سمجھے، ان سے محبت رکھے اور وفادار رہے۔ اسی کے لیے نجات ہے اور جس نے رو گردانی کی اس کے لیے ہلاکت ہے۔

 اعلان ولایت
پیغمبر اکرمؐ نے تمام مقدمات فراہم کرنے اور امیرالمومنین علیہ السلام کی خلافت و ولایت کا تذکرہ کرنے کے بعد اس غرض سے کہ قیامت تک ہر طرح کا شک و شبہ ختم ہو جائے اور اس سلسلہ میں ہر طرح کا مکر و فریب غیر موٴثر ہو جائے، ابتدا میں آپؐ نے زبانی طور پر اشارہ فرمایا اور اس کے بعد لوگوں کے لئے عملی طور پر بیان کرتے ہوئے ابتدا میں اس ترتیب کے ساتھ بیان فرمایا: ”قرآن کا باطن اور تفسیر تمھارے لئے کوئی بیان نھیں کرسکتا، مگر یہ شخص جس کا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہے اور اس کو بلند کر رہا ہوں۔“ اس کے بعد آنحضرتؐ نے اپنے قول کو عملی صورت میں انجام فرمایا اور امیرالمومنین علیہ السلام سے جو منبر پر آپؐ کے پاس کھڑے ہوئے تھے، فرمایا: ”میرے اور قریب آوٴ“ حضرت علی علیہ السلام اور قریب آئے اور آنحضرت ؐ نے حضرت علی علیہ السلام کے دونوں بازؤوں کو پکڑا، اس موقع پر حضرت علی علیہ السلام نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آنحضرت ؐ کے چہرہٴ اقدس کی طرف بڑھا دیا، یہاں تک کہ دونوں کے دست مبارک آسمان کی طرف بلند ہوگئے۔ اس کے بعد آنحضرتؐ نے حضرت علی علیہ السلام کو ”جو آپ سے ایک زینہ نیچے کھڑے ہوئے تھے“ ان کی جگہ سے اتنا بلند کیا کہ ان کے پائے اقدس آنحضرتؐ کے زانو کے بالمقابل آگئے اور سب نے آپؐ کی سفیدیٴ بغل کا مشاہدہ کیا، جو اس دن تک کبھی نھیں دیکھی گئی تھی، اس حالت میں آپؐ نے فرمایا: ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَھٰذَا عَلِیٌّ مَوْلَاہُ“ ”جس کا میں مولا ہوں، اس کے یہ علی مولا ہیں۔“ (بحار الانوار جلد ۳۷صفحہ /۱۱۱،۲۰۹۔ عوالم: جلد ۱۵/۳صفحہ ۴۷۔ کتاب سلیم: صفحہ ۸۸۸ حدیث/۵۵)

دلوں اور زبانوں کے ذریعہ بیعت
آنحضرت ؐنے دوسرا اقدام یہ فرمایا کہ چونکہ اس انبوہ کثیر کے ایک ایک فرد سے بیعت لینا غیر ممکن تھا اور دوسری جانب ممکن تھا کہ لوگ بیعت کرنے کے لئے مختلف قسم کے بہانے کریں اور بیعت کرنے کے لئے حاضر نہ ہوں، جس کے نتیجہ میں ان سے عملی طور پر پابند رہنے کا عہد اور قانونی گواہی نہ لی جا سکے، لہٰذا آنحضرتؐ نے اپنے خطبہ کے آخر میں فرمایا: ایھا الناس! ایک ہاتھ پر، اتنے کم وقت میں اس انبوہ کثیر کا بیعت کرنا سب کے لئے ممکن نھیں ہے، لہٰذا جو کچھ میں کہنے جا رہا ہوں، سب اس کی تکرار کرتے ہوئے کہیں: "ہم آپؐ کے اس فرمان کی جو آپؐ نے حضرت علیؑ بن ابی طالبؑ اور ان کی اولاد سے ہونے والے اماموں کے متعلق فرمایا، اس کو قبول کرتے ہیں اور اس پر راضی ہیں، ہم اپنے دل، جان، زبان اور ہاتھوں سے اس مدعا پر بیعت کرتے ہیں۔ ان کے لئے ہم سے اس بارے میں ہمارے دل و جان، زبانوں، ضمیروں اور ہاتھوں سے عہد و پیمان لے لیا گیا ہے۔ جو شخص ہاتھ سے بیعت کرسکا، ہاتھ سے بیعت کرچکا ہے اور جو ہاتھ سے بیعت نہ کرسکا، وہ زبان سے اس کا اقرار کرچکا ہے۔“ (بحار الانوار جلد ۳۷صفحہ /۲۱۵،۲۱۹) ظاہر ہے کہ آنحضرتؐ جس کلام کی بعینہ تکرار کرانا چاہتے تھے، وہ آپؐ نے ان کے سامنے بیان کیا اور اس کی عبارت معین فرما دی، تاکہ ہر انسان اپنے مخصوص طریقہ سے اس کا اقرار نہ کرے، بلکہ جو کچھ آپؐ نے بیان فرمایا ہے، سب اسی طرح اسی کی تکرار کریں اور بیعت کریں۔ جب آنحضرتؐ کا کلام تمام ہوا، سب نے اس کو اپنی زبانوں پر دھرایا، اس طرح عمومی بیعت انجام پائی۔

