Super User
سوره المعارج
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے
﴿1﴾ سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ
(1) ایک مانگنے والے نے واقع ہونے والے عذاب کا سوال کیا
﴿2﴾ لِّلْكَافِرينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ
(2) جس کا کافروں کے حق میں کوئی دفع کرنے والا نہیں ہے
﴿3﴾ مِّنَ اللَّهِ ذِي الْمَعَارِجِ
(3) یہ بلندیوں والے خدا کی طرف سے ہے
﴿4﴾ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ
(4) جس کی طرف فرشتے اور روح الامین بلند ہوتے ہیں اس ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے
﴿5﴾ فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيلًا
(5) لہذا آپ بہترین صبر سے کام لیں
﴿6﴾ إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيدًا
(6) یہ لوگ اسے دور سمجھ رہے ہیں
﴿7﴾ وَنَرَاهُ قَرِيبًا
(7) اور ہم اسے قریب ہی دیکھ رہے ہیں
﴿8﴾ يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاء كَالْمُهْلِ
(8) جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہوجائے گا
﴿9﴾ وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ
(9) اور پہاڑ دھنکے ہوئے اون جیسے
﴿10﴾ وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا
(10) اور کوئی ہمدرد کسی ہمدرد کا پرسانِ حال نہ ہوگا
﴿11﴾ يُبَصَّرُونَهُمْ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ
(11) وہ سب ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے تو مجرم چاہے گا کہ کاش آج کے دن کے عذاب کے بدلے اس کی اولاد کو لے لیا جائے
﴿12﴾ وَصَاحِبَتِهِ وَأَخِيهِ
(12) اوربیوی اور بھائی کو
﴿13﴾ وَفَصِيلَتِهِ الَّتِي تُؤْويهِ
(13) اور اس کنبہ کو جس میں وہ رہتا تھا
﴿14﴾ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ يُنجِيهِ
(14) اور روئے زمین کی ساری مخلوقات کو اور اسے نجات دے دی جائے
﴿15﴾ كَلَّا إِنَّهَا لَظَى
(15) ہرگز نہیں یہ آتش جہنمّ ہے
﴿16﴾ نَزَّاعَةً لِّلشَّوَى
(16) کھال اتار دینے والی
﴿17﴾ تَدْعُو مَنْ أَدْبَرَ وَتَوَلَّى
(17) ان سب کو آواز دے رہی ہے جو منہ پھیر کر جانے والے تھے
﴿18﴾ وَجَمَعَ فَأَوْعَى
(18) اور جنہوں نے مال جمع کرکے بند کر رکھا تھا
﴿19﴾ إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا
(19) بیشک انسان بڑا لالچی ہے
﴿20﴾ إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا
(20) جب تکلیف پہنچ جاتی ہے تو فریادی بن جاتا ہے
﴿21﴾ وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا
(21) اور جب مال مل جاتا ہے تو بخیل ہو جاتا ہے
﴿22﴾ إِلَّا الْمُصَلِّينَ
(22) علاوہ ان نمازیوں کے
﴿23﴾ الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ
(23) جو اپنی نمازوں کی پابندی کرنے والے ہیں
﴿24﴾ وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ
(24) اور جن کے اموال میں ایک مقررہ حق معین ہے
﴿25﴾ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ
(25) مانگنے والے کے لئے اور نہ مانگنے والے کے لئے
﴿26﴾ وَالَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ
(26) اور جو لوگ روز قیامت کی تصدیق کرنے والے ہیں
﴿27﴾ وَالَّذِينَ هُم مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ
(27) اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں
﴿28﴾ إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَأْمُونٍ
(28) بیشک عذاب پروردگار بے خوف رہنے والی چیز نہیں ہے
﴿29﴾ وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ
(29) اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں
﴿30﴾ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ
(30) علاوہ اپنی بیویوں اور کنیزوں کے کہ اس پر ملامت نہیں کی جاتی ہے
﴿31﴾ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاء ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ
(31) پھر جو اس کے علاوہ کا خواہشمند ہو وہ حد سے گزر جانے والا ہے
﴿32﴾ وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ
(32) اور جو اپنی امانتوں اور عہد کا خیال رکھنے والے ہیں
﴿33﴾ وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ
(33) اور جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں
﴿34﴾ وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ
(34) اور جو اپنی نمازوں کا خیال رکھنے والے ہیں
﴿35﴾ أُوْلَئِكَ فِي جَنَّاتٍ مُّكْرَمُونَ
(35) یہی لوگ جنّت میں باعزّت طریقہ سے رہنے والے ہیں
﴿36﴾ فَمَالِ الَّذِينَ كَفَرُوا قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ
(36) پھر ان کافروں کو کیا ہوگیا ہے کہ آپ کی طرف بھاگے چلے آرہے ہیں
﴿37﴾ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِينَ
(37) داہیں بائیں سے گروہ در گروہ
﴿38﴾ أَيَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ أَن يُدْخَلَ جَنَّةَ نَعِيمٍ
(38) کیا ان میں سے ہر ایک کی طمع یہ ہے کہ اسے جنت النعیم میں داخل کردیا جائے
﴿39﴾ كَلَّا إِنَّا خَلَقْنَاهُم مِّمَّا يَعْلَمُونَ
(39) ہرگز نہیں انہیں تو معلوم ہے کہ ہم نے انہیں کس چیز سے پیدا کیا ہے
﴿40﴾ فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُونَ
(40) میں تمام مشرق و مغرب کے پروردگار کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہم قدرت رکھنے والے ہیں
﴿41﴾ عَلَى أَن نُّبَدِّلَ خَيْرًا مِّنْهُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ
(41) اس بات پر کہ ان کے بدلے ان سے بہتر افراد لے آئیں اور ہم عاجز نہیں ہیں
﴿42﴾ فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا وَيَلْعَبُوا حَتَّى يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي يُوعَدُونَ
(42) لہذا انہیں چھوڑ دیجئے یہ اپنے باطل میں ڈوبے رہیں اور کھیل تماشہ کرتے رہیں یہاں تک کہ اس دن سے ملاقات کریں جس کا وعدہ کیا گیا ہے
﴿43﴾ يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ سِرَاعًا كَأَنَّهُمْ إِلَى نُصُبٍ يُوفِضُونَ
(43) جس دن یہ سب قبروں سے تیزی کے ساتھ نکلیں گے جس طرح کسی پرچم کی طرف بھاگے جارہے ہوں
﴿44﴾ خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ
(44) ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور ذلت ان پر چھائی ہوگی اور یہی وہ دن ہوگا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے
رہبر معظم سے مسلح افواج کے بعض کمانڈروں اور اہلکاروں کی ملاقات
۲۰۱۵/۰۴/۱۹ - رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے فوج کے بعض اعلی کمانڈروں، اہلکاروں اور فوجی شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات میں مسلح افواج کو دینی و انقلابی جہات اور بصیرت کی تقویت اور حفاظت ، دفاعی توانائی اور ہتھیاروں کے اضافہ پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران علاقہ اور ہمسایہ ممالک کے لئے نہ کبھی خطرہ تھا اور نہ ہوگا لیکن ہر قسم کے حملے کے مقابلے میں مقتدرانہ طور پر عمل کیا جائے گا۔
