مذھب اباضیہ

Rate this item
(1 Vote)

عبداللہ اباض تمیمی کو مذھب اباضیہ کا بانی بتایا جاتاہے البتہ بعض اباضی محققین عبداللہ اباضی کی طرف اپنے مذھب کی تاسیس کی نفی نہیں کرتے ہیں تاہم اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ مذھب اباضیہ کے بانی جابر ابن ابوزید (ابو شعثاء ) تھے اور قائل ہیں کہ عبداللہ ،جابر کے فتووں کے مطابق عمل اور فیصلے کیا کرتے تھے ۔

عبداللہ اباضی اٹھارویں ہجری میں عمان کے شہر نزوی میں پیدا ہوۓ اور 93 ہجری میں بصرہ میں وفات پائي ۔

بعض محققین کا خیال ہےکہ اباضی مذھب کے دراصل دو بانی ہیں ایک نے سیاسی قیادت سنبھال رکھی تھی جو عبداللہ اباض تھے اور دوسرے نے فقہی وعلمی قیادت سنبھا لی ہوئي تھی اور وہ جابر ابن زید تھے ۔

عمان میں بسنے والے اباضی مذھب کے پیرووں کے بارے میں مندرجہ ذیل مطلب قابل توجہ ہے ۔

عمان شبہ جزیرہ سعودی عرب کے جنوب مشرق میں واقع ہے اس ملک میں شاہی نظام قائم ہے اور اس کا دارالحکومت مسقط ہے اس ملک کی آب وہوا گرم و استوائی ہے ،عمان کے اہم شہروں میں صحار ،صور،قلھات و دبا کا نام لیا جاسکتاہے تاہم مسقط اس ملک کی اہم بندرگاہ اور تجارتی مرکز ہے ۔

عمان کے اکثر باشندے اباضی مذھب کے پیرو ہیں ،ماضی میں اباضیہ کی امامت کا مرکز شہر نزوی تھا ۔

سرزمین عمان میں سب سے پہلے مسلمان ہونے والے شخص کا نام "مازن بن غضوبہ "ہے مازن کے اسلام لانے کے ایک سال بعد عمانیوں کا ایک گروہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیتا ہے اس زمانے میں ایران کا بادشاہ شیرویہ تھا ،شیرویہ نے اپنی سرحدی فورس کے سربراہ سے نۓ پیغمبر(ص) کے بارے میں تحقیق کرنے کو کہا یہ فوجی سردار رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملنے کے بعد مسلمان ہوگیا اور عمان کی اکثریت کو بھی مسلمان بنادیا ۔

حضرت علی علیہ السلام کے زمانے میں جو خوارج کا فرقہ وجود میں آیا تھا کئي گروہوں میں بٹ گیا جن میں صفریان نجدات ،اباضیہ اور عجارہ کا نام قابل ذکر ہے البتہ اس وقت اباضیہ ان شدت پسند عقائد کے حامل نہیں ہیں تاہم ان کا شمار خوارج میں ہوتاہے ۔

عمان کے اباضیہ کی بعض اہم شخصیتیں

1 -امام جابر ابن زید انہوں نے مذھب اباضیہ کے اصول وقواعد ترتیب دۓ ۔

2 -ابو عبیدہ مسلم ابن ابی کریمہ تمیمی ؛ان کے زمانے میں مذھب اباضیہ مستقل مذھب کی حیثیت سے سامنے آیا اور اسی زمانے میں اس مذھب کی فکری و عقیدتی آراء کو مدون کیا گیا ۔

3 -ربیع ابن حبیب فراھیدی : یہ بزرگ فقیہ و محدث تھے ۔

مذھب اباضیہ کی خصوصیات

مذھب اباضیہ میں منابع شریعت قرآن سنت اجماع و قیاس و استدلال ہیں ان کے نزدیک عقائد ، عبادات ،اخلاق و معاملات کا بنیادی منبع قرآن ہے ۔