خطبہ کے بعد کے مراسم
خطبہ تمام ہونے کے بعد، لوگ ہر طرف سے منبر کی طرف بڑھے اور حضرت علی علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کی، آنحضرت ؐ اور حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کو مبارک باد پیش کی اور آنحضرتؐ فرما رہے تھے :”اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلیٰ جَمِیْعِ الْعٰا لَمِیْن“ تاریخ میں عبارت اس طرح درج ہے: "خطبہ تمام ہو جانے کے بعد لوگوں کی صدائیں بلند ہوئیں کہ: ہاں، ہم نے سنا ہے اور خدا و رسولﷺ کے فرمان کے مطابق اپنے دل و جان، زبان اور ہاتھوں سے اطاعت کرتے ہیں۔“ اس کے بعد مجمع پیغمبر اکرمؐ اور حضرت علی علیہ السلام کی طرف بڑھا اور بیعت کے لئے ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہوئے ان کی بیعت کی۔ مجمع سے اٹھنے والے اس احساساتی اور دیوانہ وار شور سے اس بڑے اجتماع کی شان و شو کت دُوبالا ہو رہی تھی۔ جس اہم اور قابل توجہ مطلب کا پیغمبر اسلام ؐکی کسی بھی فتح (چاہے جنگوں میں ہو یا دوسرے مقامات پر ہو، حتی ٰکہ فتح مکہ بھی) میں مشاہدہ نہ کیا گیا، وہ یہ ہے کہ آپؐ نے غدیر خم میں فرمایا: "مجھے مبارکباد دو مجھے تہنیت کہو، اس لئے کہ خدا نے مجھ سے نبوت اور میرے اہل بیت علیھم السلام سے امامت مخصوص کی ہے۔“(بحار الانوار: جلد ۲۱صفحہ ۳۸۷۔ امالی شیخ مفید: صفحہ ۵۷) یہ بڑی فتح اور کفر و نفاق کی تمام آرزووٴں کا قلع و قمع کر دینے کی علامت تھی۔ دوسری طرف پیغمبر اسلامؐ نے منادی کو حکم دیا کہ وہ مجمع کے درمیان گھوم گھوم کر غدیر کے خلاصہ کی تکرار کرے :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَھٰذَا عَلِیٌ مَوْلَاہُ اَللَّھُمَّ وٰالِ مَنْ وَالَاہُ وَعَادِمَنْ عَادَاہُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَہُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَہُ“ تاکہ غدیر کا موقع لوگوں کے ذہن میں منقش ہو جائے۔

