Super User
تیس دسمبر کے فتنے بڑی طاقتوں کی سازش
تہران کے خطيب جمعہ نے تيس دسمبر دوہزرا نو کو ايراني عوام کي طرف سے اسلامي مقدسات ، اسلامي نظام اور انقلاب سے اعلان وفاداري کے تحت نکالي گئي بڑي بڑي ريليوں کو ملت ايران کي ہوشياري اور بصيرت کي علامت قرارديا -
تہران کے خطيب جمعہ حجت الاسلام کاظم صديقي نے کہا کہ ايران کے عوام نے اس دن ايک بار پھر ميدان ميں آکر اسلامي جمہوري نظام کو نقصان پہنچانے کے تعلق سے دشمنوں کي سازشوں اور فتنوں کو بري طرح ناکام بناديا تھا –
جناب کاظم صديقي نے تہران کي مرکزي نماز جمعہ کے خطبوں ميں کہاکہ ايران کے عوام نے تيس دسمبر دوہزار نو کو اسلامي جمہوري نظام کے خلاف مغرب کي سازشوں اور فتنوں کو ناکام بناتے ہوئے ملک کے اندر اور باہر دشمنوں پر کاري ضرب لگائي تھي –
انہوں نے کہا کہ ستائيس دسمبر دوہزار نو کو جب عاشورائے محرم کي عزاداري ہورہي تھي ايران کے اندر کچھ فتنہ پرور عناصر نے بيروني قوتوں کي مدد اور منصوبہ بندي سے فتنہ پيدا کرنے کي کوشش کي ليکن ملت ايران نے ہوشياري اور بصيرت کے ساتھ اس فتنے کي آگ کو خاموش کرديا اور اسلامي انقلاب کي تاريخ ميں ايک اور درخشاں باب کااضافہ کيا –
تہران کے خطيب جمعہ نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ ايران کے عوام نے گذشتہ تين عشروں کے دوران دشمنوں کي تمام تر سازشوں اور دباؤ کا پوري شجاعت کے ساتھ مقابلہ کيا –
انہوں نے کہا کہ ايران کے عوام نے مسلط کي گئي آٹھ سالہ جنگ کے معرکے کو بھي سرکرليا جب مشرق و مغرب کي طاقتيں صدام کي ہر طرح سے حمايت کررہي تھيں - انہوں نے کہا کہ ايران کے عوام اس کے بعد بھي اپنا مشن جاري رکھيں گے –
خطيب جمعہ نے کہا کہ اسلامي جمہوري نظام کے دشمنوں کو يہ جان لينا چاہئے کہ ايران کے عوام امام خميني رح کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ان لوگوں کا پوري قوت کے ساتھ مقابلہ کريں گے جو اسلامي انقلاب کي امنگوں کے خلاف سازشوں ميں مصروف ہيں –
واضح رہے کہ ستائيس دسمبر دوہزار نو مطابق عاشورائے محرم کو جب کچھ فريب خوردہ عناصر نے سوگواروں اور ماتمي انجمنوں پر حملہ کيا تو اس کے تين دن بعد پورے ايران کے عوام نے اپنے طور پر کروڑوں کي تعداد ميں سڑکوں پر نکل کر ملک کے اندر اور باہر کے دشمنوں کي سازشوں کے خلاف مظاہرہ کيا اور پوري بصيرت کا مظاہرہ کرکے دشمنوں کے ہر طرح کے فتنوں کي آگ کو خاموش کرتے ہوئے اسلامي نظام سے اپني وفاداري کا بھرپور ثبوت ديا جو اسلامي انقلاب کي تاريخ ميں ايک يادگار دن کي حيثيت اختيار کرگيا ہے -
امريکا ميں جنگ مخالفين کا احتجاج
امريکي شہر شيکاگو کے باشندوں نے ايک مظاہرہ کرکے امريکا کي جنگ پسندانہ پاليسيوں کي شديد الفاظ ميں مذمت کي ہے
پريس ٹي وي کے مطابق شيکاگو کے شہريوں نے اتوار کو شہر کي سڑکوں پر نکل کر صدر باراک اوباما کي جنگ پسندانہ پاليسيوں کے خلاف نعرے لگائے –
مظاہرين نے بوئنگ جنگي اور بمبار طيارے بنانےوالي کمپني کے باہر اجتماع کيا اور اس کمپني کے ذريعے بمبار اور جاسوس طياروں کي بڑي تعداد ميں ڈيزائننگ اور پيداوار کي مذمت کي –
مظاہرين نے امريکي حکومت سے مطالبہ کيا کہ وہ ديگر ملکوں منجملہ شام اور ايران کے داخلي معاملات ميں مداخلت سے پرہيز کرے-
ايرانيوں کو امريکا کے غير ضروري سفر سے پرہيز کي ہدايت
اسلامي جمہوريہ ايران نے اپنے شہريوں سے کہا ہے کہ وہ امريکا کا غير ضروري سفر کرنے سے اجتناب کريں -
وزارت خارجہ کے ترجمان نے امريکا ميں منظم طريقے سے ايرانو فوبيا پھيلائے جانے اور امريکي سيکورٹي محکمے کے ذريعے ايراني شہريوں کو ہراساں کئے جانے کي مسلسل کاروائيوں اور اسي طرح امريکي پوليس کي تحويل ميں ايک ايراني شہري داريوش سررشتہ دار کي موت کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ ايراني شہريوں کو امريکا کا غير ضروري سفر کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے - انہوں نے ايراني شہريوں کو ہدايت کي کہ وہ امريکا کا سفر کرنے ميں جتنا زيادہ ہوسکے احتياط سے کام ليں –
وزارت خارجہ کےترجمان مہمان پرست نے کہا کہ امريکا ميں منظم طريقے سے ايرانو فوبيا پھيلانے کا يہ سلسلہ ايک ايسے وقت جاري ہے جب ايراني شہريوں کے لئے امريکا کا سفر کرنا دشوار ہوگيا ہے –
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سن رسيدہ ايراني شہري داريوش سررشتہ دار کو پانچ گھنٹے تک باز پرس کے عمل سے گذارنا اور امريکي سيکورٹي اہلکاروں کے ذريعے ان کے ساتھ انتہائي غير انساني رويہ اپنا يا جانا کسي بھي لحاظ سے قابل قبول نہيں ہے –
ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے زور دے کر کہا کہ امريکا کے حکام اور متعلقہ اداروں سے يہ توقع کي جاتي ہے کہ اس واقعے کي تحقيقات انجام دے کر نتائج سے ايران کو آگاہ کريں گے اور واقعے ميں ملوث خطاکار لوگوں کو سزادي جائے گي –
واضح رہے کہ تہتر سالہ ايراني شہري داريوش سررشتہ دار جو اپني بيٹي اور نواسي سے ملنے امريکا گئے تھے ڈاليس بين الاقوامي ہوائي اڈے پر سيکورٹي فورس کے اہلکاروں نے ان سے سخت باز پرس کي اور نتيجے ميں دو دنوں کے بعد وہ انتقال کرگئے –
