Super User
کردار زینب علیہا السلام

جس طرح قیامت تک آنیوالی تمام نسلوں پر چاہے وہ مرد ہوں یا عورت یہ حق بنتا ہے کہ امام حسین کو نہ بھلائیں اور انہیں ہر لمحہ یاد رکھیں ( چونکہ اگر امام حسین نے کربلا میں قربانی نہ دی ہوتی تو نہ آج اسلام ہوتا اور نہ ایمان ، نہ آج نماز ہوتی اور نہ ہی روزہ و حج ، غرضکہ شعائر الٰہی کے نام سے کوئی چیز باقی نہ ہوتی ) اسی طرح عقیلہ بنی ہاشم زینب کبریٰ کو بھی کسی لمحہ نہ بھلائیں کیونکہ شہادت امام حسین اور مقصد حسینی کی تکمیل حضرت زینب کبریٰ کی اسیری سے ہوئی ، اگر زینب کبریٰ کی اسیری نہ ہوتی تو کربلا تاریخ کے کسی دور افتادہ اوراق میں گم سم ہو کر محو ہو جاتی ، یا پھر دشمن اسے ایک سیاسی رخ دے کر حقیقت کا گلا گھونٹ دینے میں کامیاب ہو جاتے لیکن یہ جناب زینب کے وجود کا کمال ہے کہ تاریخ کربلا کو ہر تاریخ پر مقدم اور حیات جاودانی بخشی ، جبھی تو فارسی کے ایک شاعر نے کیا خوب کہا :
ترویج دین اگرچہ بقتل حسین شد
تکمیل آن بموی پریشان زینب است
دین اسلام کی تاریخ اگر چہ حسین کی شہادت سے ہوئی لیکن اس کی تکمیل زینب کی اسیری اور برہنہ سر سے ہوئی
امام حسین کے اہداف کو مختلف مقام پر خاص طور سے دربار یزید میں اسلامی ملکوں کے نمائندوں کے درمیان ضمیر کو جگا دینے والے بے نظیر خطبہ کے ذریعہ بیان کرنا ، اور بنی امیہ کی حکومت اور اس کے افکار کو رسوائے زمانہ کر دینا دلیری اور شجاعت فقط اور فقط جناب زینب کی ہے ۔
ولادت :
تاریخ ولادت کے حوالے سے علماء اور محدثین کے درمیان اختلاف ہے بعض کہتے ہیں۔ ٥ ھ ، تو بعض ٦ ھ ، اور بعض نے
٥ جمادی الاولیٰ ٧ ھ ، اور بعض نے اوائل شعبان لکھا ( لیکن مشہور نظر یہ اوائل شعبان ٦ ھ کاہے ۔
ولادت کے موقع پر پیغمبرۖ مدینہ میں موجود نہیں تھے ، لہذا سفر سے واپسی پر پیغمبر ۖ نے وحی الٰہی کے ذریعہ آپ کا نام زینب رکھا ۔
علم :
جس طرح معصومین کا علم لدنی تھا ( یعنی بغیر کسی دینوی درسگاہ میں تعلیم حاصل کئے ) اور انھیں بچپن سے ہی حقائق عالم وغیرہ کا علم ہوتا تھا اسی طرح حضرت زینب کا بھی علم تھا جیسا کہ چوتھے امام نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا انت بحمد اللہ عالمة غیر معلمة فھمة غیر مفھمة ،، رسول خدا ۖ کے انتقال کے وقت آپ کی عمر چار سے پانچ سال کے درمیان تھی ، آپ اپنی والدہ گرامی کے ساتھ مسجد آئیں اور حافظہ اتنا قوی تھا کہ ماں کے فدک سے متعلق بلیغ و طویل خطبہ کو ( جس کے ہر جملہ سے آج تک دنیا مستفید ہوتی رہی ہے اور اس کے نشیب و فراز کو بیان کرنے کے لئے متعدد شرحیں لکھی جا چکی ہیں
لفظ بلفظ ذہن میں محفوظ کر لیا ، صرف یہی نہیں بلکہ اس خطبہ کے راویوں میں حضرت زینب بھی ایک ہیں ۔ ( آیة اللہ دستغیب ، زندگانی فاطمہ زہرا ۖ اور زینب کبریٰ ، ص ١٦ )
علم و تقویٰ :
کرامات اور خارق العادات جیسی صفتوں سے بھر پور تھیں ۔ بچپن ہی سے امام حسین سے اتنی محبت رکھتی تھیں کہ ایک رات بھی بغیر بھیا حسین کے سکون نہیں ملتا تھا جس کی دلیل حضرت علی کا عبد اللہ بن جعفر سے شادی کی پیش کش پر دو شرطوں کا رکھنا ہے ۔
(١) میری بیٹی ( زینب کبریٰ ) حسین سے بے حد محبت رکھتی ہے لہذا میں اس شرط پر تمہارے عقد میں دوں گا کہ تم اسے ٢٤ گھنٹے میں ایک بار ضرور حسین سے ملاقات کی اجازت دو گے چونکہ زینب حسین کو دیکھے بنا ایک دن بھی نہیں رہ سکتی ۔
(٢)جب بھی حسین سفر کریں اور زینب کو ساتھ لے جانا چاہیں تم زینب کو نہیں روکو گے اور حسین کے ساتھ جانے کی اجازت دو گے ۔
(ذبیح اللہ محلاتی ، ریاحین الشریعہ ، ج٣ ص ٤١)
جس طرح رسول خدا ۖ حضرت فاطمہ ۖ کا احترام کرتے تھے بعینہ ویسے ہی حضرت علی جناب زینب کبریٰ کا احترام کرتے تھے ، جو کمالات و امتیازات ماں میں جلوہ گر تھے وہ حضرت زینب میں بھی موجود تھے جبھی آپ کو ثانی زہرا کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔
علمی امتیاز :
(١) حضرت علی کے دور حکومت میں کوفہ کی خواتین کے اصرار پر تفسیر قرآن کا درس دیتی تھیں ۔ ( آیة اللہ جزائری ۔ خصائص زینبیہ )
(٢) حضرت زینب کے خطبے :
( اختصار کے پیش نظر خطبے تبرک کے طور پر کچھ جملے )
تاریخ بشر یت میں ایسی خاتون کہاں ملے گی جس کے چھ یا سات بھائی قتل کر دیئے گئے ہوں ، بیٹے شہید کر دیئے گئے ہوں ، دس بھتیجے اور چچا زاد بھائی تہ تیغ کر دیئے گئے ہوں پھر اسے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اسیر کیا گیا ہو ایسی حالت میں اپنے اور شہیدوں کے حق کا دفاع کرے ۔ اور ایسے شہر میں جہاں کی شہزادی رہ چکی ہو اس کے بعد بھی زبان پر نہ گلہ اور نہ ہی شکوہ بلکہ صراحت کے ساتھ یہ کہے : ہم نے تو اپنی خواہش کے خلاف کچھ نہیں پایا ، ہمارے مرد اگر شہید ہو گئے تو تعجب کیا ہے ہم تو اسی لئے ہیں ، ہمارے لئے یہ فخر کا مقام ہے ، ہم تو خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں یہ توفیق اور سعادت عطا کی ۔ ( مہدی پیشوایان ، سیرہ پیشوایان ، ص ١٩٧)
الف : خطبہ حضرت زینب ، عبید اللہ بن زیاد کے دربار میں
دربار ابن زیاد میں ابن زیاد کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اپنی دلیری کا یوں مظاہرہ کیا : خدا کا شکر ہے کہ اس نے اپنے رسول ۖکے ذریعہ ہمیں عزت بخشی اور گناہ سے دور رکھا ، رسوا تو صرف فاسق ہوتے ہیں ، جھوٹ تو صرف ( تجھ جیسے ) بد کار بولتے ہیں ۔ الحمد للہ کہ ہم بدکار نہیں ہیں ۔ (شیخ مفید الارشاد ، ص ٢٤٤)
ب : خطبہ حضرت زینب بازار کوفہ میں ( کوفیوں سے خطاب کرتے ہوئے )
اے مکار ، غدار ، خائن کوفیوں ! خدا کبھی تمہارے آنسووں کو خشک نہ کرے ، تمہاری قسمت میں سوائے خدا کی ناراضگی اور عذاب دوزخ کے سوا کچھ نہیں ، رئوو اور خوب رئوو چونکہ تمہارے نصیب میں صرف رونا ہی لکھا ہے ، ذلت و خواری تمہارا مقدر بن چکی ہے ، تم نے کام ہی ایسا کیا ہے کہ قریب ہے آسمان زمین پر آجائے ، زمین پھٹ جائے ، پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اگر خدا کا عذاب ابھی تم پر نہیں آیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم محفوظ ہو ، خدا عذاب کو ( ہمیشہ ) فوراً نہیں بھیجتا لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ ،مظلوموں کو انصاف نہ دلائے ۔ ( مہدی پیشوایان ، سیرہ پیشوایان ص ٢٠٠ ١٩٩)
فصاحت و بلاغت اور لہجہ حضرت زینب کا حال یہ تھا کہ ہر کوفی حیران تھا کہ کیا علی پھر دوبارہ آگئے ہیں ۔ باپ اور بیٹی کے درمیان ایسی فکری اور لسانی شباہت تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے ۔
خطبہ حضرت زینب یزید کے دربار میں :
خدا نے سچ فرمایا : کہ جن لوگوں نے برے اور گھنونے کام کئے ان کی سزا ان لوگوں جیسی ہے جنھوں نے الٰہی آیات کی تکذیب کی ، اور اس کا مذاق اڑایا ۔ اے یزید کیا تو الٰہی فرمان کو بھول گیا ( کہ خدا نے فرمایا ) کافر خوش فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیں ، اگر ہم نے مہلت دے دی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم ان کی بھلائی چاہتے ہیں ؟ نہیں ہرگز ایسا نہیں ہے بلکہ ہم نے اس لئے انھیں مہلت دی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ گناہ کر سکیں ( اور آخر کار ) سخت ترین عذاب میں گرفتار ہوں ( اور ان کی بخشش کا کوئی راستہ نہ رہ جائے ) اے اس آدمی کے بیٹے جسے میرے جد پیغمبر ۖ نے اسیر کرنے کے بعد آزاد کر دیا ، کیا یہی عدل و انصاف ہے کہ تو اپنی عورتوں اور کنیزوں کو پس پردہ بٹھائے اور رسول کی بیٹیوں کو اسیر کر کے دیار بدیار پھرائے ۔ اے یزید تونے ابھی اپنے آباء و اجداد کو یاد کیا ہے ( چونکہ ہمارے جوانوں کو شہید کر دیا ہے ) گھبرائو نہیں تم بھی جلد انھیں کے پاس پہنچنے والے ہو اور پھر تمنا کرو گے ، اے کاش تمہاری زبان گونگی ہو گئی ہوتی ( اور اہل بیت کو برا بھلا نہ کہتے ) اے کاش تمہارا ہاتھ شل ہو گیا ہوتا ( چونکہ تم نے بھیا حسین کے دندان مبارک کی چھڑی سے بے حرمتی کی ) جو لوگ راہ خدا میں قتل کر دئے گئے ہیں انھیں ہر گز مردہ نہ سمجھنا ( بلکہ ) وہ زندہ ہیں ، اور اللہ کی طرف سے رزق پاتے ہیں ۔ ( ہمارے لئے تو اتنا ہی کافی ہے کہ خدا حاکم ہے اور محمد ( تمہارے ) دشمن ، اور جبرئیل مددگار ۔یزید تیری حیثیت میری نگاہ میں نہایت پست و حقیر ہے اور میں بے پناہ تیری ملامت کرتی ہوں اور تجھے بہت ذلیل اور خوار سمجھتی ہوں ۔ یزید تمہیں ہرگز یہ گمان نہ ہو کہ تمہاری حشمت و جلالت اور حکومت سے میں مرعوب ہو جائوں گی ۔ کتنی عجیب بات ہے کہ لشکر خدا طلقائ ( آزاد کردہ غلام اور غلام زادوں ) اور لشکر شیطان کے ہاتھوں تہ تیغ کر دیا جائے ، اور ہمارے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگین کر لے ۔ خدا اپنے بندوں پر ظلم روا نہیں کرتا ، ہم تو بس اسی سے شکوہ کرتے ہیں اور اسی پر اعتماد کرتے ہیں ۔ لہذا جو فریب و حیلہ چاہے کر لے اور جتنی طاقت ہے آزمالے اور کوشش کر کے دیکھ لے خدا کی قسم ہمیں اور ہماری یادوں کو ( مومنین کے دل سے ) نہ مٹا سکے گا ، اور ہمارے ( گھر میں) نزول وحی کو کبھی جھٹلا نہ سکے گا ۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمارے بزرگوں کو سعادت و مغفرت کے ساتھ اس دنیا سے اٹھایا اور ان کے بعد والوں کو مقام شہادت اور حجت پر فائز کیا ۔
( شیخ عباس قمی ، نفس المہموم (ترجمہ آیة اللہ طرای ) ، ص ٢١٢ ٢١٣ ۔ ابن ابی طیفور ، بلاغات النسا ء ص ٢٣ ١٢ )
پورا شام جو کہ یزید کی کامیابی کا جشن منا رہا تھا ، یزید نے اپنی کامیابی کا سکہ جمانے کے لئے مختلف اسلامی ریاستوں سے سفیر بلائے تھے لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ جو ذلت و رسوائی کا قلادہ دوسروں کے گلے ڈالنا ہے وہ میرے گلے پڑ جائے گا ، جو کانٹا دوسروں کے لئے بچھایا ہے وہ میرے ہی پیر میں چبھ جائیگا ، جو کھائی دوسروں کے لئے بنائی ہے خود ہم ہی اس میں گر جائیں گے ، وتعز من تشاء وتذل من تشاء بغیر حساب آخر کار وہی ہوا جس کا یزید کو تصور بھی نہ تھا ، چاہا تھا مذاق اہل حرم کا اڑائیں گے خود مضحکہ بن گیا ، اہل حرم کے دربار آتے وقت جتنا مسکرا رہا تھا حضرت زینب کے مذکورہ فصیح و بلیغ خطبہ کے بعد مسکراہٹ ہونٹوں سے چھن گئی ، یزید کا چہرہ دھواں دھواں ہو گیا ، جبھی تو کھسیائے ہوئے انداز میں درباریوں اور مہمانوں سے مخاطب ہو کر بولا : خدا پسر مر جانہ کو تباہ و برباد کر دے میں حسین کے قتل پر راضی نہیں تھا ۔
مروّت و غیرت ، جود وسخاوت ، صبر و زہد کی بے نظیر خاتون ،١٤ رجب ( یا بروایت ٥ رجب ) ٦٢ ھ ، ٥٦ سال کی عمر میں شام کی طرف شوہر کے ہمراہ سفر کرتے ہوئے اپنے پروردگار سے جا ملیں ، اور شام ہی میں شوہر سے متعلق زمین میں دفن کر دی گئیں ۔
جیسا کہ بعض کتب تاریخ میں ملتا ہے کہ آپ مدینہ یا مصر میں دفن کی گئیں قطعاً اشتباہ ہے جیسا کہ آیة اللہ دست غیب نے بھی اپنی کتاب زندگانی فاطمہ زہرا اور زینب کبریٰ ، ص ١٣ میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا : حضرت علی کی ایک اور بیٹی تھیں جن کا نام زینب صغریٰ تھا انھیں مصر یا مدینہ میں دفن کیا گیا۔
امام محمد باقر (ع) كى سوانح عمري

ولادت اور بچپن كا زمانہ
امام محمد باقر (ع) جمعہ كے دن پہلى رجب 57 ھ ق كو شہر مدينہ ميں پيدا ہوئے_ 1 آپ كا نام محمد، كنيت ابوجعفر اور مشہورترين لقب باقر ہے_ روايت ہے كہ حضرت رسول مقبول صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے اس لقب سے ملقب فرمايا تھا_ امام محمد باقر (ع)_ ماں اور باپ _ دونوں طرف سے فاطمى اور علوى تھے_ اس لئے كہ ان كے والد امام زين العابدين _ امام حسين(ع) كے فرزند تھے_ اور ان كى والدہ گرامى '' ام عبداللہ'' امام مجتبى _كى بيٹى تھيں_ آپ نے امام زين العابدين _جيسے باپ كى پر مہر آغوش ميں پرورش پائي اور با فضيلت ماں كى چھاتى سے دودھ پيا_ وہ ماں جو عالمہ اور مقدسہ تھيں، امام جعفر صادق عليہ اسلام سے منقول ہے كہ '' ميرى جدّہ ماجدہ ايسى صديقہ تھيں كہ اولاد امام حسن مجتبى _ميں كوئي عورت انكى فضيلت كے پايہ كو نہ پہونچ سكي_ 2
آپ(ع) كى شرافت اور بزرگى كو مندرجہ ذيل حديث ميں پڑھا جاسكتا ہے_ پيغمبر-(ص) نے اپنے ايك نيك صحابي، جابر ابن عبداللہ انصارى سے فرمايا:'' اے جابر تم زندہ رہوگے اور ميرے فرزند محمد ابن على ابن الحسين (ع) سے كہ جن كا نام توريت ميں '' باقر'' ہے ملاقات كروگے_ ملاقات ہونے پر ميرا سلام پہنچا دينا''_ پيغمبر(ص) رحلت فرماگئے_ جابر نے ايك طويل عمر پائي ، ايك دن امام زين العابدين (ع) كے گھر تشريف لائے اور امام محمد باقر (ع) كو جو چھوٹے سے تھے ديكھا، ان سے جابر نے كہا: ذرا آگے آيئےامام(ع) آگے آگئے_ جابر نے كہا: ذرا مڑجايئے امام مڑگئے، جابر نے جسم اور ران كے چلنے كا انداز ديكھا اس كے بعد كہا، كعبہ كے خدا كى قسم، يہ پيغمبر(ص) كا ہو بہو آئينہ ہيں_ پھر امام زين العابدين (ع) سے پوچھا'' يہ بچہ كون ہے؟ آپ نے فرمايا: ميرے بعد امام ميرا بيٹا محمد باقر (ع) ہے_ جابر اٹھے اور آپ نے امام كے قدموں كا بوسہ ليا اور كہا: اے فرزند پيغمبر (ص) ميں آپ پر نثار، آپ اپنے جد رسول خدا كا سلام و درود قبول فرمائيں انہوں نے آپ كو سلام كہلو ايا ہے_
امام محمد باقر (ع) كى آنكھيں ڈبڈ باگئيں اور آپ(ع) نے فرمايا: جب تك آسمان اور زمين باقى ہے اس وقت تك ميرا سلام و درود ہو ميرے جد پيغمبر(ص) خدا پر اور تم پر بھى سلام ہو اے جابر تم نے ان كا سلام مجھ تك پہنچايا_ 3
امام (ع) كے اخلاق و كردار
حضرت امام محمد باقر (ع) ، متواضع، سخي، مہربان اور صابر تھے اور اخلاق و عادات كے اعتبار سے جيسا كہ جابر نے كہا تھا ہو بہو اسلام كے عظيم الشان پيغمبر(ص) كا آئينہ تھے_
شام كا ايك شخص مدينہ ميں ٹھہرا ہوا تھا اور امام (ع) كے پاس بہت آتارہتا تھا اور كہتا تھا كہ تم سے زيادہ روئے زمين پر اور كسى كے بارے ميں ميرے دل ميں بغض و كينہ نہيں ہے، تمہارے اور تمہارے خاندان سے زيادہ ميں كسى كا دشمن نہيں ہوں_ اگر تم يہ ديكھتے ہو كہ ميں تمہارے گھر
آتاجاتا ہوں تو يہ اس لئے ہے كہ تم ايك سخن ور اور خوش بيان اديب ہو
اس كے باوجود امام (ع) اس كے ساتھ حسن سلوك سے پيش آتے تھے اور اس سے بڑى نرمى سے بات كرتے تھے كچھ دنوں كے بعد وہ شخص بيمار ہوا اس نے وصيت كى كہ جب ميں مرجاؤں تو امام محمد باقر(ع) ميرى نماز جنازہ پڑھائيں_
جب اس كے متعلقين نے اسے مردہ ديكھا تو امام (ع) كے پاس پہنچ كر عرض كى كہ وہ شامى مرگيا اور اس نے وصيت كى ہے كہ آپ اس كى نماز جنازہ پڑھائيں_
امام نے فرمايا: مرا نہيں ہے ... جلدى نہ كرو يہاں تك كہ ميں پہونچ جاؤں اس كے بعد آپ اٹھے اور آپ نے دو ركعت نماز پڑھى اور ہاتھوں كو دعا كے لئے بلند كيا اور تھوڑى دير تك سر بسجدہ رہے، پھر شامى كے گھر گئے اور بيمار كے سر ہانے بيٹھ گئے، اس كو اٹھا كر بٹھايا_ اس كى پشت كو ديوار كا سہارا ديا اور شربت منگواكر اس كے منہ ميں ڈالا اور اس كے متعلقين سے فرمايا كہ اس كو ٹھنڈى غذائيں دى جائيں اور خود واپس چلے گئے_ ابھى تھوڑى دير نہ گذرى تھى كہ شامى كو شفا مل گئي وہ امام (ع) كے پاس آيا اور عرض كرنے لگا:'' ميں گواہى ديتا ہوں كہ آپ، لوگوں پر خدا كى حجت ہيں ...''_ 4
اس زمانے كے صوفيوں ميں سے ايك شخص محمد بن مُنكَدر كا بيان ہے كہ ايك دن ميں بہت گرمى ميں مدينہ سے باہر نكلا وہاں ميں نے محمد باقر (ع) كو ديكھا كہ دو غلاموں پر تكيہ كئے ہوئے ہيں_ ميں نے اپنے دل ميں كہا كہ قريش كے بزرگوں ميں سے ايك بزرگ ايسے وقت ميں دنيا كى ہوس اور لالچ ميں پڑے ہوئے ہيں، ميں ان كو كچھ نصيحت كروں_ ميں ان كے قريب گيااور سلام كيا_ ان كے سر اور داڑھى سے پسينہ بہہ رہا تھا_ امام (ع) نے اسى حالت ميں ميرے سلام كا جواب ديا_ ميں نے عرض كي: خدا آپ كو سلامت ركھے آپ كى جيسى شخصيت والا انسان اس وقت اس حالت ميں دنيا حاصل كرنے ميں لگا ہوا ہے اگر اسى حالت ميں موت آجائے تو آپ(ع) كيا كريں گے؟
آپ نے فرمايا خدا كى قسم اگر موت آگئي تو خداوند عالم كى اطاعت كى حالت ميں موت واقع ہوگي_اس لئے كہ ميں اس وسيلہ سے اپنے آپ كو تم سے اور دوسروں كى محتاجى سے بچاتا ہوں_ ميں اس حالت ميں موت سے ڈرتا ہوں كہ ميں ( خدا نخواستہ ) گناہ كے كام ميں لگا رہوں_ ميں نے كہا آپ پر خدا كى رحمت ہو، ميں نے چاہاتھا كہ ميں آپ كو نصيحت كروں ليكن آپ نے مجھ كونصيحت كى اور آگاہ فرمايا_ 5
علم امام محمد باقر (ع)
آپ كا علم بھى دوسرے تمام ائمہ كى طرح چشمہ وحى سے فيضان حاصل كرتا تھا، جابر بن عبداللہ آپ كے پاس آتے اور آپ كے علم سے بہرہ ور ہو تے اور بار بار عرض كرتے تھے كہ '' اے علوم كو شگافتہ كرنے والے ميں گواہى ديتا ہوں كہ آپ بچپن ہى ميں علم خدا سے مالامال ہيں_ 6
اہل سنت كے علماء ميں سے ايك بزرگوار عبداللہ ابن عطاء مكى فرماتے تھے كہ ميں نے امام محمد باقر(ع) كے سامنے اہل علم كو جس طرح حقير اور چھوٹا پايا ہے ويسا كسى كے سامنے ميں نے نہيں ديكھا ہے _حكم بن عتيبہ لوگوں كے نزديك جن كا علمى مقام بہت بلند تھا_ امام محمد باقر(ع) كے سامنے ان كى حالت يہ ہوتى تھى كہ جيسے ايك شاگرد استاد كے سامنے''_ 7
آپ كا علمى مقام ايسا تھا كہ جابر بن يزيد جعفى ان سے روايت كرتے وقت كہتے تھے '' وصى اوصياء اور وارث علوم انبياء محمد بن على بن الحسين _نے ايسا كہا ہے ...'' 8
ايك شخص نے عبداللہ بن عمر سے ايك مسئلہ پوچھا وہ جواب نہ دے سكے اور سوال كرنے والے كو امام محمد باقر (ع)كا پتہ بتاديا اور كہا كہ اس بچے سے پوچھنے كے بعد جو جواب ملے وہ مجھ كو بھى بتادينا_ اس شخص نے امام(ع) سے پوچھا اور مطمئن كرنے والا جواب سننے كے بعد عبداللہ بن عمر
كو جاكر بتاديا_ عبداللہ نے كہا:'' يہ وہ خاندان ہے جس كا علم خدا داد ہے''_ 9
حضرت امام محمد باقر (ع)نے علوم و دانش كے اتنے رموز و اسرار واضح كئے ہيں كہ سوائے دل كے اندھے كے اور كوئي انكا، انكار نہيں كرسكتا_ اس وجہ سے آپ نے تمام علوم شكافتہ كرنے والے اور علم و دانش كا پرچم لہرانے والے كا لقب پايا_ 10
انہوں نے مدينہ ميں علم كا ايك بڑا دانشكدہ بتايا تھا جس ميں سينكڑوںدرس لينے والے افراد آپ كى خدمت ميں پہونچ كر درس حاصل كيا كرتے تھے_
رسول خدا (ص) كے اصحاب ميں سے جو لوگ زندہ تھے، جيسے جابر بن عبداللہ انصارى اور تابعين ميں سے كچھ بزرگ افراد جيسے جابر بن جعفي، كيسان سختيانى اور فقہاء ميں سے كچھ لوگ جيسے ابن مبارك زہري، اوزاعى ، ابوحنيفہ ، مالك ، شافعى اور زياد بن منذر اور مصنفين ميں سے كچھ افراد جيسے طبري، بلاذري، سلامى اور خطيب نے اپنى تاريخوں ميں آپ سے روايتيں لكھى ہيں_ 11
امام _اور اموى خلفاء
امام محمد باقر (ع)كى امامت كا زمانہ _ جو تقريباً 19 سال پر محيط تھا _ اموى حكمرانوں جيسے وليد بن عبدالملك، سليمان بن عبدالملك، عمر بن عبدالعزيز، يزيد بن عبدالملك، ہشام بن عبدالملك كا زمانہ تھا_ ان ميں سے سوائے عمر بن عبدالعزيز كے_ جو نسبتاً عدالت پسند تھا _ سب كے سب ستمگري، استبداد اور مطلق العنانى ميں اپنے اسلاف سے كچھ كم نہ تھے اور آگے چل كر انہوں نے امام محمد باقر(ع) كے لئے مشكليں پيدا كيں_
امام محمد باقر (ع)كے زمانہ امامت كے سياسى اور كھٹن حالات سے واقفيت كے لئے ہم يہاں ان ميں سے ہر ايك كے بارے ميں اب اجمالى گفتگو كر رہے ہيں_
وليدنے 86 ھ ق ميں حكومت كى باگ ڈور سنبھالى اور 15، جمادى الآخر 96 ھ ق كو مرگيا_
مسعودى كا بيان ہے كہ وليد ايك ہٹ دھرم، جابر اور ظالم بادشاہ تھا _ 12 اس كے باپ نے اس كو وصيت كى تھى كہ حجاج بن يوسف كا اكرام كرے اور چيتے كى كھال پہنے _ 13 تلوار آمادہ ركھے اور جو اس كى مخالفت كرے اس كو قتل كردے _ 14
اس نے بھى باپ كى وصيت كو پورا كيا اور حجاج كے ہاتھوں كو اپنے باپ كى طرح مسلمانوں كو ستانے اور ان كو قتل كرنے كے لئے آزاد چھوڑ ديا_
عمر بن عبدالعزيز، وليد كى طرف سے مدينہ كا حاكم تھا، حجاج كے ظلم سے تنگ آكر جو بھى بھاگتا تھا اس كے پاس پناہ ليتا تھا_ عمر نے وليد كو ايك خط لكھااور لوگوں كے ساتھ حجاج كے ظلم كى شكايت كى _ وليد نے حاكم مدينہ كى شكايت سننے كى بجائے، حجاج كى خوشنودى كے لئے عمر بن عبدالعزيز كو مدينہ كى گورنرى سے معزول كرديا اور حجاج كو لكھا'' تم جس كو بھى چاہو حجاز كا حاكم بنادو_ حجاج نے بھى خالد بن عبداللہ قسرى كے لئے سفارش كى جو خود اسى جيسا ايك خونخوار شخص تھا وليد نے يہ سفارش قبول كر لي_ 15
وليد كا حجاج پر اعتماد كرنا اور اپنے باپ عبدالملك كى تائيد، وليد كے طغيان اور اس كى تباہ كارى پر بہترين دليل ہے_
اپنے بھائي كے بعد سليمان بن عبدالملك نے زمام حكومت اپنے ہاتھوں ميں لى اور جمعہ كے دن 10 ماہ صفر 99 ھ كو مرگيا_ وہ بڑا پرخور اور عورتوں كا دلدادہ تھا_ اس كے دور خلافت ميں عياشى اور دربار ميں عيش و نشاط كى محفل اپنے اوج پر تھي_ متعدد خواجہ سراؤں كو اس نے اپنے دربار ميں ركھ چھوڑا تھا اور اور اپنا زيادہ وقت حرم سراء كى عورتوں كے ساتھ گذارتا تھا_ آہستہ آہستہ برى باتيں ملك كے كارندوں ميں بھى سرايت كر گئيں اور يہ باتيں ملك گير پيمانہ پر پھيل گئيں _ 16
اس نے دو سال چند مہينے حكومت كى _ شروع ميں اس نے نرمى كا مظاہرہ كيا_ عراق كے قيد خانوں كے دروازے كھول ديئے اور بے گناہوں كو آزاد كرديا جبكہ اس كى زندگى كے لمحات ظلم و ستم سے خالى نہ تھے_ اس نے خالد بن عبداللہ قسرى كو جو ظلم اور جرائم ميں حجاج كا ثانى تھا، اس كے
مقام پر باقى ركھا_ اس كے بعد عمر بن عبدالعزيز مسند حكومت پر متمكن ہوا_ اس كا انتقال 25 رجب 101 ھ ق كو ہوا_ يہ كسى حد تك پريشانيوں اور دشواريوں پر قابو پانے ، برائيوں اور تفريق كے ساتھ جنگ كرنے، اس ننگ و عار كے دھبہ كو جو اس وقت كى حكومت كے دامن پر لگا ہوا تھا _ يعنى على _پر سب و شتم كرنا _ دھونے، فدك كو اولاد فاطمہ عليہا السلام كو واپس دے دينے اور امام محمد باقر(ع) كے حوالے كرنے ميں كامياب ہوئے_
اس كے بعد يزيد بن عبدالملك ان كى جگہ مسند حكومت پر متمكن ہوا_ اور اپنے حكام كو مندرجہ ذيل خط لكھ كر اپنى حكومت كا آغاز كيا:
'' عمر بن عبدالعزيز نے دھو كہ كھايا، تم اور تمہارے اطراف كے لوگوں نے اس كو دھو كہ ديا ... خط ملتے ہى سابق معاونين اور اپنے دوستوں كو جمع كرو اور لوگوں كو ان كى سابقہ حالت پر پلٹا دو، چاہے وہ ماليات كو ادا كرنے كى طاقت ركھتے ہوں يا نہ ركھتے ہوں، زندہ رہيں يا مرجائيں، لازم ہے كہ وہ ٹيكس ادا كريں''_ 17