یہ ملاقات یوم مسلح افواج کی مناسبت سے ہوئی ، مسلح افواج کے کمانڈر انچیف نے اس دن کی مناسبت سے مبارکباد پیش کی ، اورانقلاب کے آغاز میں فوج کو ختم کرنے کے سلسلے میں بعض افراد کی کوششوں کے مقابلے میں حضرت امام خمینی (رہ) کی طرف سے 29 فروردین کو اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے نام سے موسوم کرنے کو ان کی ایک عظیم خلاقیت قراردیتے ہوئے فرمایا: حضرت امام (رہ) کی ذہانت اور ہوشیاری کی وجہ سےفوج قدرت اور قوت کے ساتھ باقی رہی ، اور مختلف میدانوں منجملہ آٹھ سالہ دفاع مقدس میں اس نے ایک انقلابی مجموعہ کے طور پر اپنا نقش ایفا کیا اور ملک کے لئے افتخارکا باعث بن گئی ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عوام کی خدمت اور اس کے اعلی اہداف کی راہ میں اور انقلاب اسلامی کے ساتھ فوج کے کھڑا ہونے کو 29 فروردین کے حقیقی معنی قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی ایک اہم خصوصیت دینی احکام اور مقررات پر عمل پیرا رہنا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے شکست یا کامیابی کے موقع پر بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں پر دنیا کی اکثرفوجوں کی طرف سے عمل نہ کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئےفرمایا: اس کا واضح نمونہ عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ کی رفتار میں نمایاں ہے جو بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں پر بالکل توجہ نہیں دیتے ہیں اور ہر جرم و جنایت کا ارتکاب کرتے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے یمن، غزہ اور لبنان پر مسلط کی جانی والی جنگوں کو بین الاقوامی قوانین پر عمل نہ کرنے کے واضح نمونے بیان کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج ہمیشہ اسلامی قوانین اور مقررات کی پابند رہی ہیں اور وہ کبھی بھی کامیابی کے موقع پرسرکشی نہیں کرتیں اور نہ خطرے کے موقع پر ممنوعہ طریقوں اورممنوعہ ہتھیاروں سے استفادہ کرتی ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: دینی اصولوں کی وجہ سے اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں ہے کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران بین الاقوامی قوانین اور دینی اصولوں پرکارپابند ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے علاقائی ممالک کے مسائل میں ایران کی مداخلت پر مبنی غلط پروپیگنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ بے بنیاد الزامات حقائق کے بالکل خلاف ہیں کیونکہ ایران نے نہ دوسرے ممالک کے مسائل میں مداخلت کی ہے اور نہ کرےگا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جو لوگ عام شہریوں، بچوں اور عورتوں پر حملہ کرتے ہیں ہم ان سے بیزار اور متنفر ہیں اورہمارا اس بات پر اعتقاد ہے کہ وہ لوگ اسلام اور انسانیت سے بےخبر ہیں ہم دوسرے ممالک کے مسائل میں مداخلت نہیں کرتے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی و الہی قوانین پر مسلح افواج کی پابندی کو ایرانی فوج کی نمایاں خصوصیت اور ان کی عوام میں محبوبیت کا اصلی راز قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی دوسری خصوصیت ، روز افزوں دفاعی آمادگی ، جنگی وسائل اور ہتھیاروں کا ارتقاء ہے جسے آیہ شریفہ " «و اَعِدّوا لَهُم مَا استَطَعتُم مِن قُوَّه» کی پشتپناہی حاصل ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مسلح افواج کی دفاعی اور فوجی ترقیات کو ملک کی سائنسی اور ٹیکنالوجی ترقیات کے ہمراہ بہت ہی ممتاز اور نمایاں قراردیتے ہوئے فرمایا: یہ ترقیات اور توانائیاں سخت دباؤ اور اقتصادی پابندیوں کے سائے میں حاصل ہوئی ہیں جو بہب ہی عظيم اور غیر معمولی ہیں اور انھیں اسی سرعت کے ساتھ جاری رکھنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مسلح افواج کی دفاعی ترقیات و پیشرفت اور انھیں متوقف کرنے کے سلسلے میں ایرانی قوم کے دشمنوں کی ناراضگی اور کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہی وجہ ہے کہ انھوں نے میزائل سسٹم اور ڈرون طیاروں کے شعبہ میں جاری ترقیات پر اپنی تبلیغاتی کوششوں کو مرکوز رکھا ہوا ہے لیکن عقل و منطق اور قرآن مجید کی آیہ شریفہ ہمیں کہتی ہے کہ ہم طاقت اور قدرت کے ساتھ اپنی راہ پر گامزن رہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکہ کی پست دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: کچھ عرصہ خاموش رہنے کے بعد پھر ایک امریکی اہلکار نے میز پر تمام آپشنز موجود رہنے کی بات کی ہے وہ ایک طرف ایسی شیخی مارتے اور لاف گوئی کرتےہیں اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنی دفاعی ترقیات کو متوقف کرنا چاہیے البتہ ان کی یہ بات احمقانہ بات ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کبھی بھی اس احمقانہ بات کو قبول نہیں کرےگی اور ایرانی قوم نے ثابت کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ اپنا مقتدرانہ دفاع کرےگی اور متحدہ ہو کر غیر منطقی حملہ آور کا آہنی ہاتھوں سے مقابلہ کرےگی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف نے فرمایا: وزارت دفاع ، فوج اور سپاہ کے تمام داروں کو اپنی دفاعی، فوجی اور رزمی صلاحیتوں میں روز بروز اضافہ کرنا چاہیے اور مکمل طور پر تیار رہنا چاہیے اور یہ ایک باقاعدہ دستور العمل ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کی مسلح افواج بالخصوص فوج کے جذبات کو بہت ہی بلند و بالا قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اپنی فوجی اور دفاعی توانائیوں کے باوجود کبھی بھی علاقائی اور ہمسایہ ممالک کے لئے خطرہ نہیں ہوں گی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکہ ، یورپ اور بعض ان کے پیروکار ممالک کی طرف سے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوشش اور اسلامی جمہوریہ ایران کو خطرہ بنا کر پیش کرنے کےسلسلے میں ان کے مصنوعی افسانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج علاقائی اور عالمی سطح پر امریکہ اور اسرائیل سب سے بڑا خطرہ ہیں جو بین الاقوامی ، اخلاقی اور دینی اصولوں اور قوانین کو پامال کرکے بغیر کسی روک ٹوک کے جہاں ضروری سمجھتے ہیں مداخلت کرتے ہیں اور قتل و غارت کا بازار گرم کرتے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے یمن کے دردناک حوادث اور یمن پر مسلط کردہ جنگ کی امریکہ اور مغرب کی طرف سے حمایت کو عالمی سطح پر بد امنی پھیلانے کا ایک واضح نمونہ قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران ، بےلگام طاقتوں کے برخلاف امن و سلامتی کو سب سے بڑی نعمت سمجھتا ہے اور اپنی و دوسروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے استقامت کا مظاہرہ اور دفاع کرتا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے اختتام پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ملک کی سکیورٹی کی حفاظت، سرحدوں کی حفاظت اور عوام کی عام زندگی کی حفاظت سکیورٹی فورسز اور مسلح افواج کی اہم ذمہ داری ہے۔
رہبر معظم سے افغانستان کے صدر اشرف غنی اور اس کے ہمراہ وفد کی ملاقات