ايران کي پيشرفت، پرچم توحيد کي سربلندي
اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے کہا ہے ايراني عوام کي پيشرفت کا مطلب پوري دنيا ميں پرچم توحيد کي سربلندي ہے -
صدر احمدي نژاد نے ايران پر مسلط کي گئي آٹھ سالہ جنگ کے دوران اسير کرلئے گئے جانبازوں سے ملاقات ميں جو بعد ميں آزاد ہوکر ايران واپس آچکے ہيں، اسلامي جمہوريہ ايران کي ترقي وپيشرفت کي راہ ميں دشمن کي طرف سے کھڑي کي جانےوالي مشکلات اور دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسي بھي قوم کي ترقي وپيشرفت کي راہ ميں ہميشہ مشکلات اور رکاوٹيں آتي ہيں ليکن ان مشکلات کا مقابلہ کرنے کے سوا اور کوئي راستہ نہيں ہوتا –
صدر ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اللہ کے لطف و کرم اور ايران کے عوام اور حکام کي کوششوں اور حوصلوں کي بدولت دشمن کي طرف سے کھڑي کي گئي مشکلات کو عبور کرليں گے کہا کہ آج صدام کي جيلوں سے آزاد ہوکر آنےوالے جانباز کئي سال کي قيد و بند کي زندگي گذارنے کے بعد ملک کے مختلف علمي سائنسي اور اقتصادي ميدانوں ميں اپنا بھرپور کردار ادا کررہے ہيں -
انہوں نے کہا کہ يہ لوگ اپنے جذبہ ايثار و فداکاري کے ذريعے ملک کي ترقي و پيشرفت ميں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہيں
سيد امام موسی صدر

خدا نے تمام انسانوں کے سامنے دین اسلام کو پیش کیا ہے تاکہ یہ مذھب ہر انسان کی زندگي کے تمام پہلووں پرحکم ہولیکن ہم دیکھتےہیں کہ انسانوں کی کوتاہیوں کی وجہ سے اب تک ایسا نہیں ہوسکا ہے۔ جب ہم اپنے ملک کے موجودہ حالات کی طرف نگاہ کرتےہیں تو تمام لوگوں کا اسلام کو اپنے دلوں اور زندگیوں پرحاکم کرنا ایک خواب سے کم نظر نہیں آتا، وہ خواب جس پرصرف ہنسا جاتاہوں۔ اس سے ہماری ہمتیں پست ہوجاتی ہیں اور ہم سوچتے ہیں کہ ایسے خواب دیکھنا وقت کی بربادی ہے۔ یاپھر یہ ہوتا ہےکہ ہم ایک یا دو میدانوں میں اپنی نسبی اور جزئي ترقی کو بہت بڑی کامیابی تصورکرنے لگتےہیں۔ جب تک ہماری ہمت اور فکر بلند نہیں ہوگي اور آسمانوں میں پرواز نہیں کرے گي اس وقت تک ہمارے ملک میں اسلام کا مستقبل روشن نہیں ہوگا اور کروڑوں انسان ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے اسلام کے جاودانی پیغام سے محروم رہیں گے۔
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ ہم کیا کریں کہ ہماری فکریں اور ہمتیں بلند پرواز کریں؟ اس سوال کا اہم ترین جواب یہ ہے کہ عصر حاضر کی ایسی شخصیتوں کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے جو اپنے سماج میں ایسی تبدیلیاں لانے میں کامیاب ہوئي ہوں جو ماضی میں عام طورسے قابل تصور ہی تھیں۔
اس قسم کی ایک درخشاں شخصیت سید امام موسی صدر کی ہے، جنکی زحمتوں کے نتیجے میں آج لبنان کی حزب اللہ تمام مسلمانوں اور تمام عدل پسند انسانوں کے لئے حیات بخش مثال بن گئي ہے، امام موسی صدر کی زندگي کا مطالعہ نہ صرف اس لئے ضروری ہے کہ آج لبنان میں زندگي کے ہرشعبہ میں بے مثال کامیابیاں دیکھی جاسکتی ہیں بلکہ اس لئے بھی کہ امام موسی صدر سے پہلے کا لبنان اور آج کے ہندوستان میں شباہتیں بہت زیادہ ہیں۔ اگر آج اسلام اور مسلمان ہندوستان میں مظلوم ہیں اور وہاں مادیت اور مغربی تہذیب حاکم ہے تو آج سے پچاس برس قبل لبنان میں مسلمانوں کے حالات اس سے بھی زیادہ خراب ہوچکے تھے لیکن امام موسی صدر نے انہیں جس راہ پرگامزن کیا اس کےنتیجے میں وہ آج پورے عالم اسلام کا چشم و چراغ بن گئے ہیں، اگر ہم میں ذرا بھی اسلامی حمیت ہے تو ہمیں ان کی پیروی کرنی چاہیے۔

الف : مختصر سوانح حیات:
امام موسی صدر کی ولادت انیس سو ستائيس میں قم میں ہوئي، ان کاخاندان اصالتا لبنانی تھا جسمیں متعدد علماء اور مراجع گذرےہیں۔ سید صدر نے دینی تعلیم کے ابتدائی مراحل قم میں طے کئے، بعد میں چند سال نجف اشرف میں تعلیم حاصل کی، جدید تعلیم بھی قم میں حاصل کرنا شروع کی لیکن پھر تہران جاکر "اقتصادی حقوق " میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس زمانے کے فاضل طلاب جیسے آیت اللہ شہید بہشتی ، آیت اللہ جعفر سبحانی ، آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی اور آیت اللہ نوری ھمدانی انکے قریبی دوستوں اور ساتھیوں میں سے تھےاور یہ لوگ مل کرایک علمی مجلہ بھی نکالا کرتےتھے ۔ بعد میں لبنان میں شہید چمران کا بھی گہرا ساتھ رہا ۔
جب لبنان میں شیعہ مسلمانوں کے رہبر سید عبدالحسین شرف الدین کی ان سے آشنائي ہوئي تو انہوں نے امام موسی صدر کی شخصیت سے متاثر ہوکر ان کو اپنا وصی اور جانشین قراردیا اور انیس سو اٹھاون میں علامہ سید شرف الدین کے انتقال کے بعد امام موسی صدر اکتیس برس کی عمر میں لبنان پہنچے ۔
لبنان میں لوگوں کے درمیاں رہ کر بیس پچیس برسوں زحمتيں برداشت کرکے اسکول اور کالج شروع کروائے ، فقرا اور حاجت مندوں کےلئے امدادی ادارے قائم کئے ، دوسرے مذاھب کے لیڈروں اور ان کے ماننے والوں سے باہمی تعامل کے کام شروع کروائے۔ شیعوں کو سیاست میں ایک مضبوط اور اثر انداز قوت بنایا، اور اسرائيل سے مقابلے کےلئے فوج بھی تیار کی ۔ انیس سو اناسی میں لیبیا کے ایک دورے میں پراسرار طور پرلاپتہ ہوگئے۔ یہی مانا جاتا ہےکہ اسرائیل اور دوسرے دشمنوں کے اشارے پرلیبیا کے حاکم معمر قذافی نے انہیں شہید کروادیا ہے۔( لیکن ان کے اھل خانہ ، دوستوں ، شاگردوں اور ان کے دفتر کے کارکنوں کا کہنا ہےکہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہےکہ امام موسی صدر زندہ ہیں اور قذافی کی جیل میں قید وبند کی صعوبتیں اٹھارہےہیں ۔ ایڈیٹر)