يزيد بن عبدالملك كا اپنے ہم نام يزيد بن معاويہ كى طرح سوائے عياشي، جرائم، مستى اور عورتوں كے ساتھ عشق بازى كے اور كوئي دوسرا كام نہ تھا_ وہ اخلاقى اور دينى اصول كا ہرگز پابند نہ تھا_ اس كى خلافت كا زمانہ بنى اميہ كى حكومت كا ايك سياہ ترين اور تاريك ترين دور شمار كيا جاتا ہے اس كے زمانہ ميں قصائد اوراشعار كى جگہ ساز اور آواز نے لے لى تھى اور اس شعبہ كو اتنى وسعت دے دى تھى كہ مختلف شہروں سے گانے بجانے والے دمشق بلائے جاتے تھے اور اس طرح عياشي، ہوس راني اور تاش نے عربى معاشرہ ميں رواج پايا_ 18
اس كے بعد ہشام بن عبدالملك نے حكومت كى باگ ڈور سنبھالي_ وہ بخيل، بداخلاق، ستمگر اور بے رحم تھا_ نہ صرف يہ كہ اس نے برائيوں كى اصلاح كيلئے كوئي قدم نہيں اٹھايا بلكہ اس نے بنى اميہ كى خطاؤں كو تقويت بخشي_ اپنے گورنروں كو اس نے لكھا كہ شيعوں كے ساتھ سختى كركے ان پر
عرصہ حيات تنگ كردو _ اس نے حكم ديا كہ ان كے آثار كو مٹا كر ان كا خون بہايا جائے اور ان كو عام حق سے محروم كردو_
اس نے حكم ديا كہ شاعر اہل بيت '' كُمَيت'' كا گھر اجاڑ ديا جائے_ كوفہ كے حاكم كو لكھا كہ ''اولاد پيغمبر (ص) كى مدح كرنے كے جرم ميں كُمَيت كى زبان كاٹ دى جائے''_
يہى تھا جس نے زيد بن على بن الحسين كے انقلاب كو كچل ديا تھا اور ان كے جسم مقدس كو مثلہ كرنے كے بعد كوفہ كے كليسا كے پاس نہايت دردناك حالت ميں دار پر لٹكا ديا_
امام محمد باقر (ع)كا اپنى خلافت كے زمانہ ميں ايسے ايسے مدعيان خلافت سے مقابلہ تھا_
خلافت كے بالمقابل امام (ع) كا موقف
ہشام، امام محمد باقر اور ان كے فرزند عزيز حضرت امام جعفر صادق _كى عزت و وقار سے بہت خوف زدہ تھا اس لئے اپنى حاكميت كا رعب جمانے اور خلافت كى مشينرى كے مقابلہ ميں امام_ كى اجتماعى حيثيت و وقار كو مجروح كرنے كے لئے اس نے حاكم مدينہ كو حكم ديا كہ ان دونوں بزرگوں كو شام بھيج دے_
امام(ع) كے وارد ہونے سے پہلے اس نے اپنے درباريوں اور حاشيہ نشينوں كو امام (ع) كا سامنا كرنے كے لئے ضرورى احكامات ديئے_ يہ طے پايا كہ پہلے خليفہ اور پھر اس كے بعد حاضرين دربار جو سب كے سب مشہور اور نماياں افراد تھے، امام محمد باقر(ع) پر تہمت اور شماتت كا سيلاب انڈيل ديں_
اس عمل سے ہشام كے دو مقصد تھے، پہلا مقصد يہ تھا كہ اس سختى اور تہمت سے امام (ع) كے حوصلہ كو كمزور كركے ہر اُس كام كے لئے جس كى وہ خواہش كرے گا امام كو آمادہ كرلے گا_ دوسرا مقصد يہ تھا كہ اس ملاقات ميں كہ ، جس ميں بڑے بڑے رہبر شريك تھے، آپ كو ذليل كرديا جائے_
امام محمد باقر (ع) وارد ہوئے اور معمول كے مطابق جو طريقہ تھا كہ ہر آنيوالا '' امير المؤمنين'' كے مخصوص لقب كے ساتھ خليفہ كو سلام كرتا تھا_ اس كے برخلاف آپ(ع) نے تمام حاضرين كى طرف رخ كركے'' سلامٌ عليكم'' كہا، پھر اجازت كا انتظار كئے بغير بيٹھ گئے_ اس روش كى بنا پر ہشام كے دل ميں كينہ اور حسد كى آگ بھڑك اٹھى اور اس نے اپنا پروگرام شروع كرديا_ اس نے كہا'' تم اولاد على ہميشہ مسلمانوں كے اتحاد كو توڑتے ہو اور اپنى طرف دعوت ديكر ان كے درميان رخنہ اور نفاق ڈالتے ہو، نادانى كى بنا پر ( معاذاللہ) اپنے كو پيشوا اور امام سمجھتے ہو'' ہشام تھوڑى دير تك ايسى ياوہ گوئي كر تا رہا پھر چپ ہوگيا_
اس كے بعد اس كے نوكروں ميں سے ہر ايك نے ايك بات كہى اور آپ كو مورد تہمت قرار ديا_
امام محمد باقر (ع) اس تمام مدت ميں خاموشى اور اطمينان سے بيٹھے رہے_ جب سب چپ ہوگئے تو آپ (ع) اٹھے اور حاضرين كى طرف مخاطب ہوئے، حمد و ثنائے خدا اور پيغمبر (ص) پر درود كے بعد ان كى گمراہى اور بے راہ روى كو واضح اور اپنى حيثيت نيز اپنے خاندان كے سابقہ افتخار كو بيان كرتے ہوئے فرمايا:
'' اے لوگو تم كہاں جارہے ہو اور ان لوگوں نے تمہارا كيا انجام سوچ ركھا ہے؟ ہمارا ہى وسيلہ تھا جس كے ذريعہ خدا نے تمہارے اسلاف كى ہدايت كى اور ہمارے ہى ہاتھوں سے تمہارے كام كے اختتام پر مہر لگائي جائے گى اگر تمہارے پاس آج يہ تھوڑے دنوں كى حكومت ہے تو ہمارے پاس دير پا حكومت ہوگي_ ہمارى حكومت كے بعد كسى كى حكومت نہيں ہوگى ہم ہى وہ اہل عاقبت ہيں جن كے بارے ميں خدا نے فرمايا ہے كہ عاقبت صاحبان تقوى كے لئے ہے''_19
امام _كى مختصر اور ہلا دينے والى تقرير سے ہشام كو ايسا غصہ آيا كہ سختى كے سوا اور كچھ اس كى سمجھ ميں نہ آيا اس نے امام (ع) كو قيد كر دينے كا حكم ديا_
امام (ع) نے زندان ميں بھى حقيقتوں كو آشكار اور واضح كيا_ زندان كى نگرانى كرنے والوں نے ہشام كو خبر دى ، يہ بات اس مشينرى كے لئے قابل تحمل نہ تھى جو دسيوں سال سے شام كو علوى تبليغات كى دست رسى سے دور ركھے ہوئے تھي_ اس نے حكم ديا كہ امام اور ان كے ساتھيوں كو زندان سے نكال كر پہرہ اور سختيوں ميں مدينہ پہنچا يا جائے اور پہلے سے بھى ضرورى احكام بھيجے جاچكے تھے كہ راستہ ميں كسى كو يہ حق حاصل نہيں ہے كہ اس معتوب قافلہ كے ساتھ كوئي معاملہ كرے_ اور ان كے ہاتھوں كسى كو روٹى اور پانى بيچنے كا حق نہيں ہے ... 20
اسلامى ثقافت كا احياء
امام محمد باقر (ع) ان حالات ميں حاكم كى سخت گيرى كے باوجود _ اس بات ميں كامياب ہوگئے كہ تعليم و تربيت كے ذريعہ بہت ہى گہرى بنيادوں پر مبنى علمى تحريك بنائيں _ انہوں نے آغاز ہى سے با مقصد دعوت كى اشاعت كيلئے ، وسيع پيمانہ پر كوشش شروع كي_ اس دعوت كى وسعت اتنى تھى كہ مسلمانون كے علاقہ جيسے مدينہ اور كوفہ كے علاوہ اهل بيت فكر كے نفوذ كى قلمرو ميں دوسرے نئے علاقوں كا بھى اضافہ ہوا_ اس سلسلہ ميں تمام جگہوں سے زيادہ خراسان كا نام ليا جاسكتا ہے_
حج كے زمانہ ميں عراق، خراسان اور دوسرے شہروں سے ہزاروں مسلمان آپ سے فتوى معلوم كرتے تھے_ اور معارف اسلام كے ہر باب كے بارے ميں آپ سے سوال كرتے تھے_ ان بزرگ فقہاء كى طرف سے جو علمى اور فكرى مكاتب سے وابستہ تھے، آپ كے سامنے دشوار گذار مسائل ركھے جاتے تھے تا كہ آپ الجھ جائيں اور لوگوں كے سامنے خاموش رہنے پر مجبور ہوجائيں_
امام _نے ان تمام مقامات پر اسلام كے اركان كى تفصيلى توضيح كے ساتھ اس كے اعلى صفات
كو محدود سطح اورگنے چنے افراد سے نكالا اور اسے آفاقى نكال كرمكتب كے مفاہيم كى نشر و اشاعت كے ذريعہ افراد كى پرورش كى اور حقيقى اسلام كو مجسم بنايا_ چنانچہ بہت سے شہروں ميں اس كا رد عمل ظاہر ہوگيا تھا_
ان كاموں كى وجہ سے لوگ ان كے گرويدہ ہوگئے تھے اور آپ(ع) نے قوم ميں بہت زيادہ نفوذ پيدا كر ليا تھا_ جبكہ خلافت بنى اميہ كے زمانہ ميں قبيلہ مضر اور حمير كے درميان نسلى قتل كى آگ بھڑك رہى تھي_ مگر ہم ديكھتے ہيں كہ دونوں قبيلوں كے درميان امام (ع) كے چاہنے والے تھے جيسا كہ باقاعدہ اهل بيتي كہے جانے والے شعراء جيسے فرزدق تميمى مضرى اور كميت اسدى حميرى دونوں ہى امام _اور اہل بيت (ع) كى دوستى ميں متفق تھے_
اسلامى نظام كى تشكيل
امام محمد باقر (ع)نے ضرورت كى وجہ سے معاشرہ پر مسلط حكومت سے لڑنے اور آمنے سامنے كى جنگ سے اجتناب كيا اور آپ نے زيادہ تر فكرى اور ثقافتى كام كيا_ جو نظرياتى تخم ريزى بھى تھى اور سياسى تقيہ بھى _ ليكن يہ حكيمانہ انداز اس بات كا سبب نہيں بنا كہ امام _ تحريك امامت كى كلى سمت كو قريبى دوستوں اور سچے شيعوں كے لئے جو اُن كے گرويدہ تھے، واضح نہ كريں_ اور عظيم شيعى مقصد كو _ يعنى اسلامى نظام كو ناقابل اجتناب مبارزہ كے ذريعہ _ ان كے دلوں ميں زندہ نہ كريں_ امام محمد باقر(ع) كے اميد افزا طريقوں ميں سے ايك طريقہ يہ بھى تھا كہ آپ آئندہ كے لئے دل پسند نويد ديتے تھے جو چنداں دور بھى نہيں ہوتى تھي_
راوى كہتا ہے: ہم ابوجعفر _كى خدمت ميں بيٹھے ہوئے تھے ايك بوڑھا آدمى آيا، سلام كيا اور كہا كہ اے فرزند رسول خدا كى قسم ميں آپ كا اور آپ كے چاہنے والوں كا دوست ہوں يہ دوستى دنيا كى لالچ ميں نہيں ہے ... ميں نے آپ كے امر و نہى كو قبول كر ليا ہے اور ميں اس انتظار
ميں ہوں كہ آپ كى كاميابى كا زمانہ قريب آئے، كيا اب ہمارے لئے كوئي اميد ہے؟ امام (ع) نے اس بوڑھے آدمى كو اپنے پہلو ميں بٹھايا اور فرمايا اے پيرمرد كسى نے ميرے والد على ابن الحسين (ع) سے يہى پوچھا تھا، ميرے والد نے اس سے كہا تھا كہ '' اگر اسى انتظار ميں مرجاؤگے تو پيغمبراكرم(ص) ، على (ع) ، حسن(ع) ، حسين(ع) اور على بن الحسين كى بارگاہ ميں پہنچو گے ... اور اگر زندہ رہ جاؤگے تو اسى دنيا ميں وہ دن ديكھو گے كہ تمہارى آنكھيں روشن ہوجائيں گى اور اس دنيا ميں ہمارے ساتھ ہمارے پہلو ميں بلند ترين جگہ پاؤگے ... اس طرح كے بيانات اس كھٹن ماحول ميں دل انگيز خواب كى طرح نظام اسلامى اور حكومت علوى كى تشكيل كے لئے مسلمانوں كے ستم رسيدہ دلوں ميں اميد كى كرن اور متحرك كرنے والى لہر پيدا كرتے اور آئندہ كے لئے اس بات كو يقينى اور نہ ٹلنے والى صورت ميں پيش كرتے تھے_
امام (ع) كى يہ روش اس بات كا نمونہ ہے كہ حضرت كا تعلق اپنے نزديكى اصحاب سے كيسا تھا، اور يہ روش ايك دوسرے سے منظم اور مرتب رابطہ كى نشاندہى بھى كرتى ہے_ يہى وہ حقيقت تھى جو خلافت كى مشينرى كو ردّ عمل ظاہر كرنے پر ابھارتى تھي_
ہشام كى خلافت كى مشينرى جس كو بلاذرى اموى خلفاء ميں مقتدر ترين خليفہ جانتا ہے _ اگر امام محمد باقر (ع)كے ساتھ سختى سے پيش آتى تھى تو اس كى وجہ يہ تھى كہ آپ كى روش اورعمل ميں ہشام اپنے لئے ايك قسم كى تہديد ديكھ رہا تھا اور آپ كا وجو اس كے لئے ناقابل تحمل تھا_
يہ بات ناقابل ترديد ہے كہ اگر امام محمد باقر (ع)فقط علمى زندگى ميں سرگرم عمل رہتے اور تنظيم سازى كى فكر نہ كرتے تو خليفہ اپنے لئے اس بات ميں صلاح نہيں سمجھتا كہ وہ سخت گيرى اور شدّت كے ساتھ آپ كو سخت مقابلہ كے لئے بھڑ كائے اور نتيجتاً آپ كے دوستوں اور معتقدين كو _ جن كى تعداد كم بھى نہ تھى _ اپنے اوپر ناراض اور اپنى مشينرى سے ناخوش كر لے_
امام محمد باقر(ع) كے مكتب فكر كے پروردہ افراد
امام محمد باقر (ع)كے مكتب فكر ميں مثالى اور ممتاز شاگردوں نے پرورش پائي تھى ان ميں سے كچھ افراد كى طرف اشارہ كيا جارہا ہے_
1-ابان ابن تَغلب: ابان ابن تغلب نے تين اماموں كى خدمت ميں حاضرى دى تھے_ چوتھے امام(ع) ، پانچويں امام(ع) اور چھٹے امام (ع) ابان اپنے زمانہ كى علمى شخصيتوں ميں سے ايك تھے، تغيرحديث، فقہ، قرائت اور لغت پر آپ كو تسلط حاصل تھا_ ابان كى فقہى منزلت كى وجہ ہى سے امام محمد باقر(ع) نے ان سے فرمايا كہ مدينہ كى مسجد ميں بيٹھو اور لوگوں كے لئے فتوى دو تا كہ لوگ ہمارے شيعوں ميں تمہارى طرح كے ميرے پيروكار كو ديكھيں_ 22
جب امام جعفر صادق _نے ابان كے مرنے كى خبر سنى تو آپ نے فرمايا كہ خدا كى قسم ابان كى موت نے ميرے دل كومغموم كرديا ہے_ 23
2-زرارہ ابن اَعيُن: امام محمد باقر(ع) اور امام جعفر صادق _كے شاگردوں ميں سے چھ افراد كو برتر شمار كرتے ہيں اور زرارہ ان ميں سے ايك ہيں_ امام جعفر صادق _فرماتے ہيں كہ اگر برير ابن معاويہ، ابوبصير، محمد ابن مسلم اور زرارہ نہ ہوتے تو آثار نبوت مٹ جاتے، يہ لوگ حلال و حرام خدا كے امين ہيں_ 24 اور پھر فرماتے ہيں: برير، زرارہ ، محمد ابن مسلم اور احول، زندگى اور موت ميں ميرے نزديك سب سے زيادہ محبوب ہيں_
3-كُمَيت اسدى : ايك انقلابى اور با مقصد شاعر تھے ان كى زبان گويا آپ كى شاعرى دفاع اہل بيت(ع) كے سلسلہ ميں لوگوں كو جھنجوڑنے والى اور ( دشمنوں كو) اس طرح ذليل كرنے والى تھى كہ دربار خلافت كى طرف سے مستقل موت كى دھمكى دى جاتي_ كُمَيت امام محمد باقر (ع)كے شيدائي تھے اور محبت كے اس راستہ ميں انہوں نے اپنے كو فراموش كرديا تھا ايك دن امام (ع) كے سامنے امام كى مدح ميں كہے جانے والے مناسب اشعار پڑھ رہے تھے كہ امام(ع) نے كعبہ كى طرف
رخ كيا اور تين بار فرمايا: خدايا كُمَيت پر رحمت نازل فرما_ پھر كُمَيت سے فرمايا اپنے خاندان سے ميں نے ايك لاكھ درہم تمہارے لئے فراہم كئے ہيں_
كُمَيت نے كہا'' ميں سيم و زر كا طالب نہيں ہوں فقط اپنا ايك پيراہن مجھے عطا فرمائيں_ امام(ع) نے پيراہن ان كو ديديا _ 25
4-محمد بن مسلم فقيہ اہل بيت: امام محمد باقر اور امام جعفر صادق عليہما السلام كے سچے دوستوں ميں سے تھے آپ كوفہ كے رہنے والے تھے ليكن امام كے علم بيكراں سے استفادہ كرنے كے لئے مدينہ تشريف لائے_
عبداللہ ابن ابى يعفور بيان كرتے ہيں:'' ميں نے امام جعفر صادق _سے عرض كيا كہ كبھى مجھ سے سوالات ہوتے ہيں جن كا جواب ميں نہيں جانتا اور آپ تك بھى نہيں پہنچ سكتا_ آخر ميں كيا كروں؟ امام(ع) نے محمد ابن مسلم كا نام بتايا اور فرمايا كہ :'' ان سے كيوں نہيں پوچھتے؟'' 26
كوفہ ميں رات كے وقت ايك عورت محمد ابن مسلم كے گھر آئي اور اس نے كہا، ميرى بہو مرگئي ہے اور اس كے پيٹ ميں زندہ بچہ موجود ہے ہم كيا كريں؟
محمد ابن مسلم نے كہا:'' امام محمد باقر (ع)نے جو فرمايا ہے اس كے مطابق تو پيٹ چاك كركے بچہ كو نكال لينا چاہئے اور پھر مردہ كو دفن كردينا چاہئے_
پھر محمد ابن مسلم نے اس عورت سے پوچھا كہ ميرا گھر تم كو كيسے ملا؟ عورت بولي: '' ميں يہ مسئلہ ابو حنيفہ كے پاس لے گئي انہوں نے كہا كہ ميں اس بارے ميں كچھ نہيں جانتا، ليكن تم محمد ابن مسلم كے پاس جاؤ اور اگر وہ فتوى ديديں تو مجھے بھى بتادينا ... 27
شہادت كے بعد مبارزہ
امام محمد باقر (ع)كى رہبرى كا 19 سالہ زمانہ نہايت دشوار حالات اور ناہموار راہوں ميں گذرا_ آخر ميں آپ كى كم مگر پر بركت عمر كے اختتام كا وقت آيا تو اس شعلہ ور مركز كے گرم خاكستر سے
آپ نے اپنى آخرى برق اموى سلطنت كى بنياد پر گرداي_ امام نے اپنے بيٹے امام جعفر صادق _كو حكم ديا كہ ان كے پيسوں ميں سے ايك حصہ 800 درہم دس سال كى مدت تك عزادارى اور ان پر گريہ كرنے ميں صرف كريں_ عزادارى كى جگہ ميدان منى اور عزادارى كا زمانہ حج كا زمانہ ہے_ 28
حج كا زمانہ دور افتادہ اور نا آشنا دوستوں كى وعدہ گاہ ہے_ اگر كوئي پيغام ايسا ہو كہ جسے تمام عالم اسلام تك پہنچانا ہو تو اس سے بہتر موقع اور كوئي نہيں ہے_ حج كے اعمال مسلسل چند دنوں تك متعدد مقامات پر انجام پاتے ہيں اور يہ ظاہر ہے كہ سب سے زيادہ مناسب جگہ منى ہے چونكہ عرفات سے واپسى پر حاجى تين راتوں تك وہاں ٹھہرتے ہيں، اس لئے آشنائي اور ہمدردى كے لئے سب جگہوں سے زيادہ موقع وہيں ملتا ہے_ اور يہ طبيعى بات ہے كہ اگر ان تين دنوں ميں اس بيابان ميں ہر سال مجلس عزا برپا ہو تو ہر آدمى كى نظر اس پر پڑے گى اور آہستہ آہستہ لوگ اس سے آشنا ہوجائيں گے اور خود ہى سوال كرنا شروع كرديں گے كہ '' كئي برسوں سے مدينہ كے كچھ لوگ _ وہ مدينہ جو مركز اسلام اور مركز صحابہ ہے _ حج كے زمانہ ميں منى ميں مجلس عزا برپا كرتے ہيں وہ بھى عالم اسلام كى بلند شخصيت محمد ابن على ابن الحسين كے لئے تو كيا ان كى موت طبيعى نہ تھي؟ ان كو كس نے قتل كيا يا زہر ديا ہے؟ اور كيوں؟ آخر انہوں نے كيا كہا اور كيا كيا؟ كيا اس كا كوئي سبب تھا اور ان كى كوئي دعوت تھي؟ كيا ان كا وجود خليفہ كے لئے خطرہ كا باعث تھا؟ دسيوں ابہام اس كے پيچھے دسيوں سوالات اور جستجو والى باتيں اور پھر صاحبان عزا يا اطلاع ركھنے والے ان لوگوں كى طرف سے، جو اس پراگندہ جمعيت ميں شريك تھے، جوابات كا ايك سيلاب_
يہ تھا امام محمد باقر (ع)كا كامياب نقشہ، شہادت كے بعد جہاد كا نقشہ اور يہ ہے اس پُر بركت زندگى كا وجود جن كى موت اور زندگى خدا كے لئے ہے_
امام كى شہادت
7 ذى الحجہ 114 ھ ق كو 57 برس كى عمر ميں ظالم اموى بادشاہ ہشام بن عبدالملك كے ہاتھوں سے حضرت امام محمد باقر (ع)مسموم اورشہيد ہوئے_ 29
شہادت كى رات آپ نے اپنے فرزند حضرت جعفر ابن محمد _سے فرمايا كہ '' ميں آج كى رات اس دنيا كو چھوڑ دونگا_ ميں نے ابھى اپنے پدر بزرگوار كو ديكھا ہے كہ وہ خوشگوار شربت كا جام ميرے پاس لائے ہيں اور ميں نے اس كو پيا اور انہوں نے مجھے سرائے جاويد اور ديدار حق كى بشارت دي_
امام جعفر صادق _نے اس خدا داد علم كے دريائے بيكراں كے تن پاك كو امام حسن مجتبى (ع) اور امام زين العابدين كے پہلو ميں قبرستان بقيع ميں سپرد خاك كيا_ 30
حوالہ جات
1 مصباح المتھجدشيخ طوسي/ 557، بحار الانوار جلد 46/ 213_
2 كافى جلد 1/ 469'' كانت صديقہ لم تدرك فى آل الحسن امراة مثلہا''_
3 امالى شيخ صدوق /211، بحار الانوار جلد 46/223_
4 امالى شيخ طوسى /261، بحار الانوار جلد 46/ 233_ 234 اختصار كے ساتھ _
5 ارشاد مفيد /264، بحار جلد 46/287، مناقب جلد 4/201_
6 علل الشرائع جلد 1/ 222، بحار جلد 46/225_
7 ارشاد مفيد/363 مطبوعہ بصيرتى قم_
8 ارشاد مفيد /263، بحار جلد 46/286،289_
9 مناقب ابن شہر آشوب جلد 4/197، بحار جلد 46/289_
10 الصواقع المحرقہ /120_
11 مناقب جلد 4/195، بحار جلد 46/294_ 295_
12 مروج الذہب جلد 3/157_
13 سياست ميں خشونت اور سختى كے لئے كنايہ ہے_
14 مروج الذہب 3/160_161_
15 كامل ابن اثير جلد 4/577_
16 تاريخ سياسى اسلام جلد 1/324_
17 العقد الفريد جلد 5/176_
18 تاريخ سياسى اسلام جلد 1/331_
19 ناقب ابن شہر آشوب ج 4/189'' ايہا الناس اين تذہبون و اين يراد بكم؟بنا ہدى اللہ اولكم و بنا يختم آخركم فان يكن لكم ملك معجل'' فانّ لنا ملكا موجلاً و ليس من بعد ملكنا ملكٌ لانا اہل العاقبہ، يقول اللہ تعالى '' و العاقبة للمتقين''_
20 مناقب ابن شہر آشوب جلد 4/190، بحار جلد 46/312، دلائل الامامہ للطبرى /108_
21 بحار الانوار جلد 46/361 _ 362_
22 جامع الرواة جلد 1/9، معجم رجال الحديث جلد 1/147_
23 جامع الرواة جلد 1/ 9، معجم الرجال الحديث جلد 1/147_
24 جامع الرواة جلد 1/171_
25 سفينة البحار جلد 2/496، مناقب ابن شہر آشوب جلد 4/197_
26 جامع الرواة 2/164_
27 رجال كشى /162 چاپ دانشگاہ مشہد_
28 بحار الانوار جلد 46/215، 220 ''عن ابى عبداللہ قال : قال لى ابي: يا جعفر اوقف لى من مالى كذا و كذا النوادب تند بنى عشر سنين بمنى ايام مني''_
29 بحار الانوار جلد 46/217_
30 بحار الانوار جلد 46/213_ 215_
رسول اللہ (رحمۃ للعالمين) کے اخلاق حسنہ (نرم دلي و رواداري)
رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي بے نظير اخلاقي صفات ميں ايک نرم دلي اور رواداري ہے- آپ بدو عربوں يہاں تک کہ کينہ پرور دشمنوں کي درشت خوئي، بے ادبي اور جايلت پر نرمي اور رواداري سے پيش آتے تھے- آپ کي اس صفت نے بے شمار لوگوں کو اسلام کي طرف مائل کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کا گرويدہ بھي بنا ديا-
حضرت علي عليہ السلام فرماتے ہيں بلين الجانب تانس القلوب"نرمي اور (مريباني) سے ہي لوگ مانوس ہوتے ہيں- (غررالحکم ج 2 ص 411 )
( رسول اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم سے روايت ہے کہ وعليکم بالاناءۃ واللين والتسرع من سلاح الشيطان وما من شئي احب الي اللہ من الاناءۃ واللين-
تمہيں نرمي اور رواداري اختيار کرني چاہيے ،اور ايک دوسرے کے ساتھ پيش آنے ميں جلد بازي شيطان کا کام ہے اور خدا کے نزديک نرمي اور رواداري سے پسنديدہ اخلاق اور کوئي نہيں ہے- (علل الشرايع ج 2 ص210)
حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے روايت ہے کہ ان العلم خليل المومن ، والحلم وزيرہ
بے شک علم مومن کاسچا دوست ہے حلم اس کا وزير ہے صبر اسکي فوج کا امير ہے دوستي اس کا بھائي ہے نرمي اس کا باپ ہے- (مجلسي ج 78 ص 244)
رسول اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي نرم خوئي اور رواداري خدا کي خاص عنايت و لطف ميں ہے اسي صفت کي وجہ سے لوگ آپ کي طرف کھنچے چلے آتے تھے- سورہ مبارکہ آل عمران ميں آپ کي ان ہي صفات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہو رہا ہے "فبمارحمۃ من اللہ لنت لھم ولوکنت فظا غليظا القلب لانفضوامن حولک فاعف عنھم واستغفرلھم- پيغمبر اللہ کي مہرباني ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے نرم ہو ورنہ اگر تم بدمزاج اور سخت دل ہوتے تو يہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے لہذا اب انہيں معاف کر دو اور ان کے لئے استعفار کرو-(آل عمران 150)
رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي نرم مزاجي اور رواداري کے بارے ميں دو واقعات ملاحظہ فرمائيں-
محدث قمي نے سفينہ البحار ميں انس بن مالک سے روايت کي ہے کہ انس بن مالک کہتے ہيں کہ ميں رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کے پاس تھا آپ ايک عبا اوڑھے ہوئے تھے جس کے کنارے موٹے تھے ايک عرب آتا ہے اور آپ کي عبا کو پکڑ کر زور سے کھينچتا ہے جس سے آپ کي گردن پر خراش پڑ جاتے ہيں اور آپ سے کہتا ہے کہ اے محمد ميرے ان دونوں اونٹوں پر خدا کے اس مال ميں سے جو تمہارے پاس ہے لاد دو کيونکہ وہ نہ تو تمہارا مال ہے اور نہ تمہارے باپ کا- رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم مرد عرب کي يہ بات سنکرخاموش رہے اور فرمايا المال مال اللہ وانا عبدہ- سارا مال خدا کا ہے اور ميں خدا کا بندہ ہوں- اس کے بعد فرمايا اے مرد عرب تو نے جو ميرے ساتھ کيا ہے کيا اسکي تلافي چاہتا ہے ؟ اس نے کہا نہيں کيونکہ تم ان ميں سے نہيں ہو جو برائي کا بدلہ برائي سے ديتے ہيں- آنحضرت يہ سنکر ہنس پڑے اور فرمايا مرد عرب کے ايک اونٹ پر جو اور دوسرے پر خرما لاد ديا جائے- اسکے بعد اسے روانہ کر ديا- (سفينہ البحار باب خلق)