لوگوں سے بیعت
مسئلہ کو رسمی طور پر مستحکم کرنے کیلئے اور اس لئے کہ پورا مجمع منظم و مرتب طریقہ سے بیعت کرسکے، لہٰذا پیغمبر اکرم ؐنے خطبہ تمام کرنے کے بعد دو خیمے لگانے کا حکم صادر فرمایا۔ ایک خیمہ اپنے لئے مخصوص قرار دیا اور آپؐ اس میں تشریف فرما ہوئے اور حضرت علیؑ کو حکم دیا کہ آپؑ دوسرے خیمہ کے دروازہ پر تشریف فرما ہوں اور لوگوں کو جمع ہونے کا حکم دیا۔ اس کے بعد لوگ گروہ گروہ کرکے آنحضرتؐ کے خیمہ میں آتے اور آپؐ کی بیعت کرتے اور آپؐ کو مبارکباد پیش کرتے، اس کے بعد حضرت امیر المؤمنینؑ کے خیمہ میں آتے اور آپؑ کو پیغمبر اکرمؐ کے خلیفہ اور امام ہونے کے عنوان سے آپؑ کی بیعت کرتے اور آپؑ پر (امیر المومنین) کے عنوان سے سلام کرتے اور اس عظیم منصب پر فائز ہونے کی مبارکباد پیش کرتے تھے۔ بیعت کا یہ سلسلہ تین دن تک چلتا رہا اور تین دن تک آنحضرتؐ نے غدیر خم میں قیام فرمایا۔ یہ پروگرام اس طرح منظم و مرتب تھا کہ تمام لوگ اس میں شریک ہوئے۔

یہاں پر اس بیعت کے سلسلہ میں تاریخ کے ایک دلچسپ مطلب کی طرف اشارہ کرنا مناسب ہوگا کہ سب سے پہلے غدیر میں جن لوگوں نے امیر المومنین علیہ السلام کی بیعت کی، وہ وہی لوگ تھے جنہوں نے سب سے پہلے یہ بیعت توڑی اور اپنا عہد و پیمان خود ہی اپنے پیروں تلے روند ڈالا۔ حضرت عمر نے حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کے بعد اپنی زبان سے یہ کلمات ادا کئے: ”مبارک ہو مبارک اے ابو طالبؑ کے بیٹے، مبارک اے ابو الحسنؑ آج آپ میرے اور ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت کے مولا ہوگئے“! پیغمبر اسلام ؐ کے حکم صادر ہو جانے کے بعد تمام لوگوں نے چون و چرا کے بغیر حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کی، لیکن حضرت ابو بکر اور حضرت عمر (جنھوں نے سب سے پہلے حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کی تھی) نے بیعت کرنے سے پہلے سوال کیا: کیا یہ حکم خداوند عالم کی جانب سے ہے یا اس کے رسولؐ کی جانب سے ہے۔؟ آنحضرتؐ نے فرمایا: خدا اور اس کے رسول کی طرف سے ہے۔ کیا اتنا بڑا مسئلہ خداوند عالم کے حکم کے بغیر ہوسکتا ہے۔؟ نیز فرمایا: ”ہاں یہ حق ہے کہ حضرت علی علیہ السلام خدا اور اس کے رسول کی طرف سے امیر المومنین ہیں۔“ (بحار الانوار جلد۲۱ صفحہ ۳۸۷، جلد ۲۸ صفحہ ۹۰، جلد ۳۷ صفحہ۱۲۷ ۔۱۶۶۔ الغدیر جلد ۱ صفحہ ۵۸،۲۷۱،۲۷۴۔ عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۴۲، ۶۰،۶۵، ۱۳۴، ۱۳۶، ۱۹۴،۱۹۵، ۲۰۳، ۲۰۵۔)