امام موسی صدر کی زندگی سے حاصل ہونے والےدس سبق
ان کی زندگي نمونہ عمل تھی اور ہے ان کےطریقہ کار پرچل کر ہم بھی اپنی قسمت سدھار سکتےہیں اور اپنی زندگي کو جہت دار اور ھدف مند بناسکتےہیں۔
اول : ذمہ داری کا احساس اور اسکی صحیح شناخت
یہ امام موسی صدر کی زندگي کی سب سے بڑی خصوصیت ہے ۔ اسکی مثال ان کا حوزہ علمیہ کو ترک کرکے لبنان جیسے پچھڑے علاقے کی طرف ہجرت کرنا ہے۔ خاص طور سے جب ہم اس بات کو مد نظر رکھیں کہ اس زمانے میں انہيں آیت اللہ بروجردی کی طرف سے اٹلی میں تام الاختیار وکیل بناکر بھیجا جارہاتھا۔
دوم : اسلام کی عمیق شناخت
وہ ایک واقعی اسلام شناس تھے ۔ درجہ اجتھاد پرفائز ایک مجتھد مسلم تھے اور آپ کا ہر کام اسلام اور قرآن کی آیات کی روشنی میں ہوتا تھا وہ یہ کہتے تھے کہ اسلام ہی دنیوں اور اخروی نجات و سعادت کا سبب ہے ۔ انہوں نے جہاں محراب ومنبر کے ذریعے خدمات انجام دیں وہیں ایک عالم دین کی حیثیت سے لوگوں کو سیاسی اور معاشی مسائل حل کرنے کے راستے بھی دکھائے ۔
سوم : خود اعتمادی اور شجاعت
احساس ذمہ داری اور دین شناسی کے نتیجے میں امام موسی صدر کسی بھی ضروری کام کو انجام دینےسے نہیں ڈرے ، مثال کے طور پر جب شیعوں اور فلسطینیوں میں جھڑپیں شروع ہوئيں تو انہوں نے محاذ پرجاکر یہ جھڑپیں رکوائیں ۔ اسی طرح انہوں نے قدامت پسندوں کی چہ می گوئيوں کی بھی کبھی پرواہ نہ کی اور اپنے ھدف کی طرف گامزن رہے۔
چہارم : عام آدمی کی طرح رہتے تھے
امام موسی صدر پسماندہ اور ستم رسیدہ لوگوں کی دل سے عزت اور احترام کیا کرتےتھے اور ایسا کوئي کام نہیں کرتے تھے جس سے ان کی دل آزاری ہو۔ ان کی سادہ اور بے آلائش زندگي اس بات کا بین ثبوت ہے۔
پنجم : بچوں اور جوانوں کی تربیت پرخاص توجہ
امام موسی صدر یہ بخوبی جانتے تھے کہ اسلام کا مستقبل روشن کرنےوالی یہی جواں نسل ہے ۔ اسی لئے شروع ہی سے ان کی طرف خاص توجہ کرتےتھے مجتھد و رہبر ہونے کےباوجود بھی ان کے ساتھ گھل مل کررہتے تھے ، جوانوں کے ساتھ بڑے دوستانہ انداز میں پیش آتے تھے، ان کی بے دینی یا اخلاقی کمزوریوں کی وجہ سے انہیں ڈانٹنے اور خود سے دور کرنے کےبجائے انہیں اپنے اعمال اور محبت بھرے انداز سے اصلاح کی دعوت دیتے تھے۔ انہوں نے لبنان ہجرت کرنے کے بعد جوانوں کے لئے ایک ورزش گاہ یافٹبال کا گروانڈ تیار کروایا۔
اسلام کے ذریعے صرف مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں کو فائدہ پہنچانا۔
امام موسی صدر کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہےکہ انہوں نے کوشش کی کہ انکے کام کا چہرہ اور تشخص مکمل طور پردینی اور شیعی رہے لیکن اسکے فوائد حتی الامکان تمام لبنانیوں تک پہنچیں۔ مثال کے طورپرانہوں نے حرکت المحرومین کے نام سے ایک کمیٹی بنائي جسکا ہدف ہرقسم کے معاشرتی ظلم اور معاشرےمیں حاکم قبائلی سیاسی نظام کا مقابلہ کرنا تھا یعنی یہ خدمت تمام لبنانیوں حتی غیر مسلمانوں کے لئےبھی انجام دی جاتی تھی اور اس کمیٹی کافائدہ سب کو پہنچتاتھا۔
بہترین دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ ملکر کام کرنا۔
امام موسی صدر کی خوبیوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ وہ بہترین افراد کو اپنے حلقے میں سمولیتےتھے اور ان کے مشورے اور تعاون سے کام کرتےتھے یہ ان کی کامیابی کےاہم ترین رازوں میں سےایک ہے ۔ ساتھیوں میں سرفہرست شہید مصطفی چمران کا نام ہے ۔
اذیتوں اور نادانوں کی دشمنیوں کو برداشت کرنا
امام موسی صدرکے لئے یہ بات بالکل واضح تھی کہ دشمن کون ہے ، دشمن کو بھلا ان سےبہتر کون پہچان سکتاتھا۔ عالمی سامراج ،صیہونی حکومت اور ان کے لبنانی پٹھو یہ سب امت اسلامیہ کے دشمن تھے اور آج بھی ہیں۔ دشمنوں سے وہ سختی سے پیش آتےتھے
لیکن اگر ان کےعلاوہ کوئي اور ان سے دشمنی کا اظہار کرتاتو اس کے ساتھ نرمی سے پیش آتے تھے۔ یہاں فلسطینی لیڈروں اور قدامت پسندانہ فکر رکھنےوالے مومنین کا ذکرضروری ہے کیونکہ ان لوگوں کی وجہ سے امام موسی صدر کو بڑی اذیت ہوئي اور انہوں نے بے پناہ مصائب جھیلے ، کچھ فلسطینیوں نے تو ان کےگھر پرراکٹوں سے بھی حملہ کردیا لیکن پھر بھی امام موسی صدر نے ہرگز انتقام نہ لیا اور اپنے چاہنےوالوں کو ہمیشہ حقیقی دشمن کا مقابلہ کرنے کی تلقین کرتےرہے۔
فکری وثقافتی محاذ کو اصل محاذ سمجھنا
گرچہ امام موسی صدر نے سیاسی اور عسکری میدانوں میں چونکا دینے والی خدمتیں انجام دی ہیں تاہم یہ حقیقت ان سے کبھی پوشیدہ نہیں رہی کہ یہ ساری چیزیں فرع ہیں اور اصل خلیفۃ اللہ کہلائے جانے کےلئے انسان کی فکر اورروحانی تربیت کی ہے،ان کی تمام تر توجہ اسی بات پرمرکوزرہتی تھی کہ وہ کس طرح اس کام سے لوگوں کو بہتر انسان اور بہتر مسلمان بناسکیں۔