1- شيخ صدوق نے اپني کتاب امالي ميں ساتويں امام عليہ السلام کے واسطے سے حضرت امير المومنين علي عليہ السلام سے روايت کي ہے کہ رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم پر ايک مرد يہودي کي چند اشرفياں قرض تھيں ، يہودي نے آنحضرت سے قرضہ طلب کر ليا- آپ نے فرمايا ميرے پاس تمھيں دينے کو کچھ بھي نہيں ہے- يہودي نے کہا ميں اپنا پيسہ ليئے بغير آپ کو جانے نہيں دونگا- رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے فرمايا اگرايسا ہے تو ميں تيرے پاس ہي بيٹھا رہوں گا، آپ اس مرد يہودي کے پاس بيٹھ گئے اور اس دن کي نمازيں وہيں ادا کيں- جب آپ کے صحابہ کو واقعے کا علم ہوا تو يہودي کے پاس آئے اور اسے ڈرانے دھمکانے لگے- آپ نے صحابہ کو منع فرمايا اصحاب نے کہا اس يہودي نے آپ کو قيدي بنا ليا ہے اس کے جواب ميں آپ نے فرمايا لم پبعثني ربي بان اظلم معاھدا ولاغيرہ- خدا نے مجھے نبي بنا کر نہيں بھيجا تاکہ ميں ہم پيمان کافر يا کسي اور پر ظلم کروں- دوسرے دن مرد يہودي اسلام لے آيا اس نے شہادتين جاري کيں اور کہا کہ ميں نے اپنا نصف مال راہ خدا ميں ديديا خدا کي قسم ميں نے يہ کام نہيں کيا مگر يہ کہ ميں نے توريت ميں آپ کي صفات اور تعريف پڑھي ہے توريت ميں آپ کے بارے ميں اس طرح ملتا ہے کہ محمد بن عبداللہ مولدہ بمکہ و مہجرہ بطيبہ وليس بفظ ولاغليظ و بسخاب و لا متزين بفحش ولاقول الخناء وانا اشھدان لا الہ الا ا للہ وانک رسول اللہ وھذا مالي فاحکم فيہ بما ا نزل اللہ- محمد ابن عبداللہ جس کي جائے پيدائش مکہ ہے اور جو ہجرت کر کے مدينے آئے گا نہ سخت دل ہے نہ تند خو ،کسي سے چيخ کر بات نہيں کرتے اور نہ ان کي زبان فحش اور بيہودہ گوئي سے آلودہ ہے ،ميں گواہي ديتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئي معبود نہيں ہے اور آپ اس کے رسول ہيں اور يہ ميرا مال ہے جو ميں نے آپ کے اختيار ميں ديديا اب آپ اس کے بارے ميں خدا کے حکم کے مطابق فيصلہ کريں-
سورہ توبہ ميں رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کي تعريف ميں ارشاد ہوتا ہے لقد جاء کم رسول من انفسکم عزيزعليہ ماعنتم حريص عليکم بالمومنين رۆف رحيم- فان تولوا فقل حسبي اللہ لا الہ الا اللہ ہو عليہ توکلت و ہورب العرش العظيم-
يقيناً تمہارے پاس وہ پيغمبر آيا ہے جو تمہيں ميں سے ہے اور اس پر تمہاري ہر مصيبت شاق ہوتي ہے ، وہ تمہاري ہدايت کے لئے حرص رکھتا ہے اور مومنين کے حال پر شفيق و مہربان ہے اب اس کے بعد بھي يہ لوگ منہ پھير ليں تو کہ ديجئے کہ ميرے لئے خدا کافي ہے اس کے علاوہ کوئي خدا نہيں ہے ميرا اعتقاد اسي پر ہے اور وہي عرش اعظم کا پروردگار ہے-
ملکہء سبا
ملکہء سبا حضرت سلیمان کی حکومت عظیم تھی چرند پرند حیوانات جن وغیرہ انکے تابع ، جب سفر کر تے ہوا کے دوش پر سوار سائیباں کے طور پر پرندے بالا سر ہوتے تاکہ دھوپ سے بچ جائیں ،جگہ خالی دیکھی معلوم ہوا کہ ہد ہد نہیں ہے ۔ ناراضگی کا اظہار کیا ہد ہد نے حاضری کے بعد ملکہ سبا کی حکومت کا تذکرہ کیا۔ ارشاد رب العزت ۔
إِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَأَةً تَمْلِکُہُمْ وَأُوْتِیَتْ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ وَّلَہَا عَرْشٌ عَظِیمٌ وَجَدْتُّہَا وَقَوْمَہَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللہ ۔
" میں نے ایک عورت دیکھی جو ان پر حکمران ہے اسکے پاس ہر قسم کی نعمت موجود ہے اور اسکا ایک عظیم الشان تخت ہے میں نے دیکھا کہ وہ اور اسکی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔ " (نمل: ۲۲تا۲۳)
حضرت سلیمان نے خط دیا کہ وہاں ڈال آئے ۔ خط کا مضمو ن إِنَّہ مِنْ سُلَیْمَانَ وَإِنَّہ بِاِسْمِ اللہ الرَّحْمَانِ الرَّحِیْمِ أَلاَّ تَعْلُوْا عَلَیَّ وَأْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ ۔ (ملکہ نے کہا دربار لگاؤ میری طرف ایک محترم خط آیا ہے یہ سلیمان کی جانب سے ہے اور وہ یہ ہے) خدا کے رحمان و رحیم کے نام سے شروع ۔ تم میرے مقابلہ میں بڑائی مت کرو اور فرماں بردار ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔ (نمل: ۳۰تا۳۱)
امراء و وزراء سے مشورہ کیا۔ عام طور پر بادشاہ جب کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو معزز لوگ بھی ذلیل ہو جاتے ہیں ۔ طے ہوا کہ ہدیہ بھیج کر دیکھا جائے کہ کیا صورت حال ہے۔
حضرت سلیمان نے ہدیہ قبول نہیں کیا۔ فرمایا کون ہے ۔ جوتخت بلقیس کو لائے۔ عفریت (جو جن تھا)
کہنے لگا میں حاضر۔ لیکن ایک وزیر آصف بن برخیا تھا عرض کرنے لگا۔ پلک جھپکنے میں پیش کر سکتا ہوں پھر دیکھا کہ تخت سامنے موجود ہے۔ جب ملکہ بھی آگئی ۔ تو اسے محل کی طرف بلایا گیا۔
ارشاد رب العزت قِیْلَ لَہَا ادْخُلِی الصَّرْحَ فَلَمَّا رَأَتْہُ حَسِبَتْہُ لُجَّةً وَّکَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْہَا قَالَ إِنَّہ صَرْحٌ مُمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ قَالَتْ رَبِّ إِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمَانَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
. "ملکہ سے کہا گیا محل میں داخل ہو جائیے ۔ جب سامنے محل کو دیکھا تو خیال کیا کہ وہاں گہرا پانی ہے اور اس نے اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ سلیمان نے کہا یہ شیشہ سے مرصع محل ہے۔ ملکہ نے کہا۔ پروردگار میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور اب میں سلیمان کے ساتھ رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں۔" (نمل:۴۴) جب تک یہ عورت سورج پرست تھی ۔ کافرہ مشرکہ سزا کی مستوجب جب ایمان لائی۔ صالح عمل بجا لائی تو بارگاہ رب العزت میں معزز و مکرم ٹھہری۔ اصل مسئلہ ارتباط بہ خدا ہے اور یہاں مرد و عورت میں مسابقت ہے پس جو بازی لے جائے۔
معاشرے میں عورت کا کردار اور حقوق

انسانی معاشرے میں عورت کا کردار
عورت اور معاشرے میں اس کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کا موضوع قدیم ایام سے ہی مختلف معاشروں اور تہذیبوں میں زیر بحث رہا ہے۔ دنیا کی آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے۔ دنیا میں انسانی زندگی کا دار و مدار جتنا مردوں پر ہے اتنا ہے عورتوں پر بھی ہے جبکہ فطری طور پر عورتیں خلقت کے انتہائی اہم امور سنبھال رہی ہیں۔ خلقت کے بنیادی امور جیسے عمل پیدائش اور تربیت اولاد عورتوں کے ہاتھ میں ہے۔ معلوم ہوا کھ عورتوں کا مسئلہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے اور قدیم زمانے سے ہی معاشروں میں مفکرین کی سطح پر اسی طرح مخلتف قوموں کی رسوم و روایات اور عادات و اطوار میں اس پر توجہ دی جاتی رہی ہے۔
عورت کے سلسلے میں منطقی نقطہ نظر
عورت کو ایک بلند مرتبہ انسان کی حیثیت سے دیکھا جانا چاہئے تاکہ معلوم ہو کھ اس کے حقوق کیا ہیں اور اس کی آزادی کیا ہے؟ عورت کو ایسی مخلوق کے طور پر دیکھا جانا چاہئے جو بلند انسانوں کی پرورش کرکے معاشرے کی فلاح و بہبود اور سعادت و کامرانی کی راہ ہموار کر سکتی ہے، تب اندازہ ہوگا کہ عورت کے حقوق کیا ہیں اور اس کی آزادی کیسی ہونا چاہئے۔ عورت کو خاندان اور کنبے کے بنیادی عنصر وجودی کی حیثیت سے دیکھا جانا چاہئے، ویسے کنبہ تو مرد اور عورت دونوں سے مل کے تشکیل پاتا ہے اور دونوں ہی اس کے معرض وجود میں آنے اور بقاء میں بنیادی کردار کے حامل ہیں لیکن گھر کی فضا کی طمانیت اور آشیانے کا چین و سکون عورت اور اس کے زنانہ مزاج پر موقوف ہے۔ عورت کو اس نگاہ سے دیکھا جائے تب معلوم ہوگا کہ وہ کس طرح کمال کی منزلیں طے کرتی ہے اور اس کے حقوق کیا ہیں؟
صنف نسواں پر تاریخی ظلم
پوری تاریخ میں مختلف معاشروں میں عورتوں کے طبقے پر ظلم ہوا ہے۔ یہ انسان کی جہالت کا نتیجہ ہے۔ جاہل انسان کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ اگر اس کے سر پر کوئی سوار نہیں ہے اور کوئی طاقت اس کی نگرانی نہیں کر رہی ہے، خواہ یہ نظارت انسان کے اندر سے ہو جس کا اتفاق بہت کم ہی ہوتا ہے یعنی قوی جذبہ ایمانی، اور خواہ باہر سے ہو یعنی قانون، اگر قانون کی تلوار سر پر لٹکتی نہ رہے تو اکثر و بیشتر یہ ہوتا ہے کہ طاقتور، کمزور کو ظلم و ستم کا نشانہ بناتا ہے۔
حالات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ پوری تاریخ میں ہمیشہ عورت ظلم کی چکی میں پسی ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ عورت کی قدر و منزلت اور مقام و اہمیت کو نہیں سمجھا گیا۔ عورت کو اس کی شان و شوکت حاصل ہونا چاہئے، عورت ہونے کی وجہ سے اس پر کوئی زیادتی نہیں ہونی چاہئے۔ یہ بہت ہی بری چیز ہے۔ خواہ وہ زیادتی ہو جو عورت پر کی جاتی ہے اور اسے زیادتی کہا بھی جاتا ہے اور خواہ وہ زیادتی ہو کھ جسے سرے سے زیادتی سمجھا ہی نہیں جاتا جبکہ فی الواقع وہ ظلم ہے، زیادتی ہے۔ مثلا یہی بننا سنورنا، واہیات میک اپ اور اسے استعمال کی چیز بنا دینا۔ یہ عورت پر بہت بڑا ظلم اور سراسر زیادتی ہے۔ شاید یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ عورت کے حق میں سب سے بڑی نا انصافی ہے کیونکہ یہ چیز اسے ارتقاء اور کمال کے تمام اہداف اور امنگوں سے غافل اور منحرف کرکے انتہائی بے وقعت اور گھٹیا چیزوں میں مشغول کر دیتی ہے۔
دنیا میں عورت کا مسئلہ
انسان نے اپنے تمام تر دعوؤں کے باجود، اپنی تمام تر پر خلوص اور ہمدردانہ مساعی کے باوجود، عورت کے سلسلے میں انجام دئے جانے والے علمی و ثقافتی کاموں کے باوجود ہنوز دونوں صنفوں بالخصوص صنف نازک کے بارے میں کوئی صحیح راستہ منتخب اور طے کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کی۔
دوسرے لفظوں میں، زیادہ روی، کجروی اور غلط نتائج نکالنے اور پھر اسی بنا پر زیادتی، نا انصافی، ذہنی امراض، خاندان سے متعلق مسائل، دونوں صنفوں کے روابط اور میل ملاپ سے متعلق مشکلات آج بھی انسانی معاشرے میں لا ینحل باقی ہیں۔ یعنی جس انسان نے مادی شعبوں میں، فلکیات کے میدان میں، سمندروں کی گہرائیوں میں اتر کر بے شمار دریافتیں کیں اور جو نفسیات کی مو شگافی اور سماجی و معاشی امور میں باریک بینی کا دم بھرتا ہے، اور حقیقت میں بھی بہت سے میدانوں میں اس نے ترقی کی ہے، اس (عورت کے) مسئلے میں ناکام رہا ہے۔
عورت کے سماجی وقار میں حجاب کا کردار
مکتب اسلام میں مرد اور عورت کے درمیان ایک حجاب اور حد بندی قائم کی گئی ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورتوں کی دنیا مردوں کی دنیا سے بالکل جدا اور مختلف ہے۔ نہیں عورتیں اور مرد معاشرے میں اور کام کی جگہوں پر ایک ساتھ ہوتے ہیں ہر جگہ ان کو ایک دوسرے سے کام پڑتے ہیں۔ سماجی مسائل کو مل جل کر حل کرتے ہیں، جنگ جیسے مسئلے کو بھی باہمی تعاون و شراکت کے ساتھ کنٹرول کرتے ہیں اور ایسا انہوں نے کیا بھی ہے، کنبے کو مل جل کر چلاتے ہیں اور بچوں کی پرورش کرتے ہیں لیکن گھر اور خاندان کے باہر اس حد بندی اور حجاب کو ہر حال میں ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ یہ اسلامی طرز زندگی کا بنیادی نکتہ ہے۔ اگر اس کا خیال نہ رکھا جائے تو وہی فحاشی پھیلے گی جس میں آج مغرب مبتلا ہے۔ اگر اس نکتے کا خیال نہ رکھا جائے تو عورت اقدار کی سمت اپنی پیش قدمی کو جو آج ایران میں نظر آ رہی ہے، جاری نہیں رکھ سکے گی۔
حجاب کا مطلب عورت کو سب سے الگ تھلگ کر دینا نہیں ہے۔ اگر حجاب کے سلسلے میں کسی کا یہ نظریہ اور تصور ہے تو یہ سراسر غلط نظریہ ہے۔ حجاب تو در حقیقت معاشرے میں مرد اور عورت کو ضرورت سے زیادہ اختلاط سے روکنا ہے۔ ضرورت سے زیادہ قربت معاشرے، مرد اور عورت دونوں بالخصوص عورت کے لئے تباہ کن نتائج کی حامل ہوتی ہے۔ حجاب کو ملحوظ رکھنے سے عورت کو اپنے اعلی روحانی مقام پر پہنچنے میں مدد ملتی ہے اور وہ سر راہ موجود نازک موڑ پر لغزش سے محفوظ رہتی ہے۔
عورتوں کے دفاع کے سلسلے میں کیا جانے والا ہر اقدام بنیادی طور پر عورت کی عفت و پاکیزگی کی حفاظت پر مرکوز ہونا چاہئے۔ عورت کی عفت و پاکیزگی فی الواقع دوسروں کی نظر میں حتی خود شہوانی خواہشات میں غرق انسانوں کی نظر میں عورت کا احترام اور وقار قائم کرتی ہے۔ اسلام عورت کی عفت و پاکدامنی پر خاص تاکید کرتا ہے۔ البتہ مردوں کی پاکدامنی بھی ضروری چیز ہے۔ عفت صرف عورتوں سے مخصوص نہیں ہے، مردوں میں بھی پاکدامنی ہونی چاہئے۔
جہاں عورتوں کو حجاب سے محروم کر دیا جاتا ہے، جہاں عورت کو عریانیت اور برہنگی میں مبتلا کر دیا جاتا ہے وہاں سب سے پہلے تو خود عورت کی سلامتی اور اس کا تحفظ اور دوسرے مرحلے میں مردوں اور نوجوانوں کی سلامتی خطرات کی زد پر آ جاتی ہے۔ معاشرے اور ماحول کو محفوظ اور صحتمند رکھنے کے لئے اور ایسی فضا قائم کرنے کے لئے اسلام نے حجاب کا اہتمام کیا ہے جس میں عورت بھی معاشرے میں اپنی سرگرمیاں انجام دے سکے اور مرد بھی اپنے فرائض سے عہدہ بر آ ہو سکے۔
عورتوں کی ذمہ داریاں اور کردار
اسلامی معاشرے میں مرد و زن کے لئے میدان کھلا ہوا ہے۔ اس کا ثبوت اور دلیل وہ اسلامی تعلیمات ہیں جو اس سلسلے میں موجود ہیں اور وہ اسلامی احکامات ہیں جو مرد اور عورت دونوں کے لئے یکساں طور پر سماجی ذمہ داریوں کا تعین کرتے ہیں۔ یہ تو پیغمبر اسلام کا ارشاد گرامی ہے کہ " من اصبح و لا یھتم بامور المسلمین فلیس بمسلم" ( جو شخص شب و روز گزارے اور مسلمانوں کے امور کی فکر میں نہ رہے وہ مسلمان نہیں ہے) یہ صرف مردوں سے مخصوص نہیں ہے، عورتوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کے امور، اسلامی معاشرے کے مسائل اور عالم اسلامی کے معاملات بلکہ پوری دنیا میں پیش آنے والی مشکلات کے سلسلے میں اپنے فریضے کا احساس کریں اور اس کے لئے اقدام کریں، کیونکہ یہ اسلامی فریضہ ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ذات گرامی، جو بچپن میں اور مدینہ منورہ کی جانب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہجرت کے بعد مدینے میں اپنے والد کو پیش آنے والے تمام معاملات میں، اپنا کردار ادا کرتی ہوئی نظر آتی ہے، ایک نمونہ ہے جو اسلامی نظام میں عورت کے کردار اور فرائض کو ظاہر کرتا ہے۔ سورہ احزاب کی ایک آيت کہتی ہے کہ اسلام ہو، ایمان ہو، قنوت ہو، خشوع و خضوع ہو، صدقہ دینا ہو، روزہ رکھنا ہو، صبر و استقامت ہو، عزت و ناموس کی حفاظت ہو یا ذکر خدا ہو، ان چیزوں میں مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ معاشرے میں عورتوں کی وہ سرگرمیاں بالکل جائز، پسندیدہ اور مباح و بلا اشکال ہیں جو اسلامی حدود کی پابندی کرتے ہوئے انجام دی جائيں۔ جب معاشرے میں مرد اور عورتیں دونوں ہی تعلیم حاصل کریں گے تو تعلیم یافتہ افراد کی تعداد اس دور کے مقابلے میں دگنی ہوگی جس میں تعلیمی سرگرمیاں صرف مردوں سے مخصوص ہوکر رہ جائیں۔ اگر معاشرے میں عورتیں تدریس کے شعبے میں سرگرم عمل ہوں گی تو معاشرے میں اساتذہ کی تعداد اس دور کی بنسبت دگنی ہوگی جس میں یہ فریضہ صرف مردوں تک محدود ہو۔ تعمیراتی سرگرمیوں، اقتصادی سرگرمیوں، منصوبہ بندی، فکری عمل، ملکی امور، شہر، گاؤں، گروہی امور اور ذاتی مسائل اور خاندانی معاملات میں عورت و مرد کے مابین کوئی فرق نہیں ہے۔ سب کے فرائض ہیں جن سے ہر ایک کو عہدہ بر آ ہونا چاہئے۔
عورتوں کی سماجی سرگرمیوں کی بنیاد
کوئی بھی سماجی کام اسی وقت صحیح سمت میں آگے بڑھ سکتا اور نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے، جب غور و فکر، عقل و خرد، تشخیص و توجہ، مصلحت اندیشی و بار آوری اور صحیح و منطقی بنیادوں پر استوار ہو۔ عورتوں کے حقوق کی بازیابی کے لئے انجام دئے جانے والے ہر عمل میں اس چیز کو ملحوظ رکھنا چاہئے یعنی ہر حرکت دانشمندانہ سوچ پر مبنی ہو اور حقائق، عورت کے مزاج و فطرت سے آشنائی، مرد کے رجحان و رغبت سے آگاہی، عورتوں کے مخصوص فرائض اور مشاغل سے واقفیت، مردوں کے مخصوص فرائض اور مشاغل سے روشناسی اور دونوں کی مشترکہ باتوں اور خصوصیات کی معلومات کے ساتھ انجام دی جائے، غیروں سے مرعوب ہوکر اور اندھی تقلید کی بنیاد پر انجام نہیں دی جانی چاہئے۔ اگر یہ حرکت غیروں سے مرعوب ہوکر، اندھے فیصلے اور اندھی تقلید کی بنیاد پر آنکھیں بند کرکے انجام دی گئی تو یقینا ضرررساں ثابت ہوگی۔
قومی ترقی میں عورتوں کا کردار
اگر کوئی ملک حقیقی معنی میں تعمیر نو کا خواہاں ہے تو اس کی سب سے زیادہ توجہ اور اس کا بھروسہ افرادی قوت پر ہونا چاہئے۔ جب افرادی قوت کی بات ہوتی ہے تو اس کا خیال رکھنا چاہئے کہ ملک کی آدھی آبادی اور نصف افرادی قوت عورتوں پر مشتمل ہے۔ اگر عورتوں کے سلسلے میں غلط طرز فکر جڑ پکڑ لے تو حقیقی اور ہمہ جہتی تعمیر و ترقی ممکن ہی نہیں ہے۔ خود عورتوں کو بھی چاہئے کہ اسلام کے نقطہ نگاہ سے عورت کے مرتبہ و مقام سے واقفیت حاصل کریں تاکہ دین مقدس اسلام کی اعلی تعلیمات پر اتکاء کرتے ہوئے اپنے حقوق کا بخوبی دفاع کر سکیں، اسی طرح معاشرے کے تمام افراد اور مردوں کو بھی اس سے واقفیت ہونا چاہئے کہ عورت کے تعلق سے، زندگی کے مختلف شعبوں میں عورتوں کی شراکت کے تعلق سے، عورتوں کی سرگرمیوں، ان کی تعلیم، ان کے پیشے، ان کی سماجی، سیاسی، اقتصادی اور علمی فعالیتوں کے تعلق سے اسی طرح خاندان کے اندر عورت کے کردار اور معاشرے کی سطح پر اس کے رول کے تعلق سے اسلام کا نقطہ نگاہ کیا ہے۔
حصول علم لازمی اور واجب
عورتیں اعلی تعلیم حاصل کر سکتی ہیں۔ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ لڑکیوں کو پڑھنا لکھنا نہیں چاہئے۔ یہ بالکل غلط سوچ ہے۔ لڑکیوں کو چاہئے کہ اپنے لئے مفید ثابت ہونے والے موضوعات میں جن سے انہیں دلچسپی اور لگاؤ ہے تعلیمی سرگرمیاں انجام دیں۔ معاشرے کو لڑکیوں کی تعلیمی قابلیت کی ضرورت ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے تعلیم یافتہ لڑکوں کی ضرورت ہے۔ البتہ تعلیمی ماحول صحتمند ہونا چاہئے۔ تعلیم کے لئے مرد اور عورت کی معاشرت سے متعلق اخلاقی اقدار سے دوری ضروری نہیں ہے بلکہ ان اقدار کی مکمل پابندی کے ساتھ تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے اور خود کو بلند مقامات پر پہنچایا جا سکتا ہے۔
انتہائی اہم اور بنیانی کاموں میں ایک، عورتوں کو کتابوں کے مطالعے کا عادی بنانا ہے۔ ایک ایسی جدت عمل کی ضرورت ہے جس کی بنیاد پر عورتیں گھروں کے اندر کتابوں کے مطالعے کی عادی ہو جائیں۔ انسانی معرفتوں کی کتابیں ذہنوں کو بہتر ادراک، بہتر فکر، بہتر جدت عمل کے لئے اور زیادہ بہتر پوزیشن میں خود کو پہنچانے کے لئے آمادہ اور تیار کرتی ہیں۔
علم و دانش تو بے حد عزیز چیز ہے اور میں تو اس کا قائل ہوں کہ اسلامی معاشرے میں عورتیں تمام موضوعات پر عبور حاصل کریں۔ بعض خواتین خیال کرتی ہیں کہ اگر کوئی خاتون، عورتوں سے متعلق موضوع کا علم حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے عورتوں کی خاص بیماریوں کا علم حاصل کرنا چاہئے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ عورتوں کی ذمہ داری ہے کہ طب کے مختلف شعبوں جیسے نیورولوجی اور کارڈیولوجی وغیرہ کے سلسلے میں کام کریں۔ یہ شرعی اور سماجی فریضہ ہے۔
عورتیں گھر سے باہر کام کر سکتی ہیں
اسلام عورت کو کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ صرف اجازت ہی نہیں دیتا بلکہ اگر گھر کے باہر کام عورت کے بنیادی فریضے یعنی بچوں کی تربیت اور کنبے کی نگہداشت سے متصادم نہیں ہو رہا ہے تو شائد یہ ضروری بھی ہو۔ کوئی بھی ملک گوناگوں شعبوں میں عورتوں کی افرادی طاقت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔
بعض لوگ انتہا پسندی سے کام لیتے ہیں۔ بعض کا یہ کہنا ہے کہ چونکہ سماجی سرگرمیوں کی وجہ سے گھر، شوہر اور بچوں کا خیال رکھ پانا مشکل ہو جاتا ہے لہذا سماجی سرگرمیوں سے کنارہ کشی کر لینی چاہئے جبکہ بعض کا یہ کہنا ہے کہ چونکہ گھر، شوہر اور بچوں کی وجہ سے سماجی سرگرمیوں کا موقع نہیں مل پاتا لہذا شوہر اور بچوں سے ناتہ توڑ لینا چاہئے۔ یہ دونوں ہی باتیں غلط ہیں۔ کسی ایک کو بھی دوسرے کی وجہ سے ترک نہیں کرنا چاہئے۔
البتہ گھر سے باہر کام، عورتوں کا اولیں اور بنیادی مسئلہ نہیں ہے۔ اسلام عورتوں کے کام کرنے اور فرائض کی انجام دہی کا مخالف نہیں ہے، سوائے کچھ کاموں کے کہ جن میں سے کچھ کے بارے میں علمائے کرام کے درمیان اتفاق رائے ہے اور کچھ کے سلسلے میں اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم عورت کا بنیادی مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اس کے پاس روزگار ہے یا نہیں۔ عورت کا بنیادی ترین مسئلہ اور فریضہ وہ ہے جسے آج بد قسمتی سے مغرب میں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ وہ ہے تحفظ کا احساس، سلامتی کا احساس اور صلاحیتوں کے نشو نما پانے کے امکانات کی فراہمی کا احساس اور معاشرے میں، خاندان میں، شوہر کے گھر میں یا والدین کے گھر میں اس کا ظلم و زیادتی سے محفوظ رہنا۔ جو لوگ عورتوں کے سلسلے میں کام کر رہے ہیں انہیں ان پہلوؤں پر کام کرنا چاہئے۔
دوسرا باب: خاندان میں عورت کا کردار
عورتوں کی اسلامی تربیت
اگر اسلامی معاشرہ عورتوں کو اسلامی تربیت کے نمونوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ عورت اپنے شایان شان مقام و منزل پر پہنچ گئی ہے۔ اگر معاشرے میں عورت علم و معرفت اور روحانی و اخلاقی کمالات پرفائز ہو جائے جو اللہ تعالی اور ادیان الہی نے تمام انسانوں، بشمول مرد و زن، کے لئے یکساں طور پر معین کئے ہیں تو بچوں کی بہتر تربیت ممکن ہو سکے گی، گھر کی فضا زیادہ پاکیزہ اور محبت آمیز ہو جائے گی، معاشرہ زیادہ ترقی کر سکے گا، زندگی کی مشکلات زیادہ آسانی سے برطرف ہوں گي۔ یعنی مرد اور عورت دونوں خوشبخت ہو جائیں گے۔ مقصد عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں صف آرا کرنا نہیں ہے، مقصد عورتوں اور مردوں کی معاندانہ رقابت نہیں ہے۔ ہدف یہ ہے کہ عورتیں اور لڑکیاں اسی عمل کو دہرا سکیں جس کو انجام دے کر مرد ایک عظیم انسان میں تبدیل ہو جاتے ہیں، یہ ممکن بھی ہے اور اسلام میں اس کا عملی تجربہ بھی کیا جا چکا ہے۔
انتہائی اہم چیزوں میں ایک، گھر کے اندر کے فرائض یعنی شوہر اور بچوں سے برتاؤ کی نوعیت کے تعلق سے عورتوں کو صحیح طریقوں سے آگاہ کرنا ہے۔ ایسی عورتیں بھی ہیں جو بہت اچھی ہیں، ان میں صبر و تحمل، حلم و بردباری، درگزر اور رواداری کا جذبہ اور اچھا اخلاق پایا جاتا ہے لیکن وہ بچوں اور شوہر کے سلسلے میں اپنا رویہ درست نہیں کرتیں۔ یہ رویہ اور روش با قاعدہ ایک علم ہے۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جو انسانی تجربات کے ساتھ روز بروز بہتر ہوئی ہیں اور آج اچھی صورت حال میں موجود ہیں۔ بعض لوگ ہیں جن کے پاس بڑے گرانقدر تجربات ہیں۔ کوئی ایسا راستہ اختیار کیا جانا چاہئے جس سے یہ عورتیں گھر کے اندر رہتے ہوئے ان روشوں اور طریقوں سے آگاہ ہو سکیں اور رہنمائی حاصل کر سکیں۔
خاوند کے انتخاب کا حق