۲۰۱۵/۰۴/۱۹ - رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے کو افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ساتھ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان بہت زيادہ تاریخی ، ثقافتی مشترکات و ارتباطات نیز اسلامی معارف اور فارسی زبان کے رشد و فروغ میں افغانستان کے علماء اور ادباء کے نقش کو بہت ممتاز قراردیتے ہوئے فرمایا: افغانستان ، انسانی و ثقافتی وسائل کے علاوہ قدرتی وسائل سے بھی سرشار ہے، اور ان تمام ظرفیتوں اور مشترکات کے ذریعہ دونوں ممالک کے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے سلسلے میں استفادہ کرنا چاہیے ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران و افغانستان کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لئےٹھوس عزم و ارادہ کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: امریکیوں اور بعض علاقائی ممالک کو افغانستان کی ظرفیتوں کا علم نہیں ہے اوروہ دونوں ممالک کے باہمی تعاون اور ہمدلی کے حق میں بھی نہیں ہیں لیکن ایران اپنے ہمسایہ ملک افغانستان کی پیشرفت اور سلامتی کو اپنی پیشرفت اور سلامتی سمجھتا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سائنس و ٹیکنالوجی اور سفارتی اور ثقافتی شعبوں میں ایران کی بیشمار ترقیات و تجربات کو دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو ہموار کرنے کی راہیں شمار کرتے ہوئے فرمایا: دونوں ممالک کے درمیان مہاجرین، پانی، حمل و نقل اور سکیورٹی کے تمام مسائل قابل حل ہیں اور ان تمام مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ ایک مقررہ وقت کے اندر جائزہ لیکر حل کرنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مہاجرین کے اہم مسئلہ کو حل کرنے اور ایران کے مختلف مدارس میں ہزاروں افغان مہاجرین کی تحصیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: افغانستان کے عوام بہت بڑی استعداد ، صلاحیت اور ذہانت کے مالک ہیں اور علم کے حصول میں اس استعداد سے درست اور بھر پور استفادہ کرنا چاہیےکیونکہ افغانستان کی تعمیر نو کے لئے تعلیم یافتہ افغانیوں کی بہت زيادہ ضرورت ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تہران کو افغانی بھائیوں کا گھر قراردیا اور ہمسایہ حکومت کے ساتھ پائدار دوستی اور ارتباطات کی طرف اشارہ کیا اورافغان حکومت اور قوم کی اندرونی توانائیوں اور صلاحیتوں میں روز بروز اضافہ کی توقع ظاہر کی ۔
اس ملاقات میں صدر روحانی بھی موجود تھے، افغانستان کے صدرجناب محمد اشرف غنی نے اپنے تہران کے سفر پر خوشی و مسرت کا اظہار کیا اور ایران و افغانستان کے درمیان قدیم و عمیق تاریخی اور ثقافتی روابط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمارا مقصد یہ ہے کہ افغانستان علاقہ میں ایک مواصلاتی مرکز میں تبدیل ہوجائے اور علاقہ میں ارتباطات کے چوراہے کے عنوان سے اپنا سابقہ تشخص بحال کرلے۔
افغانستان کے صدر نے ایران اور افغانستان کو در پیش مشترکہ خطرات اور مشترکہ مواقع کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا: ہمارا سیاسی عزم دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو فروغ دینے پر استوار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اور مثبت نقاط کو مضبوط بنانے کے سلسلے میں تلاش و کوشش کرنی چاہیے۔
افغان صدر نے افغان حکومت کی پالیسیوں کو اندرونی کشیدگی اور جھگڑوں کو باہمی تعاون میں تبدیل کرنے پر استوار قراردیا اور دوطرفہ روابط کے سلسلے میں دہشت گردی، منشیات، مہاجرین ، سرحدی پانیوں جیسی مشکلات اور مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دونوں ممالک کے درمیان مسائل کو دونوں حکومت کے سیاسی عزم کے ساتھ شیڈول کے مطابق حل و فصل اور جس کا منصوبہ اس سفر میں طے کیا جائے گا ۔
جناب اشرف غنی نےمنشیات کی اسمگلنگ کے مسئلہ میں ایران کے سب سے زیادہ نقصان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمسایہ ممالک میں سے کسی نے بھی مشیات کے خطرے کو اتنا سنجیدہ نہیں لیا جتنا ایران نے لیا ہے اور ایران کی طرح کسی بھی ملک نے اس کا مقابلہ نہیں کیا ہے اور میں آیا ہوں تاکہ ایران کے ساتھ ملکر منشیات جیسی تباہ کن بلا کا مقابلہ کروں ۔
افغانستان کے صدر نے حمل و نقل، سرمایہ کاری ، ثقافتی اور اقتصادی تعاون کے سلسلے میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے فروغ کی طرف اشارہ اور رہبر معظم انقلاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ایران نے آپ کی دانشمندانہ زعامت اور قیادت کے سائے میں اپنے تاریخی تشخص کو مضبوط بنالیا، اورہمیں آپ کی خردمندانہ اور دانشمندانہ رہبری اور زعامت کے سائے میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے فروغ کی توقع ہے۔
سوره الحاقة
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے
﴿1﴾ الْحَاقَّةُ
(1) یقینا پیش آنے والی قیامت
﴿2﴾ مَا الْحَاقَّةُ
(2) اور کیسی پیش آنے والی
﴿3﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْحَاقَّةُ
(3) اور تم کیا جانو کہ یہ یقینا پیش آنے والی شے کیا ہے
﴿4﴾ كَذَّبَتْ ثَمُودُ وَعَادٌ بِالْقَارِعَةِ
(4) قوم ثمود و عاد نے اس کھڑ کھڑانے والی کا انکار کیا تھا
﴿5﴾ فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهْلِكُوا بِالطَّاغِيَةِ
(5) تو ثمود ایک چنگھاڑ کے ذریعہ ہلاک کردیئے گئے
﴿6﴾ وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ
(6) اور عاد کو انتہائی تیز و تند آندھی سے برباد کردیا گیا
﴿7﴾ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ
(7) جسے ان کے اوپر سات رات اور آٹھ دن کے لئے مسلسل مسخّرکردیا گیا تو تم دیکھتے ہو کہ قوم بالکل مفِدہ پڑی ہوئی ہے جیسے کھوکھلے کھجور کے درخت کے تنے
﴿8﴾ فَهَلْ تَرَى لَهُم مِّن بَاقِيَةٍ
(8) تو کیا تم ان کا کوئی باقی رہنے والا حصہّ دیکھ رہے ہو
﴿9﴾ وَجَاء فِرْعَوْنُ وَمَن قَبْلَهُ وَالْمُؤْتَفِكَاتُ بِالْخَاطِئَةِ
(9) اور فرعون اور اس سے پہلے اور الٹی بستیوں والے سب نے غلطیوں کا ارتکاب کیا ہے
﴿10﴾ فَعَصَوْا رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَّابِيَةً
(10) کہ پروردگار کے نمائندہ کی نافرمانی کی تو پروردگار نے انہیں بڑی سختی سے پکڑ لیا
﴿11﴾ إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاء حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ
(11) ہم نے تم کو اس وقت کشتی میں اٹھالیا تھا جب پانی سر سے چڑھ رہا تھا
﴿12﴾ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ
(12) تاکہ اسے تمہارے لئے نصیحت بنائیں اور محفوظ رکھنے والے کان سن لیں
﴿13﴾ فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ نَفْخَةٌ وَاحِدَةٌ
(13) پھر جب صور میں پہلی مرتبہ پھونکا جائے گا
﴿14﴾ وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً
(14) اور زمین اور پہاڑوں کو اکھاڑ کر ٹکرا کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا
﴿15﴾ فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ
(15) تو اس دن قیامت واقع ہوجائے گی
﴿16﴾ وَانشَقَّتِ السَّمَاء فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ
(16) اور آسمان شق ہوکر بالکل پھس پھسے ہوجائیں گے
﴿17﴾ وَالْمَلَكُ عَلَى أَرْجَائِهَا وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ
(17) اور فرشتے اس کے اطراف پر ہوں گے اور عرش الہٰی کو اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے
﴿18﴾ يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَى مِنكُمْ خَافِيَةٌ
(18) اس دن تم کو منظر عام پر لایا جائے گا اور تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہ رہے گی
﴿19﴾ فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَؤُوا كِتَابِيهْ
(19) پھر جس کو نامئہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ سب سے کہے گا کہ ذرا میرا نامئہ اعمال تو پڑھو
﴿20﴾ إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيهْ
(20) مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ میرا حساب مجھے ملنے والا ہے
﴿21﴾ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ
(21) پھر وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا
﴿22﴾ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ
(22) بلند ترین باغات میں
﴿23﴾ قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ
(23) اس کے میوے قریب قریب ہوں گے
﴿24﴾ كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ
(24) اب آرام سے کھاؤ پیو کہ تم نے گزشتہ دنوں میں ان نعمتوں کا انتظام کیا ہے
﴿25﴾ وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيهْ
(25) لیکن جس کو نامئہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا اے کاش یہ نامہ اعمال مجھے نہ دیا جاتا
﴿26﴾ وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيهْ
(26) اور مجھے اپنا حساب نہ معلوم ہوتا
﴿27﴾ يَا لَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ
(27) اے کاش اس موت ہی نے میرا فیصلہ کردیا ہوتا
﴿28﴾ مَا أَغْنَى عَنِّي مَالِيهْ
(28) میرا مال بھی میرے کام نہ آیا
﴿29﴾ هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيهْ
(29) اور میری حکومت بھی برباد ہوگئی
﴿30﴾ خُذُوهُ فَغُلُّوهُ
(30) اب اسے پکڑو اور گرفتار کرلو
﴿31﴾ ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ
(31) پھر اسے جہنم ّمیں جھونک دو
﴿32﴾ ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ
(32) پھر ایک ستر گز کی رسی میں اسے جکڑ لو
﴿33﴾ إِنَّهُ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ
(33) یہ خدائے عظیم پر ایمان نہیں رکھتا تھا
﴿34﴾ وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ
(34) اور لوگوں کو مسکینوں کو کھلانے پر آمادہ نہیں کرتا تھا
﴿35﴾ فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هَاهُنَا حَمِيمٌ
(35) تو آج اس کا یہاں کوئی غمخوار نہیں ہے
﴿36﴾ وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ
(36) اور نہ پیپ کے علاوہ کوئی غذا ہے
﴿37﴾ لَا يَأْكُلُهُ إِلَّا الْخَاطِؤُونَ
(37) جسے گنہگاروں کے علاوہ کوئی نہیں کھاسکتا
﴿38﴾ فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ
(38) میں اس کی بھی قسم کھاتا ہوں جسے تم دیکھ رہے ہو
﴿39﴾ وَمَا لَا تُبْصِرُونَ
(39) اور اس کی بھی جس کو نہیں دیکھ رہے ہو
﴿40﴾ إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ
(40) کہ یہ ایک محترم فرشتے کا بیان ہے
﴿41﴾ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ
(41) اور یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے ہاں تم بہت کم ایمان لاتے ہو
﴿42﴾ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ
(42) اور یہ کسی کاہن کا کلام نہیں ہے جس پر تم بہت کم غور کرتے ہو
﴿43﴾ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ
(43) یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے
﴿44﴾ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ
(44) اور اگر یہ پیغمبر ہماری طرف سے کوئی بات گڑھ لیتا
﴿45﴾ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ
(45) تو ہم اس کے ہاتھ کو پکڑ لیتے
﴿46﴾ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ
(46) اور پھر اس کی گردن اڑادیتے
﴿47﴾ فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ
(47) پھر تم میں سے کوئی مجھے روکنے والا نہ ہوتا
﴿48﴾ وَإِنَّهُ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ
(48) اور یہ قرآن صاحبانِ تقویٰ کے لئے نصیحت ہے
﴿49﴾ وَإِنَّا لَنَعْلَمُ أَنَّ مِنكُم مُّكَذِّبِينَ
(49) اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے جھٹلانے والے بھی ہیں
﴿50﴾ وَإِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكَافِرِينَ
(50) اور یہ کافرین کے لئے باعث حسرت ہے
﴿51﴾ وَإِنَّهُ لَحَقُّ الْيَقِينِ
(51) اور یہ بالکل یقینی چیز ہے
﴿52﴾ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ
(52) لہذا آپ اپنے عظیم پروردگار کے نام کی تسبیح کریں
سوره القلم
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے
﴿1﴾ ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ
(1) نۤ, قلم اور اس چیز کی قسم جو یہ لکھ رہے ہیں
﴿2﴾ مَا أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ
(2) آپ اپنے پروردگار کی نعمت کے طفیل مجنون نہیں ہیں
﴿3﴾ وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ
(3) اور آپ کے لئے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے
﴿4﴾ وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ
(4) اور آپ بلند ترین اخلاق کے درجہ پر ہیں
﴿5﴾ فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ
(5) عنقریب آپ بھی دیکھیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے
﴿6﴾ بِأَييِّكُمُ الْمَفْتُونُ
(6) کہ دیوانہ کون ہے
﴿7﴾ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
(7) آپ کا پروردگار بہتر جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بہک گیا ہے اور کون ہدایت یافتہ ہے
﴿8﴾ فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ
(8) لہذا آپ جھٹلانے والوں کی اطاعت نہ کریں
﴿9﴾ وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(9) یہ چاہتے ہیں کہ آپ ذرا نرم ہوجائیں تو یہ بھی نرم ہوجائیں
﴿10﴾ وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ
(10) اور خبردار آپ کسی بھی مسلسل قسم کھانے والے ذلیل
﴿11﴾ هَمَّازٍ مَّشَّاء بِنَمِيمٍ
(11) عیب جو اور اعلٰی درجہ کے چغلخور
﴿12﴾ مَنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ
(12) مال میں بیحد بخل کرنے والے, تجاوز گناہگار
﴿13﴾ عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(13) بدمزاج اور اس کے بعد بدنسل کی اطاعت نہ کریں
﴿14﴾ أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ
(14) صرف اس بات پر کہ یہ صاحب مال و اولاد ہے
﴿15﴾ إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ
(15) جب اس کے سامنے آیات الۤہیہ کی تلاوت کی جاتی ہے تو کہہ دیتا ہے کہ یہ سب اگلے لوگوں کی داستانیں ہیں
﴿16﴾ سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ
(16) ہم عنقریب اس کی ناک پر نشان لگادیں گے
﴿17﴾ إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ
(17) ہم نے ان کو اسی طرح آزمایا ہے جس طرح باغ والوں کو آزمایا تھا جب انہوں نے قسم کھائی تھی کہ صبح کو پھل توڑ لیں گے
﴿18﴾ وَلَا يَسْتَثْنُونَ
(18) اور انشائ اللہ نہیں کہیں گے
﴿19﴾ فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ
(19) تو خدا کی طرف سے راتوں رات ایک بلا نے چکر لگایا جب یہ سب سورہے تھے
﴿20﴾ فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ
(20) اور سارا باغ جل کر کالی رات جیسا ہوگیا
﴿21﴾ فَتَنَادَوا مُصْبِحِينَ
(21) پھر صبح کو ایک نے دوسرے کو آواز دی
﴿22﴾ أَنِ اغْدُوا عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَارِمِينَ
(22) کہ پھل توڑنا ہے تو اپنے اپنے کھیت کی طرف چلو
﴿23﴾ فَانطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ
(23) پھر سب گئے اس عالم میں کہ آپس میں راز دارانہ باتیں کررہے تھے
﴿24﴾ أَن لَّا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُم مِّسْكِينٌ
(24) کہ خبردار آج باغ میں کوئی مسکین داخل نہ ہونے پائے
﴿25﴾ وَغَدَوْا عَلَى حَرْدٍ قَادِرِينَ
(25) اور روک تھام کا بندوبست کرکے صبح سویرے پہنچ گئے
﴿26﴾ فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ
(26) اب جو باغ کو دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم تو بہک گئے
﴿27﴾ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ
(27) بلکہ بالکل سے محروم ہوگئے
﴿28﴾ قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ
(28) تو ان کے منصف مزاج نے کہا کہ میں نے نہ کہا تھا کہ تم لوگ تسبیح پروردگار کیوں نہیں کرتے
(29) قَالُوا سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
(29) کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک و بے نیاز ہے اور ہم واقعا ظالم تھے
﴿30﴾ فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَاوَمُونَ
(30) پھر ایک نے دوسرے کو ملامت کرنا شروع کردی