دوسرامنبع سنت ہے جو تواتر کی حد تک ہو ۔

تیسرا منبع اجماع ہے البتہ اجماع قولی کو حجت قطعی اور اجماع سکوتی کو حجت ظنی قراردیتے ہیں ۔

چوتھا منبع قیاس ہے جس کی تفصیلات اور اصول و قواعد ان کی کتب اصول میں مذکورہیں ۔

پانچواں منبع استدلال ہے جس میں استصحاب ،استحسان و مصالح مرسلہ شامل ہیں ۔

اباضیہ کے فقہی ممیزات :

1 - اباضیہ خداکی یکتائي ،نبوت ،حقانیت قرآن اور روزہ نماز جیسی عبادات کو جز ایمان سمجھتے ہیں

2 - اباضیہ کا ایک فقہی امتیاز اعتدال پسند ہونا ہے وہ مسئلہ حدیث و راي ، نیزسیاسی و مذھبی روش میں میانہ روی کے قائل ہیں ۔

اباضیہ کے بعض فقہی مسائل :

1-طعام اھل کتاب کو حرام سمجھتے ہیں مگر یہ کہ وہ ذمی ہوں ۔

2 - دفع مفسدہ جلب مفسدہ پر تقدم رکھتا ہے ۔

3 - مسافر کی نماز قصر ہے ۔

4 - ان کے نزدیک باب اجتھاد کھلا ہے اور مجتھد کے لۓ لغت و اصول دین ،فقہ و مصادر ادلہ میں ماہر ہونا ضروری ہے ۔

5 - ان کے نزدیک واجبات میں علم و ایمان ۔نماز و روزہ ، زکات حج و توبہ امربہ معروف و نہی ازمنکر و جھاد ہیں ۔

6 - ان کے نزدیک نمازجمعہ واجب ہے

7 - اباضیہ قنوت نہیں پڑھتے ۔

اباضیہ کی بعض کتب فقہی :

اجوبۃ ابی نھیان

اجوبہ فقہیہ ابو یعقوب و ارجلانی

احکام الدماء ابی العباس احمد بن محمد

احکام الزکات جاعد بن خمیس خروصی

احکام السفر فی الاسلام یحی معمر

رسالۃ فی احکام الزکات مسلم بن ابی کریمہ ۔

مذھب اباضیہ کا بانی

مورخین ملل و نحل کے نزدیک جو روایت مشہور ہے وہ یہ ہےکہ اباضی مذھب کا بانی عبداللہ بن اباض تمیمی ہے مشہورہےکہ انہوں نے معاویۃ بن ابوسفیان کا زمانہ دیکھا ہے البتہ بعض مورخین کا خیال ہےکہ اس فرقے کے بانی جابر ابن زید ہیں جابر نے بہت سے صحابہ سے کسب فیض کیا ہے وہ فقہ و حدیث میں مہارت رکھتے تھے انہوں نے حضرت علی علیہ السلام اور ابن عباس و جناب عایشہ سے حدیثیں نقل کی ہیں جابر عمان کے رہنے والے تھے ۔

مذھب اباضیہ تاریخی نشیب و فراز میں ۔

ایک سوبتیس ہجری قمری سے مذھب اباضیہ عمان کا سرکاری مذھب قرارپایا البتہ تاریخ میں یہ ملتاہے کہ اباضیہ 75 سے لیکر 95 ہجری قمری میں سب سے پہلے عمان پہنچے ہیں جب حجاج ابن یوسف نے جابر ابن زید کو عمان کی طرف ملک بدرکیا تھا عاہل عمان کا جابر ابن زید کی دعوت کو قبول کرنے کی وجوہات میں یہ ایک اہم بات ہےکہ وہ خود عمان کے علاقے ازد کے رہنے والے تھے اور ازد ہی عمان کا سب سے بڑا قبیلہ ہے اس کے علاوہ جابر ابن زید کی معتدل آراء و نظریات بھی ان کے مذھب کے پھیلنے میں موثر واقع ہوئي ہیں ۔