عورت ایک بیوی اور شریکہ حیات کی حیثیت سے مختلف مراحل پر اسلام کی خاص توجہ کا مرکز بنی نظر آتی ہے۔ سب سے پہلا مرحلہ شریک حیات کے انتخاب کا ہے۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے عورت اپنے شوہر کے انتخاب میں آزاد ہے اور کوئی بھی شخص شوہر کے انتخاب کے سلسلے میں عورت پر کوئی بات جبرا مسلط نہیں کر سکتا۔ یعنی حتی عورت کے بھائی اور والد بھی، دور کے رشتہ داروں کی تو بات ہی الگ ہے، اگر اسے مجبور کرنا چاہیں کہ تمہیں لا محالہ فلاں شخص سے ہی شادی کرنی ہے تو انہیں اس کا حق نہیں ہے اور وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ البتہ ماضی میں اسلامی معاشرے میں بھی کچھ غلط اور جاہلانہ رواج تھا۔ تاہم جاہل مسلمان جو کچھ کرتے ہیں اسے اسلام سے نہیں جوڑنا چاہئے۔ یہ تو جاہلانہ عادات و اطوار ہیں۔ جاہل مسلمان جاہلانہ عادات و اطوار کی بنیاد پر کچھ کام ایسے کر جاتے ہیں جن کا اسلام اور اس کے نورانی احکامات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
شادی سے متعلق دو جاہلانہ رسمیں
اگر کوئی شخص کسی لڑکی کو مجبور کرتا ہے کہ تمہیں اپنے چچازاد بھائی سے شادی کرنی ہے تو اس نے غلط کام کیا ہے۔ اگر کوئی چچازاد بھائی اپنی چچازاد بہن کے سلسلے میں اپنے لئے یہ اختیار اور حق محفوظ سمجھتا ہے کہ اسے کسی اور سے شادی کرنے سے روک دے اور یہ کہے کہ چونکہ تم نے مجھ سے شادی نہیں کی لہذا میں تمہیں شادی کی اجازت نہیں دوں گا، تو اس لڑکے اور اس کی مدد کرنے والے ہر شخص سے فعل حرام سرزد ہوا ہے۔ یہ شریعت کی کھلی مخالفت ہے اور فقہائے اسلام کے درمیان اس سلسلے میں مکمل اتفاق رائے ہے۔
اگر کسی قبیلے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص، کسی دوسرے قبیلے سے اپنے اختلافات کو دور کرنے کے لئے، فرض کیجئے کہ دونوں کے درمیان تنازعہ اور جنگ و خونریزی کا سلسلہ چل رہا ہے، اس اختلاف کو حل کرنے اور تنازعے کو ختم کرنے کی غرض سے ایک قبیلے کی لڑکی کی شادی دوسرے قبیلے میں کر دے اور اس لڑکی سے اس کی رضامندی حاصل کرنے کی زحمت گوارا نہ کرے تو اس نے شریعت کے خلاف عمل کیا ہے۔ ہاں اگر لڑکی سے رضامندی حاصل کر لی گئی ہے تو پھر کوئی اشکال نہیں ہے۔ کوئی لڑکی ہے جو خود بھی مائل ہے اور اس کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ اس کی شادی دوسرے قبیلے کے کسی لڑکے سے کر دی جائے اور اس شادی کے نتیجے میں اختلاف اور تنازعہ بھی ختم ہو جائے تو اس میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں ہے۔ لیکن اگر کسی لڑکی کو اس کے لئے مجبور کیا جائے تو یہ عمل خلاف شریعت اور اسلامی احکام کی خلاف ورزی ہے۔
آشیانے کا چین و سکون
انسان کو جن چیزوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے ان میں ایک سکون و چین ہے۔ انسان کی خوشبختی اس میں مضمر ہے کہ ذہنی تلاطم اور اضطراب سے محفوظ و مطمئن رہے۔ انسان کو یہ نعمت کنبے اور خاندان سے ملتی ہے، عورت کو بھی اور مرد کو بھی۔
یہ آیہ کریمہ مرد و زن کے سلسلے میں بنیادی طور پر خاندان کے تناظر میں کہتی ہے کہ " و من آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا" یعنی قدرت خدا کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم انسانوں کے لئے، خود تمہاری جنس سے، تمہارا جوڑا پیدا کیا ہے۔ تم مردوں کے لئے عورتوں کو اور تم عورتوں کے لئے مردوں کو۔ تم خود "من انفسکم" ایک دوسرے سے ہو، الگ الگ جنس سے نہیں ہو۔ الگ الگ درجے کے نہیں ہو۔ سب کی حقیقت و ماہیت ایک ہے۔ سب ایک ہی حقیقت سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب کا جوہر اور سب کی حقیقت ایک ہے۔ البتہ بعض خصوصیات کے لحاظ سے کچھ فرق ضرور ہے چنانچہ ان کے فرائض بھی الگ الگ ہیں۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ " لتسکنوا الیھا" یعنی انسانوں میں دو صنفیں ایک عظیم ہدف کے لئے قرار دی گئی ہیں۔ وہ ہدف ہے سکون و طمانیت۔ عورتیں (اور مرد) گھر کے اندر اپنی اپنی مخالف صنف کے ساتھ، مرد عورت کے ساتھ اور عورت مرد کی معیت میں طمانیت حاصل کرے۔ گھر میں داخل ہونے پر داخلی فضا پر محیط سکون و چین، مہربان، محبتی اور امانتدار عورت پر نظر پڑنا مرد کے لئے باعث سکون و طمانیت ہوتا ہے۔ عورت کے لئے بھی ایسے مرد اور ایسے سہارے کا وجود، جو اس سے محبت کرے اور اس کے لئے کسی مستحکم قلعے کی مانند ہو، خوشبختی کی علامت اور اس کے لئے باعث سکون و اطمینان اور موجب خوشـبختی و سعادت ہے۔ خاندان دونوں کو یہ نعمت عطا کرتا ہے۔ مرد کو قلبی سکون کے لئے گھر کی فضا میں بیوی کی ضرورت ہوتی ہے اور عورت کو سکون و چین کے لئے گھر میں مرد کی احتیاج ہوتی ہے۔ "لتسکنوا الیھا" دونوں کو سکون و چین کے لئے ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔
خاندان میں عورت کی اہمیت
خاندان کی تشکیل تو در حقیقت عورت ہی کرتی اور وہی اسے چلاتی ہے۔ کنبے کی تشکیل کا بنیادی عنصر عورت ہے، مرد نہیں۔ مرد کے بغیر ممکن ہے کہ کوئی کنبہ موجود ہو۔ کوئی خاندان ایسا ہے جس میں مرد موجود نہیں ہے، دنیا سے رخصت ہو چکا ہے تو گھر کی عورت اگر سمجھدار اور سلیقے مند ہے تو خاندان کو (بکھرنے سے) بچائے رکھے گی لیکن اگر خاندان میں عورت نہ ہو تو مرد خاندان کو محفوظ نہیں رکھ سکتا، معلوم ہوا کنبے اور خاندان کی حفاظت عورت کرتی ہے۔
یہ جو اسلام خاندان کے اندر عورت کے کردار کو اتنی زیادہ اہمیت دیتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر عورت نے خاندان کے فریضے کو سنبھال لیا اور اس میں دلچسپی دکھائی، بچوں کی تربیت و پرورش کو اہمیت دی، اپنے بچوں کا خیال رکھا، انہیں دودھ پلایا، انہیں اپنی آغوش میں پالا، ان کے لئے ثقافتی آذوقہ فراہم کیا یعنی قرآنی حکایتیں، قصے، احکام اور رہنما واقعات سنائے اور فرصت کے وقت میں جسمانی ضرورت کی غذا کی مانند ان چیزوں کا ذائقہ بھی چکھایا تو اس معاشرے کی انسانی نسلیں با شعور اور قابل افتخار ہوں گی۔ یہ عورت کا فن ہے اور یہ تعلیم حاصل کرنے، تعلیم دینے، گھر سے باہر کام کرنے اور سیاست کے میدان میں سرگرم عمل ہونے اور ایسے دیگر امور کی راہ میں حائل بھی نہیں ہے۔
تمام سماجی منصوبوں اور پروگراموں میں خاندان اور کنبے کو معیار اور اساس بنانا چاہئے۔ ماں کا مسئلہ، بیوی کا مسئلہ، گھر اور خاندان کا مسئلہ بہت ہی اہم اور حیاتی نوعیت کا ہے۔ یعنی اگر کوئی عورت بہت بڑی ماہر ڈاکٹر بن جائے یا کسی اور شعبے میں مہارت حاصل کر لے لیکن گھر کے فرائض سے عہدہ برآ نہ ہو سکے تو یہ اس کے لئے ایک نقص اور کمی ہے۔ گھر کی مالکہ کا وجود ضروری ہے، بلکہ محور یہی ہے۔ بلا تشبیہ عورت شہد کی رانی مکھی کا درجہ رکھتی ہے۔
عورتوں کا فطری اثر و نفوذ
کچھ استثنائات سے قطع نظر عموما شوہروں پر بیویوں کا خاص اثر و نفوذ ہوتا ہے۔ البتہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی عورت اپنے شوہر پر حاوی ہے تب کہا جائے کہ اسے بڑا اثر و نفوذ حاصل ہے، نہیں۔ بات خداداد فطری اثر و نفوذ کی ہو رہی ہے۔ میں اپنے اندازے کے مطابق عورت کو مرد سے زیادہ مضبوط اور قوی سمجھتا ہوں، یہ میرا یقین ہے۔ ایک طویل مقابلے میں، اگر مقابلہ لمبا کھنچے، سرانجام فتح عورت کی ہوگی۔ یعنی عورت آخرکار ان روشوں اور خصائص کے ذریعے جو اللہ تعالی نے اس کے مزاج اور اس کی فطرت میں ودیعت کر دئے ہیں، مرد پر غلبہ حاصل کر لے گی۔ یہ قدرت کی ایک پر کشش حقیقت اور خلقت کا ایک حسین راز ہے۔ میدان عمل میں موجودگی کے سلسلے میں اپنی پچاس فیصدی کی شراکت کے علاوہ عورتیں دوسرے پچاس فیصدی میں بھی جو مردوں سے متعلق ہے موثر ثابت ہوتی ہیں (یعنی اپنے ساتھ مردوں کو بھی میدان عمل میں لانے میں موثر کردار ادا کرتی ہیں)۔
مرد اس بات کو ترجیح دیتا ہے کہ اس کے بیوی بچے گھر میں رہیں اور وہ خود باہر کی ذمہ داری سنبھالے۔ مثلا ہم لوگ جو ایک زمانے میں دفاعی جنگ لڑ رہے تھے، یہ گوارا نہیں کرتے تھے کہ اپنی عورتوں کو میدان جنگ میں لے جائیں۔ ہم یہی کہتے تھے کہ" آپ لوگ یہیں رہیں، ہم خود جاکر یہ محاذ سنبھالیں گے" لیکن جب عورت میدان جنگ میں جاتی ہے تو وہ اپنے شوہر کو بھی ساتھ لے جاتی ہے اور اسے آگے بھیجتی ہے۔ ایک ایسی ہستی کا نام ہے عورت۔ یہ شخصیت، یہ ذاتی اثر و نفوذ، میدان جنگ میں یہ درخشاں کارکردگی، ماضی و حال اور مستقبل میں جد و جہد کے لئے ہمیشہ قائم و دائم رہنا چاہئے۔
مہر و محبت کا گہوارا
خاندان کے تناظر میں مرد اور عورت کی پاکیزہ فطرت ایسی ہے جو دونوں کے درمیان ایک خاص وابستگی اور لگاؤ پیدا کر دیتی ہے، عشق و الفت کا رابطہ برقرار کر دیتی ہے "مودۃ و رحمۃ"۔
مرد اور عورت کا صحیح اور منطقی رابطہ عشق و الفت کا رابطہ ہے، دوستی و محبت کا رابطہ ہے، مہربانی اور ہمدردی کا رابطہ ہے، وہ ایک دوسرے سے محبت کریں، ایک دوسرے کے گرویدہ رہیں اور آپس میں ایک دوسرے پر نثار ہوں۔
خاندان تو وہ مرکز ہے جہاں الفتوں اور جذبات کو پروان چڑھنا چاہئے، بچوں کو مامتا اور شفقت ملنی چاہئے۔ خاص مردانہ مزاج کے باعث زوجہ کے سلسلے میں مرد کی فطرت ایسی ہوتی ہے کہ بعض چیزوں کے سلسلے میں اس کا دل بہت جلدی ٹوٹ جاتا ہے اور ایسے موقع پر اس کے زخموں کا مرہم صرف اور صرف زوجہ کی نوازش اور محبت ہوتی ہے، ایسے میں ماں کی شفقت بھی کافی نہیں ہوتی۔ ایک جوان مرد کے لئے زوجہ وہ کام کرتی ہے جو ماں ایک چھوٹے بچے کے لئے انجام دیتی ہے۔ ظریف اور لطیف مزاج رکھنے والی خواتین اس حقیقت سے آگاہ بھی ہیں۔ اگر گھر میں اس مرکزی نقطے یعنی گھر کی مالکہ کے تعلق سے یہ جذبات و احساسات نہ ہوں تو اس کنبے کا کچھ مفہوم نہ ہوگا وہ روح سے خالی جسم کی مانند ہوگا۔
فرائض کی تقسیم
مرد اور عورت دونوں کے مزاج کی کچھ الگ الگ خصوصیات ہیں۔ گھر کے اندر عورت سے یہ توقع نہیں رکھنا چاہئے کہ وہ مردوں کے انداز میں کام کرے، اسی طرح کوئی مرد سے عورتوں کے برتاؤ اور اسلوب کی توقع نہ رکھے۔ دونوں کے مزاج اور فطرت کے الگ الگ تقاضے ہیں اور انسان، معاشرے، مرد اور عورت کے سماجی نظام کی مصلحت اسی میں ہے کہ گھروں کے اندر مرد اور عورت کے مزاج اور ان کے فطری تقاضوں کا مکمل طور پر لحاظ کیا جائے۔ اگر اس کا خیال رکھا گيا تو دونوں کی خوشبختی و کامیابی کی راہ ہموار ہوگی۔ کسی کو بھی دوسرے کے ساتھ زیادتی اور نا انصافی کرنے کا حق نہیں ہے۔ بعض مردوں کی سوچ یہ ہے کہ عورت کو ان کے سارے کام انجام دینے ہیں۔ ویسے گھر کے اندر جہاں میاں بیوی کے درمیان گہرا محبت و الفت کا رشتہ ہے، دونوں ایک دوسرے کے کام بڑے شوق اور رغبت سے انجام دیتے ہیں۔ لیکن رغبت اور دلچسپی سے کوئی کام انجام دینا اور بات ہے اور اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے یا اپنے انداز سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ عورت ایک خادمہ کی طرح مرد کی خدمت کرے اور اسے اپنا فرض سمجھے تو یہ ایک الگ بات ہے۔ اسلام میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔
گھر کا فریضہ اولیں ترجیح
بعض عورتیں بڑی مصروف ہیں، گھر کے باہر رہتی ہیں، آپریشن کرتی ہیں، اپنے مریضوں کو بھی دیکھتی ہیں، کسی علمی تحقیق میں بھی مصروف ہیں، کوئی پروجیکٹ تیار کر رہی ہیں، کسی یونیورسٹی میں لیکچر بھی دے رہی ہیں، یہ ساری سرگرمیاں اپنی جگہ بالکل درست ہیں لیکن گھر کے فرائض بھی نظر انداز نہیں کئے جانے چاہئے۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ گھر کے کاموں کی کیفیت کو مقدار پر ترجیح دی جائے، یعنی اس کی مقدار کو کچھ کم کر دیا جائے۔ عورت کی چوبیس گھنٹہ گھر میں موجودگی کی بات الگ ہے۔ اگر ان چوبیس گھنٹوں میں سے کـچھ گھنٹے کم ہو گئے ہیں لیکن (گھر کے اندر فرائض کی انجام دہی کی ) کیفیت اعلی درجے کی ہے تو یہ ایک الگ صورت حال ہوگی۔ اگر آپ نے دیکھا کہ آپ کے اس (باہر کے) کام سے اس مسئلے ( یعنی گھر کے فرائض) پر منفی اثر پڑ رہا ہے تو آپ کو اس کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا ہوگا۔ یہ بہت اہم اور بنیادی چیز ہے، سوائے کچھ ہنگامی صورتوں کے۔ تمام کاموں میں کچھ ایسی ہنگامی صورتیں ہوتی ہیں جو قاعدے اور ضابطے سے مستثنی رکھی جاتی ہیں۔ عورتوں کا سب سے بڑا کام بچوں کی تربیت اور اہم میدانوں میں اترنے اور اعلی مدارج پر فائز ہونے کے لئے شوہروں کی ہمت بندھانا اور حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
بچوں کی تربیت، ایک اہم فریضہ
گھر اور کنبے کے اندر عورتوں کی ایک بڑی ذمہ داری بچوں کی تربیت کرنا ہے۔ جو عورتیں گھر کے باہر کی اپنی سرگرمیوں کی وجہ سے ماں بننے سے گریز کرتی ہیں وہ در حقیقت انسانی فطرت اور اپنے نسوانی مزاج کے خلاف کام کر رہی ہیں۔ اللہ اسے پسند نہیں کرتا۔ جو خواتین اپنے بچوں، ان کی تربیت، انہیں دودھ پلانے اور انہیں اپنی مہر آگیں آغوش میں لینے اور پرورش کرکے انہیں پروان چڑھانے جیسے کاموں کو بعض ایسے امور کی وجہ سے ترک کر دیتی ہیں جن کی انجام دہی کا انحصار ان کی ذات پر نہیں ہے، وہ بہت بڑی غلطی کر رہی ہیں۔ بچوں کی پرورش کی بہترین روش یہ ہے کہ ان کی پرورش ماں کی آغوش میں اس کی مہر و الفت اور مامتا کی چھاؤں میں ہو۔ جو خواتین اپنے بچوں کو اس خداداد نعمت سے محروم کر دیتی ہیں، ان سے بہت بڑی غلطی سرزد ہو رہی ہے۔ ان کا یہ عمل ان کے بچوں کے لئے بھی نقصان دہ ہے، خود ان کے اپنے لئے بھی ضرر رساں ہے اور معاشرے کے لئے زیاں بار ثابت ہوتا ہے۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ عورت کا ایک اہم ترین فریضہ یہ ہے کہ بچوں کو اپنے جذبات کی گرمی سے، اپنی صحیح تربیت سے اور اپنی پوری توجہ اور دلجمعی کے ذریعے ایسا بنائيں کہ یہ بچہ جب بڑا ہو تو ذہنی اور نفسیاتی لحاظ سے ایک صحتمند انسان ہو، احساس کمتری سے دوچار نہ ہو، نفسیاتی پیچیدگیوں میں گرفتار نہ ہو، اس ذلت و بد بختی اور بے شمار مصیبتوں سے محفوظ رہے جن سے مغرب میں یورپ اور امریکا کی نوجوان نسلیں دوچار ہیں۔
مغربی ممالک میں خواتین چونکہ گھر اور پچوں کی تربیت پر توجہ نہیں دیتیں اس لئے ان مغربی معاشروں کا یہ عالم ہو گیا ہے کہ یورپی اور امریکی ممالک میں دسیوں لاکھ بد عنوان اور گمراہ نوخیز لڑکیاں اور لڑکے، اس مادہ پرست ثقافت، ان فلک بوس محلوں، ان ایٹمی چھاونیوں، سو منزلہ سے بھی زیادہ اونچی، آسمانوں سے سرگوشیاں کرتی عمارتوں میں دس سال بارہ سال کے سن سے بد عنوانیوں میں مبتلا ہو چکے ہوتے ہیں، چور بن چکے ہوتے ہیں، قاتل بن چکے ہوتے ہیں، اسمگلر بن چکے ہیں، نشہ کی لت میں پڑے ہوئے ہیں، سگریٹ پیتے ہیں، حشیش استعمال کرتے ہیں، اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ مغربی عورت نے خاندان اور کنبے کی اہمیت و ارزش کو نہیں پہچانا، اس کی قدر نہیں کی۔
گل اور باغباں کی داستان
اسلام کے نقطہ نگاہ سے مرد کا فریضہ ہے کہ گھر میں عورت کا خیال بالکل ایسے رکھے جیسے نازک پھول کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ " المرآۃ ریحانۃ" عورت ایک پھول ہے۔ اس (ہدایت) کا تعلق سیاسی، سماجی، تعلیمی اور دیگر میدانوں سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق گھر کے اندر کے ماحول سے ہے۔ " المرآۃ ریحانۃ و لیست بقھرمانۃ" پیغمبر اکرم نے اپنے اس خطاب سے اس غلط نظرئے اور نا درست طرز فکر پر خط بطلان کھینچ دیا جس کے مطابق عورت کو گھر کے اندر تمام کاموں کی انجام دہی کا پابند تصور کیا جاتا تھا۔ عورت پھول ہے جس کا بہت خیال رکھا جانا چاہئے۔ پھول کے ساتھ زور زبردستی کیجئے تو وہ ایک لحظے میں بکھر کر رہ جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ نے پھول کی نزاکت کو سمجھا اور اس کے ساتھ نزاکت آمیز سلوک کیا تو وہ باعث زینت ہوگا، اپنا اثر دکھائے گا، اپنے محاسن ظاہر اور نمایاں کرے گا۔ جسمانی اور جذباتی نزاکتوں والی اس مخلوق کو اس نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ عورت میں اس زنانہ نزاکت کو محفوظ رکھا گیا ہے جس کے زیر اثر اس کے تمام جذبات، خصوصیات اور خواہشات ہوتی ہیں۔ اس سے یہ نہیں کہا گيا ہے کہ وہ عورت ہوتے ہوئے بھی مردوں کے انداز میں سوچے، مردوں کی مانند کام کرے، اپنی خواہشات مردوں کے مطابق بنائے۔ یعنی عورت کے نسوانی انداز کو، جو اس کی ایک فطری اور قدرتی چیز ہے اور جو اس کے تمام جذبات اور سرگرمیوں کا محور بھی ہے، اسلامی طرز فکر میں ملحوظ رکھا گیا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی ساتھ علم کا میدان، روحانیت و معنویت کا میدان، تقوا و پرہیزگاری کا میدان اور سیاسی سرگرمیوں کا میدان اس کے لئے کھلا رکھا گیا ہے۔ یہی نہیں اسے ترغیب دلائی گئی ہے حصول علم کی ، اسی طرح گوناگوں سیاسی و سماجی میدانوں میں اترنے کی۔
گھر کے اندر مرد کو بھی یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اسے جاہلانہ انداز میں اپنی طاقت کے استعمال، زیادہ روی، تحکمانہ روئے اور جبر و اکراہ کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ ہے اسلامی نقطہ نگاہ۔ " و لیست بقھرمانۃ" یہاں فارسی والا قہرمان( چیمپین) مراد نہیں ہے، یہ عربی اصطلاح ہے جو در حقیقت فارسی سے لی گئی ہے۔ عربی میں قہرمان کے معنی ہیں کاموں کی انجام دہی پر مامور سینئر نوکر۔ یعنی مرد گھر میں عورت کو کاموں کی انجام دہی پر مامور نہ سمجھے۔ یہ خیال نہ کیا جائے کہ مرد مالک ہے اور گھر کے کام، بچوں کی نگہداشت وغیرہ کو اس نے ایک سینئر نوکر کے سپرد کر دیا ہے اور وہ سینئر نوکر اس کی بیوی ہے لہذا وہ اس کے ساتھ تحکمانہ برتاؤ کر سکتا ہے۔
گھروں میں عورتوں پر مظالم
اس وقت عالمی سطح پر عورتیں لا متناہی اور لا ینحل مسائل سے دوچار ہیں۔ اس وقت دنیا میں عورتیں دو میدانوں میں شدید رنج و الم برداشت کر رہی ہیں۔ ان میں سے ایک ہے خاندان اور دوسرا میدان ہے سماج اور معاشرہ۔ یہ چیز یورپ اور امریکا میں اسی طرح ان ممالک میں ہے جنہوں نے انہیں اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے۔ کہیں بہت زیادہ شدت نظر آتی ہے تو کہیں یہ شدت کچھ کم ہے۔ گھر کے اندر عورت مظلوم ہے۔ یعنی شوہر گھر کے اندر واقعا بیویوں پر ظلم کرتے ہیں۔ اس ماحول میں گھر کے اندر عورتوں پر مردوں کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ مرد، عورت کو اپنی شریکہ حیات نہیں سمجھتا۔ اپنے تمام جذبات و احساسات کو عورت پر نثار نہیں کرتا۔ یہ مرد گھر کے باہر غیر اخلاقی حرکتوں، عیاشیوں اور شہوانی مشغلوں میں مصروف ہیں جبکہ گھر کے اندر ایک سرد مہری اور بے رخی کا انداز ہے جو کبھی کبھی بد اخلاقی اور زور زبردستی کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔ سب سے اہم بات مرد اور عورت کا باہمی تعاون اور تال میل ہوتا ہے۔ انسان اپنی بیٹی کو معلوم نہیں کیسی کیسی زحمتیں گوارا کرکے پیار محبت سے بڑا کرتا ہے۔ وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی جو ماں باپ کے گھر میں ہنوز بچی ہی شمار کی جاتی ہے، اس کے بعد شوہر کے گھر جاتی ہے جہاں اس سے یکبارگی یہ توقع ہو جاتی ہے کہ ہر بات سمجھے، ہر کام انجام دے اور ہر ہنر سے واقف ہو۔ اس سے ذرا سی غلطی ہوئی نہیں کہ چڑھائی کر دی جاتی ہے! یہ نہیں ہونا چاہئے۔
مرد نے اگر گھر میں مالکانہ اور تحکمانہ رویہ اپنایا، عورت کو خادمہ کی حیثیت سے دیکھا تو یہ اس کے ساتھ زیادتی اور نا انصافی ہے، جو بد قسمتی سے بہت سے مردوں کے ہاں پائی جاتی ہے۔ گھر کے باہر بھی یہی صورت حال ہے۔ اگر عورت کو تعلیم حاصل کرنے، کوئی کام انجام دینے اور بعض مواقع پر پیسے کمانے کے لئے محفوظ ماحول میسر نہ ہو تو یہ ظلم ہے، نا انصافی ہے۔ عورت کو اگر علم و معرفت حاصل کرنے کا موقع نہ دیا جائے تو اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ اگر حالات ایسے ہوں کہ عورت مختلف کاموں اور گوناگوں ذمہ داریوں کے باعث تہذیب اخلاق، اپنے دین اور اپنے علم و معرفت کی جانب توجہ نہ دے سکے تو یہ اس کے ساتھ ظلم ہے۔ اگر عورت کو اس کی ذاتی اور نجی ملکیت اور اثاثے کے آزادانہ اور حسب منشاء استعمال کا موقع نہ دیا جائے تو یہ اس کے ساتھ زیادتی ہے۔ اگر شادی کے وقت عورت کے سر کسی مرد کو مڑھ دیا جائے یعنی خاوند کے انتخاب میں خود اس کا اپنا کوئی کردار نہ ہو اور اس کی خواہش اور مرضی کا خیال نہ رکھا گيا ہو تو یہ سراسر ظلم اور نا انصافی ہے۔ عورت جب (شوہر کے) گھر میں زندگی بسر کر رہی ہے اس وقت اسی طرح شوہر سے جدا ہو جانے کی صورت میں اگر بچوں کو پیار کرنے اور مامتا کے جذبے کی تسکین کا موقع نہ پائے تو یہ اس کے ساتھ زیادتی ہے۔ اگر عورت میں استعداد اور صلاحیت ہے مثلا علمی صلاحیت سے مالامال ہے، ایجادات اور نئی دریافتوں کی صلاحیت رکھتی ہے، سیاسی شعور رکھتی ہے، سماجی کاموں کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اسے اس کی استعداد کو استعمال کرنے اور اس پر نکھار لانے کا موقع نہیں دیا جا رہا ہے تو یہ اس کے ساتھ ظلم ہے۔
تحرير : مسز رضوی کلکته
دختر جناب شعیب عليه السلام
حضرت شعیب کی خدمت میں موسیٰ کی آمد ۔ شعیب کی طرف سے شادی کی پیش کش ۔حق مہر کا تعین ۔کئی سال کاکام ۔پھر واپس روانگی۔ راستہ میں بچے کی ولادت اور نبوت کا ملنا ان واقعات میں موسیٰ کی ماں کا مامتا پر ضبط، خواہر موسی کی جفا کشی اور خبرداری پھر زوجہ ٴ فرعون کا ہر مرحلہ میں حضرت موسیٰ کا تحفظ ۔ان مراحل میں عورت کی عظمت، عورت کی محبت و ایثار اور نبی کی جان کے تحفظ ۔ایسے واقعات ہیں جن سے عورت کی عظمت واضح و آشکار ہوتی ہے ۔
تزویج حضرت موسیٰ ع
قَالَتْ إِحْدَاہُمَا یَاأَبَتِ اسْتَأْجِرْہُ إِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْأَمِیْنُ قَالَ إِنِّی أُرِیْدُ أَنْ أُنْکِحَکَ إِحْدَی ابْنَتَیَّ ہَاتَیْنِ عَلٰی أَنْ تَأْجُرَنِی ثکَلنِیَ حِجَجٍ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِکَ وَمَا أُرِیْدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَیْکَ سَتَجِدُنِیْ إِنْ شَاءَ اللہ مِنَ الصَّالِحِیْنَ قَالَ ذٰلِکَ بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ أَیَّمَا الْأَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلاَعُدْوَانَ عَلَیَّ وَاللہ عَلٰی مَا نَقُوْلُ وَکِیْلٌ
.
