ایران کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی شکست

Rate this item
(0 votes)
ایران کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی شکست

ٹرمپ ہار ماننے پر مجبور ہو گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آخرکار ایران کے سامنے ہار ماننے کا فیصلہ کرتے ہوئے سفید جھنڈا لہرا دیا ہے۔ وہ اس طرح کم ترین نقصانات کے ساتھ عزت پتی سے جنگ سے نکلنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ سمجھ گیا ہے کہ وہ جس دلدل میں پھنسا ہوا ہے اس سے باہر نکلنے کا راستہ وہی مفاہمتی یادداشت ہے جو پاکستان میں اسے پیش کی گئی ہے۔ یہ مفاہمت جنگ بندی، تھکا دینے والی جنگ مزید وسعت اختیار کرنے سے روکنے اور آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کی رٹ اور حاکمیت قبول کیے جانے پر منتج ہو گی جسے ڈونلڈ ٹرمپ نہ چاہنے کے باوجود ماننے پر مجبور ہو چکا ہے۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے بہت بڑا دھوکہ کھانے اور طویل اور شدید سرگردانی کے بعد اب انہیں ہی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے جنہوں نے اسے دھوکہ دیا ہے۔ ٹرمپ آج ایران کے اسی اسلامی نظام کے عہدیداروں سے مفاہمت کرنے پر مجبور ہو چکا ہے جس کی سرنگونی کے لیے اس نے جنگ شروع کی تھی۔
 
ایران نے جنگ اور مذاکرات میں ذہانت سے عمل کیا ہے
امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ اصل اختلافات، خاص طور پر جوہری سرگرمیوں کے بارے میں مذاکرات کو موخر کر دینا اور فی الحال جنگ ختم کرنے پر زور دینا اور آئندہ دو ماہ کے دوران مرحلہ وار ایران کے دسیوں ارب منجمد اثاثے واپس کر دینے کا عندیہ وہ اہم کامیابیاں ہیں جو ایران نے اپنی ذہانت سے حاصل کی ہیں۔ ساتھ ہی ایران نے فوجی میدان میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف بہترین ڈیٹرنس برقرار کر رکھی ہے۔ دوسری طرف ایران آبنائے ہرمز میں ٹرمپ کی تمام تر کھوکھلی دھمکیوں، جیسے ایران کو نابود کر دینے، اسے صفحہ ہستی سے مٹا دینے اور اسے جہنم میں ڈال دینے کی پرواہ کیے بغیر اس کے ہر جارحانہ اقدام کا دوٹوک اور منہ توڑ جواب دے رہا ہے۔ ماضی میں بھی ایران نہ صرف امریکہ بلکہ مغربی ممالک سے بھی اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات کر چکا ہے۔
 
ایران نے امریکہ اور یورپی ممالک سے دو سال تک اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات انجام دیے۔ یہ مذاکرات ویانا سے لے کر مسقط تک اور آخرکار جنیوا میں انجام پائے جن میں یورینیم افزودگی جیسے حساس ایشوز بھی زیر بحث لائے گئے تھے۔ ان مذاکرات میں بھی ایران نے اپنے حقوق کا دفاع کیا اور دشمن کو مراعات نہیں دیں۔ ایران کے پاس حالیہ جنگ میں بھی بہت سے کارڈ تھے جن سے اس نے امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف بہت ذہانت سے استعمال کیا۔ ان کارڈز میں جوہری پروگرام، میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی اور ان شعبوں میں خودکفائی شامل ہے۔ لیکن ایران کے پاس جو سب سے زیادہ اہم کارڈ موجود ہے وہ اسلامی مزاحمتی بلاک اور مزاحمتی محاذوں میں اتحاد اور وحدت ایجاد کرنا ہے۔ اسی طرح جنگ کو تھکا دینے والی علاقائی جنگ تک وسعت دینا بھی اہم کارڈ ہے۔
 
سب سے بڑی ہار اسرائیل کی ہوئی ہے
اہران کے پاس موجود یہ کارڈز نتیجہ بخش ثابت ہوئے اور ٹرمپ کو ذلت آمیز انداز میں ایران کی پیش کردہ شرائط پر جنگ روکنے اور مفاہمتی یادداشت قبول کرنے پر مجبور کرنے میں کامیاب رہے۔ اس بات سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ اس مفاہمی یادداشت پر کس حد تک عمل کیا جائے گا اور امریکہ اس کی کتنی پابندی کرے گا، سب سے بڑی ہار اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی ہوئی ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ اگرچہ غاصب صیہونی رژیم نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی لیکن جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کردہ مفاہمتی یادداشت تیار کرنے میں اس کا کوئی کردار نہیں ہے۔ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران میں طے پانے والے ممکنہ معاہدے میں اسرائیل کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور یہ اسرائیل کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
 
مزاحمتی محاذوں میں اتحاد، صیہونی رژیم پر کاری ضرب
ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملے کا الٹی میٹم جاری کرنے پر بنجمن نیتن یاہو کو پاگل کہا اور اس کی خوب درگت بنائی۔ دوسری طرف ایران نے بیروت پر حملے کو ریڈ لائن قرار دیا اور ایسی صورت میں جوابی حملے کی وارننگ بھی دی۔ لہذا جب اسرائیل نے بیروت کو نشانہ بنایا تو چند گھنٹے بعد ہی ایران نے اسرائیل کو شدید میزائل حملوں سے نشانہ بنا ڈالا۔ ایران کے اس اقدام نے اسلامی مزاحمتی محاذوں کے درمیان اتحاد کی مساوات کو مضبوط کر دیا۔ یہ ایران کی ایک بہت بڑی اسٹریٹجک فتح ہے۔ اسی طرح ایران کے سربراہان کی جانب سے جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کرنے پر اصرار کیا جا رہا ہے جو اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم پر کاری ضرب ہے۔ ممکنہ معاہدے میں ایران کے اس مطالبے کی قبولیت سے حزب اللہ لبنان کو مزید مشروعیت فراہم ہو جائے گی۔
 
جنگ کا نتیجہ، زیادہ طاقتور ایران
نیتن یاہو نے ٹرمپ کو دھوکہ دیا اور اسے ایک بھیڑ کی مانند جنگ میں دھکیلا۔ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو یقین دہانی کروائی کہ امریکہ اور اسرائیل کے پہلے مشترکہ حملے میں ہی ایران ٹوٹ جائے گا اور دسیوں لاکھ ایرانی نظام کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ لیکن آج تقریباً 100 دن گزر جانے کے بعد جو نتائج برآمد ہوئے ہیں وہ مکمل طور پر برعکس ہیں۔ ایران کا اسلامی نظام پہلے سے زیادہ طاقتور ہو چکا ہے اور اس کے عوام میں بھی وحدت کو فروغ ملا ہے۔ یہ حقیقت بہت واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے کہ ٹرمپ کو شکست ہوئی ہے اور اسرائیل بہت تیزی سے زوال اور انتشار کی جانب گامزن ہے۔ غاصب صیہونی رژیم روز بروز تنہا اور منفور ہوتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر امریکی عوام میں اسرائیل سے نفرت بڑھ رہی ہے کیونکہ انہیں نیتن یاہو کی جنگ میں شمولیت کی بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔

Read 63 times