Super User

Super User

پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربّانی کھر نے اپنے ملک کے قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون حملوں کی مذمت کی ہے ۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وزیر خارجہ نے غیرملکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے قبائلی علاقوں پر امریکہ کے ڈرون حملوں کو غیرمؤثر قرار دیا اور کہا کہ یہ حملے غیرقانونی ہیں اور پاکستان کے عوام اور حکومت نے ہمیشہ ان حملوں کی مخالفت کی ہے۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پہلی بار نہیں ہے کہ ہم امریکہ کے ڈرون حملوں کی مخالفت کررہی ہیں اور ہمیں توقع ہے کہ امریکہ اپنے غیرقانونی حملے جلد از جلد بند کردے۔

امریکی فوج نے القاعدہ اور طالبان سے جنگ کے بہانے بارہا پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملہ کیا ہے جن میں اکثر عام قبائلی افراد مارے گئے ہیں۔

ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے پاکستان ميں جمعرات کو ہونے والے دہشتگردانہ واقعات کي شديد الفاظ ميں مذمت کي ہے جس ميں سيکڑوں کي تعداد ميں بے گناہ لوگ جانبحق اور زخمي ہوگئے تھے-

وزارت خارجہ کے ترجمان نے پاکستان ميں ہونے والے دہشتگردي کے واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ميں شک نہيں ہے کہ اس طرح کے منظم اور صيہوني سازشي حملوں کا مقصد پاکستان کے شيعہ اور سني مسلمانوں کے درميان دشمني اور عداوت پيدا کرنا ہے-

ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کے دہشتگردانہ واقعات ميں جانبحق اور زخمي ہونے والوں کے اہل خانہ سے ہمدردي کا اظہار کرتے ہوئے عالمي برادري سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ دہشتگردي کي لعنت کے خاتمے کے لئے ايک دوسرے ساتھ تعاون کرے-

 

ادھر روس کے صدر ولادي مير پوتن نے بھي پاکستان ميں ہونے والے دہشتگردي کے حاليہ واقعات کي مذمت کي ہے-

روسي صدر کي جانب سے جاري ہونے والے بيان ميں پاکستان کے صدر آصف علي زرداري کو اس دہشتگردي کے واقعات ميں سيکڑوں بے گناہ لوگوں کے مارے جانے پر تعزيت پيش کي گئي ہے-

 

ہندوستان کے فوجي ذرائع نے کشمير کے علاقے ميں پاکستاني فوجيوں کے ساتھ ايک اور جھڑپ کي خبر دي ہے-

ہندوستاني فوج کے ترجمان جگديپ داھيا نے آج بتايا ہے کہ کچھ مشتبہ افراد نے کنٹرول لائن عبور کرنے کي کوشش کي جن پر ہندوستاني فوج نے فائرنگ کي ہے-

انہوں نے کہا کہ ہندوستاني فوج کي فائرنگ کے نتيجے ميں دراندازي کي کوشش ناکام ہوگئي ہے-

واضح رہے کہ حاليہ چند دنوں کے دوران کنٹرول لائن پر ہندوستاني اور پاکستاني فوجيوں کے درميان جھڑپوں ميں اضافہ ہوگيا ہے-

ہندوستان نے پاکستان پر کشيدگي کو ہوا دينے کا الزام لگايا ہے- پاکستان نے ہندوستان کے اس الزام کو سختي کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کنٹرول لائن کے واقعات کي آزادانہ تحقيقات کي پيشکش کي ہے-

پاکستان کے صدر آصف علي زرداري نے کوئٹہ سانحے کے تعلق سے گورنر بلوچستان کو طلب کرليا ہے -

پاکستان کے صدر نے کوئٹہ اور مجموعي طور پر بلوچستان ميں فوري قيام کے امن کے لئے گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسي اور وزير اعلي سميت تمام صوبائي وزراء ، ممبران اسمبلي اور سينٹروں کو طلب کرليا ہے اور پير کو اس سلسلے ميں بلاول ہاؤس ميں ايک اہم اجلاس ہوگا - پاکستاني ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس ميں اہم فيصلوں کي توقع کي جارہي ہے -

دوسري طرف صدر آصف زرداري نے بلوچستان کي سبھي مذہبي اور بلوچ قيادت سے فوري مذاکرات کے لئے وزير اعظم راجا پرويز اشرف کي سربراہي ميں ايک کميٹي تشکيل دے دي ہے -

صدر پاکستان نے وفاقي حکومت کو ہدايت دي ہے کہ کوئٹہ دھماکوں ميں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقين کو فوري طور پر معاوضہ ديا جائے -

اطلاعات ہيں کہ زخميوں کو کوئٹہ سے کراچي منتقل کرنے کے لئے ايک طيارہ روانہ کيا جارہا ہے-

Sunday, 13 January 2013 10:38

جناب سودہ کی سیرت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

جناب سودہ، اہل مکہ اور قبیلہ قریش کے زمعہ بن قیس کی بیٹی تھیں- ان کا شجرہ نسب پیغمبر اسلام {ص} کے جد امجد تک پہنچتا ہے- جناب سودہ کے والد ان افراد میں سے تھے، جنھوں نے ابتداء میں پیغمبر اسلام {ص} کی دعوت کو قبول کرکے اسلام لایا تھا-

جناب سودہ نے پہلے اپنے چچیرے بھائی، سکران بن عمرو بن عبدالشمس سے ازدواج کی اور اس سے ان کے ہاں عبدالرحمن نامی ایک بیٹا پیدا ھوا تھا-

ظہور اسلام اور رسول خدا{ص} کی دعوت کے بعد پہلے خود سودہ مسلمان ھوئیں اور اس کے بعد ان کا شوہر بھی مسلمان ھوا اور کفار مکہ کی طرف سے مسلمانوں کو اذیت و آزار کا سلسلہ شروع ھونے کے بعد اس میاں بیوی نے بھی دوسرے مسلمانوں کے ہمراہ حبشہ ھجرت کی-

مکہ میں مسلمانوں کی فتحیابی اور مکہ کے باشندوں کےاسلام قبول کرنے کی خبر سننے کے بعد مسلمان حبشہ سے مکہ کی طرف واپس لوٹے- اس سفر میں جناب سودہ کے شوہر وفات پا گئے- لیکن جناب سودہ کو معلوم ھوا کہ مکہ میں مسلمانوں کی فتحیابی کی خبر صحیح نہیں تھی بلکہ مکہ کے کفار نے مسلمانوں کو اذیت و آزار پہچانے میں شدت اختیار کی ہے، تو انھیں شوہر کی رحلت کی مصیبت کے علاوہ اپنے کافر خاندان کے برتاو کےبارے میں سخت پریشانی ھوئی-

اس زمانہ میں کسی عورت کا تنہا اور بے سرپرست ھونا بھی نا پسند اور خطرناک سمجھا جاتا تھا، اس لئے ایسے تنہا افراد مجبور تھے کہ اپنے آپ کو اپنے قبیلہ یا قبیلہ کے سردار کی پناہ میں قرار دیں تاکہ دوسروں کے خطرے سے محفوظ حالت میں زندگی گزار سکیں-

پیغمبر اسلام {ص} سے ازدواج کرنے کی تجویز:

مذکورہ حوادث اور ان نا گفتہ بہ حالات اور غم و اندوہ والے ایام میں پیغمبر اسلام {ص} کے چچا ابو طالب رحلت کرگئے اور تھوڑی مدت کے بعد حضرت خدیجہ کبری{س} بھی اس دارفانی کو وداع کرگئیں اور پیغمبر اسلام {ص} اپنے چچا اور شریک حیات، حضرت خدیجہ کے فقدان کی وجہ سے انتہائی غمگین ھوئے-