"ان دونوں میں سے ایک لڑکی نے کہا اے ابا اسے نوکر رکھ لیں کیونکہ جیسے آپ نوکر رکھنا ہو تو ان سب سے بہتر وہ ہے جو طاقتور ، امانت دار ہو شعیب نے کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں ایک کا نکا ح اس شرط پر تمہارے ساتھ کروں کہ تم آٹھ سال میری نوکری کرو اور اگر تم دس سال پورے کرو تو یہ تمہاری مرضی ہے اور میں تمہیں تکلیف نہ دوں گا انشا ء اللہ تم مجھے صالحین میں سے پاوٴگے ۔موسیٰ نے کہا یہ میرے اور آپ کے درمیان وعدہ ہے میں ان دونوں میں سے جو بھی مدت پوری کروں مجھ سے کوئی زیادتی نہ ہو اور یہ جو کچھ ہم یہ کہہ رہے ہیں ا س پر اللہ ضامن ہے ۔" (قصص:۲۶تا۲۸)
فَلَمَّا قَضٰی مُوْسَی الْأَجَلَ وَسَارَ بِأَہْلِہ آنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا قَالَ لِأَہْلِہ امْکُثُوْا إِنِّیْ آنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْ آتِیْکُمْ مِّنْہَا بِخَبَرٍ أَوْ جَذْوَةٍ مِنَ النَّارِ لَعَلَّکُمْ تَصْطَلُونَ فَلَمَّا أَتَاہَا نُودِی مِنْ شَاطِئِی الْوَادِ الْأَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبَارَکَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَنْ یَّامُوسٰی إِنِّیْ أَنَا اللہ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ وَأَنْ أَلْقِ عَصَاکَ فَلَمَّا رَآہَا تَہْتَزُّ کَأَنَّہَا جَانٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ یَامُوْسٰی أَقْبِلْ وَلَاتَخَفْ إِنَّکَ مِنَ الْآمِنِیْنَ اُسْلُکْ یَدَکَ فِیْ جَیْبِکَ تَخْرُجْ بَیْضَاءَ مِنْ غَیْرِ سُوْءٍ ۔
"پھر جب موسیٰ نے مدت پوری کی اور وہ اپنے اہل کو لیکر چل دیے تو کوہ طور کی طرف سے ایک آگ دکھائی دی وہ اپنے اہل سے کہنے لگے ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے شائد وہاں سے کوئی خبر لاوٴں یا آگ کا انگارہ لے کر آوٴں تا کہ تم تاپ سکو جب موسیٰ وہاں پہنچے تو وادی کے دائیں کنارے ایک مبارک مقام میں درخت سے ندا آئی اے موسیٰ میں ہی عالمین کا پروردگار اللہ ہوں ۔ اور اپنا عصا پھینک دیجیے پھر جب موسیٰ نے عصا کو سانپ کی طرح حرکت کرتے دیکھا تو پیٹھ پھیر کر پلٹے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا ہم نے کہا اے موسیٰ آگے آیئے اور خوف نہ کیجیے یقینا آپ محفوظ ہیں اے موسیٰ اپنا ہاتھ گریبان میں ڈل دیجیے وہ بغیر کسی عیب کے چمکدار ہو کر نکلے گا ۔" (قصص:۲۹تا۳۲)
حضرت موسیٰ کے واقعہ کا عجیب منظر ہے ۔ایک طرف ماں کی مامتا پھر بہن کی جفا کشی اور بھائی کے صندوق کے ساتھ چل کر اپنی محبت کا ثبوت ۔ آسیہ کا اخلاص اور نور کی چمک سے اس کے دل کی روشنی پھر مصیبت میں مبتلا حضرت موسیٰ کو ان کی نیکی ۔ بےچاروں کی مدد سے اب شفیق و مہرباں بزرگ سے ملاقات ۔ جس نے ان کے کام سے خوش ہوکر داماد بنا لیا ۔ جہاں حضرت موسیٰ جیسے بیٹے اور داماد کی طرح آٹھ دس سال سکون سے رہے۔ قدم قدم عورت وسیلہ سکون و راحت حضرت موسیٰ بن رہی ہے۔ کیا کہنا عظمتِ عورت کا ۔
خاتون قرآن کی روشنی میں
حضرت انسان میں سلسلہ تفاضل، ابتداء خلقت انسان سے موجود ہے۔سب سے پہلے تفاضل یعنی ایک دوسرے پہ فضیلت کا دعویٰ حضرت آدم - اور ملائکہ کے درمیان ہوا۔جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے۔
وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَۃِ إِنِیّ جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیْفَۃً قَالُوْا أَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاءَ ج وَنَحْنُ نُسِبِّحُ بِحَمْدِکَ ونُقَدِّسُ لَکَ "اور تیرے رب نے جب فرشتوں سے کہا:
میں اس زمین میں ایک خلیفہ ( نائب ، نمائندہ ) بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں اس کو خلیفہ بنائے گا جو وہاں فساد پھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا جب کہ ہم تیری حمد و ثناء کی تسبیح اور پاکیزگی کا ورد کرتے رہتے ہیں۔" (بقرہ ۳۰) پھر یہ سلسلہ تفاضل و تفاخر قابیل و ہابیل میں ہوا جب خدا وند قدوس نے ایک کی قربانی قبول فرمائی اور دوسرے کی رد کر دی۔
وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَأَ ابْنَیْ آدَمَ بِالْحَقِّ م إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّکَ قَالَ إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللہُ مِنَ الْمُتَّقِینَ۔
"اور آپ انہیں آدم کے بیٹوں کا حقیقی قصہ سنائیں۔ جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی تو اس نے کہامیں ضرور تجھے قتل کر دوں گا (پہلے نے کہا ) اللہ تو صرف تقویٰ رکھنے والوں سے قبول کرتا ہے ۔" (مائدہ :27)
یہ سلسلہ تفاضل و تفاخر یعنی ایک دوسرے پر فوقیت کا دعویٰ آج بھی موجود ہے ہر جگہ رائج ہے حالانکہ مرد اور عورت دونوں انسان ہیں، دونوں کی خلقت مٹی سے ہوئی ہے جیسا کہ ارشاد ہوا ۔ ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ "وہی تو ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ۔" (موٴمن :67) وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِیْنٍ ج ثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَة ً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ۔ "ضاور بتحقیق ہم نے انسان کو مٹی سے بنایا پھر ہم نے اسے محفوظ جگہ میں نطفہ بنا دیا۔" ( الموٴمنون :12.13)
مرداور عورت خلقت کے لحاظ سے مساوی اور برابر ہیں، دونوں کی خلقت مٹی سے ہوئی، نطفہ سے پیدائش کے بعد تمام مراحل میں ایک جیسے ہیں پھر ذکر و انثیٰ یعنی مرد اور عورت کی پیدائش کے حوالے سے ارشاد رب العزت ہو رہا ہے : یَاأَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّأُنثٰی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۔
"اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا ،پھر تمہیں قومیں اور قبیلے بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔"(حجرات: 13) ہاں تو خلقت ایک جیسی، محل خلقت ایک جیسا ، اساس خلقت ایک ، اس کے باوجود تفاضل و تفاخر کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔ آخر کیوں ؟ اسلام نے خواہ مرد سے مرد کا مقابلہ ہو یا عورت کا عورت سے تقابل ہو، یا مردا ور عورت کا آپس میں تفاخر ہو، ان سب میں برتری کا معیار صرف تقویٰ، خوف خدا اور عظمت ِرب کے احساس کو قرار دیا ہے ارشاد ہو رہا ہے: إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہ أَتْقَاکُمْ۔ "اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز و مکرم وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہے " (حجرات :13)
مرد اور عورت کے باہمی فخر و مباہات کا سلسلہ ایسا چلا کہ عورت کو بے چارا بنا دیا گیا۔ قبل از اسلام تو انسانیت کے دائرہ سے بھی خارج قرار دیا گیاتھا، یونانیوں میں عورت کا وجود ناپاک اور شیطانی تصور کیا جاتا تھا۔ عورت فقط خدمت اورنفسانی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ تھی۔ رومی لوگ عورت کو روح انسانی سے خالی جانتے تھے وہ اسے قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے کے قابل نہیں سمجھتے تھے۔ساسانی بادشاہوں کے زمانے میں عورت کا شمار اشیاء خرید و فروخت میں ہوتا تھا، یہودیوں میں عورت کی گواہی نا قابل قبول تھی۔ زمانہ جاہلیت کے عرب تو بیٹی کی پیدائش کو اپنے لئے موجب ننگ و عار جانتے تھے۔ہندو اور پارسی ،عورت کو ہر خرابی کی جڑ ، فتنہ کی بنیاد اور حقیر ترین چیز شمار کرتے تھے۔ چین کے فلسفی (کونفوشیوس) کا قول ہے عورت حکم و احکام دینے کے قابل نہیں ہے ،
عورت کو گھر میں بند رہنا چاہئے تاکہ لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں۔قبل از اسلام جزیرہ نما عرب میں عورت زندہ رہنے کے قابل نہیں سمجھی جاتی تھی۔ بیٹی کی پیدائش ننگ و عار اور فضیحت و شرمساری کا موجب تھی ۔ اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا اور ایسی عظمت دی جس کا تصور کسی غیر مسلم معاشرے میں ممکن نہیں ہے ۔ اسلام میں عورت کی عظمت کا کیا کہنا کہ جب بیٹی ملنے آتی تو علت غائی ممکنات ، انبیاء کے سرداربنفس نفیس تعظیم کیلئے کھڑے ہو جاتے اور اپنی مسند پر بٹھاتے عظمت عورت کا ذریعہ جناب فاطمہ ہیں ۔ قبل از اسلام اہل عرب بیٹی کو زندہ در گور کر دیا کرتے تھے ۔جیساکہ قرآن مجید میں ارشاد رب العزت ہے۔
وَاِذَا الْمَوْء دَةُ سُئِلَتْ بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ۔ "اور جب زندہ در گور لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ میں ماری گئی ۔" (تکویر :9-8) یہ قبیح رسم اس قدر عام تھی کہ جب عورت کے وضع حمل کا وقت قریب آتا تو زمین میں گڑھا کھودکر اسے وہاں بیٹھا دیا جاتا پھراگر نوزائیدہ لڑکی ہوتی تو اسے اس گڑھے میں پھینک دیا جاتا اور اگر لڑکا ہوتا تو اسے زندہ چھوڑ دیا جاتا ،اسی لئے اس دور کے شعراء میں ایک شاعر بڑے فخریہ انداز میں کہتا ہوا نظر آتا ہے: سمیتھا اذا ولدت تموت والقبر صہرضامن زمیت (مجمع البیان ج 10ص444)
"میں نے اس نوزائدہ لڑکی کا نام اس کی پیدائش کے وقت تموت (مر جائے گی) رکھا اور قبر میرا داماد ہے، جس نے اسے اپنی بغل میں لے لیا اور اسے خاموش کر دیا۔" بیٹیوں کو زندہ در گور کرنے کی رسم بڑی دردناک ہے۔ ان واقعات کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا، اس نے (متأثر ہونے کے بعد سچا اسلام قبول کیا ) ایک آپ کی خدمت میں آ کر عرض کرنے لگا یا۔ رسول اللہ اگر میں نے کوئی بہت بڑا گناہ کیا ہو تو کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا:
"خد ا رحم الراحمین ہے ۔" اس نے عرض کیا یا رسول اللہ !میرا گناہ بہت بڑا ہے۔ فرمایا! وائے ہو تجھ پر تیرا گناہ کتنا ہی بڑا ہی کیوں نہ ہو خدا کی بخشش سے تو بڑا نہیں ؟۔ اس نے کہا !اگر یہ بات ہے تو میں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں زمانہ جاہلیت میں ،میں دور دراز سفر پر گیا ہوا تھا، ان دنوں میری بیوی حاملہ تھی چار سال بعد گھر لوٹاتو میری بیوی نے میرا ستقبال کیا ،گھر میں ایک بچی پر نظر پڑی، میں نے پوچھا یہ کس کی بیٹی ہے ؟
بیوی نے کہا !ایک ہمسائے کی بیٹی ہے۔ میں نے سوچا یہ ابھی اپنے گھر چلی جائے گی، لیکن مجھے اس وقت بہت تعجب ہوا جب وہ نہ گئی ،آخر کار مجھے پوچھنا ہی پڑا ،میں نے بیوی سے پوچھا ۔سچ بتایہ کس کی بیٹی ہے ؟ بیوی نے جواب دیا۔ آپ سفر پر تھے، یہ پیدا ہوئی، یہ تمہاری ہی بیٹی ہے۔ وہ شخص کہتا ہے۔ میں نے ساری رات پریشانی میں گزاری ،کبھی آنکھ لگتی اور کبھی بیدار ہو جاتا، صبح قریب تھی میں بستر سے اٹھا میں نے بچی کو ماں کے ساتھ سویا ہوا دیکھا ، بڑی خوبصورت لگ رہی تھی اسے جگایا اور کہا۔ میرے ساتھ چلو ہم نخلستان کی طرف چلے وہ میرے پیچھے پیچھے چل رہی تھی، جب ہم نخلستان میں پہنچے میں نے گڑھا کھودنا شروع کیا، وہ میری مدد کرتی رہی ،مٹی باہر پھینکتی رہی، میں نے اسے بغل کے نیچے سے ہاتھ رکھ کر اٹھایا اور اسے گڑھے میں پھینک دیا۔ یہ سننا تھا رسول اعظم کی آنکھیں بھر آئیں ۔
اس نے بات کو آگے بڑھایا، میں نے اپنا بایاں ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا تاکہ وہ باہر نہ نکل سکے اور دائیں ہاتھ سے مٹی ڈالنے لگا اس نے بہت کوشش کی اور بڑی مظلومانہ انداز میں فریاد کرتی تھی اور بار بار کہتی تھی بابا جان! کچھ مٹی آپ کی داڑھی اور کپڑوں میں پڑ گئی ہے، وہ ہاتھ بڑھا کر اس مٹی کو صاف کرنے لگی ،لیکن میں پوری قساوت اور سنگدلی سے اس پر مٹی ڈالتا رہا، یہاں تک اس کے نالہ و فریاد کی آخری آواز آئی اور وہ خاک میں دم توڑ گئی۔ حضرت رسول اعظم نے دکھی حالت میں یہ داستان سنی، پریشانی ظاہر تھی۔اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے فرمایا: اگر رحمت خدا کو اس کے غضب پر سبقت نہ ہوتی تو حتمًاجتنا جلدی ہوتا خدا اس سے انتقام لیتا۔ (القرآن ،یواکب الدہر،ج 2ص 214)
جزیرہ عرب کے کفار توہین کے انداز میں ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اور فرشتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ بیٹی کی پیدائش پر ان کا چہرہ مارے غصہ کے سیاہ ہو جاتاہے جیسا کہ ارشاد خدا ندی ہے:
أَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنَاتٍ وَّأَصْفَاکُمْ بِالْبَنِیَنَ وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُہُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمَانِ مَثَلاً ظَلَّ وَجْہُہ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٌ أَوَمَنْ یُنَشَّأُ فِی الْحِلْیَةِ وَہُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ وَجَعَلُوا الْمَلاَئِکَةَ الَّذِینَ ہُمْ عِبَادُ الرَّحْمَانِ إِنَاثًا أَشَہِدُوْا خَلْقَہُمْ ۔
"کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے (اپنے لیے)بیٹیاں بنا لیں ہیں اور تمہیں بیٹے چن کردیئے حالانکہ ان میں سے جب کسی ایک کوبھی بیٹی کامثردہ سنایا جاتا ہے جو اس نے خدا ئے رحمان کی طرف منسوب کی تھی تواندر اندر غصے سے پیچ و تاب کھا کر اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے۔ کیا وہ جو ناز و نعم کے زیورمیں پلی ہے اور جھگڑے کے وقت (اپنا) مدعا بھی واضح نہیں کرسکتی۔ (اللہ کے حصہ میں آتی ہے؟) اورا ن لوگوں نے فرشتوں کو جو خدا کے بندے ہیں (خدا کی)بیٹیاں بنا ڈالا ۔ کیا وہ فرشتوں کی پیدائش کو کھڑے دیکھ رہے تھے؟ (زخرف،16تا19)
ہو سکتاہے کہ یہ خیال زمانہ جاہلیت کی خرافات سے عربوں تک پہنچا ہو لیکن عرب ظلم و جور میں بہت آگے بڑھ گئے وہ اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے ۔ (زخرف،16تا19) ارشاد خدا وندی ہے:
وَیَجْعَلُونَ لِلَّہِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَہ وَلَہُمْ مَّا یَشْتَہُوْنَ وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُہُمْ بِالْأُنْثَی ظَلَّ وَجْہُہ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٌ یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْءِ مَّا بُشِّرَ بِہ أَیُمْسِکُہ عَلٰی ہُوْنٍ أَمْ یَدُسُّہ فِی التُّرَابِ أَلاَسَاءَ مَا یَحْکُمُوْنَ
"اور انہوں نے اللہ کے لیے بیٹاں قرار دے رکھی ہیں جس سے وہ پاک و منزہ ہے اور یہ لوگ اپنے لیے وہ اختیار کرتے ہیں جو یہ پسند کریں یعنی لڑکے اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو غصے کی وجہ سے ان کا منہ سیاہ ہوجاتاہے اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیا انہیں اس ذلت کے ساتھ زندہ رہنے دیا جائے یا انہیں زیر خاک دفن کردیا جائے۔دیکھو کتنا برا فیصلہ ہے جو یہ کر رہے ہیں۔ " ( سورہ نحل آیت 57-58-59 ) بہر حال اسلام سے قبل بیٹی( لڑکی) انسان ہی نہیں سمجھی جاتی تھی اور آج بھی بیٹے کی پیدائش پر خوشیوں کے شادیانے بجتے ہیں ، مٹھائیاں تقسیم ہوتی ہیں ،ہدیہ تبریک پیش کیا جاتاہے ۔
اوربیٹی کی پیدائش پر بس سردمہری ، سکوت اور خاموشی کا مظاہرہ ہوتا ہے آخر ایسا کیوں ہے؟
حقوق نسواں کے بارے ميں استکبار کي غلطي
جاہليت سے مالا مال عالمي استکبار بہت بڑي غلطي ميں ہے کہ جو يہ خيال کرتا ہے کہ ايک عورت کي قدرو قيمت اور بلند مقام اِس ميں ہے کہ وہ خود کو مردوں کيلئے زينت و آرائش کرے تاکہ آوارہ لوگ اسے ديکھيں، اُس سے ہر قسم کي لذت حاصل کريں اور اُس کي تعريف کريں۔ مغرب کي انحطاط شدہ اورمنحرف ثقافت کي جانب سے ’’آزادي نِسواں‘‘ کے عنوان سے جو چيز سامنے آئي ہے اُس کي بنياد اِس چيز پر قائم ہے کہ عورت کو مردوں کي (حيواني اور شہوتي) نگاہوں کا مرکز بنائيں تاکہ وہ اُس سے جنسي لذت حاصل کرسکيں اور عورت ، مردوں کي جنسي خواہشات کي تکميل کيلئے ايک آلہ و وسيلہ بن جائے، کيا اِسي کو ’’آزادي نسواں‘‘ کہا جاتا ہے؟
جو لوگ حقيقت سے جاہل اور غافل مغربي معاشرے اور گمراہ تہذيب و تمدن ميں اس بات کا دعويٰ کرتے ہيں کہ وہ انساني حقوق کے طرفدار ہيں تو درحقيقت يہ لوگ عورت پر ظلم کرنے والوں کے زمرے ميں شمار ہوتے ہيں ۔
آپ عورت کو ايک بلند مرتبہ و مقام کے حامل انسان کي حيثيت سے ديکھئے تاکہ معلوم ہو کہ اُس کا کمال ، حق اور اس کي آزادي کيا ہے؟آپ عورت کوعظيم انسانوں کے سائے ميں پرورش پانے والے اور اصلاح معاشرہ کيلئے ايک مفيد عنصر کي حيثيت سے ديکھے تاکہ يہ معلوم ہو کہ اُس کا حق کيا ہے اور وہ کس قسم کي آزادي کي خواہاں ہے ( اور کون سي آزادي اُس کے انساني مقام ومنصب سے ميل کھاتي ہے)۔
آپ عورت کو ايک گھرانے اور خاندان کي تشکيل دينے والے بنيادي عنصر کي حيثيت سے اپني توجہ کا مرکز قرار ديں۔ درست ہے کہ ايک مکمل گھرانہ مرد اور عورت دونوں سے تشکيل پاتا ہے اور يہ دونوں موجود خاندان کي بنياديں رکھنے اور اُس کي بقا ميں موثر ہيں، ليکن ايک گھرانے کي آسائش اور آرام و سکون عورت کي برکت اور صنفِ نازک کے نرم و لطيف مزاج کي وجہ ہي سے قائم رہتا ہے-
اس زاويے سے عورت کو ديکھئے تاکہ يہ مشخص ہو کہ وہ کس طرح کمال حاصل کرسکتي ہے اور اُس کے حقوق کن امور سے وابستہ ہيں۔
اہل يورپ نے جديد ٹيکنالوجي کو حاصل کرنا شروع کيا اور انيسويں صدي کے اوائل ميں مغربي سرمايہ داروں نے جب بڑے بڑے کارخانے لگائے اور جب اُنہيں کم تنخواہ والے سستے مزدوروں کي ضرورت ہوئي تو انہوں نے ’’آزادي نسواں‘‘ کا راگ الاپنا شروع کرديا تاکہ اِس طرح خواتين کو گھروں سے نکال کر کارخانوں کي طرف کھينچ کر لے جائيں، ايک سستے مزدور کي حيثيت سے اُس کي طاقت سے فائدہ اٹھائيں، اپني جيبوں کو پُرکريں اور عورت کو اُس کے بلند مقام و مرتبے سے تنزُّل ديں۔ مغرب ميں آج جو کچھ ’’آزادي نسواں‘‘ کے نام پر بيان کيا جارہا ہے ، اُس کے پيچھے يہي داستان کار فرماہے ،يہي وجہ ہے کہ مغربي ثقافت ميں عورت پر جو ظلم و ستم ہوا ہے اور مغربي تمدن و ادب ميں عورت کے متعلق جو غلط افکار و نظريات رائج ہيں اُن کي تاريخ ميں مثال نہيں ملتي۔
تربیت فرزندان
خلاصہ :
تربیت کسی فرد، معاشرہ یا گروہ کی ایسی نشوونما کانام ہے جو اسے بلند انسانی مرتبوں تک پہنچاسکے بہرحال تربیت کا عنوان اور موضوع انسان ہے کہ عام انسانوں کو کیا کرنا چاہے؟ہر انسان کو دوسرے انسان یا اگر اس میں لیاقت اور استعداد ہو تو اپنی اور دوسری قوموں اور گروہوں کی تربیت کرنا چائیے جیسے خدا تعالی کا حکم ہے:( یا ایہا الذین امنوا قوا انفسکم واہلیکم ناراً )
متن:
تربیت اور تربیت کا مفہوم
تربیت اور اس سے ملتے جلتے الفاظ ایسے کلمات میںسے ہیں جنہیں ہر ایک اپنی روز مرہ کی زندگی میں استعمال کرتاہے جیسے تربیت یافتہ، با ادب، مؤدب ۔
لغت۔اہل لغات نے تربیت کے معنی پالنا ،تربیت کرنا اور کسی کو تدریجاً نشو ونما دے کرکے حد ِکمال تک پہنچانا ہے اور تربیت مادہ ربّ سے نکلاہے اہل لغات نے بہت سے معانی ذکر کیئے ہیں ان میں سے بعض جیسے برتری ،سردار ،مالک،سیاستدان، اصلاح کرنے والا اور تربیت کرنے والا۔
اصطلاح ۔اہل عرف وعقلاء کی اصطلاح میں تربیت کا مفہوم کچھ اس طرح ہے ۔
تربیت۔١ ،یعنی انسان کی پوشیدہ اور چھپی ہوئی صلاحیتوں کی تربیت کرنا ،
تربیت۔٢ :انسان کو پستی سے نکال کر بلندی اور تکامل کی راہ پر گامزن کرنے اور اسے آگے بڑھانا،میں جن صفات کی ضرورت ہو ان کی دیکھ بھال کرکے صحیح پروان چڑھانے کا نام تربیت ہے ۔
تربیت٣۔ یعنی کسی کے اندر مناسب رفتار پیدا کرنے اور اس کو اچھے ہدف تک پہنچانے اور اس کی استعداد کو اجاگر کرنے کیلے کمالات کی طرف حرکت دینے کا نام تربیت ہے
تربیت٤۔تربیت میں کسی چیز کو وجود میں نہیں لایا جاتا بلکہ تربیت میں ان موجود صفات کی پرورش کی جاتی ہے جیسے مالی اور باغبان اپنے باغ میں پودوں اور پھولوں کی اچھی طریقے سے دیکھ بھال کرتاہے اور باغ کے ہر ایک پھول ور پودے کی پرورش کرتاہے اور انہیں مختلف موذی امراض سے بچانے کی کوشش کرتارہتاہے تاکہ اس سے اپنا مطلوبہ مقصد حاصل کرے ۔
تربیت ٥۔ ہمارے استاد معظم قبلہ سید حسین مرتضی نقوی صاحب حفظہ اللہ کے الفاظ میں تربیت کسی فرد، معاشرہ یا گروہ کی ایسی نشوونما کانام ہے جو اسے بلند انسانی مرتبوں تک پہنچاسکے بہرحال تربیت کا عنوان اور موضوع انسان ہے کہ عام انسانوں کو کیا کرنا چاہے؟ہر انسان کو دوسرے انسان یا اگر اس میں لیاقت اور استعداد ہو تو اپنی اور دوسری قوموں اور گروہوں کی تربیت کرنا چائیے جیسے خدا تعالی کا حکم ہے:( یا ایہا الذین امنوا قوا انفسکم واہلیکم ناراً )(١) تم اپنی بھی تربیت کرو تاکہ ذلت وپستی اور جہنم میںجانے کی بجائے انسان بلند مرتبوں تک پہنچو اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کی بھی تربیت کرو اور ان کو بھی پستی ،ذلت اور جہنم کی آ گ سے بچائو گویا اس آیت کا لہجہ یہ بتلارہاہے کہ تربیت ایک امر واجب اور ضروری ہے کیونکہ ذلت ،پستی اور جہنم سے بچنے اور کمالات کی طرف بڑھنے کیلے تربیت ضروری ہے اور اس آیت سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ تربیت کا مقصد یہ ہے کہ ہر انسان اپنی فردی اور اجتماعی ذمہ داری کو انجام دے اور دوسروں کے حقوق کو پائمال نہ کرے اور نہ ہی تجاوز کرے۔
حضرت امام جعفر صادق سے ابو بصیر نے اس آیت مذکورہ کے ضمن میں عرض کیا ،میں ان کو (اہل وعیال اوردوسرے لوگوں کو ) کیسے بچائوں ؟ امام نے فرمایا امر خدا کا حکم دو اور نہی خدا سے روکو اگر تمہاری اطاعت کی تو تم انہیں جہنم سے بچالیا ہے اور اگر نافرمانی کی تو تم نے اپنا فریضہ ادا کیا امام کے اس فرمان سے معلوم ہوتاہے کہ تربیت فرائض میں سے ایک فرض اور واجب ہے اوراسی طرح ایک آیہ مجیدہ کی تفسیر میں تربیت کے مفہوم کو امام مزید واضح
فرماتے ہیں (ومن احیا ھا فکانما احیا الناس ).(٢) جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا انسانوں کو زندہ کیا امام جعفر صادق اس آیہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: کہ زندہ کرنے سے مراد ظاہری حیات وزندگی نہیں ہے بلکہ یہاں زندہ کرنے سے مراد تربیت ِانسان ہے ایک مردہ انسان کو زندہ کرنے کا مقصد اسے گمراہی سے ہدایت کی طرف لے آنا اور اس کی تربیت کرنا، اسی وجہ سے اللہ تعالی نے انبیائ کی بعثت کا مقصد انسانوں کی تربیت اور ھدایت قرار دیا ہے، (کما ارسلنا فیکم رسولاً منکم یتلواعلیکم آیاتنا ویزکیکم ویعلمکم ا لکتاب والحکمة ویعلمکم مالم تکونوا تعلمون).(٣) ہم نے تمہارے درمیان تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہیں ہماری آیات سناتاہے اور تمہیں پاکیزہ کرتاہے اور تمہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتاہے اور تمہیں ان چیزوں کی تعلیم دیتاہے جو تم نہیں جانتے ایک اور جگہ انبیاء علیہم السلام کی خدمات کو اللہ تعالی نے تربیت کے نام پر یاد فرمایا:
(ربنا وابعث فیھم رسولاً منھم یتلوا علیھم ایاتک ویعلمھم الکتاب والحکمة ویزکیہم انک انت العزیز الحکیم).( ٤)
اے ہمارے رب !ان میں ایک رسول بھیج جو انہیں آیات سنائے اور کتاب وحکمت کی تعلیم دے اور انہیں ہر قسم کی پستی اور ذلت سے نکال کر پاک کرے اور بیشک تو تو غالب و صاحب حکمت ہے اس لئیے اللہ تعالی نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اور ١٤ چہاردہ معصوم ہستیوں کو انسان کی تربیت کیلے بھیجا تاکہ انسان کو اس تربیت کے ذریعہ پستی سے نکال کر کمال تک پہنچائے اسی وجہ سے اللہ تعالی نے سورہ مائدہ کی آیت ٣٢ میں ایک انسان کی تربیت اور ہدایت کو تمام انسانوں کی تربیت وہدایت سے تعبیر فرمایا:
( من احیاھا فکا نما احیا الناس جمیعاً).