اموی دور کے آخر میں اباضی مذھب کے پیرو اپنے مذھب کو مخفی رکھہ کر پہاڑی علاقوں میں زندگی گزارا کرتے تھے یہ لوگ عمرابن عبدالعزیز کو امیرالمومنین کہاکرتے تھے ، عباسی حکمرانوں کے زمانے میں جناح ابن عبادہ اور محمد ابن جناح عمان کے حاکم تھے اور انہو‍ ں نے اباضیہ کو اقتدارتک پہنچانے میں اہم کردار اداکیاہے ۔

اباضی رہنماوں نے برسوں تک خفیہ طور پر تبلیغ کی اور ان ہی کی کوششوں سے اباضیہ مذھب کو ترقی ملی ۔

اباضیہ مذھب کے اماموں کی فہرست حسب ذیل ہے ۔

جلند بن مسعود

محمد بن عبداللہ ابن ابی عفان

وارث ابن کعب خروصی

غسان ابن عبداللہ یحمدی

عبدالمالک ابن حمید

مھنا ابن جیفر

راشد ابن نظر۔

علاقے میں بالخصوص عمان میں سامراجیوں کا وجود اور نویں اور دسویں صدی میں ان کی دینی قیادت کے فقدان سے اس ملک میں مغربی سامراج کا تسلط ہوگیا ۔

اباضیہ کے کلامی نظریات ۔

بعض علماءکا کہنا ہےکہ اباضیہ صرف حکمیت کے بارے میں اور امام کے قرشی ہونے کے مسائل میں دیگرمذاھب سے اختلاف رکھتے ہیں اور دیگر مسائل میں کسی نہ کسی فرقے سے اتفاق رکھتے ہیں چنانچہ صفات خدا ،رویت و تنزیہ تاویل و حدوث قرآن کے بارے میں معتزلہ اور امامیہ سے اتفاق رکھتے ہيں ،شفاعت کے بارے میں اباضیہ کی نظر معتزلہ سے نزدیک ہے ۔

مختلف مذاھب کے ساتھہ اباضیہ کے بعض اختلافات و اتفاقات

اھل سنت و اشاعرہ کے ساتھ ان کے اختلافات

گناہ کبیرہ کے مرتکبین کی شفاعت ممکن ہے

صفات خدا زائد برذات ہیں

گناہ کبیرہ کے مرتکبیں لازمی نہیں ہے کہ دوزخ میں جائيں

بغیر تاویل کے صفات خبریہ کا اثبات ممکن ہے ۔

مومنین قیامت میں خدا کو آنکھوں سے دیکھیں گے ۔

قدریہ اور معتزلہ سے ان امور میں اختلاف رکھتے ہیں ۔

انسان کے افعال میں قدرالھی کی نفی

ارادہ خداوندی افعال قبیح سے متعلق نہیں ہوتا اور یہ کہ گناہ کبیرہ کے مرتکبین کے لۓ ایمان وکفر کے درمیان ایک منزل ہے ۔

ان امور میں قدریہ اور معتزلہ سے موافق ہیں ۔

صفات خدا عین ذات خدا ہيں ،خدا کو آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا

مسئلہ امامت میں نص سے انکار ،اثبات استحقاق ثواب براے مومن

اس صورت میں کہ وہ جب بھی گناہ کرے استغفارکرلے ۔

مآخذ

1-الکشف و البیان قلھاتی

2-اللمعۃ المرضیہ من اشعۃ الاباضیہ سالمی ،نورالدین

3 -معجم مصادر الاباضیہ علی اکبرضیائي

4 -الاباضیہ فی المصر والمغرب عبدالحلیم ،رجب محمد

5 -الاباضیہ بین الفرق الاسلامیہ معمر ۔علی یحی

6 –دایرۃ المعارف بزرگ اسلامی جلد2

7 -مشوھات الاباضیہ بحاز،ابراھیم

Read 2581 times

Add comment


Security code
Refresh