پیغمبر اسلام {ص} نے حضرت خدیجہ{س} کی وفات کے بعد ایک سال تک اپنے لئے کسی شریک حیات کا انتخاب نہیں کیا- رسول خدا {ص} کے صحابی فکر مند تھے اور رسول خدا {ص} کے ہاں حضرت خدیجہ {س} کے مقام و منزلت سے آگاہ ھونے کے پیش نظر اس کوشش میں تھے کہ آنحضرت {ص} کے لئے حضرت خدیجہ {س} کی جدائی کے غم کو ہلکا کردیں، اس سلسلہ میں جناب عثمان بن مظعون کی بیوی خولہ بنت حکیم کو پیغمبر اکرم {ص} کی خدمت میں بھیجا، یہ ایک با ایمان اور ہمدرد خاتون تھیں-

خولہ بنت حکیم نے رسول اللہ {ص} سے ملاقات کے دوران آنحضرت {ص} سے کہا: " اے رسول خدا {ص} ہم دیکھ رہے ہیں، خدیجہ کے فراق نے آپ {ص} کو محزون و غمگین بنایا ہے- رسول خدا {ص} نے جواب میں فرمایا کہ :" جی ہاں، وہ میری اولاد اور خاندان کی ماں تھیں"

خولہ نے کہا: اے رسول خدا {ص} آپ {ص} کیوں ازدواج نہیں کرتے ہیں؟

پیغمبر خدا {ص} نےکچھ دیر تک خاموشی اختیار کی، آپ {ص} کی آنکھیں پر نم ھو گئیں، اس کے بعد فرمایا: کیا خدیجہ کے بعد بھی کوئی ہے؟

خولہ نے فرصت کو غنیمت سمجھ کر کہا: کیا میں آپ {ص} کے لئے خواستگاری کرسکتی ھوں؟

سر انجام رسول خدا{ص} نے اپنے لئے خواستگاری کے لئے خولہ بنت زمعہ کی تجویز سے موافقت کی- خولہ ایک مسن خاتون تھیں-

اس کے بعد خولہ بنت زمعہ، جناب سودہ کے پاس گئیں اور ان سے کہا کہ: آپ کے لئے خوشخبری لائی ھوں کہ آج کا دن اپنی ماں سے متولد ھونے کے بعد آپ کی زندگی کا بہترین دن ہے- جناب سودہ نے کہا : کیوں؟

خولہ نے جواب میں کہا: رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا ہے تاکہ آپ سے خواستگاری کروں-

سودہ نے کہا: کیا رسول خدا{ص} میرے ساتھ ازدواج کریں گے؟ خولہ نے کیا: جی ہاں، انھوں نے آپ کا نام لیا اور مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے-

سودہ نے مسن ھونے اور بیوہ ھونے کے باوجود اپنے باپ کے احترام میں کہا کہ: پس میں اپنے باپ سے اجازت حاصل کرتی ھوں-

خولہ کہتی ہیں کہ: میں سودہ کی خواستگاری کے لئے ان کے والد کے پاس گئیں اور کہا: محمد بن عبداللہ {ص} آپ کی بیٹی سودہ کے بارے میں خواستگاری کرنا چاہتے ہیں-

سودہ کے باپ نے کہا: محمد {ص} ایک کریم و عظیم شخصیت ہیں، لیکن ذرا دیکھو کہ سودہ کیا کہتی ہے-

جب سودہ نے اپنی مکمل رضامندی کا اظہار کیا تو ان کے باپ نے کہا: محمد {ص} سے کہنا کہ خواستگاری کے لئے تشریف لائیں- یہ مبارک رشتہ بعثت کے بعد دسویں سال کے رمضان المبارک میں منعقد ھوا اور اس کے بعد تقریبا تین سال تک آنحضرت {ص} نے کوئی دوسری شادی نہیں کی-

اس مسن خاتون سے پیغمبر اسلام {ص} کی شادی اہل مکہ کے لئے حیرت و تعجب کا باعث بنی اوراس کے ضمن میں آنحضرت {ص} کو اذیت و آزار نہ پہنچانے کا سبب بھی بنی-

سودہ کا بھائی عبد بن زمعہ، مسلمان ھونے کے بعد اظہار افسوس کرتا تھا کہ جب اس کی بہن سودہ کی پیغمبر {ص} سے شادی ھوئی تو وہ دیوانہ ھوکر اسے ایک بڑی مصیبت سجھتا تھا-

اس ازدواج کے بعد، سودہ بنت زمعہ کے قبیلہ کے افراد نے ، رسول خدا {ص} کے درمیان محبت و الفت ایجاد ھونے اور آنحضرت {ص} کے حسن اخلاق کے دلدادہ ھونے کی وجہ سے جوق در جوق اسلام قبول کیا-

یہ ازدواج ھجرت سے ایک سال پہلے واقع ھوئی- سودہ، فاطمہ زہراء {س} اور ام کلثوم کی پرورش کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتی تھیں-

کہا جاتا ہے کہ پیغمبر اسلام {ص} نے مکہ میں تین خواتین سے ازدواج کی ہے ، جناب خدیجہ، جناب سودہ، اور جناب عائشہ- اس کے بعد باقی ازدواج مدینہ منورہ میں کی ہیں-

رسول خدا {ص} کو خوشحال رکھنے کے لئے جناب سودہ کی کوششیں:

سیرت کی بعض کتابوں کے مطابق، جناب سودہ، آنحضرت {ص} سے عمر میں کافی تفاوت رکھتی تھیں، لیکن ایک مومنہ اور با وقار خاتون تھیں اور آنحضرت {ص} کے ساتھ کافی مہربانی سے پیش آتی تھیں-

ام المومنین جناب سودہ ہمیشہ کوشش کرتی تھیں کہ اپنے کردار و رفتار سے آنحضرت {ص} کو خوشحال رکھیں، مسن ھونے کے باوجود آنحضرت {ص} کی خدمت میں شوخ مزاج تھیں-

جناب سودہ کا پیغمبر اسلام {ص} کی خدمت میں خوش آیند مسائل کو خندہ پیشانی کے ساتھ پیش کرنا مختلف صورتوں میں بیان کیا گیا ہے اور یہ سب، پیغمبر اسلام {ص} کو خوشحال کرنے کے لئے ان کی کوششوں کی دلیل ہے-

رسول خدا {ص} نے مکہ سے مدینہ ھجرت کرنے اور مدینہ میں قیام کرنے کے بعد زید بن حارثہ کو ان کے غلام ابا رافع کے ساتھ دو اونٹ اور پانچ سو درہم دے کر مکہ بھیجا تاکہ فاطمہ زہراء {س} جناب ام کلثوم، جناب سودہ ، جناب ام ایمن حبشیہ { زید بن حارثہ کی بیوی} اور اسامہ بن زید کو مدینہ لائیں-

زید بن حارثہ نے اپنی ماموریت انجام دی اور انھیں حارثہ بن نعمان کے گھر میں رکھا-

ذہبی کہتے ہیں: " پیغمبر اسلام {ص} نے مدینہ میں پہلا گھر سودہ کے لئے تعمیر کیا اورآنحضرت نے تین سال تک کسی دوسری عورت سے شادی نہیں کی-"