 عورتوں کی بیعت
 پیغمبر اسلامؐ نے عورتوں کو بھی حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کرنے کا حکم دیا اور ان کو امیر المومنین کہہ کر سلام کریں اور ان کو مبارکباد پیش کریں اور اس حکم کی اپنی ازواج کے لئے تاکید فرمائی۔ اس عمل کو انجام دینے کے لئے آنحضرت ؐ نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور اس کے اوپر ایک پردہ لگایا، اس طرح کہ عورتیں پردہ کے ایک طرف پانی کے اندر ہاتھ ڈالیں پردہ کے ادھر سے مولائے کائنات کا ہاتھ پانی کے اندر رہے اور اس طرح عورتوں کی بیعت انجام پائے۔ یہ بات بھی بیان کر دیں کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا بھی غدیر خم میں حاضر تھیں۔ اسی طرح پیغمبر اکرم ؐ کی ازواج، حضرت علی علیہ السلام کی بہن ام ہانی، حضرت حمزہ علیہ السلام کی بیٹی فاطمہ اور اسماء بنت عمیس بھی اس پرو گرام میں موجود تھیں۔(بحارالانوار جلد ۲۱ صفحہ/ ۳۸۸۔ عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۳۰۹)

دستار بندی
عرب جب کسی کو کسی قوم کا رئیس بناتے تھے تو اُن کے ہاں اس کے سر پر عمامہ باندھنے کی رسم تھی۔ عربوں کے یہاں اس بات پر بڑا فخر ہوتا تھا کہ ایک بڑی شخصیت اپنا عمامہ کسی شخص کے سر پر باندھے، کیونکہ اس کا مطلب اس پر سب سے زیادہ اعتماد ہوتا تھا۔ (الغدیر جلد۱ صفحہ/ ۲۹۱۔ عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۱۹۹۔ اثبات الھداة جلد۲ صفحہ۲۱۹ حدیث ۱۰۲) پیغمبر اکرمؐ نے اس رسم و رواج کے موقع پر اپنا عمامہ جسے ”سحاب“ کہا جاتا تھا، تاج افتخار کے عنوان سے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے سر اقدس پر باندھا اور تحت الحنک کو آپؑ کے دوش پر رکھ کر فرمایا: ”عمامہ تاجِ عرب ہے۔“ (تاج العروس جلد ۸ صفحہ ۴۱۰) خود امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اس سلسلہ میں یوں فرماتے ہیں: ”پیغمبر اکرم (ص) نے غدیر خم کے دن میرے سر پر عمامہ باندھا اور اس کا ایک کنارہ میرے دوش پر رکھتے ہوئے فرمایا: خداوند عالم نے بدر و حنین کے دن اس طرح کا عمامہ باندھنے والے ملائکہ کے ذریعے میری مدد فرمائی۔“

تائید الہیٰ
معجزہ کے عنوان سے ایک واقعہ جو غدیر کے پروگرام کے اختتام پر پیش آیا، وہ ”حارث فہری" کا ماجرا تھا، یہ شخص تیسرے دن پروگرام کی آخری گھڑیوں میں اپنے بارہ ساتھیوں کو لیکر آیا اور پیغمبر اکرمؐ سے عرض کیا: ”اے محمدﷺ میں آپ سے تین سوال پوچھنا چاہتا ہوں: خداوند عالم کی وحدانیت کی گواہی اور اپنی رسالت کا اعلان آپؐ نے پروردگارِ عالم کی جانب سے کیا یا اپنی طرف سے کیا ہے۔؟ کیا نماز و زکات و حج اور جہاد کا حکم پروردگار عالم کی جانب سے آیا یا آپ نے اپنی طرف سے ان کا حکم دیا۔؟ آپؐ نے جو حضرت علیؑ بن ابی طالب ؑ کے با رے میں یہ فرمایا ہے : ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَا ہُ فَعَلِیٌ مَوْلَاہُ۔۔۔“ یہ آپؐ نے پروردگار عالم کی جانب سے فرمایا ہے یا آپؐ کی طرف سے ہے۔؟ تو آپؐ نے تینوں سوالوں کے جواب میں فرمایا: "خداوند عالم نے مجھ پر وحی کی ہے، میرے اور خدا کے درمیان جبرئیل واسطہ ہیں، میں خداوند عالم کے پیغام کا اعلان کرنے والا ہوں اور خداوند عالم کی اجازت کے بغیر میں کسی بات کا اعلان نھیں کرتا۔“