ترقی کو جاری رکھنے کے لئے اہم اقدامات
امام موسی صدر کے اغوا کے بعد بھی قوم کی ترقی کا سلسلہ جارہی رہا رکا نہیں اور یہ نتیجہ تھا ان کی تدبیروں اور طریقہ ہائے کار کا انہوں نے شروع ہی سے اس پرتاکید کی تھی کہ لوگوں کو مستقل طورپر کام کرنا آنا چاہیے ، البتہ ایک ہی ہدف اور مشترکہ اقدار کےتحت ، اسکے علاوہ انہوں نے معاشرے میں مختلف تنظیمیں اور گڑوہ تشکیل دئے جو افراد کے تبدیل ہونےکےباوجود بھی اپنا کام انجام دیتے رہے اور دے رہےہیں ، ان کا ایک نمونہ مجلس اعلائے شیعیان لبنان ہے ۔
یہ تھی مختصر اور طائرانہ نظر اس عظیم مرد مجاھد کی زندگي پر جس نے اپنی ذات سے لبنان کی شیعہ قوم اور عام طورسے لبنانی قوم کو زمیں سے آسمان پر پہنچادیا۔ خدا ان کی راہ کو قائم و دائم رکھے اور ان کے نقش قدم پرچلنے کی توفیق عطاکرے۔
بشکریہ : رسالہ اصلاح لکھنو
ايران کے خلاف امريکي پابندي، صيہونيوں کی قدرداني
امريکي سينٹروں کي جانب سے کئے جانے والے ايران مخالف اقدامات کا سب سے بڑي اسرائيلي لابي نے زبردست خير مقدم کيا ہے-
امريکہ کے چوہتر سينٹروں نے صدر باراک اوباما کے نام خط ميں ايران کے خلاف دباؤ بڑھانے کي اپيل کي ہے- ان لوگوں نے يہ دعوي بھي کيا ہے کہ ايران کا ايٹمي پروگرام امريکي سلامتي کے لئے سب سے بڑا خطرہ شمار ہوتا ہے-
اس سے قبل امريکي سينٹروں نے ايک بل کي منظوري دي تھي جس کے تحت ايران کے تيل کي امريکہ ميں درآمد پر پابندي اور ايران کے ريڈيو ٹيلي ويژن کے خلاف نئي پابندياں عائد کي گئي ہيں- اوباما کے دستخط کي صورت ميں يہ بل قانون کي صورت اختيار کرجائے گا-
امريکي مقننہ کي ايران دشمني ميں ايسے وقت ميں اضافہ ہوا ہے جب امريکي حکومت ايران کے ساتھ مذاکرات کي بات کر رہي ہے- کچھ عرصہ قبل امريکي وزير خارجہ ہيلري کلنٹن نے کہا تھا کہ واشنگٹن ايٹمي پروگرام سميت تمام معاملات پر ايران کے ساتھ براہ راست بات چيت کے لئے تيار ہے-
امريکي حکام يہ سمجھتے ہيں کہ ايران کے خلاف چھڑي اور گاجر کي پاليسي جاري رکھ کر تہران کواپنےاصولي موقف سے پيچھے ہٹنے پر مجبور کر ديں گے-
گزشتہ تين عشروں کے دوران تہران واشنگٹن تعلقات کا جائزہ لينے سے پتہ چلتا ہے کہ ايران کے ساتھ امريکہ کي مشکل صرف اسکا ايٹمي پروگرام نہيں ہے- درحقيقت امريکہ مشرق وسطي کے علاقے ميں کسي ايسي آزاد و خود مختار حکومت کا وجود برداشت کرنے کے لئے تيار نہيں جو توانائي کے اہم ترين ذخائر کي حامل ہونے کے ساتھ ساتھ بڑي طاقتوں کے مسلط کردہ ضابطوں کو قبول نہ کرتي ہو- امريکہ کی يہ مشکل اس وقت اور بھي پيچيدہ ہوجاتي ہے جب يہي آزاد و خود مختار سياسي نظام ، اسرائيل کو تسليم کرنے سے انکاري ہو اور فلسطيني عوام کي حمايت کا کھلا کھلا اعلان کرنے لگے- ايسے حالات ميں پوري دنيا کي صہيوني لابي حرکت ميں آجاتي ہے اور انکي نظر ميں ايران کي حکومت اور عوام کے درميان کوئي فرق باقي نہيں رہتا-
حاليہ برسوں کے دوران ايران کے خلاف ايسي پابندياں لگائي گئي ہيں جن کا مقصد يہ ہے کہ ملت ايران کو ملک کي حکومت اور ايٹمي پروگرام کي حمايت کي سزا دي جائے- مثال کے طور پر امريکہ اور پورپ کي عائد کردہ بينکاري پابنديوں کي وجہ سے دواوں، غذائي اشيا، اور بچوں کے خشک دوودھ کي ايران کو برآمد بند ہوگئي ہے-
حالانکہ امريکہ اور يورپي ملکوں کا دعوي ہے کہ انہوں نے ايران کے خلاف اسمارٹ پابندياں لگائي ہيں تاکہ ايراني عوام پر کوئي اثر نہ پڑے- ليکن مختلف ملکوں کے خلاف امريکي پابنديوں کے تجربات اس بات کي پوري نشاندھي کرتے ہيں کہ اسکي عائد کردہ اقتصادي پابنديوں کا نشانہ عام لوگ ہي بنتے رہے ہيں جبکہ اکثر اوقات ان پابنديوں کے مطلوبہ نتائج بھي برآمد نہيں ہوسکے ہيں-
يہ بات توانائي کےاہم ذخائر رکھنے والے ملک اور اپنے حقوق کے لئے پر عزم ايراني قوم کے بارے ميں دوسروں سے کہي زيادہ صادق آتي ہے-
بہرحال يہ ساري باتيں بھي صيہوني لابي کے ہاتھوں گرفتار امريکي سينٹروں کي آنکھيں نہيں کھول سکي ہيں- لہذا جب تک واشنگٹن کے مکين اسرائيل کي عينک سے ايران کو ديکھتے رہيں گے امريکہ اور ايران کي مشکلات حل نہيں ہوسکتيں-
امام خمینی کی نظر میں اتحاد

حضرت امام خمینی کے افکار و نظریات سے آگاہی حاصل کرنا جو اپنے زمانے میں اسلامی امۃ کے اتحاد کے سب سے بڑے منادی رہے ہیں اور اسی بنا پر انہوں نے ایران میں اسلامی الہی نظام کی بنیاد رکھی تھی اتحاد کا درد رکھنے والوں کے لۓ راہ گشا اور مشعل راہ ہے۔
انسان فطرتا توحید کی طرف مائل ہوتا ہے اور پوری تاریخ میں دیکھ لیں انسانی عقل نے جہاں خواہشات نفسانی اور اغراض شیطانی کا عمل دخل نہ تھا توحید کی اساس پر ہی عمل کیا ہے اور تنازعات ،پراکندگی اور تفرقہ کو انسانی معاشرے کے مفادات کے خلاف اور گمراہی کا باعث قرار دیا ہے۔
تمام انبیاء الھی علیھم الصلواۃ والسلام کی دینی دعوت کی اساس توحید پر ہی تھی انہوں نے توحید ہی کے سہارے انسان کو شرک و کفر و الحاد سے پاک کرنے کی کوشش کی،توحید کا عقیدہ اسلام اور کفر کے درمیان حد فاصل ہے ۔