بعض روایات کے مطابق ، حضرت خدیجہ {س} کے بعد پیغمبر {ص} کی بیویوں میں سخاوت مند ترین بیوی جناب سودہ تھیں- ابن سعد نے محمد بن سیرین سے نقل کیا ہے کہ: عمر نے درہموں سے بھرے ایک برتن کو جناب سودہ کی خدمت میں بھیجا- جناب سودہ نے کہا: یہ کیا ہے؟ کہاگیا کہ: یہ درہم ہیں- پس انھوں نے انھیں محتاجوں میں تقسیم کیا-

جناب سودہ کا بعض جنگوں میں پیغمبر اکرم {ص} کے ساتھ حضور:

بعض روایتوں سے معلوم ھوتا ہے کہ جناب سودہ، جنگ خیبر جیسی بعض جنگوں میں پیغمبر اسلام {ص} کے ہمراہ تھیں-

ابن سعد اپنی کتاب " طبقات" میں کہتے ہیں:" پیغمبر اسلام {ص} نے جنگ خیبر میں جناب سودہ کو ستر"وسق" خرما اور بیس"وسق" جو دئے{وسق یعنی ایک اونٹ بار}- اس سے معلوم ھوتا ہے کہ جناب سودہ جنگ خیبر میں پیغمبر اکرم {ص} کے ہمراہ تھیں-

اختلاف کا پیدا ھونا:

جب پیغمبر اسلام {ص} کی بیویاں، پیغمبر اکرم {ص} کے نفقہ ادا کرنے کے طریقہ کار سے ناراض ھو گئیں اور زیادہ نفقہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا تو رسول خدا {ص} نے انھیں آپ {ص} کے ساتھ رہنے یا طلاق حاصل کرنے میں اختیار دیا تو خداوند متعال کی طرف سے یہ آیتیں نازل ھوئیں: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا. وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآَخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا»(احزاب/28ـ29{ پیغمبر آپ اپنے بیویوں سے کہہ دیجئے اگر تم لوگ زندگانی دنیا اور اس کی زینت کی طلبگار ھوتو آو میں تمھیں متاع دنیا دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں اور اگر اللہ اور رسول اور آخرت کی طلبگار ھو تو خدا نے تم میں سے نیک کردار عورتوں کے لئے بہت بڑا اجر فراہم کر رکھا ہے}

جناب سودہ، ان آیات کو سننے کے فورا بعد رسول خدا{ص} کی خدمت میں حاضر ھوئیں اور کہا: میں کچھ نہیں چاہتی ھوں-

جناب عائشہ سے روایت نقل کی گئی ہے کہ: " سودہ کو یہ ڈر تھا کہ کہیں پیغمبر اکرم {ص} انھیں مسن ھونے کی وجہ سے طلاق نہ دیں-"

جناب سودہ، جناب عائشہ کے مقا بلے میں ان کی نانی کے مانند تھیں اور انھوں نے بارہا یہ آرزو کی تھی کہ خداوند متعال مجھے قیامت کے دن پیغمبر اسلام {ص} کی شریک حیات کے عنوان سے محشور کرے-

بعض مورخین نے لکھا ہے کہ جناب سودہ اور پیغمبر اکرم {ص} کے درمیان کچھ مسائل پیدا ھوئے تھے اور پیغمبر اکرم {ص} انھیں طلاق دینا چاہتے تھے – جناب سودہ نے پیغمبر اکرم {ص} سے کہا: اے رسول خدا {ص} مجھے طلاق نہ دینا ، تاکہ قیامت کے دن آپ کی بیویوں میں شمار ھو جاوں اور پیغمبر اسلام {ص} نے انھیں طلاق نہیں دیا-

حجتہ الوداع میں جناب سودہ کا اقدام:

حجتہ الوداع میں جناب سودہ بھی پیغمبر اسلام {ص} کی دوسری بیویوں کے ہمراہ بیت الحرام کی زیارت کے لئے مشرف ھوئی تھیں اور پیغمبر اسلام {ص} کی رحلت کے بعد، چونکہ قرآن مجید میں خداوند متعال نے حکم دیا تھا کہ اپنے گھروں میں بیٹھیں، اس لئے وہ اس کے بعد مکہ نہیں گئیں- حاجی کےلئے واجب ہے کہ حالت احرام میں جب عرفات سے فارغ ھو جائے، تو مزدلفہ جاکر نماز صبح تک وہاں پر وقوف کرے اور اس کے بعد آگے بڑھے- حجتہ الوداع میں جب جناب سودہ، پیغمبر اسلام{ص} کے ہمراہ حج کا فریضہ انجام دے رہی تھیں، وہ چل نہیں سکتی تھیں، کیونکہ جناب سودہ ایک عمر رسیدہ خاتون تھیں اور بڑی مشکل سے چل سکتی تھیں- انھوں نے رسول خدا {ص} کی خدمت عرض کی: اے رسول خدا{ص} میں یہاں پر { مزدلفہ میں} صبح تک نہیں رہ سکتی ھوں- رسول خدا {ص} نے انھیں آگے بڑھنے کی رخصت دیدی تاکہ صبح اور ازدحام ھونے سے پہلے رمی جمرات بجا لاکر واجب طواف بجا لائے- اور جناب سودہ کا یہ عمل معذور افراد کے لئے اس کام کے جواز کا سبب بنا-

دوسرے خلیفہ جناب عمر بن خطاب نے اپنی خلافت کے دوران ایک بار پیغمبر اکرم {ص} کی بیویوں کوخانہ خدا کی زیارت کرنے کی اجازت دیدی اور جناب سودہ اور زینب بنت جحش کے علاوہ پیغمبر اسلام {ص} کی سب بیویاں خانہ خدا کی زیارت کے لئے گئیں، لیکن آنحضرت {ص} کی ان دو بیویوں نے کہا کہ، ہم رسول خدا {ص}کے بعد کسی مرکب پر سوار نہیں ھوں گیں- جناب سودہ نے کہا کہ میں گھر میں رہنا چاہتی ھوں ، کیونکہ خداوند متعال نے مجھے اس کا حکم دیا ہے-

جناب سودہ کی خدا اور اس کے پیغمبر{ص} کی اطاعت:

سیوطی لکھتے ہیں:" وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلاَ تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّة الأولى"والی آیت کے نازل ھونے کے بعد جب جناب سودہ سے کہا گیا کہ آپ کیوں حج بجا لانے کے لئے نہیں جاتی ہیں؟ تو انھوں نے جواب میں کہا: میں نے حج اور عمرہ بجا لایا ہے اور خداوند متعال نے مجھے حکم دیا ہے کہ اپنے گھر سے باہر نہ نکلوں اور گھر میں ہی رھوں-

لکھا گیا ہے کہ جناب سودہ گھر سے باہر نہ نکلیں یہاں تک کہ ان کا جنازہ ان کے گھر سے باہر لایا گیا-

جناب سودہ کی وفات:

جناب سودہ نے خلیفہ دوم جناب عمر بن خطاب کی خلافت کے زمانہ میں وفات پائی اور انھیں قبرستان بقیع میں سپرد خاک کیا گیا-

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

جناب زینب بنت جحش، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک شریک حیات تھیں- ان کے والد جحش بن رئاب تھے اور ان کی والدہ امیمہ بنت عبدالمطلب، یعنی رسول خدا{ص} کی پھپھی تھیں- ھجرت کے پانچویں سال رونما ھونے والے اہم واقعات میں سے ایک واقعہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جناب زینب بنت جحش سے ازدواج کرنا تھا-

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ام المومنین جناب زینب بنت جحش سے ازدواج کرنے کے بارے میں تفصیلات بیان کرنے سے قبل ضروری ہے کہ ان کے پہلے شوہر، زید بن حارثہ سے ان کی ازدواج کی داستان بیان کی جائے-