شاید یہی وجہ تھی کہ انبیاء اور اولیاء الھی کی سب سے بڑی ذمہ داری تعلیم وتربیت تھی ۔
اور اللہ کا مومنین پر احسان ہے کہ ان کی تعلیم وتربیت کیلے ان کی طرف رسول بھیجے جیسے اس آیت میں ارشاد رب العزت ہے :
(لقد من اللہ علی المومنین اذبعث فیھم رسولاً من انفسھم یتلوا علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلمھم ،لکتاب والحکمة وان کانو ا من قبل لفی ضلال مبین ).(5)
ایمان والوں پر اللہ نے احسان کیا کہ ان کے پاس ایک رسول بھیجا جو انہی میں سے ہے جو انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتاہے اور ان کا تزکیہ نفس کرتاہے اگرچہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی اور پستی میں تھے ایک اور آیت میں تعلیم وتربیت کو انسانوں کیلے مایہ حیات قرار دیا ہے :اور وہ لوگ جنہیں انبیا ء الہی کی تعلیم وتربیت حاصل نہیں ہوئی انہیں مردہ قرار دیاہے:
( یا ایہا الذین امنوا استجیبوا للہ ولرسولہ اذا دعاکم لما یحییکم )
اے ایمان والو !اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر لبیک کہو جب وہ تمہیں حیات افرینش باتوں کی طرف دعوت دیں ان مزکورہ بالا آیات کی روشنی میں یہ بات واضح اور روشن ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کی تربیت کیلے کتنا بڑا انتظام کیا کہ رسول بھیجے امام بھیجے یہاں تک کہ انسان کو عقل جیسی نعمت سے نوازا ایک انسان کی تربیت کیلے خدا نے کتنا بڑا انتظام کیا کہ اپنی طرف سے انسانی زندگی کے مختلف مراحل میں مختلف افراد کو اس ذمہ داری کو ادا کرنے کیلئے کبھی رسول ِظاہری اور کبھی رسول ِ باطنی جیسی نعمت دے کر تربیت فرمائی اور کبھی والدین کو تربیت کیلے مسئو لیت دے دی۔
کہ ایک حد تک والدین تربیت کریں اور اللہ تعالی نے اپنے رسول وامام کے ذریعہ لوگوں تک یہ پیغام پہنچایا کہ تم اپنی تربیت کرو اور لوگوں کی بھی تربیت کرو اور ان کو ذلت وپستی اور جہنم کی آگ سے بچائو ۔سورہ تحریم آیت ٦ میں سختی سے تربیت کی طرف متوجہ کیا اور پھر پورے معاشرے کی یہ ذمہ داری قرار دی کہ تربیت میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں ایک دوسرے کا ساتھ دیں اگر رشتہ دار ہیں تو بھی اس تربیت میں اپنا مثبت کردار ادا کریں اگر علماء اور دانشمند ہیں تو وہ بھی معاشرے کے تمام انداز کی تربیت کریں اور لوگوں کو انحراف اور ذلت وپستی سے نکالیں اور معاشرے کی مشکلات کو حل کریں اور اگر اساتید ہیں تو بھی فقط ایک کورس اور کتابوں کے نصاب کی حد تک محدود نہ رہیں بلکہ وہ بھی اس تربیت ِانسانی میں مسئول ہیں اور تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی کریں اور اگر حکومت اسلامی ہو تو اس کی ذمہ داری ہے کہ معاشرے میں ایسے امور اور قوانین لاگو کرے کہ جس کے ذریعہ معاشرے کے تمام آفراد تربیت یافتہ اور مہذب بن سکیں اور خود معاشرے کے ہر فرد کی بھی یہی ذمہ داری ہے۔
کہ تربیت کے اصول وضوابط کی پابندی کریں تاکہ تربیت کے امور کو دوسرے لوگ اپنے لیے ایک نمونہ اور الگو سمجھیں اور اسی طرح جب ہر فرد اپنے عہدے کو پابندی سے پورا کرے گا تو اس سے کئی معاشرے اور ملک تربیت کی شاہراہ پر چل پڑیں گے اور اس اہم تربیت سے سب لوگ استفادہ کریں گے اور اس عظیم فریضے کو پورا کرسکیں گے کیونکہ ایک اچھے معاشرے کی کامیابی اور اس کی ترقی کا راز اچھی تربیت اور پرورش میں پوشیدہ ہے پیغمبر اسلام ۖ جنہوں نے اپنی مبارک زندگی کو انسان سازی اور گمراہ انسانو ںکی ہدایت اور تربیت میں گزاری اور اپنی بعثت کے فلسفے اور ہدف کو یوں بیان فرمایا:( انما بعثت لا تمم مکارم الاخلاق) .(6 )
اسلام کی ترقی میں رسول اکرم ۖ کے حسن ِاخلاق کو زیادہ دخل ہے کیونکہ خدا وند عالم اسلام کی وسعت وبلندی کی نسبت اخلاق ِپیغمبر ۖکی طرف دیتاہے :
(ولو کنت فظاً غلیظ القلب لا نفظوا من حولک) (7 )
اے پیغمبر ۖاگر تم بد مزاج وسخت دل ہوتے تو لوگ تم سے دور ہوجاتے اور منتشر ہوجاتے پیغمبر اسلام انسان کی تربیت کے پہلے معلم تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی انسان کی تربیت میں گزاری ۔
ایک مرتبہ رسولۖ اسلام اپنے اصحاب کے ساتھ ایک گلی سے گزر رہے تھے اس گلی میں چھوٹے چھوٹے بچے کھیل رہے تھے آپ نے بچوں کو دیکھا اور ٹھنڈی سانس بھر کر کہا اللہ اکبر ،اصحاب نے جب رسول خدا کے چہرے پر غم کے اثرات دیکھے تو آپ سے عرض کی یا رسول اللہ کیا ہوا؟ آپ نے فرمایا کہ ہائے آخری زمانے کے بچے کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ اپنی اولاد کے کھانے پینے رہنے سہنے کی فکر کی حد تک زیادہ توجہ کریںگے لیکن آخرت کے بارے بالکل بے فکر ہوں گے یہ ہماری تربیت اور اولاد کی تربیت انہیں یاد آرہی تھی اور ان کے غم کا باعث بن رہی تھی یا خود امام حسین سے پوچھا گیا کہ آپ کربلا میں کیوں جارہے ہیںامام حسین نے جواب دیا کہ:
(بل خرجت لاصلاح امت جدی ) .(8 )
میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لئے مدینے سے کربلا جارہا ہوں :(ارید ان امر بالمعروف والنھی عن المنکر)
امام نے فرمایا کہ میں چاہتاہوں کہ لو گوں کو اچھے امور کی تربیت کروں اور برے کاموں سے روکوں تربیت ِانسانی میں پیغمبر اسلام اور ان کی آل ِاطہار کو کتنا فکر دامن گیر تھی اللہ نے پیغمبر اسلام کو انسان کی تربیت کیلے اسوہ حسنہ کا پیکر بنا کر مبعوث فرمایا:
( لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة)(9) در حقیقت تم لوگوں کیلے اللہ نے رسول کو بہترین نمونہ بنایا تھا ۔
حضرت نبی اکرم ۖ اس دنیا میں لوگوں کیلئے ایک مثالی نمونہ بن کر تشریف لائے تھے اور آنحضرت ۖ اپنے عمل سے انسانوں کی ہدایت وتربیت فرمائی اور آپ کی تربیت سے دنیا میں ایک مثالی امت برپا ہوئی جس کے بارے میں خدا فرماتاہے :
(کنتم خیر امت اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر وتومنون باللہ ) (10)
اسلام کی نظر میں نمونہ عمل تربیت کا بہترین ذریعہ ہے اور اسلام نے اس اصول کو کہ تربیت دے کر جس قسم کے افراد تیار کرنے ہیں ان کے سامنے اس کو مثالی نمونہ وعملی پیکر بن کر رہیں جس طرح امام جعفر صادق فرماتے ہیں :
(کونوا دعاة الناس بغیر الالسنتکم ) (11)کہ لوگوں کو اپنے عمل کے ذریعہ دعوت دو۔
تربیت کی اقسام
(١) فلسفہ تربیت (٢) فردی تربیت (٣) اجتماعی تربیت (٤) جسمانی تربیت (٥)روحانی تربیت
(٦) معاشرتی تربیت (٧) جغرافیائی تربیت (٨) تربیت اور حقوق (٩) سیاست اور تربیت
مذکورہ بالااقسامِ تربیت کے علاوہ اور بھی اقسا م ہیں لیکن مشہور ومعروف اقسام ِتربیت یہی ہیں اوران میں سے ہرایک کی مختصر تشریح کرتے ہیں۔
١۔ فلسفہ تربیت
فلسفہ تربیت میں اصل موضوع انسان کی ذات ہے کہ آیا انسان کی تربیت کا کوئی مقصد ہے یا نہیں پھر انسان اورمربی کے درمیان کو نسا رابطہ ہے؟ مربی کی تربیت میں کونسی باتیںاصول ِتربیت کے عنوان سے مد نظر ہیں ؟پھر انسان کی تربیت سے پہلے خود انسان کیا ہے اور کیسے دنیا میں آیا ہے اور کس طرح انسان کی تربیت کریں؟
٢۔ فردی تربیت
ایک فرد کی تربیت معاشرے کی تربیت کا سبب بنتی ہے۔ اگر ہر فرد تربیت یافتہ ہوگا تو اس سے ایک معاشرہ تشکیل پائے گا۔ اگر فردی تربیت نہ ہوگی تو معاشرے کا فرد قرار نہیں پائے گا اور پھر فردی تربیت میںماں باپ کی طرز فکر کو دیکھا جاتاہے کہ جس طرح کے وہ لوگ عقائد رکھتے ہونگے اسی طرح اس کی تربیت کریںگے۔
٣۔ اجتماعی تربیت
اجتماعی تربیت جیسے استاد وشاگرداور مدرسہ واسکول کی تربیت کہ کس طرح کامعلم ہو تو تربیت پانے والے افرادکو کیاکرنا چاہیے،اسکول کا اثر تربیت اجتماعی طور پرکیا ہوتاہے اور اجتماعی تربیت میں کونسی چیزوں کی رعایت کرنی چاہیے اور اجتماعی تربیت کی کیا قدروقیمت ہے؟ ۔بہر حال اور بہت سے امور میں بحث ہوگی کہ اجتماعی تربیت مختلف افراد اور مختلف قومیںاور استعداد وغیرہ، مورد بحث ہیں۔
٤۔جسمانی تربیت
کہ ورزش کے لیے مثلاًاعضاء صحیح وسالم ہونے چاہیں یا اعضائے جسمانی اور اعصاب اور گوشت و پوست وغیرہ کی کیسے تربیت کی جائے ؟۔ انھیں کیسا رکھا جائے ؟،غذا کونسی ہونی چائیے؟ عقل و ہوش کیساہو؟ حواس ظاہری خمسہ کی تربیت اورحافظہ و شعور کی تربیت، پھر جسمانی تربیت میں طاقت وکمزوری وغیرہ سے بحث ہوگی اور مختلف حالات سے بحث مثلاًجسم کے لیے کونسی چیز یںمضر ہیں اورکونسی چیزیں مفید ہیں۔
٥۔روحانی تربیت
روحانی تربیت کے متعلق پہلے کافی گفتگو ہو چکی ہے کہ جس طرح جسم کے لیے غذا و لباس کی ضروت ہے ۔اسی طرح روح کی ضرورت کوبھی مدنظر رکھ کر اسے اس کی ضروریات فراہم کی جائیں۔
٦۔معاشرتی تربیت
کہ ایک انسان معاشرے میں کس طرح زندگی گزارے اور کس طرح معاشرے کی ذمہ داری کو نبھاے ۔
٧ ۔ جغرافیائی تربیت
جغرافیائی تربیت میںمختلف جہت سے گفتگو ہوگی کہ ہر ملک وشہر کی آب وہوا کیسی ہے ؟۔اور تربیت پر اسکے کیا اثرات مر تب ہوتے ہیں ؟ ہر ملک وشہر کا جغرافیہ مختلف ہے ۔پہلے اس کے بارے میںجاننا ضروری ہے ۔پھر تربیت کو اس کی جغرافیائی انداز سے پیش کیا جاسکتاہے۔
٨۔تربیت اور حقوق
تربیت اور حقوق کے لحاظ سے کافی مفصل بحث ہے کہ والدین کے حقوق کیا ہیں، اولاد کے حقوق اور پھر ایک مربی کے حقوق اور اساتذہ کے حقوق، شاگردوں کے حقوق پھر ایک علاقے کے دوسرے علاقے پر حقوق اور پھر ایک شہر کے دوسرے شہر وں پر حقوق اور ایک ملک کے دوسرے ممالک پر کون سے حقوق ہیں ۔ اس تربیت میں اگر ان حقوق کو بیان کیا جائے تو ایک علیحدہ کی کتاب ضرورت ہے۔
کیونکہ اگر مختلف حقوق اور تربیت میں فقط والدین اور اولاد کے حقوق پر اجمالاًبحث کی جائے اور وہ بھی احادیث کی رو سے ورنہ آیات اور احادیث کو ہی اگر جمع کریں تو پھر ایک مفصل کتاب کی شکل میں ہو سکتاہے کہ بیان کیاجائے۔
٩۔سیاست اور تربیت
اس موضوع میں بھی کافی بحث ہے کہ سیاسی لوگوں نے تربیت پر کتنی توجہ کی بادشاہوں نے رعایہ کی تربیت پر کیسے خرچ کیایاکررہے ہیں یا ان کے کچھ اور مقاصدہیں اور پھر ہر زمانے میں ہر ملک اور اس کے سیاسی افراد نے تربیت پر کتنا زور دیا اور دیتے رہے ہیں یا آج کل ہر ملک اور اس کے سیاسی افراد تربیت پر توجہ دے رہے ہیں ۔اور ان لوگوں پر تربیت کے لحاظ سے کتنا حق ہے اور تربیت میں وہ مخصوص کردار کے حامل ہیں اور انھیں اس تربیت پر کیا کرنا چاہیے۔
مثلاًہر ملک وشہر میں اسکول و کالج ہیں ، مساجد و مدارس ہیں آیا ان مدار س وکالجوں کے ذریعہ تربیت کا حق ادا ہو رہاہے ، یا فقط ان میں سیاسی اہداف کو پورا کیا جارہاہے ۔ بہر حال کافی طولانی موضوع ہے ۔اس پر ہرملک وملت کے احوال سے واقف ہو کرکچھ کہا جاسکتاہے اور پھر وقت بھی ہو کہ جس میں اس موضوع پر سیر حاصل بحث کی جائے۔
استعدادِ تربیت
١۔ غرائض۔٢ فطرت۔ ٣ استعدادِ اندرونی۔ ٤ الہام۔ ٥۔علم وآگاہی ۔٦۔ سعادت طلبی ۔٧ ۔ قدرت وتوانائی۔٨ ۔عقل ۔مذکورہ بالا امور تربیت کے وہ عوامل ہیں جو ہر انسان میں پائے جاتے ہیں اور ہر انسان میں یہ استعدادہے کہ وہ مذکورہ عوامل کو پالے اور تربیت سے بہرہ مند ہو بر حال ان عوامل کی مختصر وضاحت کرتے ہیں تاکہ تربیت کے موضوع کو کسی حد تک واضح کرسکیں انسان اور حیوان میں تربیت کے لحاظ سے کافی فرق ہے اگرچہ کچھ جانوروں کی تربیت کی جاتی ہے اور ان پر بھی تربیت کا نام صادق آتاہے لیکن تربیت کی استداد انسان میں زیادہ ہے۔
١۔ غرائض
غرائض سے مراد انسان کی جسمانی خواہشات اور آرزوئیں ہیں کہ جو ہر انسان میں پائی جاتی ہیں کسی میں زیادہ کسی میں کم بہرحال خواہش ِنفس کا تو کوئی انکارنہیںکرسکتالیکن خواہشات کو اپنانے اور اپنی مرضی سے حیوان کی طرح بعض امور کو انجام دینا وغیرہ میں اختلافِ نظر ہے باوجود اس خواہش اندرونی کے انسان میں صلاحیت وقدرت ہے کہ وہ منشائے الٰہی کے تحت تربیت پائے اوریہ استعداد وقدرت انسان کی ذاتی خواہش کی حد تک تربیت میں معاون بھی بنتی ہیں مثلاً کھانا پیناوغیرہ اور محبت ونفرت دشمنی ودوستی جیسے امور کو انسان کی ذاتی غرض کہا جاتاہے ۔
٢۔ فطرت
انسان میں ایک فطرت ہے اس سے مراد اس کی طبعی تخلیق مراد ہے کہ وہ طبعاً فطرتِ انسانی پر پیدا ہواہے اور اس میں تربیتِ استعداد فطری امر ہے کیونکہ استعداد ایک فطری امر ہے اور اس کے بارے میں پہلے چند آیات زکر کی ہیں ،کتاب کے حجم کو دیکھتے ہوئے فقط اشارہ کرنا کافی ہے مثلاً انسان فطرتاً سچائی کو دوست رکھتاہے جھوٹ سے فطرتاً پرہیز کرتاہے امانت کی حفاظت کرتاہے اور دوسرے فطری امور وغیرہ ۔
٣۔صلاحیت اندرونی
انسان کے اندر بہت سی چھپی ہوئی صلاحیتیں ،موجود ہیں جو نشو ونما اور عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوتی ہیں اور بعض کو خود ظاہر کرنا پڑتاہے مثلاً انسان میں گفتگو کرنے کی استعداد ہے لیکن اس کیلئے گفتگو کے طریقے مثلاً کہ بڑوں کے سامنے کیسے گفتگو کی جائے اور استاد کے سامنے کیسے بات کی جائے وغیرہ جیسی ضروریات کو تربیت کے ذریعہ ہی انجام دیا جاسکتاہے ورنہ بولنا ،رونا ،ہنسنا وغیرہ یہ ایسے اندرونی استعدادی امور ہیں کہ جن کو وہ روزمرہ کی زندگی میں انجام دیا جاتاہے لیکن تربیت استعدادی امور کو ان کے محل وموقع کی مناسبت سے ہی استعمال کرنا سکھاتی ہے اور تربیت کرنے کیلے اس کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو ظاہر کرنا اور استعمال میں لانے کیلئے ایک منجھے ہوئے مربی کی ضرورت ہے تاکہ وہ تربیت پانے والے افراد کی چھپی ہوئی صلاحیتوں میں دخل اندازی کرے اور ان کی اس استعدادی قوت کو استعمال میں لائے۔
٤۔ الہام
انسان میں بعض ایسی چیزیں وقوع پذیر ہوتی ہیں کہ جن کا پہلے سے علم نہیں ہوتا لیکن انسان ان سے اچانک آگاہی حاصل کرتاہے قرآن مجید میں اس کی طرف اشارہ ہواہے۔
( ونفس وما سوھا فا لھمھا فجورھا وتقوھا )(12)
سورہ شمس کہ اس میں الہام نیکی اور برائی کی صلاحیت ہے لہٰذا تربیت میں یہ بھی عوامل پایا جاتاہے کہ بعض انسانوں کو تربیتی امور میں نیکیوں کا الہام ہوتاہے اور بعض کو برائی کی طرف البتہ نیکیوں کا الہام خدا کی طرف سے اور برائیوں کا الہام شیطانی وسوسوں سے ہوتاہے ۔
٥۔ علم وآگاہی
انسان میں علم حاصل کرنے کی استعداد موجود ہے اور انسان کسی چیز کو اگر سونگھ لے تو اس سے اس کے علم میں اضافہ ہوگا کہ یہ خوش بودار چیز ہے یا بد بودار چیز یا یہ کون سے پھول کی خوش بو ہے اسی طرح اگر کسی چیز کو چھو لے اگر اس سے سردی وگرمی کا احساس ہو تو اس کے علم میں اضافے کا سبب بنے گی اسی طرح کسی چیز سے جاہل ہو تو تو اس سے علم حاصل کرنے کی استعداد وقوت ہر انسان میں ہے برحال خلاصہ یہ ہے کہ تربیت کیلے علم جیسی استعداد انسان میں موجود ہے ۔
٦۔سعادت طلبی
انسان فطرتاً سعادت کا خواہاں ہے اور اس میں سعادت طلب کرنے کی استعداد موجود ہے لہذا تربیت سے بہرہ مند ہوسکتا ہے اور اپنے آپ کو اس دنیا میں سعید وخوش بخت بناسکتا ہے اور سعادت یا دنیا کی ہو گی یا آخرت کی یا اپنی ذات کی سعادت کو طلب کرنا چاہتا ہے یا دوسروں کی سعادت کی فکر کرتاہے کہ جس طرح انبیاء کرام ومعصومین نے سب کی سعادت کو مد نظر رکھ کر زحمتیں اٹھائیں۔
٧۔ قدرت وتوانائی
تربیت کو اگے بڑھانے کیلے جس کی تربیت کی جارہی ہے اس میں قدرت وتوانائی ہونی چاہئیے کہ اور یہ فطری بات ہے کہ خدا نے انسان کو عقل جیسی نعمت سے نوازا ہے اور اس میں یہ قدرت ہے کہ وہ تربیت کے زرین اصولوں پر عمل کرکے اپنی استعداد بڑھا سکتا ہے اور یہ بات مسلم ہے کہ خدا کی ساری مخلوق میں قدرت وتوانائی اس کی اپنی حیثیت کے مطابق پائی جاتی ہے مثلاً جمادات میں دیکھیں نمو پایاجاتاہے نباتات میں بھی ہے حیوانات میں بھی ہے اور انسان میں بدرجہ اتم (پورے طورپر) موجود ہے
٨۔عقل وفکر
عقل وفکر بھی استعداد تربیت کے عوامل میں سے ایک ہے اور حیوان وانسان کے درمیان بڑا فرق عقل کی وجہ سے ہے کہ انسان مکلف ہے تو عقل کی وجہ پھر اگر عقل نہ ہوگی تو تربیت کیسے ہوسکے گی اسلام کے سب احکام پر عمل کرنا عقل کی وجہ سے ہے جو عقل نہیں رکھتا اس پر کوئی تکلیف نہیں لہذا عقل تربیت کی استعداد بڑھانے میں سے ایک عامل ہے اس کے علاوہ دوسرے عوامل مثلاً اختیار وتقلید ،تجربہ ،حافظہ وآزادی احساس ووعظ ونصیحت کہ جن کی وضاحت پہلے ہوچکی ہے یہ سب تربیت کے عوامل میں سے ہیں خدا ہمیں یہ قوت وطاقت دے کہ ہم اپنی اور اپنی اولاد و معاشرے کی تربیت کرسکیں آمین ۔
تربیت کے اصول
١،محبت٢،اعتدال٣،تشویق٤،ماحول،٥آزادی٦،مشاہدات٧،تفکر٨،نصیحت٩،نمونہ١٠،قصے وغیرہ ١١،عا د ت ١٢، سزا
١۔محبت
انسانی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی ذات سے اور اپنے نفس سے محبت کرتاہے اور وہ چاہتا ہے کہ دنیا کی ہر لذت سے بہرہ مند ور ہو اور بہت سی آسائش اور نعمتوں کو اپنے دامن میں سمیٹنے کا خواہشمند ہے مثلاً چاہتاہے کہ اس کی عمرطویل ہو اور اسے ہر آدمی چاہے اور محبت کرے بلکہ وہ تمام کائنات کا محور ومرکز بن جائے ،وانہ لحب الخیر لشدید سورہ عادیات آیت٨ وہ مال ودولت وخیر میں زیادہ مبتلاہے ان خواہشوں وتمنائوں کے حصول میں حائل ہونے والی ہر مادی ومعنوی رکاوٹ کو انسان ناپسند کرتاہے اور ان لوگوں سے نفرت کرتاہے جو اس کے درپے آزار ہوں بہرحال محبت ونفرت کے جذبات انسان کے نفس کی گہرائیوں میں موجود ہیں ۔اسلام فطرت کے ان میلانات سے برسر پیکار ہونے کی بجائے ان کو مہذب اور شائستہ بناتاہے اسی لیے اسلام نے محبت ونفرت کے جذبات پر روح اور عقل کے ضوابط قائم کیے ہیں۔
کہ ان ضوابط کو خدا کی ذات سے مربوط وپیوست کردے اسلام انسان کو اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ اپنی ذات سے محبت نہ کرے کیونکہ یہ ایک فطری جذبہ ہے جو انسان کو عمل کرنے پر ابھارتاہے مگر اسلام کی نظر میں حب ِنفس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ انسان لذتوں کے حصول کے پیچھے دوڑتارہے بلکہ اسلام کی نظر میں حب ِنفس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو نصیحت کرتارہے اور اسے صحیح سمت کی طرف راہنمائی اور تربیت کرے تاکہ تربیت ا وراہنمائی جو اسے دنیا اور آخرت کی فلاح وکامیابی کی جانب لے جائے اور اسلام انسان کو حد ِاعتدال کی تعلیم وتربیت کرتاہے کہ حبِ نفس میں انسان حد ِ اعتدال سے کام لے اور اسلام نے ہر وقت لذتوں اور حبِ نفس کے تعاقب میں رہنے کو ظلم سے تعبیر فرمایا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ہر لحظہ نفس کو وسوسو ںاور خواہشوں میں ڈالنا نفس کو ہلاک کرنے کے مترادف ہے ۔
٢۔اعتدال
انسان تربیت کرنے کیلئے اعتدال سے کام لے چاہے وہ اپنی تربیت کررہاہو یا دوسروں کی تربیت میں مصروف ہو انسان کو ہر چیز میں عدل وانصاف سے کام لینا چاہیے اور کسی کام میں حد سے زیادہ بڑھنا اور تجاوز کرنا درست نہیں ہے اسلام ہمیشہ انسان کو حد اعتدال کا درس دیتاہے چاہے وہ مربی ہوتو اسے چاہئے کہ جو تربیت کے دوران اعتدال اور میانہ روی کو محفوظ رکھے اورچاہے وہ اپنی تربیت کررہاہو تب بھی اسے چاہئے کہ اسلام کے قوانین کی رعایت کرے کیونکہ اعتدال اور عدالت ایک ایسا فطری قانون ہے خدا جسے پوری کائنات میں مشاہدہ کیاجاسکتاہے خداجسے پوری کائنات نے خط ِ سیر ِ جہان کو عدالت کی بنیاد پر قائم کیاہے جس سے تخلف نا ممکن ہے خود انسان اپنے بدن کے اندر کے اعضاء کے درمیان اسرار آمیز ہم آہنگی وہمکاری کا مطالعہ کرسکتاہے جو عالم ِتخلیق کی عظیم دستگاہ کا حیرت انگیز مبنی بر تعادل ِ دقیق کا درخشاں ترین نمونہ ہے اور میانہ روی ایک ایسی حالت ہے جو انسان کو شائستہ وپسندیدہ اعمال کے بجالانے پر آمادہ کرتی ہے ۔میانہ روی اور عدالت ایک ایسی چیز ہے جو انسانی معاشرے کو ایک دوسرے سے مرتبط کرتی ہے اور معاشرے کے ہر انسان کے درمیان محبت والفت پیدا کرتی ہے بلکہ انسان کو خیر وصلاح کے راستے پر چلانے کا سبب ہوتی ہے۔
٣۔تشویق ورغبت
انسان کے عدم ِپابندی کے میلان کو اسلام اس طرح بروئے کار لاتاہے کہ نفس ِانسانی میں پہلے سے یہ جذبہ ِشوق پیدا کرتاہے کہ انسان جو کہ کچھ بھی تربیت کے فرائض انجام دے رہاہے اور جو ذمہ داریاں پوری کررہاہے وہ کسی ذاتی غرض کی تکمیل کیلے نہیں کررہا ہے بلکہ خالصتاً خدا کیلے کررہاہے جو ایمان کا ایک حقیقی ثمرہ ہے اور خدا وند عالم بھی انسان کے اچھے افعال وکردار کے عوض بہشت کی خوش خبری دیتاہے اور انسان اسی طرح رغبت وشوق سے مزید اپنے افعال وکردار کو سدھاتارہے اور تربیت اگر مربی ہے تو بچوں کو مزید اچھے کاموں پر شوق دلائے اور اچھے امور کو انجام دینے پر ان بچوں کی تعریف کرے تاکہ تربیت میں وہ آگے بڑھ سکیں۔
٤۔ماحول
انسان کی تربیت میں ماحول زیادہ مؤثر ہے ،ماحول ایک دفعہ گھریلوہے تو گھر میں ایسا ماحول بنائیں جو اسلام کی نظر میں مفید ہے ایک دفعہ گھر سے باہر کا ماحول ہے ،اگر گھر کا ماحول تو اچھا ہے لیکن باہر کا ماحول اچھا نہیں تب بھی تربیت پر برا اثر پڑے گا لہذا گھریلوں ماحول کے ساتھ ساتھ باہر کا ماحول بھی اسلامی ماحول ہو تو تب تربیت کا اثر ہوتاہے اس لیے تربیت کے دوران ایسا ماحول فراہم کیا جائے جو تربیت میں مثبت اثرات رکھتاہو کیونکہ اسلام کے دستورات میں سے ایک یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ایسے ماحول سے دور رکھے جس میں مذہبی واسلامی رسومات آزادی کے ساتھ انجام نہ پاسکے کیونکہ اسلام نے ماحول کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور تاکید کی ہے کہ اگر کسی نئے ماحول میں جانا چاہتے ہو تو وہاں کے ماحول کی تحقیق کرو اور جس ماحول میں زندگی گزارہاہے اگر وہ صحیح نہیں تو اسے چاہیے کہ اس ماحول ومعاشرے سے ہجرت کرے البتہ ماحول کے بنانے یا بگاڑنے میں آفراد کا کس قدر کردار ہے؟ یہ بحث معاشرے شناس افراد کا کام ہے لیکن یہ بات مسلمات میں سے ہے کہ ماحول کا کردار ِانسانی تربیت میں بہت زیادہ مؤثر ہے کیانکہ انسان کے افعال اس کی فکر کا نتیجہ ہیں اور انسان اسی ماحول کی طرز فکر کو اختیار کرتاہے جہاں وہ زندگی بسر کرررہاہے ۔
٥۔ آزادی