اسلام کے تمام مشرب خواہ فلسفی عرفانی اخلاقی کلامی یا تربیتی ہوں ان سب کی اساس توحید ہے اور وہ عالم ھستی کی تمام موجودات کو ذات وحدہ لاشریک کی آیات سمجھتے ہیں البتہ اہل تحقیق پر یہ پوشیدہ نہیں ہے کہ انسانی معاشرے کے اتحاد کی خواہش عقیدہ توحید کا ایک جلوہ ہے اور اس کے مقابل دھڑے بندی اور کثرت پسندی مادہ پرستی و کفر کی خصوصیات ہیں۔
قرآن مجید میں امت واحدہ کو حقیقی معنی میں سیر الی اللہ کا زینہ قرار دیا گیا ہے ارشاد رب العزت ہے ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاعبدون ۔
روز ازل سے حق و باطل کا اختلاف جس شکل میں یا جس سطح پر ہو توحید اور شرک کی بنیادوں پر رہا ہے
حضرت امام خمینی فرماتے ہیں "تفرقہ شیطان کی طرف سے ہے اور اتحاد و وحدت کلمہ رحمان کی طرف سے "
دنیا دیکھ رہی ہے کہ وہ عالمی ادارے جن کے وجود میں آنے کا مقصد اور ان کا نعرہ قوموں اور حکومتوں کے درمیان اتحاد قائم کرنا اور اختلافات ختم کرانا ہے اکثر موقعوں پر ناکام رہے ہیں بلکہ خود سامراج کے ہاتھوں استعمال ہو کر کشیدگی اور اختلافات کا سبب بنے ہیں گذشتہ دھائیوں میں سیکڑوں تنظیموں اور حکومتوں نے آپس میں تعاون اور اتحاد قائم کرنے کے معاھدے کۓ ہیں جن کے بارے میں وسیع تشہیرات کی گئیں جن سے دنیا کے باشندوں میں امیدیں پیدا ہوگئیں لیکن ان کا کوئي نتیجہ نہ نکلا اور ناکام رہے۔
ایک زمانے سے اسلامی ملکوں کے درمیان اتحاد کی بات کی جا رہی ہے بہت سے اسلامی ملکوں میں سیاسی لیڈروں اور پارٹیوں نے اتحاد کا نعرہ لگا کر اقتدار حاصل کرلیا اور حکومت چلا رہے ہیں اس موضوع پر سیکڑوں کتابیں اور مضمون بھی لکھے جا چکے ہیں اور خطباء مقررين اور مصنفین و دانشور اتحاد کی اہمیت پر تاکید کرتے رہتے ہیں لیکن اس راہ میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا میرے خیال میں ان ناکامیوں کی وجہ ان بنیادی امور میں تلاش کرنی چاہیے کہ جن پر توجہ کۓ بغیر ساری کوششیں بدستور ناکام رہیں گي۔
میرے خیال میں ان اداروں کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عقیدہ اتحاد اور فکری عقیدتی اصولی اور اخلاقی نظاموں کے درمیان موجود اٹوٹ بندھن کو واضح کریں ، کیا ہم توحید کا عقیدہ رکھتے ہوے خداۓ واحد پر ایمان رکھتے ہوے اور خدا کو قادر مطلق مان کر جب عمل کی نوبت آۓ تو اس کے برخلاف عمل کریں اور خلق خدا کے حالات سے بے خبر رہیں ؟
کیا ہم موحد رہتے ہوۓ اصحاب تفرقہ کے گروہ میں شامل ہوسکتے ہیں؟ صدر اسلام میں جب توحید کی دلنشین آواز ان لوگوں کے کانوں میں پہنچتی تھی جو ظلم و شرک و بت پرستی سے تنگ آ چکے تھے تو جاہلی تعصبات فخر اور احساس برتری اور قوم پرستی کے جذبات فوری ختم ہوجاتے ہیں اور اختلافات و تفرقہ کے تمام سبب یہانتک کے سببی اور نسبی تعلقات بھی خداوحدہ لاشریک پر ایمان اور نور عبودیت کے سامنے بے رنگ ہوجاتے تھے ان لوگوں نے ایسا باکمال معاشرہ تشکیل دیا تھا کہ خدا نے انہیں خیر امت کا خطاب دیا اس معاشرہ میں ایسا اتحاد و یکجھتی پائی جاتی تھی کہ سیاہ فام غلام قریش کی بااثر اور سربرآرودہ شخصیتوں کے برابر سمجھا جاتا ہے بلکہ اپنے ایمان کی بنا پر ان سے آگے بھی نکل جاتا ہے ان ہی لوگوں نے ایسی شاندار تھذیب و تمدن کی بنیاد رکھی کہ ایران اور روم کی سلطنتیں بھی اس کے مقابل نہ ٹہر سکیں اور کچھ ہی دنوں میں اس تھذیب و تمدن نے ساری دنیا کے دل جیت لۓ ۔
تحریر : مرحوم حجت الاسلام والمسلمین سید احمد خمینی
امام خمینی کی نظر میں اتحاد(حصّہ دوّم)

ہمیں خود سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ قرآن و سنت میں "امت " پر بہت زیادہ تاکید کے با وجود ہم کیوں اس اہم امر سے غافل ہیں اور ہمارے معاشروں میں دوبارہ زمانہ جاھلیت کی عادات ،جغرافیائی اور قومی مسائل نے سر ابھارا ہے ؟ یہان تک کہ ہم ان مسائل کا شکار ہو کر ایک دوسرے کے مفادات اور تقدیر کو ایک دوسرے سے الگ الگ تصور کرنے لگے ہیں کیا ان ناپسندیدہ عادات سے ہمارے دینی مفادات کو خطرہ لاحق نہیں ہے ؟
جیسا کہ میں نے مضمون کے آغاز میں امام خمینی کا یہ قول نقل کیا تھا کہ "اختلاف و تفرقہ شیطان کی طرف سے ہے اور اتحاد و وحدت کلمہ رحمان کی طرف سے " تاریخ میں یہ حقیقت ثابت ہو چکی ہے کہ حقیقی اتحاد پیدا کرنے کی آواز پر وہی لوگ لبیک کہتے ہیں جنہوں نے اپنی توحیدی فطرت کے مطابق بھرپور طرح سےتعلیمات توحید پر عمل کیا ہو ۔
اتحاد قائم رکھنا اور تفرقہ سے پرھیز واجب عینی ہے اس کی جڑیں عقیدہ توحید میں پیوست ہیں ،یاد رہے اصحاب تفرقہ شیطان کے دوست ہیں اور منادیان اتحاد رحمان کے مخلص بندے ہوتے ہیں جو امت کے مسائل سے بے خبر نہیں ہوتے۔
اسلامی انقلاب نے یہ حقیقت عملی طرح سے ثابت کردی ہے کہ تفرقہ و نفاق اتحاد کے سیلاب میں تنکے کی طرح نابود ہو جاتا ہے۔
تاریخ اس بات کو ھرگز فراموش نہیں کرسکتی کہ ایک مرد خدا نے خالی ہاتھوں صرف خدا پر بھروسہ کرتے ہوے اتحاد کی آواز بلند کی اور مومنین ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوۓ ان کے بتاۓ ہوۓ راستے پر قائم رہے ،نام نہاد ترقی یافتہ دنیا نے ان کے مقابل محاذ کھول دیا یہی نہیں ان کے تمام دشمنوں کو جدید ترین ہتھیار دے کران کے خلاف لا کھڑا کیا لیکن ملت کا اتحاد اتنا طاقتور ہوتاہے کہ ملت ان تمام سازشوں کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوگئی جب اسلامی انقلاب نے دشمن پر غلبہ حاصل کرلیا اور شاھی حکومت کے تمام ستون منھدم کردیے تو سامراج کے حمایت یافتہ چھوٹے چھوٹے سینکڑوں گروہوں نے انقلاب اسلامی کی مخالفت شروع کردی لیکن چونکہ ملت متحد تھی لھذا ان گروہوں کو ناکامی کا منہ ہی دیکھنا پڑا۔
