وحدت ضروری ہے

Rate this item
(0 votes)
وحدت ضروری ہے

تحریر: سویرا بتول

ہفتہ وحدت، 12 ربیع الاول سے 17 ربیع الاول کے درمیانی فاصلے کو کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں تاریخیں مسلمانوں کے یہاں پیغمبر اکرمﷺ کی تاریخ ولادت کے حوالے سے مشہور ہیں، اہل سنت 12 ربیع الاول کو جبکہ اہلِ تشيع 17 ربیع الاول کو خاتم النبینﷺ کی ولادت واقع ہونے کے قائل ہیں۔ امام خمینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "ولادتیں مختلف ہوتی ہیں، ایک ولادت خیر و برکت کا مبداء ہے، ظلم کو نابود کرنے کا ذریعہ، بت کدوں کو ڈھانے اور آتش کدوں کو خاموش کرنے کی بنیاد ہے ۔۔۔۔ جیسے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت۔۔۔۔ اس زمانہ میں دو قوتیں تھیں؛ ظالم حکومت اور دوسری آتش پرست روحانی طاقتیں۔۔۔۔ پیغمبر اسلامﷺ کی ولادت ان دونوں قوتوں کی شکست کا سرچشمہ بنی۔"
خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے
نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

ام المومنین حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ: "رسولِ خداﷺ نے جبریلؑ امین سے نقل کیا کہ میں نے زمین کے مغارب و مشارق کو دیکھا ہے مگر کسی شخص کو محمد مصطفیٰﷺ سے افضل نہیں دیکھا اور کسی کی اولاد کو میں نے نہیں دیکھا جو بنی ہاشم سے افضل ہو۔" کوئی انہیں انسانوں کے درمیان رہتے بستے دیکھ کر اور جامہ بشری میں پا کر اپنا سا بشر قرار دے دے، لیکن ہمارے لیے آپﷺ پیکرِ بشریت کا مثالیہ تھا، سراپا عصمت، مجسم صدق و صفا، جن کی ہر بات قابل ِتقلید اور ہر عمل دلیل ایمان تھا۔ امام خمینی ؒ نے مسلمانوں کو رسول اکرمﷺ کا جشنِ ولادت 12 سے 17 ربیع الاول پورا ہفتہ منانے کا حکم دیا۔ جو وحدت کی عظیم مثال ہے۔ جو لوگ شیعہ و سنی کے درمیان اختلافات کو ہوا دیتے ہیں، وہ نہ شیعہ ہیں نہ سنی بلکہ یا تو نادان ہیں یا دشمن کے آلہ کار ہیں۔

دشمن اپنے سازشی منصوبوں کو مسلمانوں پر آزما رہا ہے اور اتحاد وحدت کے لئے کی جانے والی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے مختلف راستوں سے اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ امام خمینی کے افکار و نظریات کی روشنی میں حقیقی اور محمدی اسلام میں جامعیت، جذابیت اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی تمام تر صفات موجود ہیں۔ اگر حققیی اسلام کو معاشرے کے سامنے پیش کیا جائے تو اختلافات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی اور وحدت اسلامی کے احیاء کا ہدف آسانی سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ اگر حقیقی محمدی اسلام کو اس کی حقیقی اقدار و روایات کے ساتھ پیش کیا جائے تو امت مسلمہ اور عالم اسلام کو عزت و عظمت کو بحال کیا جا سکتا ہے۔
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں عشقِ محمدﷺ سے اجالا کر دے

اربعین حسینی کے موقع پہ وحدتِ اسلامی کی بہترین مثال قائم ہوئی، جس میں ہمارے اہلِ سنت برادران نے نہ صرف سبیلیں لگائیں بلکہ نماز کے بڑے بڑے اجتماعات میں بھرپور شرکت کرکے یہ بات ثابت کی کہ یہ ملک حسینیوں کا ہے اور یہاں تکفیریت کی کوئی جگہ نہیں اور شیعہ سنی اتحاد کی عظیم مثال قائم کی۔ وہی ہمارا اخلاقی اور شرعی فریضہ ہے کہ جشنِ عید میلاد النبیﷺ کے جلوسوں میں ناصرف بھرپور شرکت کریں بلکہ ایک دوسرے کو پھولوں کے ہار پہناۓ، اتحاد اور وحدت کو فروغ دیں، تاکہ امن و محبت کی فضا کو برقرار رکھا جاۓ اور حکمِ الہیٰ کہ خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ میں مت پڑو کو عملی جامہ پہنائیں۔
اپنی ملت پہ قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

Read 100 times

Add comment


Security code
Refresh