امام محمد باقرؑ، علمِ الٰہی کا دروازہ

Rate this item
(0 votes)
امام محمد باقرؑ، علمِ الٰہی کا دروازہ

پانچویں امام حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، تاریخِ اسلام کی ان عظیم ہستیوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علمِ الٰہی کے پوشیدہ اسرار کو انسانیت کے سامنے اس انداز سے آشکار کیا کہ رہتی دنیا تک آپ ''باقرالعلوم'' کے لقب سے پہچانے گئے۔

آپ کا اسمِ گرامی ''محمد'' اور لقب ''باقر'' ہے۔ عربی زبان میں ''باقر'' کے معنی ہیں شگافتہ کرنے والا، یعنی وہ شخصیت جو علم کی گہرائیوں کو چیر کر اس کے حقائق آشکار کرے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے علومِ دین، تفسیرِ قرآن، حدیث، فقہ اور معارفِ الٰہیہ کو اس وسعت کے ساتھ بیان فرمایا کہ علمی دنیا آپ کی عظمت کی معترف بن گئی۔ امام محمد باقر علیہ السلام یکم رجب 57 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی امام زین العابدین علیہ السلام، حضرت امام حسین علیہ السلام کے فرزند تھے، جبکہ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا، امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی صاحبزادی تھیں۔ اس طرح آپ کو یہ منفرد شرف حاصل ہوا کہ آپ کا سلسلۂ نسب ماں اور باپ دونوں طرف سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔

آپ کی ذاتِ گرامی اپنے نانا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم و اخلاق اور اپنے جد امجد حضرت علی علیہ السلام کی شجاعت و حکمت کا حسین امتزاج تھی۔ صبر، شکر، زہد، تقویٰ، سخاوت، حلم، بردباری، شجاعت اور مروّت جیسی اعلیٰ صفات آپ کی شخصیت میں اس طرح جلوہ گر تھیں کہ اہلِ بیتِ رسول کی عظمت آپ کے کردار میں نمایاں دکھائی دیتی تھی۔ واقعۂ کربلا نے امام محمد باقر علیہ السلام کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے۔ آپ کم سنی کے عالم میں میدانِ کربلا کے المناک مناظر کے گواہ بنے۔ ظلم، ایثار، قربانی اور حق پر استقامت کا جو درس امام حسین علیہ السلام نے عاشورا کے میدان میں دیا، وہی درس امام محمد باقر علیہ السلام کی پوری زندگی کا محور بن گیا۔ آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام نے ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا اور کس طرح مخدراتِ عصمت نے اسیری اور مصائب کے باوجود صبر و استقامت کی تاریخ رقم کی۔

مشہور عالمِ دین علامہ سید ذیشان حیدر جوادی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تصنیف ''نقوشِ عصمت'' میں مختلف اکابرینِ اہلِ سنت کے اعترافات نقل کیے ہیں، جن سے امام محمد باقر علیہ السلام کی علمی و روحانی عظمت آشکار ہوتی ہے۔ صواعقِ محرقہ میں آپ کو عبادت، علم اور زہد میں اپنے والد امام زین العابدین علیہ السلام کی مکمل تصویر قرار دیا گیا ہے۔ مطالب السؤل کے مطابق آپ علم، تقویٰ، طہارتِ قلب اور حسنِ اخلاق میں اس بلند مقام پر فائز تھے کہ یہ صفات گویا آپ کی پہچان بن گئیں۔

امام نسائی اور ابن شہاب زہری جیسے جلیل القدر محدثین نے آپ کو تابعین کے تیسرے طبقے کا عظیم عالم، عابد اور قابلِ اعتماد شخصیت قرار دیا ہے۔ ارجح المطالب میں یہاں تک لکھا گیا کہ بڑے بڑے علماء آپ کے سامنے خود کو حقیر محسوس کرتے تھے، حتیٰ کہ حکم جیسے معروف عالم بھی آپ کے حضور عاجزی اختیار کرتے تھے۔ مورخین اور اہلِ قلم نے آپ کی علمی عظمت کو بیان کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام کے فضائل و کمالات کو مکمل طور پر قلمبند کرنے کے لیے ایک مستقل کتاب درکار ہے۔ روضۃ الصفا میں آپ کو ''عظیم الشان امام'' اور فصل الخطاب میں ''مجمعِ جلال و کمال'' کہا گیا ہے۔ نور الابصار کے مطابق تفسیرِ قرآن، احادیث، علمِ سنن اور معارفِ دین کے جتنے ذخائر آپ سے ظاہر ہوئے، اتنے امام حسنؑ و امام حسینؑ کی اولاد میں کسی اور سے ظاہر نہیں ہوئے۔ مشہور عالم ابنِ حجر مکی لکھتے ہیں کہ امام محمد باقر علیہ السلام کے علمی فیوض و برکات کا انکار صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو بصیرت سے محروم ہو۔ ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ میں آپ کو بنی ہاشم کا سردار قرار دیتے ہوئے لکھا کہ آپ علوم کی تہہ تک پہنچ کر ان کے حقائق آشکار کر دیتے تھے، اسی لیے ''باقر'' کے لقب سے مشہور ہوئے۔ آپ کے علمی مقام کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہ جیسے عظیم فقیہ نے بھی آپ اور آپ کے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کی صحبت سے علمی استفادہ کیا۔ سیرت النعمان میں اس حقیقت کا واضح ذکر موجود ہے۔ روایات میں یہاں تک ملتا ہے کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جنات بھی آپ کے حلقۂ علم میں حاضر ہو کر استفادہ کرتے تھے۔ شواہد النبوۃ میں ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ بعض غیر معمولی افراد کو دیکھ کر جب راوی نے سوال کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ جنات ہیں جو علم حاصل کرنے آئے ہیں۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی پوری زندگی اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ اہلِ بیتِ اطہارؑ کی جدوجہد اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ دینِ خدا کی حفاظت اور انسانیت کی ہدایت کے لیے تھی۔ آپ نے نہ کبھی حکومت و سلطنت کی خواہش ظاہر فرمائی اور نہ ہی اس زمانے میں اٹھنے والی سیاسی تحریکوں میں بظاہر خود کو اس انداز سے شامل کیا کہ اصل مقصدِ امامت پس منظر میں چلا جائے۔ تاہم حکمران ہمیشہ آپ کی علمی، اخلاقی اور روحانی عظمت سے خوفزدہ رہتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جب تک خاندانِ رسالتؐ کی یہ روشن شخصیات موجود ہیں، اسلام کی من مانی تعبیر اور ظلم و جبر کے نظام کو دوام نہیں دیا جا سکتا۔ اسی خوف اور دشمنی کے نتیجے میں اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے 114 ہجری میں آپ کو زہر دغا دلوا کر شہید کر دیا۔ یوں امام محمد باقر علیہ السلام نے بھی اپنے آباء و اجداد کی طرح راہِ حق میں جامِ شہادت نوش فرمایا اور دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن آپ کا علم، کردار اور پیغام ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا۔