﴿31﴾ قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا طَاغِينَ
(31) کہنے لگے کہ افسوس ہم بالکل سرکش تھے
﴿32﴾ عَسَى رَبُّنَا أَن يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِّنْهَا إِنَّا إِلَى رَبِّنَا رَاغِبُونَ
(32) شائد ہمارا پروردگار ہمیں اس سے بہتر دے دے کہ ہم اس کی طرف رغبت کرنے والے ہیں
﴿33﴾ كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
(33) اسی طرح عذاب نازل ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب تو اس سے بڑا ہے اگر انہیں علم ہو
﴿34﴾ إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ
(34) بیشک صاحبانِ تقویٰ کے لئے پروردگار کے یہاں نعمتوں کی جنّت ہے
﴿35﴾ أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ
(35) کیا ہم اطاعت گزار وں کو مجرموں جیسا بنا دیں
﴿36﴾ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ
(36) تمہیں کیا ہو گیا ہے کیسا فیصلہ کر رہے ہو
﴿37﴾ أَمْ لَكُمْ كِتَابٌ فِيهِ تَدْرُسُونَ
(37) یا تمہاری کوئی کتاب ہے جس میں یہ سب پڑھا کرتے ہو
﴿38﴾ إِنَّ لَكُمْ فِيهِ لَمَا يَتَخَيَّرُونَ
(38) کہ وہاں تمہاری پسند کی ساری چیزیں حاضر ملیں گی
﴿39﴾ أَمْ لَكُمْ أَيْمَانٌ عَلَيْنَا بَالِغَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُونَ
(39) یا تم نے ہم سے روزِ قیامت تک کی قسمیں لے رکھی ہیں کہ تمہیں وہ سب کچھ ملے گا جس کا تم فیصلہ کرو گے
﴿40﴾ سَلْهُم أَيُّهُم بِذَلِكَ زَعِيمٌ
(40) ان سے پوچھئے کہ ان سب باتوں کا ذمہ دار کون ہے
﴿41﴾ أَمْ لَهُمْ شُرَكَاء فَلْيَأْتُوا بِشُرَكَائِهِمْ إِن كَانُوا صَادِقِينَ
(41) یا ان کے لئے شرکائ ہیں تو اگر یہ سچے ہیں تو اپنے شرکائ کو لے آئیں
﴿42﴾ يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ
(42) جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور انہیں سجدوں کی دعوت دی جائے گی اور یہ سجدہ بھی نہ کرسکیں گے
﴿43﴾ خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ وَقَدْ كَانُوا يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سَالِمُونَ
(43) ان کی نگاہیں شرم سے جھکی ہوں گی ذلّت ان پر چھائی ہوگی اور انہیں اس وقت بھی سجدوں کی دعوت دی جارہی تھی جب یہ بالکل صحیح و سالم تھے
﴿44﴾ فَذَرْنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَذَا الْحَدِيثِ سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ
(44) تو اب مجھے اور اس بات کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دو ہم عنقریب انہیں اس طرح گرفتار کریں گے کہ انہیں اندازہ بھی نہ ہوگا
﴿45﴾ وَأُمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ
(45) اور ہم تو اس لئے ڈھیل دے رہے ہیں کہ ہماری تدبیر مضبوط ہے
﴿46﴾ أَمْ تَسْأَلُهُمْ أَجْرًا فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ
(46) کیا آپ ان سے مزدوری مانگ رہے ہیں جو یہ اس کے تاوان کے بوجھ سے دبے جارہے ہیں
﴿47﴾ أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ
(47) یا ان کے پاس کوئی غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہیں
﴿48﴾ فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ
(48) اب آپ اپنے پروردگار کے حکم کے لئے صبر کریں اور صاحب حوت جیسے نہ ہوجائیں جب انہوں نے نہایت غصّہ کے عالم میں آواز دی تھی
﴿49﴾ لَوْلَا أَن تَدَارَكَهُ نِعْمَةٌ مِّن رَّبِّهِ لَنُبِذَ بِالْعَرَاء وَهُوَ مَذْمُومٌ
(49) کہ اگر انہیں نعمت پروردگار نے سنبھال نہ لیا ہوتا تو انہیں چٹیل میدان میں برے حالوں میں چھوڑ دیا جاتا
﴿50﴾ فَاجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصَّالِحِينَ
(50) پھر ان کے رب نے انہیں منتخب کرکے نیک کرداروں میں قرار دے دیا
﴿51﴾ وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ
(51) اور یہ کفاّر قرآن کو سنتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ عنقریب آپ کو نظروں سے پھسلادیں گے اور یہ کہتے ہیں کہ یہ تو دیوانے ہیں
﴿52﴾ وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ
(52) حالانکہ یہ قرآن عالمین کے لئے نصیحت ہے اور بس
سوره الملك
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے
﴿1﴾ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(1) بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھوں میں سارا ملک ہے اور وہ ہر شے پر قادر و مختار ہے
﴿2﴾ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ
(2) اس نے موت و حیات کو اس لئے پیدا کیا ہے تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں حَسن عمل کے اعتبار سے سب سے بہتر کون ہے اور وہ صاحب عزّت بھی ہے اور بخشنے والا بھی ہے
﴿3﴾ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَّا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِن تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِن فُطُورٍ
(3) اسی نے سات آسمان تہ بہ تہ پیدا کئے ہیں اور تم رحمان کی خلقت میں کسی طرح کا فرق نہ دیکھو گے پھر دوبارہ نگاہ اٹھا کر دیکھو کہیں کوئی شگاف نظر آتا ہے
﴿4﴾ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِأً وَهُوَ حَسِيرٌ
(4) اس کے بعد بار بار نگاہ ڈالو دیکھو نگاہ تھک کر پلٹ آئے گی لیکن کوئی عیب نظر نہ آئے گا
﴿5﴾ وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاء الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ
(5) ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا ہے اور انہیں شیاطین کو سنگسار کرنے کا ذریعہ بنادیا ہے اور ان کے لئے جہنمّ کا عذاب الگ مہیّا کر رکھا ہے
﴿6﴾ وَلِلَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(6) اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا ہے ان کے لئے جہنمّ کا عذاب ہے اور وہی بدترین انجام ہے
﴿7﴾ إِذَا أُلْقُوا فِيهَا سَمِعُوا لَهَا شَهِيقًا وَهِيَ تَفُورُ
(7) جب بھی وہ اس میں ڈالے جائیں گے اس کی چیخ سنیں گے اور وہ جوش مار رہا ہوگا
﴿8﴾ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ
(8) بلکہ قریب ہوگا کہ جوش کی شدت سے پھٹ پڑے جب بھی اس میں کسی گروہ کو ڈالا جائے گا تو اس کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا
﴿9﴾ قَالُوا بَلَى قَدْ جَاءنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ
(9) تو وہ کہیں گے کہ آیا تو تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلادیا اور یہ کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے تم لوگ خود بہت بڑی گمراہی میں مبتلا ہو
﴿10﴾ وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ
(10) اور پھر کہیں گے کہ اگر ہم بات سن لیتے اور سمجھتے ہوتے تو آج جہنّم والوں میں نہ ہوتے
﴿11﴾ فَاعْتَرَفُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ
(11) تو انہوں نے خود اپنے گناہ کا اقرار کرلیا تو اب جہنم ّوالوں کے لئے تو رحمت خدا سے دوری ہی دوری ہے
﴿12﴾ إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ
(12) بیشک جو لوگ بغیر دیکھے اپنے پروردگار کا خوف رکھتے ہیں ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے
﴿13﴾ وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(13) اور تم لوگ اپنی باتوں کو آہستہ کہو یا بلند آواز سے خدا تو سینوں کی رازوں کو بھی جانتا ہے
﴿14﴾ أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ
(14) اور کیا پیدا کرنے والا نہیں جانتا ہے جب کہ وہ لطیف بھی ہے اور خبیر بھی ہے
﴿15﴾ هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
(15) اسی نے تمہارے لئے زمین کو نرم بنادیا ہے کہ اس کے اطراف میں چلو اور رزق خدا تلاش کرو پھر اسی کی طرف قبروں سے اٹھ کر جانا ہے