کہا جاتا ہے کہ جس دوسرے مرد نے رسول خدا {ص} پر ایمان لایا، وہ زید بن حارثہ تھا- زید بن حارثہ بعثت سے کئی سال قبل ام المومنین حضرت خدیجہ{س} کے گھر میں ایک غلام کی حیثیت سے آگیا تھا اور رسول خدا {ص} نے انھیں حضرت خدیجہ سے لے کر آزاد کیا اور اس کے بعد اسے اپنا بیٹا کہا اور مکہ کے لوگ بھی، اس کے بعد اسے زید بن محمد {ص} کہتے تھے-

زید کی اسیری اور غلامی کی داستان:

زید، قبیلہ کلب کا ایک جوان تھا- ان کے قبیلہ اورایک دوسرے عرب قبیلہ کے درمیان لڑائی کے نتیجہ میں زید کو اسیر کیا گیا اور اسے عکاظ کے بازار میں فروخت کرنے کے لئے رکھا گیا اور حضرت خدیجہ {س} کے بھتیجے، حکیم بن حزام نے، حضرت خدیجہ {س} کی طرف سے ایک غلام خرید نے کی سفارش پر، زید بن حارثہ کو خریدا اور حضرت خدیجہ {س} کے لئے اسے مکہ لے آیا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب حضرت خدیجہ {س} کو اپنی شریک حیات قرار دیا، آنحضرت{ص} زید سے پیار و محبت کرنے لگے یہاں تک کہ اسے " زید الحب" کہنے لگے- حضرت خدیجہ {س}نے جب اس قسم کی محبت کا مشاہدہ کیا، تو زید کو آنحضرت {ص} کی خدمت میں بخش دیا-

ایک زمانہ گزرنے کے بعد قبیلہ بنی کلب کے کچھ افراد حج انجام دینے کے لئے مکہ آگئے، اور انھوں نے وہاں پر زید کو دیکھا اور اسے پہچان لیا اور زید نے بھی انھیں پہچان لیا اور کہا کہ: میں بخوبی جانتا ھوں کہ میرے ماں باپ نے میرے فقدان کی وجہ سے جزع و فزع کیا ہے اور اس کے ضمن میں اپنی صحت و سلامتی اور خوشحال ھونے کے بارے میں چند اشعار کہے اور خداوند متعال کا شکر بجا لایا کہ اسے پیغمبر اکرم {ص} کے گھر میں قرار دیا ہے:

"فانّی بحمد اللّه ِ فی خیرٍ اُسْرَةٍ کرامٍ مَعَدٍّ کابرا بعد کابر."

بنی کلب کے افراد نے زید کے زندہ ھونے اور اس کی حالت کی خبر، اس کے والدین کو پہنچا دی- زید کے والد اور چچا فدیہ دے کر زید کو آزاد کرانے کے لئے پیغمبر اسلام {ص} کی خدمت میں حاضر ھوئے اور کہا: اے فرزند عبدالمطلب؛ اے فرزند ہاشم؛ اے اپنی قوم کے سرادر کے فرزند؛ ہم اپنے بیٹے کے بارے میں آپ سے گفتگو کرنے کے لئے آئے ہیں،جو آپ کے پاس ہے- ہم پر مہربانی اور احسان کرنا اور فدیہ حاصل کرکے اسے آزاد کرنا- پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسے آزاد کروں؟ انھوں نے کیا: زید بن حارثہ کو- پیغمبر اسلام {ص} نے فرمایا: آپ لوگ کیوں کوئی دوسری تجویز پیش نہیں کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: کونسی تجویز؟ آنحضرت {ص} نے فرمایا: اسے بلا ئیے اور اسے اپنا فیصلہ خود کرنے کا اختیار دیجئے- اگر اس نے آپ لوگوں کو اختیار کیا، تو وہ آپ کا ہے اور اگر مجھے اختیار کیا، تو خدا کی قسم جو مجھے ترجیح دیدے، میں اس کے بارے میں کسی صورت میں اور کسی قیمت پر معاملہ نہیں کروں گا- انھوں نے کہا: آپ {ص} نے ہمارے ساتھ عدل و انصاف پر مبنی بات کی ہے اور ہم پر احسان کیا ہے-

پیغمبر اسلام {ص} نے زید کو بلایا اور فرمایا: کیا ان کو جانتے ھو؟ اس نے جواب میں کہا: جی ہاں، یہ میرے والد اور وہ میرے چچا ہیں- پیغمبر اکرم {ص} نے فرمایا: میں وہی ھوں جسے تم نے پہچانا اور جس کے ساتھ تم نے ہم نشینی کی ہے- مجھے اور ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا- زید نے کہا: میں ان کو نہیں چاہتا ھوں – میں کسی کو بھی آپ {ص} پر ترجیح دینا نہیں چاہتا ھوں- آپ {ص} میرے لئے میرے باپ اور چچا ہیں- زید کے والد اور چچا نے کہا: اے زید؛ تم پر افسوس ھو؛ کیا تم غلامی کو آزاد ھونے اور اپنے باپ اور چچا پر ترجیح دیتے ھو؟ زید نے جواب میں کہا: جی ہاں، یہ شخص ایسی خصوصیات کے مالک ہیں کہ میں کسی کو ان پر ترجیح نہیں دیتا ھوں- جب رسول خدا {ص} نے اس کا مشاہدہ کیا، اسے حجر اسماعیل میں لے جاکر اعلان کیا: اے حضار؛ گواہ رہنا کہ زید میرا بیٹا ہے، اسے مجھ سے وراثت ملے گی اور مجھے اس سے وراثت ملے گی- جب زید کے باپ اور چچا نے اس امر کا مشاہدہ کیا، تو وہ خوشحال ھوکر اپنے وطن کی طرف لوٹے-

حضرت محمد مصطفے {ص} کے رسالت پر مبعوث ھونے اور اس واقعہ کو چند سال گزرنے کے بعد، سورہ احزاب کی آیت نمبر ۵ اور ۶ " اُدعوُهم لِآبائِهِم هُوَ اَقسَطُ عِندَاللَهِ فَاِن لَم تَعلَموُا اَبآئَهُم فَاِخوانُکُم فی الدین وَ مَوالیکُم وَ لَیسَ عَلَیکُم جُناح فیما اَخطاتُم بِهِ وَ لَکِن ما تَعَمَدَت قُلوبُکُم وَکان اللهُ غَفورا رَحیما " و " اَلنَبی اَولی بِالمومِمنین مِن اَنفُسِهِم وَ اَزواجُهُ اُمَهَتُهُم وَ اوُلوا الاَرحامِ بَعضُهُم اَولی بِبَعض فی کِتَب الله مِنَ المُومنین وَ المُهَجِرین الا اَن تَفعَلوا اِلی اَولیائِکُم مَعروفا کان ذَلِکَ فی الکِتَبِ مَسطُورا"{ ان بچوں کو ان کے باپ کے نام سے پکارو کہ یہی خدا کی نظر میں انصاف سے قریب تر ہے اور اگر ان کے باپ کو نہیں جانتے ھو تو یہ دین میں تمھارے بھائی اور دوست ہیں اور تمھارے لئے اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے جو تم سے غلطی ھوگئی ہے البتہ تم اس بات کے ضرور ذمہ دار ھو جو تمھارے دلوں نے قصدا انجام دی ہے اور اللہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے- بیشک نبی تمام مومنین سے ان کے نفس کی بہ نسبت زیادہ اولی ہے اور ان کی بیویاں ان سب کی مائیں ہیں اور مومنین و مہاجرین میں سے قرابتدار ایک دوسرے سے زیادہ اولویت اور قربت رکھتے ہیں مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ نیک برتاو کرنا چاھوتو کوئی بات نہیں ہے یہ بات کتاب خدا میں لکھی ھوئی موجود ہے} کے مطابق یہ حکم منسوخ ھوا اور قرار پایا منہ بولے بیٹوں کو اپنے اصلی باپ کے نام سے پکارا جائ اور اس کے بعد زید کو زید بن حارثہ کے نام سے پکارا گیا-