تحریر : مرحوم حجت الاسلام والمسلمین سید احمد خمینی
امام خمینی کی نظر میں اتحاد (حصّہ سوّم )

امام خمینی نے جو قرآن کریم اور عارف اکمل حضرت ختمی مرتبت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ طاھرین علیھم السلام کے مکتب عرفان کے شاگرد تھے اس عالم کون کے موجودات کے حقیقی اتحاد کی پر اسرار گتھیاں سلجھا لی تھیں وہ اپنے فلسفی نظریات کے مطابق نہ صرف وحدت وجود کے قائل تھے بلکہ اسرار ربانی کے اھل حضرات کی مجلس میں تمام موجودات کی حقیقی وحدت کے نکات بھی بیان کرتے تھے۔
امام خمینی اپنی کتاب "چھل حدیث " میں جو عام لوگوں کے لۓ لکھی گئی ہے فرماتے ہیں کہ:
انبیاء عظام علیہم السلام اور شرایع بزرگ کے آنے کا ایک اھم مقصد جو بذات خود مستقل ھدف ہے اور دیگر اھداف کے حصول کا ذریعہ ہے نیز مدینہ فاضلہ کی تشکیل میں بنیادی کردار کا حامل ہے
عقیدہ توحید اور امت کا اتحاد ہے اسی مقصد کے تحت معاشرے کے اھم امور میں اتفاق اور اصحاب اقتدار کے مظالم کی جو بنی نوع انسان میں برائیوں اور مدینہ فاضلہ کی تباہی کا باعث ہوتے ہیں روک تھام ہوتی ہے امام خمینی نے اس عظیم مقصد کے حصول کے لۓ بعض اھم مقدمات کا ذکر کیا ہے جن کے بغیر یہ مقصد یعنی اتحاد حاصل نہیں ہو سکتا امام خمینی فرماتے ہیں ہمیں کوشش کرنا چاہیے کہ یہ رحمت جاری رہے اور کوشش یہ ہے کہ ہمیں سب سے پہلے الھی اقدار کا حامل ہونا چاھیے ،خدا کی راہ میں خدمت کرنا چاہیے خود کو خدا کے حکم کا تابع اور اس کی طرف سے ہونے اور اسکی طرف لوٹنے کا یقین رکھنا چاھیے اس طرح ہم اتحاد تک پہنچ سکتے ہیں کیونکہ تفرقہ شیطان کی طرف سے ہے اور اتحاد رحمان کی طرف سے، امام خمینی اسلامی معاشروں میں اس اتحاد کو پائدار اور مقدس جانتے تھے جو خلل ناپذیر بنیادوں پر استوار ہو آپ فرماتے ہیں کہ ہمیں قرآن مجید کی تعلیمات کے تحت متحد رھنا چاہیے ،س کی اہمیت نہیں ہے کہ سب لوگ ایک امر پر متفق ہو جائيں بلکہ خدا کا حکم یہ ہے کہ سب مل کر خدا کی رسی کو تھام لیں، انبیاء کی بعثت کا مقصد لوگوں کو مختلف امور پر متفق کرنا نہیں تھا بلکہ وہ انسان کو راہ حق پر اکھٹا کرنا چاھتے تھے۔
امام خمینی کے نزدیک اتحاد الھی اور شرعی فریضہ ہے آپ کی نظر میں اس سلسلے میں علماء مفکرین اور دانشوروں پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے آپ نے اس سلسلے میں بہت تاکید فرمائی ہے امام خمینی کا خیال تھا کہ اتحاد اور اسکے استحکام کے لۓ لازمی طور سے قربانیان دینی ہوں گي اس بارے میں آپ نے لوگوں کے لۓ عملی مثال قائم کی امام خمینی جس قدر اتحاد کی اھمیت پر تاکید کرتے تھے اتنی ہی اس کے لوازمات پر تاکید کرتے تھے آپ کا خیال تھا کہ اتحاد ضروری مقدمات اور اسکی طرف معاشرے کی قیادت کے بغیر ممکن نہیں ہے اور پائدار نہیں ہوگا۔
تحریر : مرحوم حجت الاسلام والمسلمین سید احمد خمینی
امام خميني (رح) اور ارتقاء انسانيت
محکوم قوميں جب اپنے سے زيادہ ترقي يافتہ اقوام کے زير نگيں ہوتي ہيں تو انہيں فوجي اور انتظامي استبداد ہي کا مقابلہ نہيں کرنا ہوتا بلکہ تہذيبي اور فکري سطح پر بھي انہيں زندگي اور موت کي لڑائي لڑني ہوتي ہے - ہر لمحہ حکمراں قوم ان کے تمام آدرشوں اور اقدار کو للکارتي ہے اور ان کے ماضي ہي نہيں حال کا بھي جواز طلب کرتي ہے-
بيسوي صدي عيسوي کے اوائل ميں عظيم اور با جبروت ملت اسلاميہ ايک ايسے ہي استبداد کا شکار تھي- اس تاريک دور ميں جب مسلمانان عالم نے اپنے آس پاس نگاہ کي تو انہيں پتہ چلا کہ وہ قافلہ ارتقاء سے کٹ گئے ہيں حيرتوں نے ان پر يورش کي اور وہ بوکھلا اٹھے ، مقابل بلندياں انہيں بہت دور نظر آئيں ان کے عقيدوں کي سنگي ديواروں ميں دراڑيں پڑ چکي تھيں انہوں نے جينے اور ہونے کا جواز تلاش کيا اور اس تلاش ميں وہ مقابل بلنديوں سے اپنے عقائد کا موازنہ کرنے لگے-
اس اندھي تلاش کا نتيجہ يہ نکلا کہ کل کي فاتح قوم آج ذليل و خوار ہو رہي تھي- سامراج کے طاقتور پنجے پوري گہرائي تک ان کے سينوں ميں پيوست ہو چکے تھے-طاقتور سرمايا دار ممالک ايشيا اور افريقہ کے پسماندہ ملکوں پر قيضہ کرنے اور محکوم بنانے کي دوڑ ميں لگے ہوئے تھے- يعني بڑي مچھليوں کو چھوٹي مچھلياں نگلنے کي پوري آزادي مل چکي تھي-
ڈارون کے نظريہ ارتقاء يا (EVOLUTION THEORY) کا سہارہ لينے والے اس بات کو سوچ رہے تھے کہ جس طرح جمادات، نباتات اور حيواتات خود بخود ارتقاء کي جانب گامزن ہيں اسي طرح انساني معاشرہ بھي بغير احساس خود شعوري اور انساني کردار کے پروان چڑھ جاتا ہے- جمادات کا ارتقاء نباتات ميں ديکھنے والے اور نباتات کا ارتقاء حيوانات ميں تلاش کرنے والے جب انسان کو تختہ مشق بنانے پر آئے انہوں نے اس ترقي ء کمالات و مقامات کي منزليں آخرت ميں تلاش کرنے کے بجائے اسے تنزل اور انحطاط کي راہ دکھا کر اس کے ارتقاء کو تسفل کے مدارج ميں ڈھونڈنا شروع کيا- انساني تمدن کا کھوج بن مانسوں اور بندروں کے جبلّي ميلانات اور وحشيوں کے شہوات ميں تلاش کرتے کرتے وہ خود وحشت و بربريت کي آخري حد کو پھانگ نکلے - نتيجے ميں بيسويں صدي عيسوي کے اوائل ميں جنگ ظيم کي تباہ کاريوں کا مشاہدہ کيا تو اواسط ميں سامراجيت اور فسطائيت کا ننگا ناچ ديکھا-