شہادت سے قبل آپ نے اپنے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کو غسل، کفن اور دیگر امور کے بارے میں وصیت فرمائی۔ انہی وصیتوں میں ایک نہایت اہم وصیت یہ بھی تھی کہ آپ کے مال میں سے آٹھ سو درہم آپ کی عزاداری کے لیے مخصوص کیے جائیں اور دس سال تک ایامِ حج میں میدانِ منیٰ میں آپ کا غم منایا جائے۔ اس وصیت میں گہری حکمت پوشیدہ تھی۔ چونکہ حج کے موقع پر پورا عالمِ اسلام وہاں جمع ہوتا تھا، اس لیے امام چاہتے تھے کہ لوگ اہلِ بیت علیہم السلام پر ڈھائے جانے والے مظالم سے آگاہ رہیں اور ساتھ ہی آلِ محمد علیہم السلام کی تعلیمات، فضائل اور حقیقی اسلامی پیغام بھی امت تک پہنچتا رہے۔ گویا امامؑ نے عزاداری کو صرف غم و اندوہ تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے دین کی تبلیغ، ظلم کے خلاف شعور بیدار کرنے اور حقائقِ اسلام کو زندہ رکھنے کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کو بھی واضح کرتا ہے کہ عزاداری اور اس کے لیے اخراجات کا اہتمام اہلِ بیتؑ کی سنت اور دینی شعور کا حصہ ہے، جس کے ذریعے نسلوں تک حق و باطل کی پہچان منتقل ہوتی رہتی ہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام صرف ایک عظیم عالم ہی نہیں بلکہ ''عالمِ باعمل'' تھے۔ آپ کی زندگی عارفوں کے لیے ہدایت اور سالکوں کے لیے کامل نمونہ تھی۔ آپ خود اپنی زمینوں میں کام کرتے، محنت سے رزق کماتے اور لوگوں کو یہ درس دیتے تھے کہ دین محض عبادات یا دعووں کا نام نہیں بلکہ حلال روزی، حسنِ اخلاق اور عملی کردار کا مجموعہ ہے۔

آپ فرمایا کرتے تھے:

''شکم کو حرام چیزوں سے محفوظ رکھنا اور اپنے آپ کو اخلاق کے زیور سے آراستہ کرنا ہی افضل ترین عبادت ہے۔''

یہ تعلیم دراصل اس معاشرے کے لیے ایک واضح پیغام تھی جہاں دین کو صرف ظاہری رسوم تک محدود کیا جا رہا تھا۔ امامؑ نے بتایا کہ حقیقی عبادت انسان کے کردار، نیت اور عمل سے پہچانی جاتی ہے۔

آپ اکثر اپنے ماننے والوں کو متوجہ کرتے ہوئے فرماتے تھے:

''ہمارے شیعہ صرف وہی ہیں جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے احکام کی پیروی کرتے ہیں۔ صرف زبان سے اہلِ بیتؑ کی محبت کا دعویٰ کافی نہیں، کیونکہ خدا کا قرب صرف اطاعت کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ ہماری محبت اسی شخص کو فائدہ دے گی جو خدا کا فرمانبردار ہو، اور جو خدا کی نافرمانی کرے، اس کے لیے محبتِ اہلِ بیتؑ کا دعویٰ کوئی فائدہ نہیں رکھتا۔ لہٰذا دھوکے میں نہ رہنا۔''

امام محمد باقر علیہ السلام کے یہ ارشادات آج بھی ہر دور کے انسان کو جھنجھوڑتے ہیں کہ دین صرف نسبتوں، نعروں اور دعووں کا نام نہیں بلکہ تقویٰ، اطاعتِ الٰہی اور حسنِ کردار کا عملی راستہ ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جس نے امام محمد باقر علیہ السلام کو صرف اپنے زمانے کا نہیں بلکہ رہتی دنیا تک انسانیت کا امام و رہبر بنا دیا۔

تحریر: آغا زمانی

Read 2 times