زینب بنت جحش سے زید بن حارثہ کی ازدواج:

رسول خدا{ص} نے زید سے محبت کی بناپر فیصلہ کیا کہ زید کے لئے ایک شریک حیات کا انتخاب کریں اور اسی وجہ سے کسی کو زینب بنت جحش کے پاس خواستگاری کے لئے بھیجا- زینب اور ان کے رشتہ داروں نے پہلے خیال کیا کہ شاید پیغمبر {ص} نے اپنے لئے خواستگاری کی ہے اور خوشحال ھوکر مثبت جواب دیا – لیکن جب انھیں معلوم ھوا کہ یہ خواستگاری زید بن حارثہ کے لئے ہے، تو پشیمان ھوکر آنحضرت {ص} کو پیغام بھیجا کہ یہ ازدواج ہمارے خاندان کی شان و حیثیت کے خلاف ہے اور اس طرح اس رشتہ کے لئے آمادہ نہیں ھوئی اور جب سورہ احزاب کی ۳۶ ویں آیت":وَ ما کان لِمومِن وَ لا مومِنَه اِذا قَضَی اللهُ وَ رَسوُلُهُ اَمرا اَن یَکُونَ لَهُمُ الخِیَرَهُ مِنَ اَمرِهِم وَ مَن یَعصِ اللهَ وَ رَسُولَهُ فَقَد ضَلَ ضَلَلا مُبینا"{ اور کسی مومن مرد یا عورت کو اختیار نہیں ہے کہ جب خدا و رسول کسی امر کے بارے میں فیصلہ کردیں تو وہ بھی اپنے امر کے بارے میں صاحب اختیار بن جائے اور جو بھی خدا و رسول کی نافرمانی کرے گا وہ بڑی کھلی ھوئی گمراہی میں مبتلا ھوگا} نازل ھوئ، تو زینب بنت جحش نے اس ازدواج کے لئے اپنی رضامندی کا اعلان کیا اور اس طرح زید کی شریک حیات بنیں-

ایک مدت کے بعد ان دو کے درمیان کچھ مشکلات پیدا ھوئے- زید نے پیغمبر اکرم {ص} کی خدمت میں شکایت کی اور زینب بنت جحش کو طلاق دینا چاہا- لیکن پیغمبر اسلام {ص} نے اسے صبر و تحمل کرنے کی نصیحت کی اور فرمایا: " اپنی شریک حیات کو نہ چھوڑنا :" اَن زیدا جاء یشکوا زوجتُهُ فَجَعَلَ النَبی یقُولُ: اِتَقِ الله وَ اَمسِک عَلیک زوجک" ایک مدت کے بعد زید پھر سے پیغمبر اکرم {ص} کی خدمت میں آگیے اور خبر دیدی کہ ان کے اور زینب کے درمیان روابط انتہائی حد تک خراب ھوئے ہیں اور دونوں طلاق کے نتیجہ پر پہنچے ہیں- اس وقت پیغمبر اسلام {ص} پر وحی نازل ھوئی اور خداوند متعال نے یوں ارشاد فرمایا: وَ اِذ تَقول لِلَذی اَنعَمَ اللهُ عَلَیهِ وَ اَنعَمت عَلَیهِ اَمسِک عَلَیکَ زَوجَکَ وَ اتَقِ اللهَ وَ تُخفی فی نَفسِکَ ما اللهُ مُبدیهِ وَ تَخشَی النَاسَ وَ اللهُ اَحَقُ اَن تَخشَهُ فَلَمَا قَضَی زَید مِنهَا وَطَرا زَوَجنَکَهَا لِکَی لایَکونَ عَلَی المومنینَ حَرَج فی اَزوَاجِ اَدعِیائِهِم اِذا قَضَوا مِنهُنَ وَطَرا وَکان اَمرُ اللهِ مَفعُولا}( احزاب،۳۷ }اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اس شخص سے جس پر خدا نے بھی نعمت نازل کی اور تم نے بھی احسان کیا یہ کہہ رہے تھے کہ اپنی زوجہ کو روک کر رکھو اور اللہ سے ڈرو اور تم اپنے دل میں اس بات کو چھپائے ھوئے تھے جسے خدا ظاہر کرنے والا تھا اور تمھیں لوگوں کے طعنوں کا خوف تھا حالانکہ خدا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے اس کے بعد جب زید نے اپنی حاجت پوری کرلی تو ہم نے اس عورت کا عقد تم سے کردیا تاکہ مومنین کے لئے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے عقد کرنے میں کوئی حرج نہ رہے جب وہ لوگ اپنی ضرورت پوری کرچکیں اور اللہ کا حکم بہرحال نافذ ھوکر رہتا ہے}

جس چیز کو پیغمبر اسلام {ص} لوگوں کے خوف سے چھپاتے تھے، وہ کیا تھی؟ خداوند متعال ایک حکم کو ثابت کرنا چاہتا تھا اور لوگوں کو ایک دوسرا طریقہ کار سکھانا چاہتا تھا، جو ایام جہالت کے احکام و آداب کے خلاف تھا- اگر عرب کسی کو منہ بولا بیٹا بناتے تھے، اسے اپنی نسبت دیتے تھے اور اس کو اس کے اصلی باپ سے منسوب نہیں کرتے تھے- اس امر کا سورہ احزاب کی آیت نمبر ۴۰ میں ذکر کیا گیا ہے:" ما کان مُحَمَد اَبا اَحَد مِن رِجَالِکُم وَلَکِن رَسُولَ اللهِ وَ خَاتَمَ النَبیینَ وَ کانَ اللهُ بِکُلِ شَی ء عَلیمَا" {محمد تمھارے مردوں میں سے کسی ایک کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور سلسلہ انبیاء کے خاتم ہیں اور اللہ ہر شے کا خوب جاننے والا ہے} خداوند متعال اس رسم و رواج کو خاتمہ بخش کر اسلام میں نئے معارف کی بنیاد ڈالنا چاہتا تھا- بہر حال زینب بنت جحش زید بن حارثہ سے جدا ھوئیں-

زینب بنت جحش سے رسول خدا {ص} کی ازدواج:

خداوند متعال نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وحی فرمایا کہ چونکہ زینب نے خدا کی رضامندی کے لئے عربوں کے رسوم اور اپنی مرضی کے خلاف ایک ایسے شخص سے ازدواج کی تھی جو اس کے مقام و منزلت سے پست تر تھا، اس لئے خدا وند متعال نے اسے اکرام بخشا ہے اور وہ آپ {ص} کی بیوی بن جائے گی-

جناب زینب بنت جحش مہاجر خاتون تھیں اور ان کا تعلق مکہ کے شریف خاندان سے تھا- انھوں نے ھجرت کےتیسرے یا پانچویں سال میں، وحی الہی کے مطابق ۳۵ سال کی عمر میں رسول خدا {ص} سے ازدواج کی- زینب بنت جحش نے اس نعمت کے شکرانہ کے طور پر دو مہینے تک روزے رکھے-