حارث نے کہا: ”پروردگار! محمدؐ نے جو کچھ بیان فرمایا ہے، اگر وہ حق ہے اور تیری جانب سے ہے تو مجھ پر آسمان سے پتھر یا دردناک عذاب نازل فرما۔“ حارث کی بات تمام ہوگئی اور اس نے اپنی راہ لی تو خداوند عالم نے اس پر آسمان سے ایک پتھر بھیجا، جو اس کے سر پر گرا اور اس کے پاخانہ کے مقام سے نکل گیا اور اس کا وہیں پر کام تمام ہوگیا۔(بحار الانوار جلد ۳۷ صفحہ ۱۳۶، ۱۶۲، ۱۶۷۔ عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۵۶، ۵۷، ۱۲۹، ۱۴۴۔ الغدیر: جلد ۱ صفحہ ۱۹۳) اس واقعہ کے بعد یہ آیت نازل ہوئی: ساٴَلَ سَائلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِلْکَافِرِیْنَ لَیْسَ لَہُ دَافِعٌ، "ایک سائل نے واقع ہونے والے عذاب کا سوال کیا، جس کا کافروں کے حق میں کوئی دفع کرنے والا نہیں ہے، یہ بلندیوں والے خدا کی طرف سے ہے۔"(سورہ معارج آیت /۲تا۱) نازل ہوئی پیغمبر اکرمؐ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: کیا تم نے دیکھا اور سنا ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں۔ اس معجزہ کے ذریعے سب کو یہ معلوم ہوگیا کہ ”غدیر“ منبع وحی سے معرض وجود میں آیا اور ایک الہیٰ فرمان ہے۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مَا عَلِمْتُ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ (ص)تَرَکَ یَوْمَ الْغَدِیْرِلِاَحَدٍ حُجَّةً وَلَالِقَائِلٍ مَقَالاً“ ”پیغمبر اکرم (ص) نے غدیر کے دن کسی کے لئے کوئی حجت اور کوئی بہانہ باقی نھیں چھوڑا" (اثبات الھُداۃ :جلد ۲ صفحہ ۱۵۵حدیث۴۷۶) حدیث قدسی میں خداوند تبارک و تعالیٰ کے کلام کے عمیق و دقیق ہونے کو پہچانا جا سکتا ہے، جو یہ فرماتا ہے: ”لَوْ اِجْتَمَعَ النَّاسُ کُلُّھُمْ عَلیٰ وِلَایَةِ عَلِیٍّ مَاخَلَقْتُ النَّارَ“ ”اگر تمام لوگ حضرت علی علیہ السلام کی ولایت پر متفق ہو جاتے تو میں جہنم کو پیدا نہ کرتا۔“(بحارالانوار جلد ۳۹صفحہ۲۴۷) مختصر یہ کہ نبی اکرم ؐ کو معلوم تھا کہ اس دور کے لوگ امیر المومنین ؑسے کی گئی بیعت سے روگردانی کریں گے، اس لیے انہوں نے الہٰی منصب امامت کی اس لحاظ سے تبلیغ کا اہتمام کیا کہ بعد میں کوئی اسے جھٹلا نہ سکے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ الہیٰ پیغام دور دراز کے علاقوں اور آئندہ آنے والی نسلوں تک پہنچ جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ نبی مکرمﷺ اپنے اس ہدف میں کامیاب و کامران رہے اور ان کے دشمنوں کے حصے میں ذلت و رسوائی آئی۔ درود و سلام ہو نبی پاک ﷺ اور ان کی آل پاک علیہم السلام پر۔ چونکہ غدیر کا دن حضرت علیؑ کے ساتھ لوگوں کی عمومی بیعت کا دن ہے، روز غدیر حضرت علیؑ سے لے کر حضرت مہدی ؑ تک بارہ ائمہ(ع) کی اثبات ولایت اور تحقق امامت کا دن ہے۔ لہذا ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ اس الہیٰ پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں۔ کیونکہ اسی پیغام کے ساتھ دین کی تکمیل ہے اور انسانیت کی فلاح بھی اسی میں ہے۔

Read 49 times

Add comment


Security code
Refresh