جب کبھي انسان نے قانون فطرت کي شوکت کو قانوني حاکموں کي غير فطري بالادستي کي آڑ بنايا ہے اور عسکري قوت لے کر معاشرہ کي حفاظت کے بجائے استحصال کا برتائو کيا ہے ، رحمت خداوندي جوش ميں آئي ہے-کبھي ملت ابراہيمي کي روشني نے ظلمت کدہء يونان ميں سحر کي، تو حضرت موسي نے احکام عشرہ کے ذريعے اپني امت کو پيغام ديا کہ قانون کا سرچشمہ انساني معاشرہ کي ہدايت ہے حضرت عيسيٰ نے تعليم دي کہ انسان صرف قوت کے بل بوتے پر صحت مند معاشرہ قائم نہيں کر سکتا بلکہ اس کے سامنے '' آخرت '' کا نصب العين ضروري ہے-
نبي آخر الزمان (ص) نے کردار انساني کو معراج عطا کر کے ہدايت کا بيڑا آئمہ کرام کے حوالے کر ديا آئمہ ھديٰ نے پرچم انسانيت کو دنيا کے گوشے گوشے ميں لہرا کر پرچم سالاري کي ذمہ داري علماء و مجتہدين کو سومپ دي - اب وحي کي راہ آئندہ کے لئے مسدود کر کے علم و تحقيق کي شاہراہيں کھول دي گئي-
طلوع ارتقاء
کائنات کے اخلاق قويٰ کے تصادم اور اس کے احوال و نتائج پر غور کريں تو ہميں ايک منظم قانون فطرت کارفرما نظر آتا ہے- جس کے مد مقابل ايک باطل نظريہ جنم ليتا ہے اس نظريہ کے علمبردار پيدا ہوتے ہيں اس پر ايک باطل نظام اخلاق، ايک باطل نظام معيشت اور ايک باطل نظام سياست کے ردّے چڑھتے چلے جاتے ہيں- يہاں تک کہ انديشہ پيدا ہوتا ہيکہ اس غلبہ کے نيچے دب کر صالح اخلاق کے تمام عناصر دم توڑ ديں گے تا ہم اس نظام باطل کو مہلت ملتي رہتي ہے يہاں تک کہ تمام خشکي و تري ميں فساد کي سياہي چھا جاتي ہے اس عالم کے مصلحين اس دنيا کي از سر نو اصلاح سے مايوس ہونے لگتے ہيں پھر پروردگا عالم دفتعتا ايک مخفي ہاتھ نمودار کرتا ہے جو اس نظام باطل کو کسي حد تک جھنجھوڑنے ميں کامياب ہوتا ہے
١٩٠٠ ع ميں خليج فارس کي سرزمين ايران کے شہر خمين ميں ايک ايسي ہي ہستي نصرت ايزدي کي صورت ميں حاجي آغا مصطفي کے گھر طلوع ہوئي جس نے انسانيت کے ارتقاء کو از سر نو معراج عطا کرنے کا بيڑا اٹھايا اس ہستي کا نام تھا '' آيت اللہ روح اللہ الخميني''-
مغرب کي لاديني سياست جس ميں کليسا کو حاکميت سے، مذہب کو نظام حکومت سے الگ کر ديا گيا تھا ،جو کسي نيک نيتي يا فلاح انسانيت کے تصور پر مبني نہ تھي جس نے ظلم و بربريت کے لئے ايک نيا جواز تلاش کر ليا تھادوسري طرف اسي سياست نے عقيدہ و طينت کي بنياد پر ايک نئے سياسي تصور يعني ''قوميت'' کو جنم ديا- اور تمام اقوام ميں قوميت کا تازہ جوش پيدا کر کے انہيں ملت اسلاميہ کے خلاف متحد و صف آراء ہونے پر آمادہ کر ديا-
امام خميني نے مغرب کي اسي استعماري سازش کو سب سے پہلے بے نقاب کرتے ہوئے موجودہ دنيا ميں پہلي مرتبہ سياسي پيلٹ فارم سے آواز ''اللہ اکبر'' بلند کي اور اس نعرہ اللہ اکبر کو عملي جامعہ پہنا کر مسلمانوں کو دنيائے مغرب کے سامنے سر خرو کرديا اورانسانيت کي ہچکولے کھاتي ہوئي کشتي کو معراج ارتقاء عطا کر دي-
امام موسي کاظم عليہ السلام کي حيات طيبہ کا مختصر جائزہ

امام موسي کاظم عليہ السلام نے مختلف حکاّم دنيا کے دور ميں زندگي بسر کي آپ کا دور حالات کے اعتبار سے نہايت مصائب اور شديد مشکلات اور خفقان کا دور تھا ہرآنے والے بادشاہ کي امام پرسخت نظر تھي ليکن يہ آپ کا کمالِ امامت تھا کہ آپ انبوہ مصائب کے دورميں قدم قدم پر لوگوں کو درس علم وہدايت عطافرماتے رہے، اتنے نامناسب حالات ميں آپ نے اس دانشگاہ کي جوآپ کے پدر بزرگوارکي قائم کردہ تھي پاسداري اور حفاظت فرمائي آپ کا مقصد امت کي ہدايت اورنشرعلوم آل محمد تھا جس کي آپ نے قدم قدم پر ترويج کي اور حکومت وقت توبہرحال امامت کي محتاج ہے -
چنانچہ تاريخ ميں ملتا ہے کہ ايک مرتبہ مہدي جو اپنے زمانے کا حاکم تھا مدينہ آيا اور امام مو سيٰ کاظم سے مسلۂ تحريم شراب پر بحث کرنے لگا وہ اپنے ذہنِ ناقص ميں خيال کرتا تھا کہ معاذاللہ اس طرح امام کي رسوائي کي جائے ليکن شايد وہ يہ نہيں جانتا تھا کہ يہ وارث باب مدينتہ العلم ہيں چنانچہ امام سے سوال کرتا ہے کہ آپ حرمتِ شراب کي قران سے دليل ديجيے امام نے فرمايا ’’خداوند سورۂ اعراف ميں فرماتا ہے اے حبيب !کہہ دو کہ ميرے خدا نے کارِ بد چہ ظاہر چہ مخفي و اثم و ستم بنا حق حرام قرار ديا ہے اور يہا ں اثم سے مراد شراب ہے ‘‘ امام يہ کہہ کر خاموش نہيں ہوتے ہيں بلکہ فرماتے ہيں خدا وند نيز سورۂ بقر ميں فرماتا ہے اے ميرے حبيب! لوگ تم سے شراب اور قمار کے بارے ميں سوال کرتے ہيں کہہ دو کہ يہ دونوں بہت عظيم گناہ ہے اسي وجہ سے شراب قرآن ميں صريحاً حرام قرار دي گئي ہے مہدي، امام کے اس عالمانہ جواب سے بہت متاثر ہوا اور بے اختيارکہنے لگا ايسا عالمانہ جواب سوائے خانوادۂ عصمت و طہارت کے کوئي نہيں دے سکتا يہي سبب تھا کہ لوگوں کے قلوب پر امام کي حکومت تھي اگر چہ لوگوں کے جسموں پر حکمران حاکم تھے- ہارون کے حالات ميں ملتا ہے کہ ايک مرتبہ قبرِ رسول اللہ پر کھڑ ے ہو کر کہتا ہے اے خدا کے رسول آپ پر سلام اے پسرِ عمّو آپ پر سلام - وہ يہ چاہتا تھا کہ ميرے اس عمل سے لوگ يہ پہچان ليں کہ خليفہ سرور کائنات کا چچازاد بھائي ہے - اسي ہنگام امام کاظم قبر پيغمبر کے نزديک آئے اورفرمايا’’اے ا کے رسول! آپ پرسلام‘‘اے پدر بزرگوار! آپ پرسلام‘‘ ہارون امام کے اس عمل سے بہت غضبناک ہوا- فوراً امام کي طرف رخ کر کے کہتا ہے ’’آپ فرزند رسول ہونے کا دعوہ کيسے کرسکتے ہيں ؟