اسلام نے انسان کیلئے حدود معین کی ہیں جو فرائض اس کے ذمہ لگائے ہیں ان پر چل کر تربیت کے ہدف کو پورا کیا جاسکتاہے ۔انسان ایک حد تک آزاد ہے لیکن یہ آزادی حد ِاعتدال سے نہ بڑھے یعنی اسلام کے دستورات پر عمل کرے اور جن چیزوں سے اسلام نے اسلام روکے ان سے رکے اور جن چیزوں کی اجازت دے انہیں انجام دے اسلام نہ بالکل آزادی ِمطلق کا قائل ہے اور نہ بالکل انسان کو قید وبند کی صعوبتوں میں رکھنے کا قائل ہے بلکہ آزادی میں انسان میانہ روی اختیار کرے تو تربیت جیسے فرض کو پورا کیاجاسکتاہے چاہے وہ انسان اپنی تربیت کررہاہو جو یا بچوں کی یا ایک معاشرے کی ۔
٦۔مشاہدات وحادثات
انسانی زندگی حادثات ومشاہدات سے لبریز ہے اور یہ حادثات ومشاہدات ایسے اسباب کے تحت وجود میں آتے ہیں جو انسانی ارادے سے ماوراء ہوتے ہیں اور ایک ماہر تربیت کرنے والا ان مشاہدات وحادثات وواقعات کو نفس ِانسانی کی تربیت کرنے اور صلاحیتوں کو صیقل کرنے میں لگاتاہے ۔تربیت کے ذرائع میں حادثات ومشاہدات ایک ذریعہ تربیت کے طور پر زیادہ مؤثر کردار ادا کرتے ہیں اس لیے کہ حادثات سے انسان کی طبعیت میںنرمی پیدا ہوتی ہے اور انسان مکمل طور پر تربیت کیلئے آمادہ ہوجاتاہے اور اس حالت میں انسان تربیت کی شاہراہ پر گامزن کیا جاسکتاہے اور تربیت وہدایت کے گہرے اور دیر پااثرات مترتب ہوسکتے ہیں ۔
٧۔تفکر وعقل
انسان اپنی فکر کی اسی طرح تربیت کرے جس طرح اسلام نے تعلیم دی ہے اسلام نے تفکر وعقل کی تربیت اور جسم کی تربیت دونوں کو اس کی روح کے ساتھ پیوست کرکے ایک تربیت شدہ انسان تعبیر فرمایا یعنی اگر انسان اپنی فکر کی تربیت نہ کرے فقط جسم کو رشد وکمال کی حد تک پہنچادے تو اس کوصرف تربیت ِ جسمی تو کہا جائے گا لیکن انسان مرکب ہے جسم وروح سے اس لیے تربیت ِانسانی کا نام اس پر صادق نہ آئے گا کیونکہ عقل وفکر جسم ِانسانی کا ایک حصہ ہیں جب تک انسان اپنے سارے اعضاء وجوارح کی تربیت نہیں کرے گا اس وقت تک اسے تربیت شدہ انسان نہیں کہا جائے گا اسلام چونکہ دین ِفطرت ہے اس لیے وہ خدا کی عطا کردہ تمام انسانی قوتوں اور صلاحیتوں کا احترام کرتاہے اور ان صلاحیتوں کی صحیح قدرت عطا کرتاہے اور ان کو انسانیت کے مفاد میں بروئے کار لاتاہے لہذا اپنی تربیت اور بچوں کی تربیت میں عقل وفکر کوصحیح طریقے سے استعمال کرے۔
٨۔نصیحت
تربیت کے اصولوں میں سے ایک اصول نصیحت کرنا ہے چاہے خود اپنے آپ کو نصیحت کرے یا دوسروں کو انسانی نفس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ کلام ونصیحت کا اثر قبول کرتا اور تأثیر نصیحت وجدان کے ذریعہ نفس ِانسانی پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے بہرحال تربیت کیلے نصیحت ایک لازمی اور ضروی عمل ہے اس لیے کہ انسان میں ایسے فطری رجحانات موجود ہوتے ہیں جن کو مسلسل تہذیب اور راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے لہذایہی وجہ تھی انبیاء کرام اپنی امتوں کو تربیت کرتے وقت مسلسل نصیحت کا عمل انجام دیتے تھے نصیحت کے بارے میں مفصل آحادیث وراویات کو آگے چل کر بیان کریںگے کہ تربیت میں نصیحت کو کتنا دخل ہے۔
٩۔مثالی نمونہ
اسلام نے انسانی تربیت میں بہت سے نمونے پیش کیے ہیں تاکہ انسان ان نمونوں کو سے تربیت سیکھ اور سجھ کر اپنی اور اپنے ارگرد کے لوگوں کی تربیت میں حیران وپریشان نہ رہے لیکن نمونہ کو دیکھ کر جب تک عملی اقدام نہ کریگا اس وقت تک نمونہ سے کوئی فائدہ نہ ہوگا اسلام نے رسول ِاسلام اور آئمہ معصومین کو لوگوں کیلے نمونہ بناکر بھیجا تاکہ ان ہستیوں کو اپنے لیے نمونہ اور الگو بناکر اپنی اور اپنے ارگرد کے آفراد کی تربیت کریں جیسے خدا فرماتاہے :( لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة )(13) در حقیقت رسول اللہ تمہارے لیے ایک بہترین نمونہ ہیں ۔
١٠۔قصص وکہانیاں
قصوں اور کہانیوں میں ایک پر اثر ہوتاہے جو انسانی تربیت پر اثر انداز ہیں اللہ تعالی نے انسان کی اس
فطرت کو جانتے ہوئے کہ وہ طبعاً قصوں اور کہانیوں کی طرف مائل ہوتاہے اور ان سے متاثر ہوتاہے قرآم مجید میں قصوّںکو بطور ذریعہ تربیت ذکر فرمایا تاکہ انسان اپنے نفس کی تربیت میں گذشتہ واقعات وتجربات سے سبق آموز درس حاصل کرے اور بچوں کیلے بھی بہت مفید ہیں ۔
١١۔عادت
انسان کی تربیت میں عادت کا بڑا اہم کردار ہے اس کی وجہ سے انسان کے بہت سے مشکل امور آسان ہوتے ہیں جیسے انسانی فطرت میں ہے چلنا،بولنا وغیرہ لیکن عادت کا اس قدر عظیم فائدہ ہے وہاں یہ عادت بسا اوقات ایک راکاوٹ بھی بن جاتی ہے جب انسان اپنے شعور وعقل کو کھو بیٹھے اور بری عادات میں پھنس جائے ۔اسلام عادت کو تربیت کیلے ایک ذریعہ کے طور پر کام میں لاتاہے اور خیر واچھائی کے امور کو انسان کی عادت بنادیتاہے تاکہ اس کی انجام دہی میں انسان کیلے مشقت وتکلیف نہ ہو زمانہ جاہلیت ِعرب میں۔
جب اسلام طلوع ہوا تو اسلام نے عرب کے معاشرے میں پھیلی ہوئی بری عادات کے تدارک کیلئے دو طریقے اختیار کیے ایک تو یہ کہ بعض بری عادات کو فوراً ختم کرنے کی کوشش جیسے شرک وبت پرستی اور بعض عادات کو تدریجاً ختم کیا جیسے شراب پینا ،چوری کرنا وغیرہ اور اسلام نے یہ درس دیا ہے کہ اگر تم آس پاس کے ماحول کی تربیت کرنا چاہتے ہو اور یا اس کے ماحول سے ختم کرنا چاہئے جو متعارف کرائے کہ تو اسلام کے اس آئین کو اپنے لیے اپنانے کی کوشش کرو تاکہ تربیت میں آسانی ہو ۔
١٢۔سزا
اسلام نے تربیت میں بہت سے ذرائع تعلیم دیے تاکی انسان تربیت میں حیران وپریشان وسرگردان نہ رہے ۔اگر معاشرے کے بعض آفراد پر نہ تو نصیحت اثر کرے ، نہیں شوق ورغبت اور نہ ہی مثالی نمونہ اثر انداز ہو تو پھر اس انسان کیلئے سزا بطور تربیت ضروری ہے تاکہ اس کی اصلاح ہوسکے اوراس کا معاشرے کے کار آمد افراد میں شمار ہو سزا وغیرہ ہر انسان کیلئے ضروری نہیں ہے کیونکہ بہت سے لوگ نے مثالی نمونے اور عملی سیرت کی پیروری کرکے اور وعظ ونصیحت پر عمل پیراہوکر اپنے آپ کو تربیت کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیتے ہیں اور انہیں زندگی میں سزا کی ضرورت نہیں پڑتی اور یہ بھی ضروری نہیں کہ تربیت کرنے والا سزا سے تربیت کا آغاز کرے بلکہ تربیت کے تمام اصول وذرائع کے استعمال کرنے کے بعد اگر دیکھیں کہ کوئی ذریعہ تربیت کارگر نہیں تو اسوقت سزا کے چند مراحل میں سے پہلے مرحلہ کو شروع کریں اگر اس میں یہی پہلا مرحلہ مفید ہو تو دوسرے مراحل سے صرف نظر کی جائے سزا کے آغاز سے پہلے اساتذہ اور مربیان تربیت سے ضرورمشورہ کیا جائے کیونکہ ہوسکتا ہے تربیت کیلئے کوئی مفید راہ حل نکل آئے ۔
تربیت کرنے والے کی چند شرائط
تربیت انسانی کا اصلی مربی تو خدا وند عالم کی ذات ہے کہ جس ہستی نے انسان کی تربیت کا بندوبست وسامان انسان کی تخلیق سے پہلے فراہم کیا اور خود انسان کو اپنی فطرت پر پیدا کیا اور اس کے اندر ایسی صلاحیت ودیعت کی کہ جس کے ذریعہ انسان اگر اپنے وجدان کی طرف توجہ کرے تو اس کا وجدان اسے راہنمائی کرے لیکن خدا وند متعال نے اس پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انسان کی ظاہری تربیت کا سامان بھی فراہم کیا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزرا انبیاء کرام بھیجے تاکہ وہ انسان کو اس کی فطرت پر رکھ کر اسے تربیت کرییں لہذا اتنے بڑے انتظامات سے اندازہ ہوتاہے کہ تربیت ایک اہم ترین اور سخت ذمہ داری ہے اس لیے تربیت کرنے والا تربیت کے اصول کی رعایے کرے کہ جن کو ذکر کیاگیاہے اور ان اصولوں کی رعایت کرنے سے مربی تربیت جیسے امور کو اچھے طریقے سے انجام دے سکتاہے ۔مربی کو چائیے کہ چاہے اس کے ماں باپ ہوں یا اسکول کے اساتذہ یا دیگران افراد جو مربی ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ درج ِذیل اصول کی رعایت کریں۔
مربی کے چند اصول ِتربیت یا شرائط
١،حسن ِنیت٢،اخلاص٣،صبرواستقامت٤،اصولِ تربیت سے آشنائی ٥، تشویق٦، ارادہ جدیت٧، نمونہ ،ان میں سے ہر ایک اصل کی مختصر وضاحت ۔
١۔حسن ِنیت
تربیت کرنے والے پر ضروری ہے کہ تربیت میں حسن ِنیت کو خاطر میں رکھے اور حدیث میں ہے کہ :(انمالاعمال باالنیات) .(14 )کہ عمل کا دار ومدار نیت پر ہے اگر اصلاح وتربیت کی تو اب سے اسے چاہئیے کہ دوسری اصل کو اپنانے کی کوشش کرے اور وہ ہے اخلاص ِعمل۔
٢۔اخلاصِ عمل
اسلامی تربیت میں عمل ِصالح کو اصلیت حاصل ہے جتنا اخلاص ہوگا اتنی ہی عمل میںمباشیرر ہوگی قرآن میں ہے : (من عمل صالحاً وھو مومن فلیحیینہ حیوة طیبة وننجینھم اجرھم باحسن ماکانوا یعملون). خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ جوبھی عمل صالح انجام دے چاہے وہ مرد ہو یا عورت اور خدا پر اسے یقین وایمان ہو ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور اسے اس عمل کی جزا اس سے بھی زیادہ عطا کریں گے جو اس نے عمل انجام دیاہے لہٰذا تربیت میں اخلاص شرط ہے گذشتہ انبیا کو دیکھئے کہ ان کے اعمال وکردار میں کتنا اخلاص تھا لہذا تربیت میں خلوص وتقوی وعمل ِصالح ضروری ہے ۔
٣۔صبر واستقامت
تیسری شرط تربیت ِانسانی میں یہ ہے کہ وہ صبر وحوصلے سے کام لے اپنے فریضے میں تنگ دلی کا مظاہرہ نہ کرے بلکہ انبیا کرام اور ائمہ معصومیں کی سیرت پر چل کر تربیت جیسے اہم فریضے کو آگر بڑھائے آپ دیکھیں کہ حضرت نوح نے کتنا عرصہ تربیت کی حتی کہ نوح ان کا لقب بن گیا اصل نام تاریخ کی روسے عبد الغفار تھا بہرحال تربیت میں اپنا فریضہ انجام دیتارہے اورانجام ونتیجہ کا منتظر نہ رہے ۔
٤۔ اصول ِتربیت سے آشنائی
مربی کو چائیے کہ اصول وقواعد سے آشنا ہو تاکہ عملی زندگی میں سے خودتربیت کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا ب نہ کرنا پڑے اس علمی دورمیں تو تربیت کے اصول سے آشنائی حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں لیکن اصول ِتربیت سے فقط آشنا ہونا کافی نہیں بلکہ ان اصول کو عملی جامہ پہنانا اور معاشرے میں اسلامی اصول کو نافذ کرنا مشکل ہے اس کیلئے مربی کو بہت ہمت وحوصلے اور استقامت کی ضرورت ہے بہرحال اصول ِتربیت سے اشنائی حاصل کرنا ضروری ہے جب تک ان سے آشنا وواقف نہیں ہونگے اس وقت تک تربیت کے امور کو آگے نہیں بڑھا سکیں گی ۔
٥۔اصول ِ تربیت پر عمل
اصول تربیت سے آشنائی کے بعد اسے عملی جامہ پہنانا ضروری ہے جب تک اصول ِتربیت کو عملی جامہ نہیںپہنایا جائے اس وقت تک مربی مربی نہیں بن سکتا آپ رسول ِاسلام کی کا مطالعہ کریں کہ کس طرح رسول ِاسلام مربی ہونے کی حیثیت سے عملاً اصول ِتربیت کو نافذ وجاری کیا لیکن اس میں شرط یہی ہے کہ تربیت خود اپنے نفس سے شروع کریں دیکھیں رسول ِاسلام انسان ِکامل اور مربی کامل تھے جب ہی تو خدا نے مربی کامل ہونے کی سند عطا فرمائی: (لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة ).(15) بہرحال مربی کو چائیے کہ اصول ِتربیت کو عملا! انجام دئنے میں شوق ورغبت ہو جب تک شوق ورغبت نہیں ہے یہ اصول انجام نہیں دیے جا سکتے.
٦۔تشویق
مربی کو چائیے کہ خود تربیت کے امور میں شوق وجذبہ رکھتاہو اور تربیت کرنے والے افراد کو بھی شوق دلائے تاکہ اصول ِتربیت خشک وسخت محسوس نہ ہوں نہ اپنے لیئے اور نہ ہی دوسروں کیلئے بلکہ اصول ِتربیت کو شیریں بیان کے ساتھ لوگوں کو بتائے خوش اخلاق وخندہ روئی سے اصول ِتربیت پیش کرے اور پیغمبر ِاسلام کی سیرت کو اپنے لیئے اس میں نمونہ سمجھے کہ جن کے متعلق خدا یہ فرماتاہے :(انک لعلی خلق عظیم ).(16)کہ اے پیغمبر آپ خلقِ عظیم کے مالک ہیں ،یا خود آنحضرت ۖ اپنے بارے میں فرما تے ہیں: (بعثت لاتمم مکارم الاخلاق) (17)
مجھے صفات اخلاق کو منزل تکمیل تک پہنچانے کیلئے بھیجا گیالہذا اصولِ تربیت کو اپنانے کیلے شوق ورغبت کے ساتھ کوئی نمونہ بھی ہوناچائیے تاکہ مربی کیلے تربیت کے امور انجام دینا آسان ہوں اور تربیت کے اصول اپنانے کیلے بھی یہ شرط ہے کہ مبضبوط ارادے سے کام لے مربی کو چست ہونا چائیے اور سستی و احساس کمتری کا مظاہرہ نہیں کرنا چائیے۔
٧۔ ارادہ میں استحکام
اصولِ تربیت میں کمزور ارادہ یا سست ارادہ مربی کیلئے ضرر رساں ہے بلکہ مربی اپنی نظر وفکر کو بلند رکھے اور تربیت کرنے والوں کو اپنے اٹل ارادے سے ہی آگے بڑھا یا جاسکتاہے تربیت کے اصول میں ہمیشہ وہ افراد کامیاب ہوتے ہیں جو ارادہ وجدیت سے کام لیتے ہیں اور ہر آئے دن اپنے ارادے کو نہیں بدلتے اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں اور کبھی نہیں گھبراتے بلکہ مربی میں اس قدر تجربہ وسابقہ ہو کہ ہر آنے والے مسائل ومشکلات کو اچھے طریقے سے حل کرنے کی استعداد وقوت اس میں موجود ہو اس کے ساتھ ساتھ مربی کو چاہیے کہ تربیت میں اپنے لیے کوئی نمونۂ عمل انتخاب کرے تاکہ تربیت کے امور کو خوش اسلوبی سے انجام دے سکے ۔
٨۔نمونۂ عمل
مربی کیلئے تربیت کے امور کو انجام دینا اس وقت آسان ہوتاہے کہ جب اس کے لیے کوئی نمونۂ عمل موجود ہو ۔تاریخ میں ایسے کئی مثالی نمونے مل سکتے ہیں جن میں سے کسی ایک کو نمونہ بناکر مربی اپنے امورِ تربیت کو آسان بناسکتاہے قرآن مجید میں کئی بار اللہ تعالی نے تربیت یافتہ مربیوں کا تذکرہ فرمایا ہے اوراس طرح انسان کی تربیت کا سامان فراہم کیاہے خود سورہ حشر کی آیت ٧ میں ہے:(ومااتاکم الرسول فخذوہ ومانہاکم عنہ فانتھوا)(18) پیغمبر اسلام جس چیز کا حکم دیں اس کو انجام دو اور جن امور سے تمہیں روکیں رک جائو یا جو تمہیں دیں لے لو اورجس سے منع کریں اس سے رک جائو بہرحال پیغمبر اسلام مربی کامل تھے اور اپنے مربی کامل ہونے کی سند اللہ تعالی سے لی بلکہ لوگوں نے کہا کہ تم صادق وامین ہو اس کے علاوہ مربی کیلے اور بھی مراحل ہیں کہ جو تربیت میں بیان کیے جاسکتے ہیں مثلاً مربی تربیت دینے والوںکو دینی معارف سے اشنا کرائے اور تربیت کرنے والوں کو خدا پرستی کی دعوت دے وغیرہ۔
تربیت کے ذرائع
تربیت کے ذرائع اور مقاصد ہر زمانے اور ہر قوم کے اعتبار سے ،مختلف ہواکرتے ہیں اور ہر ذریعہ کسی نہ کسی مقصد کے حصول کیلے ہواکرتاہے مثلاًجسمانی ورزش بھی ایک تربیت کا رذریعہ ہے یا نصیحت ،کہانیاں اور قصوں کی مدد سے بھی تربیت کے مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں اور اس قسم کے متعدد ذرائع موجود ہیں کہ جن کے ذریعہ تربیت کی جاسکتی ہے لیکن ان ذرائع کو مکمل تربیت کا نام نہیں دیا جا سکتا بلکہ اسلام کے ذرائع سے ہی تربیت کے ہدف کو پورا کیا جاسکتاہے کیونکہ اسلام ایک دین فطرت ہے دراصل اسلام کا نقطہ نظر فطرت ِانسانی کے مطابق اور طبیعت کائنات کے مطابق ہے اس طرح سے تربیت کی جائے کہ انسان ایک معزز اور قابل اطمینان فرد کی حیثیت سے زندگی گزار سکے اور خدا کی تمام نعمتوں سے بہرہ مند ہو دوسرے الفاظ میں اسلامی تربیت انسان کو تکامل کے اعلی مراتب سے ہمکنار اور اعلی درجات کی طرف لے جاتی ہے۔
اسلام کے نظام ِتربیت کا مقصد اچھا انسان تیار کرناہے وہ انسان جو مکمل انسان ہو اور اسلامی تربیت کی بنیادیں ایمان، اخلاق ،علم وعمل پر استوار ہوں ۔ظاہر ہے کہ اسلام تربیت کے مقصد میں ہر ذریعہ کو قبول نہیں کرتا بلکہ مناسب وسائل وذرائع سے استفادہ کرنے کی اجازت دیتاہے غرض تربیت اگرچہ متعدد ذرائع سے حاصل ہوتی ہے اگر متعدد ذرائع وبامقاصد نہ ہوں تو محض وسائل وذرائع کی کوئی قدر وقیمت نہیں ۔اسلام کا نظام ِتربیت اس اعتبار سے کہ بالکل منفرد ہے کہ اس کے جملہ ذرائع اور تمام مقاصد ایک فکر اور ایک نظریہ سے پوری طرح مربوط اور پیوست ہیں اور یہ تربیت کا نظام اس قدر جامع ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی پہلو اور کوئی گوشہ اس کی راہنمائی اور ہدایت سے خارج نہیں ہے کہ جن کے ذریعہ انسان ایک ایسے متفرق اور مختلف ذرائع کا مجموعہ نہیں ہے کہ جن کے ذریعہ انسان ایک نئی سمت کی طرف حرکت کرے بلکہ اسلام کا تربیتی نظام انسان کے سامنے ایک صاف ،اورسیدھی شاہراہ متعین کرتاہے تاکہ انسان اپنی تمام فطری صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر سلامتی کے ساتھ اس مستقیم شاہراہ پر گامزن ہوسکے جو اسلام نے اسے راہنمائی کے طور پر تربیت کی ہے اسلام کے اس تربیتی نظام کی یہ خصوصیت ہے کہ انسان کو میدان ِزندگی میں حیران وپریشان نہیں چھوڑتا بلکہ اس کے سامنے زندگی کے تمام پہلوئوں کو اجاگر کرتاہے تاکہ تربیت پاکر اسلام کیلئے بلندی کا باعث بنے ۔
تربیت کے بارے میں مختلف نظریات
یوں تو تربیت کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں ۔لیکن ان میں اہم نظریات کو بیان کرتے ہیں۔
(١) یہ نظریہ قدیم دور جاہلیت کا طریقہ ِفکر ہے کہ زمانہ جاہلیت میں تربیت کامفہوم اور مقصدصرف شجاعت تھا۔یعنی ایک ایسا آدمی جوشجاع اور بہادر ہو اور جس میں زیادہ سے زیادہ ظلم کرنے کی قوت ہو اور جنگ کے موقعہ پر اس کا قبیلہ آگے رہے۔
٭یہ نظریہ صحیح نہیں ہے کیونکہ شجاعت اور بزدلی طبعی ہوتی ہے ۔اور پھر اسلام کی نظرمیں یہ نظریہ مورد قبول نہیںہے۔
(٢) یہ نظریہ دنیاکے سیاست دان افراد کاہے کہ جن کی غرض افرادکی تربیت سے صرف یہ تھی کہ انسان میں جذبہ وطن پرستی پیداہواس لیے وہ لوگوں کو ہمیشہ وطن پرستی کا شوق دلایاکرتے تھے۔
٭ یہ نظریہ بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ جذبہ وطن پرستی سے تعصب کی بو آتی ہے اور رسول اکرم ۖ فرماتے ہیں (لاعصبیة فی الاسلام) کہ تعصب سے دشمنی و عناد وجود میںآتاہے۔
(٣) والدین عموماً بچوں کی تربیت فقط اس بنا پر کرتے ہیں کہ وہ ان کی ضعیفی کا سہارا بنیں۔
٭ اور یہ نظریہ یہاں تک جزئی طور پر صحیح ہے کیو نکہ اسلام میں اولاد کے لیے حکم ہے کہ والدین کا احترام کریں اوران کی ضعیفی کا سہارا بنیں اور حتی کہ والدین کو اف تک نہ کہیں اور قرآن میں جہاں خدا کی عبادت ووحدانیت کا حکم آیاہے وہاں والدین کے ساتھ احسان کرنے اور اچھا سلوک رکھنے کا بھی حکم آیاہے۔
اسلام میں تربیت کی خصوصیت
بچے کیلئے والدین کا کردار زیادہ اہمیت رکھتا ہے بچے عموماً معاشرے میں والدین کے اخلاق و کردار کی پیروی کرتے ہیں اور کون اس بات سے آگاہ نہیں کہ صحیح اجتماعی زندگی کی بنیاد اچھے اخلاق پر ہے ۔ اجتماعی امن وامان اور والدین کے اخلاق حسنہ پر باہمی روابط ہی کے سایہ میں میسر ہو سکتے ہیں اور قرآن میں اخلاق پر بہت سی آیات ہیں جن میں اخلاق کی تکید کی گئی ہے۔
١۔ (قولوا للناس حسنا)(19) لوگوں سے ہمیشہ اچھے طریقے سے ہم کلام ہوا کرو۔
٢۔ پیغمبر اکرم ۖ نے فرمایا:(ان صاحب الخلق الحسن لہ مثل اجر الصائم القائم)(20)
خوش اخلاق کا اجر و ثواب اس شخص کے ثواب کے برابر ہے جورات کو نماز پڑھتا ہے اور دن کو روزے رکھتا ہے۔٣۔ قرآن :(لو کنت فظا غلیظ القلب لا نفضوا من حولک)(21)
حضرت نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے خطاب ہے کہ اگر آپ سخت مزاج اور سنگ دل ہوں گے تو لوگ آپ کو چھوڑ کر منتشر ہو جائیں گے۔معاشرے میں والدین کے اخلاق کو دیکھ کر بچے اسی طرح کا اخلاق اپناتے ہیں اگر والدین معاشرے میں بد اخلاق ہوں گے تو اس کا اثر اولاد پر ہی ہوگا کیونکہ حضرت امام جعفر صاد ق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بد اخلاقی عمل کو اس طرح باطل کر دیتی ہے جس طرح سرکہ شہد کو خراب کر دیتا ہے۔ (22 )
فرزند اور باپ کا کردار
بچے کی تربیت میں جس طرح ماں کا کردارمؤثر ہے اسی طرح باپ کا کردار اور اس کی شخصیت بھی بچے کی تربیت میں موثر ہے باپ، بچے کی جزباتی اور ذہنی نشو نما کیلے وہ اتنا ہی ذمہ دار ہے جتنی ماں .دوران حمل اور بچے کی زندگی کے پہلے سال میں ذمہ دار ہے باپ کی ہمدردی اور محبت بچے کی ماں کو جذباتی طور پر مدد دیتی ہے اور بچے کی شخصیت کو صحیح طریقے سے پروان چڑھانے کیلے ضروری ہے کہ والدین ذہنی اور جذباتی لحاظ سے تندرست ہوں .اگر ماں باپ ذہنی کشمکش اور مشکلات میں الجھے رہیں گے اور جذباتی لحاظ سے ان کی زندگی خوشگوار نہ ہوگی تو یہ چیز بچے کی ذات پر بھی اثر اندر ہو گی ۔
اولاد کے حق میں سب سے بڑا اور اہم فریضہ صحیح تربیت ہے اولاد کا والدین پر حق ہے کہ وہ انہیں اسلام، دینداری اور اچھے اخلاق کی تربیت دیں۔(قوا انفسکم و اھلیکم نارا)(23)اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو جہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن پتھر اور انسان ہیں۔اولاد کا نفقہ ماں باپ پر واجب ہے جس کی تفصیل فقہی احکام میں
ملاحظہ فرمائیں والدین کو چاہئے کہ اپنی اولادکے ساتھ مہربانی اور شفقت سے پیش آئیں اور بعض بچوں کو بعض پر ایسی ترجیح نہ دیں کہ جس سے جھگڑے کاخوف ہو ماں باپ ،بیٹے اور بیٹی کا امتیاز قائم کرکے ان کی شخصیت کو حقیر نہ بنائیں انہیں نفسیاتی الجھن میں مبتلا نہ کریں۔کیونکہ ایسا رویہ ان پر ظلم ہے بلکہ معاشرے کے ساتھ خیانت ہے اولاد کی صحت میں افراط و تفریط سے اجتناب کریں کیونکہ بچوں پر اس کے برے آثار مرّتب ہوتے ہیں ۔اولاد کیلئے والدین کی بہترین خدمت دینداری کے بعد علم و کمال کے حصول کی ترغیب و تشویق ہے۔حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں:
(وتجب للولد علی الوالد ثلاث خصال اختیارہ لوالدیہ لتحسین اسمہ والمبالغة فی تادیبہ)(24) باپ پر واجب ہے کہ وہ بیٹے کے لیے اچھا نام اختیارکرے اور باادب بنائے اور یہاں پر ہمارے چوتھے امام حضرت زین العابدین اپنی دعا میںایک پیارا جملہ ارشاد فرماتے ہیں : (الھم اعنی علی تربیتھم وتادیبھم وبرھم) (25) خدایا اپنی اولاد کی تربیت، ادب اور نیکی کرنے میں میری مدد فرما اور اسی طرح بچے کی تربیت کے بارے ایک اور فرمان ان امام کا منقول ہے ۔(وحق ولدک فان تعلم انہ منک ومضاف الیہ فی عاجل الدنیابخیرہ وشرہ وانک مسئول عما ولیتہ بہ من حسن الادب ،والد لالة علی ربہ والمعونة لہ علی طاعتہ)(26) اپنے فرزند کاتم پر ایک حق یہ ہے کہ تم اسے اپنا سمجھو اور یہ بھی جان لو کہ اس دنیا میں اسکی ہر اچھائی وبرائی اور ہر نیکی وبدی کا تعلق تم سے ہے اور تمہیں یہ جاننا چاہئے کہ سرپرست ہونے کی وجہ سے اپنے فرزند میں حسن ادب ،پیوست کرنے کی ذمہ داری تم پر ضرور ی ہے اور اسے خدا کی طرف متوجہ کرنے کا فرض بھی تمہارے سر پر ہے اس کے علاوہ خدا کی عبادت واطاعت میں بچے کی مدد کرنا تمہارا کام ہے صرف یہی نہیں بلکہ اس یقین کے ساتھ اچھی تربیت کرو کہ اگر عہد ہ بر آہوگئے توتم نے گویاحق ادا کردیا اورخدا کی بار گاہ سے تمہیں اچھا اجر ملے گا اور اگر کوتاہی کی تواس کی سزا بھی تمھیں ملے گی۔
(١)سورہ تحریم آیت ٦.