جناب زینب بنت جحش، پیغمب اسلام {ص} کے ساتھ ازدواج کرنے کے بعد فخر و مباہات کا اظہار کرتی تھیں اور پیغمبر اکرم {ص} کی دوسری بیویوں سےبار ہا خطاب کرکے فرماتی تھیں:" میں آپ خواتین سے فرق رکھتی ھوں، کیونکہ آپ کو آپ کےخاندان والوں نے پیغمبر اکرم {ص} کے عقد میں قرار دیا ہے، لیکن مجھے خداوند متعال نے سات آسمانوں سے پیغمبر اسلام {ص} کے عقد میں قرار دیا ہے-" فکانت تفخر علی ازواج النبی "ص" و تقول: زوجکن اهالیکن و زوجنی الله من فوق السموات"

جناب عائشہ کہتی ہیں:" پیغمبر اکرم {ص} کی بیویوں میں سے زینب کے علاوہ کوئی میرا مقابلہ نہیں کرسکتی تھیں-"

رسول خدا {ص} اپنی اس بیوی کو " آواہ" کہتے تھے، یعنی متواضع اور متفرح – جناب عائشہ، ان کے بارے میں یوں کہتی ہیں:" :" ما رایتُ امراه قط خیرا فی الدین من زینب ، و اتقی لله، و اصدق حدیثا، و اوصَلُ للرحم، و اعظم امانه و صدقه " " میں زینب سے دیندار تر، باتقوی تر، صادق تر، ارحام دوست تر، امین تر اور زیادہ صدقہ دینی والی کسی عورت کو نہیں جانتی ھوں-"

جناب زینب صالح اور پرہیزگار ھونے کے ضمن میں ایک محنت کش اور فعال خاتون تھیں- وہ چمڑے کی رنگسازی کرنے اور سلائی میں مہارت رکھتی تھیں اور وہ روزہ داری اور شب بیداری میں مشہور تھیں-

دستکاری کی ماہر تھیں اور اس سے حاصل کی گئی کمائی کو فقراء اور محتاجوں میں صدقہ کے طور پر تقسیم کرتی تھیں، ان سب سے بالا تر یہ کہ وہ احادیث کی راوی تھیں اور انھوں نے پیغمبر اسلام {ص} سے گیارہ ہزار احادیث نقل کی ہیں-

پیغمبر اکرم {ص} کی رحلت کے بعد جناب زینب کی زندگی:

پیغمبر اکرم {ص} کی دوسری بیویوں کی بہ نسبت جناب زینب کے زیادہ خصوصیات کی مالک ھونے کی دلیل یہ تھی وہ حضرت خدیجہ {س} کے بعد دولتمند ترین خاتون تھیں اور فقیروں اور حاجتمندوں کی کافی مدد کرتی تھیں-

خداوند متعال نے جناب زینب بنت جحش کے خاندان کو دولت عطا کرکے، جناب زینب کی حالت بہتر بنائی تھی اور خدا کی یہ عنایت اس کے لئے مسلسل جاری تھی- جناب زینب چمڑے کے کام اور چٹائی بننے میں ماہر تھیں اور اس سے حاصل کی گئی کمائی کو فقیروں اور محتاجوں میں صدقہ کے طور پر تقسیم کرتی تھیں اور اس کے علاوہ پیغمبر اسلام {ص} کی دوسری بیویوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتی تھیں-

ایک دن پیغمبر اسلام {ص} اپنی بیویوں کے ساتھ تشریف فرماتھے، کہ فرمایا: " آپ میں سےجس کا ہاتھ دراز تر ہے وہ سب سے پہلے بہشت میں مجھ سے ملحق ھوگی-"

پہلے مرحلہ میں، پیغمبر اسلام {ص} کی اس فرمائش سے سبوں نے اس کے ظاہری معنی لئے اور اپنے ہاتھ باہر نکال کر دیکھنے لگیں کہ کس کا ہاتھ دراز تر ہے، لیکن بعد میں معلوم ھوا کہ پیغمبر اکرم {ص} کا مراد وہ ہے کہ جو ان میں سے زیادہ تر راہ خدا میں انفاق کرتی ہے- جناب زینب بنت جحش، پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد برابر با تقوی تھیں اور فقراء اور محتاجوں کی مدد کرتی تھیں- جناب زینب کی سخاوت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے دوسرے خلیفہ، جناب عمر بن خطاب کے زمانہ میں پیغمبر اکرم {ص} کی بیویوں کو ملنے والے وظیفہ سے استفادہ نہیں کیا ہے- لیکن ایک سال ان سے بارہ ہزار درہم وصول کرکے یتیموں میں تقسیم کیے اور دعا کی:" خداوندا؛ اس کے بعد مجھے عمر کے وظیفہ کا محتاج نہ بنانا، کیونکہ مال فتنہ ہے-"

پیغمبر اسلام {ص} کی بیویوں کو، جناب زینب بنت جحش کے سنہ ۲۰ ھجری میں ۵۲ سال کی عمر میں اس دنیا سے رحلت کرنے کے بعد معلوم ھوا کہ وہ سب سے سخاوتمند تر تھیں، کیونکہ رحلت کے بعد انھوں نے کوئی درہم و دینار اپنے پیچھے نہیں چھوڑا تھا اور اپنی پوری دولت راہ خدا میں صرف کی تھی-

ام المومنین جناب زینب بنت جحش کو قبرستان بقیع میں سپرد خاک کیا گیا ہے-

ترتیب و پیشکش: شہیدہ بزرگی

حکومت تھائي لينڈ نے پناہ کي تلاش ميں سمندري راستے سے آنے والے سات سو روہنگيا مسلمانوں کو بے دخل کرنے کا اعلان کرديا ہے-

جرمن نيوز ايجنسي کے مطابق تھائي پوليس کے سربراہ نے بتايا ہے کہ ميانمار کے روہنگيا مسلمانوں کي يہ تعداد غير قانوني طور پر ملک ميں داخل ہوئي ہے اور ہم انہيں بے دخل کرنے کا ارادہ رکھتے ہيں-

تھائي لينڈ کي پوليس نے جمعرات کے روز تين سو ستانوے روہنگيا مسلمانوں کو جنوبي تھائي لينڈ ميں انساني اسمگلروں کے قبضے سے رہا کرايا تھا جبکہ اس علاقے کي ايک مسجد ميں پناہ ليئے ہوئے تين سو سات ديگر روہنگيا مسلمانوں کو گرفتار کرليا تھا- انساني حقوق کي عالمي تنظيموں نے حکومت تھائي لينڈ کے اس فيصلے پر کڑي نکتہ چيني کي ہے-

واضح رہے کہ ميانمار کے روہگيا کہلائے جانے والے مسلمانوں کو مقامي آبادي اور حکومت کي جانب سے تشدد اور امتيازي سلوک کا سامنا ہے جس کے تنيجے ميں ان کي بہت بڑي تعداد ملک سے فرار ہوکر ديگر ملکوں ميں پناہ لينے پر مجبور ہيں-

ترکي کي انجر ليک فوجي چھاوني ميں امريکي فوجيوں کے ہاتھوں قرآن سوزي اور ايک مسجد کے منبر کو جلائے جانے کے بعد ترک عوام ميں غم و غصہ پايا جارہا ہے۔

ترکي ميں ايک مقامي مذہبي ميگزين کي جانب سے اس انکشاف کے بعد ، ترکي کے مذہبي اور قوم پرست حلقوں نے امريکي فوجيوں کے اس گستاخانہ اقدام پر حکومت اور فوج کے ذمہ داروں سے وضاحت پيش کرنے کا مطالبہ کيا ہے ۔