﴿16﴾ أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ
(16) کیا تم آسمان میں حکومت کرنے والے کی طرف سے مطمئن ہوگئے کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ تمہیں گردش ہی دیتی رہے
﴿17﴾ أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ
(17) یا تم اس کی طرف سے اس بات سے محفوظ ہوگئے کہ وہ تمہاے اوپر پتھروں کی بارش کردے پھر تمہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا ہوتا ہے
﴿18﴾ وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ
(18) اور ان سے پہلے والوں نے بھی تکذیب کی ہے تو دیکھو کہ ان کا انجام کتنا بھیانک ہوا ہے
﴿19﴾ أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ
(19) کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر ان پرندوں کو نہیں دیکھا ہے جو پر پھیلا دیتے ہیں اور سمیٹ لیتے ہیں کہ انہیں اس فضا میں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں سنبھال سکتا کہ وہی ہر شے کی نگرانی کرنے والا ہے
﴿20﴾ أَمَّنْ هَذَا الَّذِي هُوَ جُندٌ لَّكُمْ يَنصُرُكُم مِّن دُونِ الرَّحْمَنِ إِنِ الْكَافِرُونَ إِلَّا فِي غُرُورٍ
(20) کیا یہ جو تمہاری فوج بنا ہوا ہے خدا کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرسکتا ہے - بیشک کفار صرف دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں
﴿21﴾ أَمَّنْ هَذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ بَل لَّجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ
(21) یا یہ تم کو روزی دے سکتا ہے اگر خدا اپنی روزی کو روک لے - حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ نافرمانی اور نفرت میں غرق ہوگئے ہیں
﴿22﴾ أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَى وَجْهِهِ أَهْدَى أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(22) کیا وہ شخص جو منہ کے بل چلتا ہے وہ زیادہ ہدایت یافتہ ہے یا جو سیدھے سیدھے صراظُ مستقیم پر چل رہا ہے
﴿23﴾ قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ
(23) آپ کہہ دیجئے کہ خدا ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی نے تمہارے لئے کان آنکھ اور دل قرار دیئے ہیں مگر تم بہت کم شکریہ ادا کرنے والے ہو
﴿24﴾ قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
(24) کہہ دیجئے کہ وہی وہ ہے جس نے زمین میں تمہیں پھیلا دیا ہے اور اسی کی طرف تمہیں جمع کرکے لے جایا جائے گا
﴿25﴾ وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
(25) اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر تم لوگ سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا
﴿26﴾ قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ
(26) آپ کہہ دیجئے کہ علم اللہ کے پاس ہے اور میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں
﴿27﴾ فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَقِيلَ هَذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تَدَّعُونَ
(27) پھر جب اس قیامت کے عذاب کو قریب دیکھیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ عذاب ہے جس کے تم خواستگار تھے
﴿28﴾ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَهْلَكَنِيَ اللَّهُ وَمَن مَّعِيَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَن يُجِيرُ الْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ
(28) آپ کہہ دیجئے کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ خدا مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم کرے تو ان کافروں کا دردناک عذاب سے بچانے والا کون ہے
﴿29﴾ قُلْ هُوَ الرَّحْمَنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(29) کہہ دیجئے کہ وہی خدائے رحمان ہے جس پر ہم ایمان لائے ہیں اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے پھر عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کِھلی ہوئی گمراہی میں کون ہے
﴿30﴾ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَاء مَّعِينٍ
(30) کہہ دیجئے کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہارا سارا پانی زمین کے اندر جذب ہوجائے تو تمہارے لئے چشمہ کا پانی بہا کر کون لائے گا
سوره التحريم
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے
﴿1﴾ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(1) پیغمبر آپ اس شے کو کیوں ترک کررہے ہیں جس کو خدا نے آپ کے لئے حلال کیا ہے کیا آپ ازواج کی مرضی کے خواہشمند ہیں اور اللہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے
﴿2﴾ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ وَاللَّهُ مَوْلَاكُمْ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
(2) خدا نے فرض قرار دیا ہے کہ اپنی قسم کو کفارہ دے کر ختم کردیجئے اور اللہ آپ کا مولا ہے اور وہ ہر چیز کا جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے
﴿3﴾ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَن بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنبَأَكَ هَذَا قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ
(3) اور جب نبی نے اپنی بعض ازواج سے راز کی بات بتائی اور اس نے دوسری کو باخبر کردیا اور خدا نے نبی پر ظاہر کردیا تو نبی نے بعض باتوں کو اسے بتایا اور بعض سے اعراض کیا پھر جب اسے باخبر کیا تو اس نے پوچھا کہ آپ کو کس نے بتایا ہے تو آپ نے کہا کہ خدائے علیم و خبیرنے
﴿4﴾ إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا وَإِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ
(4) اب تم دونوں توبہ کرو کہ تمہارے دلوں میں کجی پیدا ہوگئی ہے ورنہ اگر اس کے خلاف اتفاق کرو گی تو یاد رکھو کہ اللہ اس کا سرپرست ہے اور جبریل اور نیک مومنین اور ملائکہ سب اس کے مددگار ہیں
﴿5﴾ عَسَى رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا
(5) وہ اگر تمہیں طلاق بھی دے دے گا تو خدا تمہارے بدلے اسے تم سے بہتر بیویاں عطا کردے گا مسلمہ, مومنہ, فرمانبردار, توبہ کرنے والی, عبادت گزار, روزہ رکھنے والی, کنواری اور غیر کنواری سب
﴿6﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
(6) ایمان والو اپنے نفس اور اپنے اہل کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے جس پر وہ ملائکہ معین ہوں گے جو سخت مزاج اور تندوتیز ہیں اور خدا کے حکم کی مخالفت نہیں کرتے ہیں اور جو حکم دیا جاتا ہے اسی پر عمل کرتے ہیں
﴿7﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(7) اور اے کفر اختیار کرنے والو آج کوئی عذر پیش نہ کرو کہ آج تمہیں تمہارے اعمال کی سزا دی جائے گی
﴿8﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(8) ایمان والو خلوص دل کے ساتھ توبہ کرو عنقریب تمہارا پروردگار تمہاری برائیوں کو مٹا دے گا اور تمہیں ان جنتوں میں داخل کردے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اس دن خدا اپنے نبی اور صاحبانِ ایمان کو رسوا نہیں ہونے دے گا ان کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف چل رہا ہوگا اور وہ کہیں گے کہ خدایا ہمارے لئے ہمارے نور کو مکمل کردے اور ہمیں بخش دے کہ تو یقینا ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے
﴿9﴾ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(9) پیغمبر آپ کفر اور منافقین سے جہاد کریں اور ان پر سختی کریں اور ان کا ٹھکانا جہنّم ہے اور وہی بدترین انجام ہے
﴿10﴾ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ كَفَرُوا اِمْرَأَةَ نُوحٍ وَاِمْرَأَةَ لُوطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ
(10) خدا نے کفر اختیار کرنے والوں کے لئے زوجہ نوح اور زوجہ لوط کی مثال بیان کی ہے کہ یہ دونوں ہمارے نیک بندوں کی زوجیت میں تھیں لیکن ان سے خیانت کی تو اس زوجیت نے خدا کی بارگاہ میں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا اور ان سے کہہ دیا گیا کہ تم بھی تمام جہنمّ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجاؤ
﴿11﴾ وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ آمَنُوا اِمْرَأَةَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِن فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
(11) اور خدا نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی زوجہ کی مثال بیان کی ہے کہ اس نے دعا کی کہ پروردگار میرے لئے جنّت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے کاروبار سے نجات دلادے اور اس پوری ظالم قوم سے نجات عطا کردے
﴿12﴾ وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ
(12) اور مریم بنت عمران کی مثال جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کے کلمات اور کتابوں کی تصدیق کی اور وہ ہمارے فرمانبردار بندوں میں سے تھی
سوره الطلاق
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے
﴿1﴾ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا
(1) اے پیغمبر ! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انہیں عدت کے حساب سے طلاق دو اور پھر عدت کا حساب رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ وہ تمہارا پروردگار ہے اور خبردار انہیں ان کے گھروں سے مت نکالنا اور نہ وہ خود نکلیں جب تک کوئی کِھلا ہوا گناہ نہ کریں - یہ خدائی حدود ہیں اور جو خدائی حدود سے تجاوز کرے گا اس نے اپنے ہی نفس پر ظلم کیا ہے تمہیں نہیں معلوم کہ شاید خدا اس کے بعد کوئی نئی بات ایجاد کردے
﴿2﴾ فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ ذَلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا
(2) پھر جب وہ اپنی مدت کو پورا کرلیں تو انہیں نیکی کے ساتھ روک لو یا نیکی ہی کے ساتھ رخصت کردو اور طلاق کے لئے اپنے میں سے دو عادل افراد کو گواہ بناؤ اور گواہی کو صرف خدا کے لئے قائم کرو نصیحت ان لوگوں کو کی جارہی ہے جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو بھی اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ پیدا کردیتا ہے
﴿3﴾ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا
(3) اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جس کا خیال بھی نہیں ہوتا ہے اور جو خدا پر بھروسہ کرے گا خدا اس کے لئے کافی ہے بیشک خدا اپنے حکم کا پہنچانے والا ہے اس نے ہر شے کے لئے ایک مقدار معین کردی ہے
﴿4﴾ وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا
(4) اور تمہاری عورتوں میں جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں اگر ان کے یائسہ ہونے میں شک ہو تو ان کا عدہ تین مہینے ہے اور اسی طرح وہ عورتیں جن کے یہاں حیض نہیں آتا ہے اور حاملہ عورتوں کا عدہ وضع حمل تک ہے اور جو خدا سے ڈرتا ہے خدا اس کے امر میں آسانی پیدا کردیتا ہے
﴿5﴾ ذَلِكَ أَمْرُ اللَّهِ أَنزَلَهُ إِلَيْكُمْ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْرًا
(5) یہ حکم خدا ہے جسے تمہاری طرف اس نے نازل کیا ہے اور جو خدا سے ڈرتا ہے خدا اس کی برائیوں کو دور کردیتا ہے اور اس کے اجر میں اضافہ کردیتا ہے
﴿6﴾ أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ وَإِن كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ وَإِن تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَى
(6) اور ان مطلقات کو سکونت دو جیسی طاقت تم رکھتے ہو اور انہیں اذیت مت دو کہ اس طرح ان پر تنگی کرو اور اگر حاملہ ہوں تو ان پر اس وقت تک انفاق کرو جب تک وضع حمل نہ ہوجائے پھر اگر وہ تمہارے بچوں کو دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دو اور اسے آپس میں نیکی کے ساتھ طے کرو اور اگر آپس میں کشاکش ہوجائے تو دوسری عورت کو دودھ پلانے کا موقع دو
﴿7﴾ لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِ وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا
(7) صاحبِ وسعت کو چاہئے کہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کے رزق میں تنگی ہے وہ اسی میں سے خرچ کرے جو خدا نے اسے دیا ہے کہ خدا کسی نفس کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ہے جتنا اسے عطا کیا گیا ہے عنقریب خدا تنگی کے بعد وسعت عطا کردے گا
﴿8﴾ وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهِ فَحَاسَبْنَاهَا حِسَابًا شَدِيدًا وَعَذَّبْنَاهَا عَذَابًا نُّكْرًا
(8) اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے حکم خدا و رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے ان کا شدید محاسبہ کرلیا اور انہیں بدترین عذاب میں متبلا کردیا
﴿9﴾ فَذَاقَتْ وَبَالَ أَمْرِهَا وَكَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهَا خُسْرًا
(9) پھر انہوں نے اپنے کام کے وبال کا مزہ چکھ لیا اور آخری انجام خسارہ ہی قرار پایا
﴿10﴾ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فَاتَّقُوا اللَّهَ يَا أُوْلِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ آمَنُوا قَدْ أَنزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا
(10) اللرُ نے ان کے لئے شدید قسم کا عذاب مہیّا کر رکھا ہے لہذا ایمان والو اور عقل والو اللہ سے ڈرو کہ اس نے تمہاری طرف اپنے ذکر کو نازل کیا ہے
﴿11﴾ رَّسُولًا يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِ اللَّهِ مُبَيِّنَاتٍ لِّيُخْرِجَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا قَدْ أَحْسَنَ اللَّهُ لَهُ رِزْقًا
(11) وہ رسول جو اللہ کی واضح آیات کی تلاوت کرتا ہے کہ ایمان اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئے اور جو خدا پر ایمان رکھے گا اور نیک عمل کرے گا خدا اسے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان ہی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور اللہ نے انہیں یہ بہترین رزق عطا کیا ہے
﴿12﴾ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا
(12) اللرُہی وہ ہے جس نے ساتوں آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور زمینوں میں بھی ویسی ہی زمینیں بنائی ہیں اس کے احکام ان کے درمیان نازل ہوتے رہتے ہیں تاکہ تمہیں یہ معلوم رہے کہ وہ ہر شے پر قادر ہے اور اس کا علم تمام اشیائ کو محیط ہ
اللّٰه کے اچهے بندوں کے صفات
حدیث :
عن ابن عمر قال :خطبنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبةً ذرفت منہا العیون ووجلت منہاالقلوب فکان مما ضبطت منہا:ایہاالناس ان افضل الناس عبداً من تواضع عن رفعة ،و زہد عن رغبة،و انصف عن قوة،و حلم عن قدرتہ [1]
ترجمہ :
ابن عمر سے روایت ہے کہ پیغمبر(ص) نے ہمارے لئے خطبہ بیان فرمایا جس سے ہماری آنکھوں میں آنسوں آگئے اور دل لرز گئے اس خطبہ کا کچھ حصہ میں نے یاد کرلیا جو یہ ہے: ”اے لوگو! اللہ کا بہترین بندہ وہ ہے جو بلندی پر ہوتے ہوئے انکساری برتے،دنیا سے لگاؤ ہوتے ہوئے بھی زہد اختیار کرے ، قوت کے ہوتے ہوئے انصاف کرے اور قدرت کے ہوتے ہوئے حلم و بردباری سے کام لے ۔
حدیث کی تشریح :
