آج رمضان کا پانچواں دن ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ہمیں رمضان سے پہلے کی تیاری کی بات نہیں کرنی، بلکہ خود سے یہ سوال کرنا ہے کہ کیا ہم واقعی رمضان کے اندر آ چکے ہیں؟ روزے جاری ہیں، معمولات قائم ہیں، مگر اصل سوال دل کی حالت کا ہے۔ ماہِ رمضان رحمت کا مہینہ ہے، مگر یہ رحمت اندھی نہیں ہوتی۔ یہ اُن دلوں پر اترتی ہے جو اس کے لیے کھلے ہوں۔ اگر دل ابھی تک بوجھل ہیں، تو رمضان کا آنا بھی انسان کو اندر سے نہیں بدل پاتا۔
توبہ اور استغفار اسی دروازے کا نام ہیں جس سے گزر کر انسان رمضان کی اصل فضا میں داخل ہوتا ہے۔ جو شخص توبہ کے بغیر رمضان کے دنوں میں آگے بڑھتا ہے، وہ گویا گرد آلود دل کے ساتھ بارش میں چل رہا ہوتا ہے—پانی برستا ہے، مگر مٹی جم جاتی ہے۔ اس لیے آج بھی، رمضان کے اندر، خود کو صاف کرنے کی ضرورت باقی ہے۔
ہم توبہ کو اکثر صرف گناہوں کی معافی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ توبہ دراصل واپسی ہے—غلط سمت سے درست سمت کی طرف۔ یہ واپسی کسی ایک تاریخ یا ایک لمحے کی محتاج نہیں۔ اگر انسان صرف زبان سے استغفار کرے، مگر دل میں لوٹنے کا ارادہ نہ ہو، تو یہ استغفار الفاظ سے آگے نہیں بڑھ پاتا، چاہے رمضان کا کتنا ہی مبارک دن کیوں نہ ہو۔
رمضان انسان کو بدلنے آیا ہے، مگر بدلا ہوا انسان وہی بن سکتا ہے جو اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لے۔ اعتراف کے بغیر اصلاح ممکن نہیں۔ اگر اب تک ہم نے یہ سوچ کر خود کو ٹال دیا کہ “رمضان سے پہلے” توبہ کریں گے، تو آج یہ سمجھ لینا چاہیے کہ رمضان کے اندر بھی یہ دروازہ کھلا ہوا ہے۔ دیر صرف نیت کی ہے۔
استغفار توبہ کی زبان ہے۔ یہ محض ایک ذکر نہیں، بلکہ دل کی عاجزی کا اظہار ہے۔ جب انسان بار بار کہتا ہے “میں نے غلطی کی”، تو اس کے اندر غرور ٹوٹتا ہے، اور یہی غرور اکثر گناہ کی جڑ ہوتا ہے۔ رمضان کے یہ دن ہمیں یہ موقع دیتے ہیں کہ ہم عبادت کے ساتھ ساتھ اپنی انا کو بھی توڑیں۔
لیکن یہاں ایک بنیادی نکتہ اب بھی اپنی جگہ موجود ہے: حقوقُ الناس۔ خدا اپنے حق میں کوتاہی کو معاف کر سکتا ہے، مگر بندوں کے حق کو بندوں کی رضامندی کے بغیر نہیں۔ یہی وہ رکاوٹ ہے جو رمضان کے اندر بھی عبادت کو مکمل ثمر دینے سے روک دیتی ہے۔
اگر ان دنوں میں ہمیں یاد آ جائے کہ کسی کا دل دکھایا تھا، کسی کا حق دبایا تھا، یا کسی کے ساتھ ناانصافی ہوئی تھی، تو یہی وقت ہے اس کی تلافی کا۔ یہ مت سوچیں کہ اب بہت دیر ہو گئی۔ رمضان تلافی کا مہینہ ہے، ٹالنے کا نہیں۔ معافی مانگنا عبادت کی کمزوری نہیں، بلکہ اس کی سچائی کی علامت ہے۔
حقوقُ الناس صرف مالی معاملات تک محدود نہیں۔ زبان کا زخم، رویے کی سختی، بے رخی اور بے توجہی بھی اسی دائرے میں آتی ہے۔ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی عبادت کے ساتھ ساتھ اپنے تعلقات کی بھی اصلاح کریں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دین عبادت سے نکل کر زندگی کی صورت اختیار کرتا ہے۔
توبہ، استغفار اور حقوقُ الناس—یہ تینوں اگر رمضان کے اندر زندہ ہو جائیں تو دل ہلکا ہو جاتا ہے۔ اور جب دل ہلکا ہو، تو روزہ محض بھوک نہیں رہتا، بلکہ ایک باطنی راحت بن جاتا ہے۔ انسان اپنے اندر ایک نئی شفافیت محسوس کرتا ہے، جیسے دل کے پردے آہستہ آہستہ ہٹ رہے ہوں۔
آج، رمضان کے پانچویں دن، یہ پیغام اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے کہ خدا کی طرف جانے کا راستہ ابھی بند نہیں ہوا۔ یہ راستہ بندوں کے دلوں سے ہو کر گزرتا ہے، اور یہ دل آج بھی صاف کیے جا سکتے ہیں
تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