ترکي کے ايک مقامي رسالے چوکوراوا نے اپنے تازہ شمارے ميں لکھا کہ امريکي فوجيوں نے نئے عيسوي سال کے موقع پر ترکي کي انجرليک فوجي چھاوني ميں قرآن مجيد اور مسجد کے منبر کو جلا ديا جس کے بعد ترکي ميں ، شہري تنظيموں اور اسلامي حلقوں نے انقرہ حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے اس گستاخي پر فوج کي خاموشي کي سخت مذمت کي ہے ۔

ترکي کي مختلف سياسي جماعتوں اور ديني تنظيموں نے بيان جاري کرکے امريکي فوجيوں کي شرمناک کارروائي کي سخت الفاظ ميں مذمت کي ہے۔

اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل بان کي مون نے پاکستان ميں شيعہ زائرين کي بس پر دہشت گردانہ حملے اور طالبان کے ہاتھوں اغوا کئے جانے کے بعد پاکستاني فوجيوں کے قتل کے واقعات کي مذمت کي ہے -

بان کي مون نے اسي طرح پاکستان ميں دہشت گردانہ واقعات ميں اضافے پر اپني گہري تشويش کا اظہار کيا-

اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل کے ترجمان مارٹين نسير کي نے ايک بيان ميں کہا کہ بان کي مون نے خاص طور پر مذہبي اقليتوں کے خلاف دہشت گردانہ اقدامات کي مذمت کي ہے -

بان کي مون نے ساتھ ہي طالبان کے ہاتھوں پاکستاني فوجيوں کے اغوا اور پھر انہيں قتل کرديئے جانے کےواقعے کي بھي مذمت کي - انہوں نے کہا کہ کوئي بھي دليل يا مطالبہ اس طرح کے دہشت گردانہ اقدامات کا جواز نہيں بن سکتا-

اقوام متحدہ نے حکومت پاکستان سے اپني يکجہتي کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگردي کے خلاف جنگ ميں پاکستان کے اقدامات کي حمايت کا اعلان کيا

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح (بروز منگل) قم کے ہزاروں انقلابی اور دیندار افراد کے اجتماع سے خطاب میں 19 دی ماہ میں قم کے عوام کے قیام کو مبارک ، فیصلہ کن اور اللہ تعالی کے سچے وعدوں کے پورا ہونے کا مظہر قراردیا اور دشمنوں کی حرکات و سکنات ، منصوبوں بالخصوص آئندہ خرداد ماہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے سلسلے میں دشمن کی سازشوں کے مقابلے میں پائداری، ہوشیاری اور بیداری پر تاکید کرتے ہوئے انتخابات کے بارے میں حکام ، خواص ، عوام ، ذرائع ابلاغ اور انتخابات میں نامزد ہونے والے افراد کی ذمہ داریوں کے بارے میں اہم نکات بیان کئے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب کے دوران اور حالیہ تین عشروں میں رونما ہونے والے واقعات اور 19 دی کے قیام جیسے یادگار واقعات کو سبق آموز قراردینے ہوئے فرمایا: بعض لوگ شاہ کی مغرور اور متکبر حکومت پر کامیابی اور امریکہ کی تسلط پسند اور ظالم حکومت کے ذلت آمیز چنگل سے رہائی کو مشکل اور محال تصور کرتے تھے ، لیکن اللہ تعالی کی مدد و نصرت سے شاہ کی طاغوتی حکومت تاریخ کے کوڑے داں میں پھینک دی گئی اور اسلامی جمہوریہ ایران اور ایرانی قوم نے امریکہ کے مد مقابل مکمل استقلال حاصل کرلیا اورآج دیگر قوموں کی آنکھوں میں ایرانی قوم کا نام اور اسلامی نظام قابل فخر اور مایہ ناز بن گیا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حالیہ تین عشروں میں کامیابیوں کو اللہ تعالی کے وعدوں کے محقق ہونے کا مظہر اور قرآن مجید کی متعدد آیات کا حوالہ دیتے ہوئےفرمایا: یقینی اور قطعی طور پر اللہ تعالی کی مدد و نصرت مناسب وقت میں مؤمن، پائدار، ہوشیار اور آگاہ قوموں کو حاصل ہوجاتی ہے اور یہ اللہ تعالی کی اٹل اور ناقابل تغییر سنت ہے اور اللہ تعالی کی اسی سنت کی بنیاد پر ایرانی قوم اس مرحلے میں اور دیگر مراحل میں اپنے دشمنوں پر کامیاب ہوجائےگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دنیا میں ایرانی قوم کےصحیح اہداف ، صاف و شفاف گفتگو اور ان اہداف کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں تدبیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر ایران کی عزیز قوم، اورحوصلہ مند و توانا جوان، استقامت اور پائداری کے ساتھ اپنی راہ پر گامزن رہیں گے تو بیشک اللہ تعالی کی سچی سنت کی بنیاد پر اور مناسب وقت میں ان کے تمام قومی ، مذہبی اور عالمی نعرے محقق ہوجائیں گے اور تاریخ کی راہ بدل جائے گی اور حضرت ولی عصر (عج) کے ظہور کی راہیں ہموار ہوجائیں گی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے اورایرانی عوام کو تنگ کرنے کے سلسلے میں سامراجی حکومتوں کے باہمی اتحاد و تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: سامراجی طاقتیں ماضی کی نسبت آج کھل کر اس بات کا اعتراف کررہی ہیں کہ اقتصادی پابندیوں کا مقصد ایرانی قوم کو تنگ اور پریشان کرنا ہے تاکہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے مد مقابل کھڑے ہوجائيں اور ایرانی حکام کو اپنے محاسبات میں تبدیلی لانےپر مجبور کریں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: لیکن اس سرزمین کے لوگوں کے رجحانات میں اسلام کے اصولوں ،انقلاب اور ایرانیوں کی قومی عزت کے سلسلے میں روز بروز اضافہ ہورہاہے اور یہ کام دشمن کی مرضی کے بالکل خلاف ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایرانی قوم کے ساتھ سامراجی طاقتوں کےمقابلے میں مؤثر عوامل کےتجزيہ و تحلیل میں قوم کی ہوشیاری اور بیداری کو بہت ہی ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: ہمیں اجتماعی تقوی اور ہمہ جہت بیداری اور ہوشیاری کے ساتھ دشمن کے منصوبوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیےاور کسی ایسے مسئلہ کو وجود میں نہ لائیں جو ہمیں دشمن سے غافل بنادے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حکام، مطبوعات اور انٹرنیٹی سائٹوں کے ذمہ دار افراد کو اپنی مکرر تاکیدات اور سفارشات کی طرف توجہ دلائی اور انھیں غلط اور جزئی مسائل بیان کرنے سے دور رہنے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: ان تمام سفارشوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم سب کی توجہ دشمن کی طرف مبذول ہونی چاہیے تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ دشمن کس ہدف اور مقصد کےپیچھے ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمن کے منصوبوں اور اہداف کو درک کرنے کے لئے پیش کردہ منطقی دائرہ کار یعنی قومی ہوشیاری پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: دشمن کی رفتار و گفتار سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے اپنی توجہ پانچ ماہ بعد خرداد ماہ 1392 میں ایران میں ہونے والے انتخابات پر مرکوز کررکھی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےصدارتی انتخابات کے گیارہویں مرحلے کے بارے میں دشمنوں اور اغیار کی روشوں اور تکنیک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمن سب سے پہلے انتحابات منعقد نہ ہونے کے سلسلے میں کوشش کرےگا لیکن انھیں معلوم ہےکہ ایسا ہونے والا نہیں ہے لہذا انھیں اس مسئلہ میں بالکل مایوسی کا سامنا ہے۔