(٢)سورہ مائدہ آیت ٣٢.
(٣)سورۂ بقرہ آیت ١٥١.
(٤)سورہ بقرہ آیت ١٢٩.
(5) سورہ آل عمران آیت ١٦٤ .
(6)کتاب بحارالانوار ج١٦،ص ٣١٠ .
(7)سورہ آل عمران آیت ١٥٩.
(8)مقتل خوارزمی ص٧٦.
(9)سورۂ احزاب آیت ٢١.
(10)مقتل خوارزمی ص٧٦.
(11)گفتار دلنشیں قول امام جعفر صادق .
(12)سورۂ شمس آیت ٧۔٨.
(13)سورہ احزاب آیت ٢١.
(14)منیة المرید،ص٤٤.
(15)سورۂ احزاب آیت ٢١.
(16)سو رۂ نورآیت ٣ .
(17)کتاب مکارم الاخلا ق ص ١٧٢.
(18)سورۂ حشر آیت٧.
(19)سورۂ بقرہ آیت٨٣.
(20)اصول کافی ج١،ص١٥٧.
(21)سورۂ آل عمران آیت١٥٩.
(22)اصول کافی ج٣،ص١٥.
(23)سورۂ تحریم آیت ٦ .
(24)تحف العقول ٣٣٢.
(25)صحیفہ سجادیہ دعا ٢٥ ص ١٧٠.
(26)تحف العقول ٢٨٩.
تحرير : جعفری
بزم خواتین
حجاب کس حد تک کرنے کے لئے واجب ہے؟
تعلقات کی پردہ اور آزادی
جو ان کی زندگی میں ان کے اصلی مطابقت پردہ اور قسم اور زاویہ نظر نہیں زندگی زندگی کے اپنے تصور کو حاصل کرنے کے لئے کوششوں کو پورا کرنے کے لئے مسٹر اور thralldom تنوع کے زندگی میں اور معاشرے میں کردار ادا کرنے کے لئے نہیں ہے آج اور کل اور ستر سال کی زندگی میں، اور اس دنیا میں بار بار اور ان کے کام کو دیکھ کر کھڑے اور بیٹھ کے لئے ہے.
حجاب ان لوگوں کو جو دوسروں کی موت کا جینا اور مرنا کے لئے، کہ اخلاقی کردار ان کے لئے اہم نہیں ہے اور دوسروں کی نہیں لگتا ہے کہ خدا بھی نہیں لگتا ہے کہ غیر خود جس میں ایک بھاری پردہ کے مقابلے میں بھاری ہے کرتے ہو، ان کے اور کچھ نہیں کرنے کے لئے کوئی مطلب نہیں ہے سیاہ کے ساتھ دفن کیا گیا اور موت ان کے لئے کوئی خوشی لایا. بیری اس دہنا کا وقت نہیں ہے دہنا ہے.
تا زمانی که برداشت ما که تلقی ما از خود و از نقش خود در جامعه عوض نشود تا معنای حقیقی آن را درک نکنیم، حجاب برایمان بند است، مهار است عامل نگهدارنده است که جلوی حرکتمان را می گیرد اینجاست که هزار عذر و بهانه می آوریم :
خواتین کے لباس میں صاف ستھرا، گندا خیمے اور مٹی کی تعداد ہے ...
کیا میں مٹی Pakm Mntm ...
یہ ایک عظیم عورت ہے اور ایک آدمی کی آنکھوں کی منظوری دے دی ہے.
میں اپنے راستے جاؤ، اندھے ان کی آنکھوں پر نظر نہیں ...
یہ واضح ہے کہ مجھے ایسا کرنا چاہیے ...
خیمہ، آپ کو اچھا، سب سے زیادہ شوقین اور موہت مردوں کو ملتا ہے اور اتیجیت کرتا ہے ...
کہ ایک ترقی یافتہ ملک میں ان مسائل کو حل کر رہے ہیں اور اب کوئی ایک مسئلہ ہے ...
مفت تعلقات، یہ قدرتی بات ہے ...
پابندیوں، اور اخراج پیچیدہ ہیں، دج زاید ہیں ...
اور دوسرے جواز اور بہانے ہزاروں کی تعداد میں مل نہیں بلکہ اس کے اصل معنی پر پردہ.
اگر آپ بیزگنیت یا خوف یا محبت یا حوصلہ افزائی یا دھمکیوں یا کسی دوسرے پردہ کرنے پر مجبور factor're کرنے کے لئے نئے ہیں. پردہ خود ہمارے ہاتھوں کا کھلونا بن جاتا ہے، ہم طویل عرصے سے پیارا کے ساتھ پینٹ کیا ہے اور ہم اس کی ادائیگی کریں گے. ہمارے خیمے ایک چمکیلی رنگ کی تبدیلی، جس سے اس کی شکل، جس بلایا Mantoux خیمہ بھی ہے سخت اور زیادہ پر کشش ہے بدل جائے گی ہے. تمبو خیمے سے خیمہ بھی برا ہے کہ ہم پتھر، ہم پردے میں عذر ہونے کی وجہ سے جڑتا اور خوف سے بچنے کے لئے کے بہانے ہے. یہ پردہ کرنے کے لئے پردہ ہے کہ پردہ اور حجاب کا پردہ ہے کہ میں سمجھ نہیں ہے اور حجاب کے ساتھ اپنے تعلقات کبھی نہیں سچ کے تصور underpin ہے.
یہ زاویہ کی طرح دیکھا اور ایک عورت ہے جو آج اور کل رہتا ہے سے ملنے، اور کیوں ایک ہی رنگ ہے، بہت خوبصورت اور اچھا لباس، دیکھو اور اپیل، اور سوائے camouflage میں اور وہاں بیٹھ کر اور کچھ دل کو تباہ نہیں کرے گا، تم اپنے آپ کو ایک سوٹ میں پھنس سکتا ہے؟ ان کی موت کی کوریج کے لئے، جو تعطل گا. وہ آج اتنے قریب اور اپنے بائيں Dyrvzsh میں تو اس کے دل پر منحصر ہے اور ان کے بائیں پر نظر ہے، اور گیری بڑے اور اعلی ختم ہو چکی ہے بڑھ نہیں ہے.
بہت سی خواتین ہیں جنہوں نے ان عورتوں کو پسند نہیں کرتے، پردہ ان سے متعلقہ ہے. اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا ان کے لیے پردہ برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے. میں خدا بننا چاہتا ہوں. یعنی جامعه و رشد و سقوط افراد برایشان اهمیت دارد ولی نسبت به آن کاهلی می کنند که یا اطلاعات لازم را ندارند که نمی دانند حفظ حجاب برایشان واجب است و حد و اندازه ی حجاب را نمی دانند و نمی دانند وجوب چادر را و یا در انجام اس کی لاپرواہی کی. جس کو میں نے تم سے کہا تھا کی ایک اعلی ڈگری حاصل کی ہے، لیکن وہ اسی طرح ہیں. لیکن کمیونٹی Narahtnd رویہ، اعمال، اعمال، اور اس زوال کو پورا کرنے کے لئے کی مدد سے بات کے دل میں.
وہ معاشرے میں ان کے کردار کی سمجھ نہیں ہے. جب خزاں وہ دکھی اور اداس ہیں، لیکن یہ مت دیکھو اس موسم خزاں میں کیا گیا ہے کام.
هم این دسته و هم دسته ی اول باید نوع نگرش خود به جامعه و نقش خود را تغییر بدهند ، که اولی تغییر بنیادین لازم دارد و دومی اطلاعات و آگاهی از وضع جامعه تا به گونه ای دیگر به خود و نقش خود و جامعه نگاه کنند.
Underpinning حجاب
رویہ اور خیال میں اس تبدیلی کی بنیادی نقاب تبدیل کر رہا ہے. ہم صرف اور دیکھیں کہ کیا ہماری حقیقی اقدار نظر آتے ہیں؟ کہ ہم اس کی قیمت اور ان کی پرتیبھا کی قیمت سمجھ سکتا ہوں، جو ہم نے پیدا کی ہے اس کے لئے اس کو دیکھنے کے لئے، یہ دیکھا جا سکتا ہے، میں اس کی اصلی قیمت معلوم، میں سمجھ سکتا ہوں کہ ان کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پیدا کی طرف سے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے دوسرے لوگوں کی آنکھوں ہیں اور دوسروں کے نقطہ نظر کے مطابق ہیں میں دوسروں کی طرف دیکھو میرے لئے ہے بیٹھ. تم میں سے وہ لوگ جو مجھے Dlrbaym چہرہ اور ایک خوبصورت چہرہ دیکھا ہے اور میرے جسم کو ان کے متعلقہ، چھوٹے تھا. گیری بھی ہے میرے دیگر اثرات کے مقابلے میں کم ہے. تمام آنکھوں بڑا دیکھو اور میں Bynatry سے دعا گو ہیں. اب سب سے زیادہ مجھے احساس ہے کہ میں خدا کی آنکھ Nzarah Bynatr میری سب سے بہترین نظر کر رہا ہوں اور یہ دیکھ بیٹھ بیٹھ کر.
اور وہ معیار دیکھنے کے لئے ہے. معیار خود کا اظہار کیا کہ وہ خریدتا ہے اور مومنوں کو اٹھاتا ہے.
اب دیگر خواتین کی خاطر، سیاہ فام اور نہ قبرستان میں دفن ہے. میں نے رضامندی کہ میرا پریمی کو توجہ Mshvqm حاصل کرنے کے لئے. میں نے اسے اپنے تمام Rzaytsh سٹ کے ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں. یہاں سے پردہ سے باہر کم از کم جب تک ہم دھول دیکھ کی طرف سے جانا ہے،. می بینم روح مریض جامعه را که با کفش های من که با راه رفتن من که با حرف زدن من که با لباس رنگی و چادر براق من تحریک می شود به سقوط می رود. دوسروں میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے خدا میرا پسندیدہ ہے، لوگوں کی کمی گر یہ دیکھنے کے لئے کہ خدا نے مجھے کسی کو قتل کرنے کے بگاڑ اور تباہی کی کسی کو ہونے کی توقع نہیں ہے پریشان کر رہے ہیں.
اور گھونگھٹ سے باہر اس دھول پر پردہ ہے کہ آپ کسی تم Chadrt اور Hjabt نہیں کر اپنی طرف متوجہ پیچھے نہیں سامنا ہے،. تم ایک نظریاتی اور دل کامپ حاصل نہیں ہے. Zrvrtsh اس وقت ہوتی ہے جب آپ کے چہرے کی وقت اور Jzbt کے میں Jlbt ہے کہ نہیں جانتے. یہ دھول کا پردہ ہے کہ میں نے اسے ایک سے پرے پر حکم دیا کے Brnyavrdn ہے. یہ نہ صرف عورتوں میں جو دونوں بہنوں سے متعلق ہیں.
یہاں، وژن کی اس قسم کی بھی مزید ضروریات پر رویہ کے ساتھ اس زاویہ،، کا مطالبہ ہے کہ وہ ہو کے ساتھ مطلوبہ امکان ان کے قریب بنانے خدا اور معاشرے میں اپنا کردار معاشرے Bshvy پر غور مطالعہ. یہ حقیقت ہے کہ ان کی خود کی قدر اور کس طرح پتہ ہے.
یہ بصیرت ہے، اور قول اور رویہ اس قسم کے زاویہ کے ساتھ، دوسروں کو کوئی نہیں Zrha آپ نے اپنی بصیرت کے لئے کپڑے پسند نہیں کرتے ہیں، دیکھو مگر میری نظر، آپ کو آپ کے دل پر مجبور اور کرتے Nlrzany مہاسرا نہیں کر سکتے ہیں گے. یہاں تک کہ اگر آپ زیادہ خوبصورت اور زیادہ لگ رہے ہو میرے دل میں ہے کہ شاید تم اپنے چمکدار خیمہ کے ساتھ آپ کے کپڑوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں quaked، ڈر لگ رہا ہے. کون پتھر جو Bshvy ترقی کے ایک دل کو لینے کے لئے خوف زدہ نہیں ہیں.
میرا مسئلہ یہ ہے نہیں کہ میرے مسئلہ کا پردہ یا اس سے بھی برادری میں خوبصورت اثرات یہ ہے کہ ایک ہی دھول کا ایک ہی پردہ پر اثر میں ہے کہ میں خدا کے دل کو ہو اور ہلا سکتے ہیں مجھے لے لو. خدا بہت اہم ہے کہ موقع ہے، کہ ایک طرف، شاید تم ان کے لئے پس منظر فراہم نہیں کر سکتے ہیں لے.
انہوں نے ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ Pakm میں مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی نے مجھے Gndyd، کام کرتا ہے اور مجھے دوش دیتے ہیں اس fester، میں اس زوال کو دوش دیتے ہیں، eruption ہے کہ مجھے اس جھنجھٹ میں مجبور کر دیا کہ میں پھیل واپس میرے میں ایک ہی کمیونٹی میں رہتے ہیں. مسئلہ یہ ہے کہ ہر فرد اور کمیونٹی کی زندگی میرے لئے بہت اہم ہے. کیونکہ خدا اس سے محبت کرتا ہے، کیونکہ خدا نے کمیونٹی کی ترقی اور عوام سے محبت کرتی ہے، کیونکہ خدا میرے ارد گرد کے لوگوں سے محبت کرتا ہے، کیونکہ میں اپنی ناک سے باہر ہوں، اور تمام مخلوق ہے کہ میں نے ظاہر کیا ہے میں آپ کی باڑ سے محبت کرتا ہوں تمام دنیا میں سے محبت اس کے کائنات کے سب.
کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ ہم ایک ڈریس کوڈ ہے، اگر ہمارے خیمے کشش تھا. حجاب اور تمبو میں بھی جذب کرنے کے لئے کیا جائے کم پردہ. ہم نے خیمے اور اس طرح میں جانا پسند کرتا ہوں. لیکن جیسا کہ میں نے یہ خواتین، بہنوں کو دیکھتے ہیں، میں اور passers خوبصورتی کی طرف دیکھا جائے، دیکھ کر گر ہونے کا امکان ہے.
اگر آپ خواتین کو بھرتی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، دوسرے طریقوں اچھی بات ہے کہ نہیں ہیں، وہاں ایک اچھا لفظ ہے، یہ ہے کہ پارلیمنٹ اور خواتین مذاکرات. دیکھتے ہیں اور دیکھ نہیں ہے کہ یہ ہمارے خدا تک پہنچنے کرنے کا ارادہ ہے، لیکن ٹیڑھی جانے کے لئے راستہ ہے. اور دھول سڑک لے جانے کے لئے برا راستہ ہے.
وہ مائیں جنہوں نے شوقین بچوں کی پہنچ سے کوئی بات نہیں ہے جہاں وہ چھپا بچے زیادہ چڑچڑا ہو جاتے ہیں کی منشیات باہر منعقد کیا ہے، زیادہ شوقین ہو. دیکھو کہ یہ منشیات کے بچوں کو دستیاب ہونا چاہئے.
لیکن ان دونوں کو جاننا اور جشتھاس ہیں. کبھی کبھی وہ لوگ جو اپنے تبتوشن کی تلاش کر رہے ہیں کی تجسس. وقار اور شرم و حياء پردہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ، آپ کو آپ کے لئے ایک پردہ ہے کہ آپ کو حوصلہ افزائی نہیں کرتے ہیں کے ساتھ اپنی طرف متوجہ نہیں کر رہے ہیں،. یہ قیادت اور پرتیبھا کے انتظام کے لیے تلاش کرنا چاہئے اور تم پر دھول کے ساتھ Hjabt Nyavrdnt غلط کو حل کرنے میں مدد ملے گی.
لیکن کبھی کبھی تجسس کی بیماری. تو جو شخص ان carnal تجسس Hvahay اخلاقی مریض سے اس کی بیماری سے چھٹکارا Rzayl اور بیماری میں ڈوب کر آپ کے سامنے میں پردہ سے باہر ہے. اگر تم نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ چوٹ لگی ہے، کیونکہ یہ میرا مکمل پردہ ہے کہ اب بھی نامکمل Hjabt جس طرح سے تم اتنے بیمار دیکھا ہے.
دو مجھے اس Hjabm کے نامکمل کہنا یا کم از کم منظوری دے اور دھول بنا، آپ کو پہلے گروپ، cortical بھوری رنگ اور گروپ II اور گروپ II کے زیادہ سے زیادہ تعداد میں تباہی فائدہ کے لئے قیادت کریں گے ساتھ لے نہیں کرے گا.
لیکن کہنا ہے کہ دیگر ممالک اس مسئلہ ہے، جس میں اس کی جامع اور شبہ کیا جانا چاہئے ایک معقول تشریح ہے، حل کیا ہے. لیکن تباہ کر اسے حل کرنے کے لئے موضوع لانے کے ساتھ مسئلہ ہے. اگر دیگر کمیونٹیز میں انسانی پرتیبھا کی فضلہ کو اور تباہ کیا جائے گا اور انسان کی حقیقی عظمت کے واسطہ سے خاندان تباہ کر رہا ہے. اس مسئلہ کا صحیح طریقہ نہیں ہے. وہ لوگ جو اس طرح کے مسئلے کو حل کرنے کی خواہش لگتا ہے کہ لوگوں کو مخالف جنس دیکھا ہے، اس کے انتظام اور قیادت کے ساتھ بات چیت کرنے کی خواہش کیا گیا ہے انسانی ترقی کے لئے صلاحیت کی مخالفت کرنے کے لئے بنایا لاپرواہ ہیں. یہ ہے اس کی صلاحیت کو کس طرح انسانی ترقی کے لئے استعمال کیا جا سکتا. وہاں ایک جاننے کی ضرورت ہے، اس طرح تمہیں پتہ ہے کہ آدمی کے لئے ہے اور اس دنیا میں کیا کیا اور کیا ہے اس مقصد کو تشکیل دے دیا گیا تھا؟
یہ پرتیبھا لیتا ہے اسے اس طرح کرنے کے لئے اور ترقی کی راہ میں رکھا. یہ اس صورت میں ضائع نہیں اپنی خدا داد صلاحیت کے کھلا اور تباہ کرنا چاہئے. فضلہ اور تباہی اس پرتیبھا کی طرف سے کیا کس طرح زیادہ سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، انسانی مدد کی تباہی کے طور پر قیاس آرائی ہے.
خود اپنی انسانی فضلہ اور انسانی قیاس آرائی، جو پرتیبھا ہے کون ہے، اصل میں، سب ایک شرابی آدمی جو اس کی شراب کا لطف لیا اور جب تم سب نشے میں جانتا ہے جیسے یہ ان کی سرمایہ اور پیسے دیا ہے. یہ ایک امیر حاصل ہے اور کرتا نہیں جانتے کہ وہ کیا کھو گیا ہے، کو اس کی کمائی صرف نشے میں اور خوشی سے بھرا ہوا عارضی ہے. گاهی ما از حجم استعدادها و از عظمت خویش غافلیم و خود را و ارزش درونی خود را جزء دارایی ها حساب نمی کنیم و به همین دلیل با لذتی که در عوض از دست دادن خود و عمر خود و ارزش ها و استعدادهای خود به دست می آوریم اور Srshad Srkhvyshm اور نشہ ہوگيا.
حجاب کی حد
اچھا تمہیں پتہ ہے کہ میں نے جو کہا صرف دیویوں اور سججنوں، دھول ہے کہ میں اتنا کام نہیں ہے کہ دوسروں کو ان کے دلوں دینا چاہیے کے لئے نہیں ہے. دل کو ہلاتا ہے جس طرح سب نے بیٹھ کر اپنے دل کو ہلا کر رکھ دیا تھا انہیں لے، اور idolatrous ڈاکو دنڈ. یہ واقعی بہت مشکل ہے سمجھتا ہوں لیکن آپ کو چھیڑنے جس میں ان کی حکومت پر بھی ایک شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے سے محبت نہیں کرنی چاہئے. (یہ قاعدہ محبت سے باہر ہے، اور سے محبت کرتا ہوں) شوہر اور بیوی دونوں یوجک میں راہ کے حق اور دوسرے سے ایک ہے جس پر تمام میرے دل کا راستہ ترک کر دیں اور دوسرے کو پکڑ ضروری ہے روکا. جس طرح خدا تک پہنچنے اور جس نے ہولڈ پار کرنے کے لئے، اور ان کے بہت بڑا ہنر کے ساتھ، وہ idolatrous ہو گا.
پردہ اور
خواتین کے veiling کی قدر صرف اس وژن کی accompaniment کرنے کے لئے نہیں ہے محدود اور وژن کی اس نقطہ نظر کی وضاحت کر رہا ہے اور ہمیشہ ایک شکل اور ایک قیمت ہے.
تم نے دیکھا ہے کہ وجہ سے مرض زیادہ امکان ہے کہ اپنی کمیونٹی کے ارکان، آپ کے معمولی اقدام کے ساتھ اپنی کمیونٹی، آپ کے جوتے ہے کہ آپ اس قسم کی باتیں تمہیں پیدا کیا جائے گا نظر آتے پہننا. تم رہو، جس سے مزید دور ہو ایسا نہ ہو کہ آپ کہ آپ کی کمیونٹی Bkshany تباہی کے کچھ کرو.
کہ کمیونٹی کے دل میں نہیں ہے اور کونے میں پناہ لے اس بیمار معاشرے کے ساتھ معاہدے کی صحیح قسم کی دھول اس پر جمع کرنے کے لئے علاج سے اجتناب حاصل ہے. یہ غلط ہے کہ جنسی کے بغیر جب میں اپنے Blrzanm کو درست اسے رہا ہوں محبت کرتا ہوں، جب لوگ بیمار ہوتے ہیں وہ خواتین کو مردوں اور عورتوں کے علاج کر سکتے ہیں. غلط جانے کا راستہ اور علاقوں میں ایک ساتھ ملا رہے ہیں.
جب عورتوں میں سے اچھے اور خوبصورت عورتوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے اور ان کے بڑھنے کے لباس پر اجتماعات کے ساتھ عورتوں ہو سکتا ہے، ضروری ہے کہ مردوں کی آمد کے ساتھ اور ان اجلاسوں میں بہنوں کے لئے موقع کے لئے لانا ہے.
یہاں، اس بصیرت کے ساتھ، کمیونٹی کے رویوں اور اقدار کی قسم پردہ کے ساتھ منسلک ہے. آپ ہمیشہ Hjabt اسلامی پردہ ہو، لیکن بعض اوقات ہم اس کے آگے مہاسرا نہیں کرنا چاہئے. اور اپنے فرض کی ضروریات علاقوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت (SA) فاطمہ خطبہ، جہاں حضرت (SA) Zeinab خطبہ کی رقم کی وضاحت کی اس بصیرت کے ساتھ کیا جائے گا ہے پڑھا میں اداکاری کے لئے.
اس وقت تک تو موجودہ کے لئے ضروری نہیں تھا، اور وہاں ایک خطبہ ہے کہ میدان کو روشن اور شو کے کپٹی طریقوں کا خطبہ پڑھنے کے لئے آ جانا چاہیے تھا نہیں تھا. پردہ کی مقدار اور قسم اور اکھاڑے میں قدم ہمیشہ فرض کی ایک شکل ہے اور اس کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے. معیار میں اس طرح کے اختلافات کو تم یہ سمجھتے ہو کہ کس طرح مختلف شعبوں میں داخل کروں گا، کہ اسلام نہ صرف کارروائی کی ایک وجہ ہے اور ترغیبات اور معیار اور معیار، منصوبہ بندی دینے کے لئے غور کر رہی ہے.




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