جب کہ آپ علي مرتضيٰ کے فرزندہيں - امام نے فرماياتونے قرآن کريم ميں سورۂ انعام کي آيت نہيں پڑھي جس ميں خدا فرماتا ہے ’’قبيلۂ ابراہيم سے داۆد، سليمان، ايوب، يوسف، موسيٰ، ہارون، زکريا، يحييٰ، عيسيٰ، اورالياس يہ سب کے سب ہمارے نيک اورصالح بندے تھے ہم نے ان کي ہدايت کي اس آيت ميں اللہ نے حضرت عيسيٰ کو گزشتہ انبياء کا فرزند قرار ديا ہے - حالانکہ عيسيٰ بغير باپ کے پيدا ہوئے تھے - حضرت مريم کي طرف سے پيامبران سابق کي طرف نسبت دي ہے اس آيۂ کريمہ کي رو سے بيٹي کا بيٹا فرزند شمار ہوتا ہے - اس دليل کے تحت ميں اپني ماں فاطمہ کے واسطہ سے فرزند نبي ہوں - اس کے بعدامام فرماتے ہيں کہ اے ہارون! يہ بتا کہ اگر اسي وقت پيغمبر دنيا ميں آجائيں اور اپنے لئے تيري بيٹي کا سوال فرمائيں تو تو اپني بيٹي پيغمبر کي زوجيت ميں دے گايا نہيں ؟ ہارون برجستہ جواب ديتا ہے نہ صرف يہ کہ ميں اپني بيٹي کو پيامبر کي زوجيت ميں دونگا بلکہ اس کارنامے پرتمام عرب و عجم پر افتخار کرونگا امام فرماتے ہيں کہ تو اس رشتے پر تو سارے عرب و عجم پر فخر کريگا ليکن پيامبر ہماري بيٹي کے بارے ميں يہ سوال نہيں کر سکتے اس لئے کہ ہماري بيٹياں پيامبر کي بيٹياں ہيں اور باپ پر بيٹي حرام ہے امام کے اس استدلال سے حاکم وقت نہايت پشيمان ہوا- امام موسيٰ کاظم نے علم امامت کي بنياد پر بڑے بڑے مغرور اور متکبر بادشاہوں سے اپنا علمي سکّہ منواليا امام قدم قدم پر لوگوں کي ہدايت کے اسباب فراہم کرتے رہے- چنانچہ جب ہارون نے علي بن يقطين کو اپنا وزير بنانا چاہا اورعلي بن يقطين نے امام موسيٰ کاظم سے مشورہ کيا تو آپ نے اجازت ديدي امام کا ہدف يہ تھا کہ اس طريقہ سے جان و مال و حقوق شيعيان محفوظ رہيں- امام نے علي بن يقطين سے فرمايا تو ہمارے شيعوں کي جان و مال کو ہارون کے شر سے بچانا ہم تيري تين چيزوں کي ضمانت ليتے ہيں کہ اگر تو نے اس عہد کو پورا کيا تو ہم ضامن ہيں- تم تلوار سے ہرگز قتل نہيں کئے جاۆگے- ہرگز مفلس نہ ہو گے- تمہيں کبھي قيد نہيں کيا جائے گا- علي بن يقطين نے ہميشہ امام کے شيعوں کو حکومت کے شر سے بچايا اور امام کا وعدہ بھي پورا ہوا- نہ ہارون، پسر يقطين کو قتل کرسکا- نہ وہ تنگدست ہوا- نہ قيد ہوا- لوگوں نے بہت چاہا کہ فرزند يقطين کو قتل کرا ديا جائے ليکن ضمانتِ امامت، علي بن يقطين کے سر پر سايہ فگن تھي - ايک مرتبہ ہارون نے علي بن يقطين کو لباس فاخرہ ديا علي بن يقطين نے اس لباس کو امام موسيٰ کاظم کي خدمت ميں پيش کر ديا مولا يہ آپ کي شايانِ شان ہے- امام نے اس لباس کو واپس کر ديا اے علي ابن يقطين اس لباس کو محفوظ رکھو يہ برے وقت ميں تمہارے کام آئے گا ادھر دشمنوں نے بادشاہ سے شکايت کي کہ علي ابن يقطين امام کاظم کي امامت کا معتقد ہے يہ ان کو خمس کي رقم روانہ کرتا ہے يہاں تک کہ جو لباس فاخرہ تو نے علي ابن يقطين کو عنايت کيا تھا وہ بھي اس نے امام کاظم کو دے ديا ہے- بادشاہ سخت غضب ناک ہوا اور علي ابن يقطين کے قتل پر آمادہ ہو گيا فورا علي ابن يقطين کو طلب کيا اور کہا وہ لباس کہاں ہے جو ميں نے تمہيں عنايت کيا تھا؟ علي ابن يقطين نے غلام کو بھيج کر لباس، ہارون کے سامنے پيش کر ديا ہارون بہت زيادہ خجالت زدہ ہوا يہ ہے تدبير امامت اور علم امامت-
مسجد نمرہ – سعودي عرب
مسلمان عازمین عرفات کے میدان میں نمرہ مسجد کے باہر عبادت میں مصروف ہیں
سعودی عرب کے میدان عرفات میں واقع ایک اہم مسجد ہے جہاں 9 ذی الحج کو امام حج کا خطبہ پڑھا جاتا ہے اور اس کے بعد ظہر اور عصر کی نمازوں کے دو دو فرض قصر پڑھے جاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے 10ھ (7 مارچ 632ء) کو حجۃ الوداع کے موقع پر دوپہر کو ایک خیمے میں آرام فرمایا تھا۔ جب دوپہر ڈھلی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قریبی پہاڑی پر خطبہ ارشاد فرمایا تھا اسی لیے اس پہاڑی کو جبل رحمت کہتے ہیں جبکہ اس خطبے کو خطبہ حجۃ الوداع کہتے ہیں۔ جس کے دیگر نام کچھ اس طرح ہیں مسجد عرنہ مسجد عرفہ یا جامع ابراہیم اس مسجد کا رقبہ اڑھائی لاکھ میٹر ہے اور عرفات میں ٹھہرنے والے نصف حاجی اس مسجد کے صحن اور اس کی منزلوں میں ٹھہرتے ہیں۔
نمرہ مسجد کے قریب دوران نماز عازمین باہر تک آئے ہوئے ہیں
اس مسجد کی جدید انجینئرنگ کی معماری کے تحت تعمیر نو کی گئی ہے اور اس کی تعمیر نو کے لیے ۴۰۰ملین سعودی ریال کی لاگت آئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مسجد نمرہ دوسری صدی ہجری میں بنائی گئی تھی اور مہدی عباسی کے دور میں اس کا رقبہ ۸ہزار مربع میٹر تھا کہ جو اس مسجد کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