رہبر معظم انقلاب نے اسی سلسلے میں مزید فرمایا: ایک مرتبہ کچھ افراد نے کوشش کی تاکہ انتخابات کو اگر ہوسکے تو دو ہفتوں کے لئے مؤخر کردیا جائے لیکن ہم نے تاکید کی کہ انتخابات کو ایک دن بھی مؤخر نہیں ہونا چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ انتخابات بالکل اپنے وقت پر ہوں گے اور دشمن کے لئے یہ راستہ بالکل مسدود اور بند ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمن کی طرف سے عوام کو انتخابات میں شرکت سے روکنے و مایوس کرنے کے سلسلے میں دشمن کے واضح ہدف اور رکاوٹ ڈالنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ممکن ہے بعض لوگ ہمدردی اور دلسوزی کے ساتھ انتخابات کے بارے میں اظہار خیال کریں لیکن سب کو اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ کہیں ان کے کسی اقدام سے دشمن کے منصوبے کو مدد نہ ملے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے آزاد انتخابات کی بار بار رٹ لگانے والے افراد پر شدید تنقید کرتے ہوئے فرمایا: یہ واضح ہے کہ انتخابات آزاد منعقد ہونے چاہییں کیا گذشتہ تین عشروں میں ہونے والے انتخابات آزاد منعقد نہیں ہوئے ہیں؟ کون سے ملک میں ایران سے زیادہ آزاد انتخابات منعقد ہوتے ہیں؟ آپ ہوشیاررہیں ، کہیں آپ کی یہ باتیں انتخابات میں عوام میں مایوسی پیدا ہونےکا سبب نہ بن جائیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں انتخابات میں دشمن کے منصوبوں کو مدد پہنچانے والے طریقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: کون سے ملک میں امیدواروں کی صلاحیتوں کے بارے میں جانچ پڑتال نہیں ہوتی؟ آپ کیوں اس مسئلہ پر اتنا زور دے رہے ہیں اس لئے تاکہ عوام کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ انتخابات میں شرکت کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔؟

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس دائرے میں عمدی یا غیر عمدی طورپر حرکت کرنے والے افراد کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: غفلت کا ہر گز شکار نہیں ہونا چاہیےاور دشمن کےمد نظر جدول کو بھرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انتخابات کی سلامت کے بارے میں شکوک وشبہات ڈالنے والے افراد پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان کے اس اقدام کو ایسی دیگر روشوں میں شمار کیا جو دشمن کے منصوبوں کو مدد پہنچاتی ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: میں بھی اسی بات پر تاکید اور اصرار کرتا ہوں کہ انۃحابات کو مکمل طور پر صحیح و سالم اور امانتداری کے ساتھ منعقد ہونا چاہیے اور حکومتی اورغیر حکومتی اہلکاروں کو قوانین کے مطابق اور تقوی اور پرہیزگاری کے ساتھ سالم انتخابات منعقد کرانے چاہییں اوریقینی طور پر ایسا ہی ہوگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے سالم انتخابات منعقد کرانے کے سلسلے میں بنیادی آئين میں موجود بہترین روشوں اور طریقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بنیادی آئين وقوانین کے طریقوں پر پابندی در حقیقت سالم انتخابات منعقد کرانےکی اصلی ضمانت ہے مگر یہ کہ بعض لوگ غیر قانونی طریقوں کا سہارا لیں جیسا کہ بعض افراد نے سن 1388 ہجری شمسی کے انتخابات میں غیر قانونی طریقوں پر عمل کیااورملک و قوم کے لئے مشکلات اور مسائل پیدا کئے اوراپنے لئے بھی دنیا اور ملاء اعلی میں شرمندگی اور بدبختی کے اسباب فراہم کئے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےانتخابات میں دشمن کے اصلی ہدف میں ممد و معاون روشوں کی تشریح میں عوام کی انتخابات میں کمرنگ شرکت کو قراردیتے ہوئے فرمایا: ممکن ہے بعض لوگ انتخابات میں کوئی حادثہ یاکوئی اقتصادی ، سیاسی یا سکیورٹی سے متعلق واقعہ رونما کرکے توجہ کو دوسری طرف مبذول کردیں کیونکہ یہ بھی دشمن کے منصوبوں میں شامل ہے۔ لیکن میں مطمئن ہوں کہ ایرانی قوم بہت ہی ہوشیار اور بابصیرت قوم ہے اور وہ دشمنوں کے مکر و فریب کو ناکام بنادےگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے آئندہ صدارتی انتخابات کے امیدواروں کے بارے میں بھی بیان کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انتخابات میں شرکت کو عوام کا حق و وظیفہ قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوری نظام اور اسلامی قوانین پر یقین رکھنے والا ہر فرد انتخابات میں اپنے اس حق کا استعمال کرےگااوراپنے وظيفہ پر عمل کرے گا اور بعض لوگ انتخابات میں اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لیں گے اور اپنی توانائیوں کو عوام کے سامنےآزمائیں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےملک کے انتظامی امور کے چلانے کو سنگین اور مشکل کام قراردیتے ہوئے فرمایا: اجرائی اور انتظامی کام کوئی معمولی اور آسان کام نہیں ہےبلکہ یہ کام بہت ہی مشکل کام ہے جو اعلی سطح کی انتظامیہ کے دوش پر ڈالا جاتا ہےلہذا ایسے لوگ صدارتی امیدوار بنیں جو اپنے اندر ایسی توانائی محسوس کریں اور انتظامی کام جانتے ہوں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں مزید فرمایا: ممکن ہے بعض افراد دوسری جگہوں پر کام میں مشغول ہوں اور تشخیص نہ دے سکیں کہ انتظامی اور اجرائی کام کتنا مشکل ہے لہذا ایسے افراد صدارتی انتخابات میں نامزد ہوں جو اجرائی اور انتظامی صلاحیتیں رکھتےہوں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےفرمایا: ایسے افراد صدارتی امیداوار بنیں جو اس سنگين کام کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور بنیادی آئین میں جو صلاحیتیں شرط ہیں ان پر بھی پورے اترتے ہوں جن کا گارڈین کونسل جائزہ لےگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: صدارتی امیدواروں کو حقیقی طورپر اسلامی نظام اور بنیادی قوانین سے لگاؤ رکھنا چاہیے اور ان میں بنیادی آئین کو نافذ کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے کیونکہ صدر اس سلسلے میں قسم کھاتا اور حلف اٹھاتا ہے اور قدرتی طور پر جھوٹی قسم نہیں کھانی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے خطاب کے اختتام پر آئندہ انتخابات کے بارے میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا: انشاء اللہ اور اللہ تعالی کےفضل و کرم سے آئندہ سال خرداد ماہ میں شاندار اورولولہ انگیز صدارتی انتخابات منعقد ہوں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قم کے عوام کے شاندار اور ولولہ انگیز اجتماع میں انقلاب سے پہلے اور انقلاب کے بعد قم کے عوام کے فیصلہ کن اور مؤثر اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: انیس دی کے واقعہ کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس قسم کے واقعات سےنئی نسل اپنے ماضی کی تاریخ سے واقف وآشناہوتی ہے جبکہ قوم کی قابل فخر مجاہدت کی بھی قدردانی ہوتی ہے اوراس عمل سے ہر دور کے جوانوں کو یہ سبق ملےگا کہ طاقتور طاقتوں اوردشمنوں کے مقابلے میں استقامت و پائداری سےحتمی کامیابی حاصل ہو جائےگی۔