حدیث کے اس حصہ سے جو اہم مسلہ ابھر کر سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ تر گناہ کبھی قدرت نہ ہونے کی بنا پر ہوتا ہے اور کبھی گناہ میں دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے، جیسے کسی کو شراب اصلاً پسند نہ ہو یا پسند تو ہو مگر پینے پر قادر نہ ہو یا شراب نوشی کے مقدمات اسے مہیہ نہ ہو یا اس کے نقصانات کی وجہ سے نہ پیتا ہو۔جس چیز کو قدرت نہ ہونے کی بناپر چھوڑ دیا جائے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان قدرت کے ہوتے ہوئے گناہ نہ کرے اورپیغمبر(ص) کے فرمان کے مطابق سماج میں اونچے مقام پر ہوتے ہوئے بھی انکسار ہو [2]
ترک گناہ کے سلسلے میں لوگوں کی کئی قسمیں ہیں ایک گروہ ایسا ہے جو،کچھ گناہوں سے ذاتی طور پر نفرت کرتا ہے اور ان کو انجام نہیں دیتا لہٰذا ہر انسان کو اپنے مقام پر سوچناچاہئے کہ وہ کس حرام کی طرف مائل ہے تاکہ اس کو ترک کرسکے۔ البتہ اپنے آپ کو پہچاننا کوئی آسان کام نہیں ہے کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان میں کچھ صفات پائے جاتے ہیں مگر ساٹھ سال کا سن ہوجانے پر بھی انسان ان سے بے خبر رہتا ہے ۔کیونکہ کوئی بھی انسان اپنے آپ کو تنقید کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ معنوی افعال کے میدان میں ترقی کرے اور اونچے مقام پر پہونچے تو اسے چاہئے کہ اپنے آپ کو تنقیدی نگاہ سے دیکھے تاکہ اپنی کمزوریوں کو جان سکے۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اپنی کمزوریوں کو جاننے کے لئے دشمن اور تنقید کرنے والے (نہ کہ عیبوں کو چھپانے والے )دلسوز دوست کا سہارا لو۔ اور ان سب سے بہتر یہ ہے کہ انسان اپنے اوپر خود تنقید کرے اگر انسان یہ جان لے کہ وہ کن گناہوںکی طرف مائل ہوتاہے ،اس میں کہاں لغزش پائی جاتی ہے اور شیطان کن وسائل و جذبات کے ذریعہ اس کے وجود سے فائدہ اٹھاتا ہے تو وہ کبھی بھی شیطان کے جال میں نہیں پھنس سکتا۔
اسی وجہ سے پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا کہ:”سب سے بہتر انسان وہ ہے جو رغبت کے ہوتے ہوئے زاہد ہو، قدرت کے ہوتے ہوئے منصف ہو اور عظمت کے ساتھ متواضع ہو “
یہ پیغام سب کے لئے ہے خاص طور پر اہل علم افراد کے لئے اس لئے کہ علماء عوام کے پیشوا ہوتے ہیں اور پیشوا کو چاہئے کہ دوسر لوگوں کو تعلیم دینے سے پہلے اپنی تربیت آپ کرے۔ انسان کامقام جتنا زیادہ بلند ہوتا ہے اس کی لغزشیں بھی اتنی ہی بڑی ہوتی ہیں اور جو کام جتنا زیادہ حساس ہوتا ہے اس میں خطرے بھی اتنے ہی زیاد ہوتے ہیں”المخلصون فی خطرعظیم“ مخلص افراد کے لئے بہت بڑے خطرے ہیں ۔انسان جب تک جوان رہتا ہے گناہ کرتا رہتا ہے اور کہتا ہے کہ بڑھاپے میں توبہ کرلیںگے ۔یہ توبہ کا ٹالنا اور توبہ میں دیر کرنا نفس اور شیطان کا فریب ہے۔ یا یہ کہ انسان اپنے نفس سے وعدہ کرتا ہے کہ جب رمضان آئے گا تو توبہ کرلوں گا جبکہ بہتر یہ ہے کہ اگر کوئی اللہ کا مہمان بننا چاہے تواسے چاہئے کہ پہلے اپنے آپ کو برائیوں سے پاک کرے اور بدن پر تقوی کا لباس پہنے اور پھر مہمان بننے کے لئے قدم بڑھائے، نہ یہ کہ اپنے گندے لباس(برائیوں)کے ساتھ شریک ہو۔ [3]
[1] بحار الانوار ،ج/ ۷۴ ص/ ۱۷۹
[2] قرآن مجید نے سچے مومن کی ایک صفت تواضع (انکساری) کے وجود اور ہر قسم کے تکبر سے خالی ہونے کو ماناہے کیونکہ کبر و غرور کفر اور بے ایمانی کی سیڑھی کا پہلا زینہ ہے اور تواضع وانکساری حق اور حقیقت کی راہ میں پہلا قدم ہے۔
[3] عالم بزرگوار شیخ بہائی سے اس طرح نقل ہوا ہے کہ ”توبہ“نام کا ایک آدمی تھا جو اکثر اپنے نفس کا محاسبہ کیا کرتا جب اس کا سن ساٹھ سا ل کا ہوا تو اس نے ایک دن اپنی گذری ہوئی زندگی کا حساب لگایا تو دیکھا کہ اس کی عمر ۲۱۵۰۰/ دن ہو چکی ہے اس نے کہا کہ : ”وائے ہو مجھ پر اگر میں نے ہر روز فقط ایک ہی گناہ انجام دیا ہوتو بھی ۲۱۰۰۰ سے گناہ انجام دے چکا ہوں،کیا مجھے اللہ سے ۲۱۰۰۰/ سے زیادہ گناہوں کے ساتھ ملاقت کرنی چاہئے؟یہ کہہ کر ایک چیخ ماری اور زمین پر گر کر دم توڑ دیا۔ (تفسیر نمونہ ،ج/ ۲۴ ص/ ۴۶۵ )
سوره التغابن
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے
﴿1﴾ يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(1) زمین و آسمان کا ہر ذرہ خدا کی تسبیح کررہا ہے کہ اسی کے لئے ملک ہے اور اسی کے لئے حمد ہے اور وہی ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے
﴿2﴾ هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
(2) اسی نے تم سب کو پیدا کیا ہے پھر تم میں سے کچھ مومن ہیں اور کچھ کافر اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے
﴿3﴾ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ
(3) اسی نے آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تمہاری صورت کو بھی انتہائی حسن بنایا ہے اور پھر اسی کی طرف سب کی بازگشت بھی ہے
﴿4﴾ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(4) وہ زمین و آسمان کی ہر شے سے باخبر ہے اور ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جن کا تم اظہار کرتے ہو یا جنہیں تم چھپاتے ہو اور وہ سینوں کے رازوں سے بھی باخبر ہے
﴿5﴾ أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَبْلُ فَذَاقُوا وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(5) کیا تمہارے پاس پہلے کفر اختیار کرنے والوں کی خبر نہیں آئی ہے کہ انہوں نے اپنے کام کے وبال کا مزہ چکھ لیا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے
﴿6﴾ ذَلِكَ بِأَنَّهُ كَانَت تَّأْتِيهِمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا فَكَفَرُوا وَتَوَلَّوا وَّاسْتَغْنَى اللَّهُ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَمِيدٌ
(6) یہ اس لئے کہ ان کے پاس رسول کِھلی ہوئی نشانیاں لے کر آتے تھے تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ کیا بشر ہماری ہدایت کرے گا اور یہ کہہ کر انکار کردیا اور منہ پھیر لیا تو خدا بھی ان سے بے نیاز ہے اور وہ قابلِ تعریف غنی ہے
﴿7﴾ زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(7) ان کفاّر کا خیال یہ ہے کہ انہیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا تو کہہ دیجئے کہ میرے پروردگار کی قسم تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور پھر بتایا جائے گا کہ تم نے کیا کیا, کیا ہے اور یہ کام خدا کے لئے بہت آسان ہے
﴿8﴾ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنزَلْنَا وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(8) لہذا خدا اور رسول اور اس نور پر ایمان لے آؤ جسے ہم نے نازل کیا ہے کہ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے
﴿9﴾ يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذَلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(9) وہ قیامت کے دن تم سب کو جمع کرے گا اور وہی ہارجیت کا دن ہوگا اور جو اللہ پر ایمان رکھے گا اور نیک اعمال کرے گا خدا اس کی برائیوں کو دور کردے گا اور اسے ان باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان ہی میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے
﴿10﴾ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ خَالِدِينَ فِيهَا وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(10) اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہ اصحاب جہنّم ہیں اور وہیں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہ ان کا بدترین انجام ہے
﴿11﴾ مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
(11) کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی ہے مگر خدا کی اجازت سے اور جو صاحبِ ایمان ہوتا ہے خدا اس کے دل کی ہدایت کردیتا ہے اور خدا ہر شے کا خوب جاننے والا ہے
﴿12﴾ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَى رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
(12) اور تم لوگ خدا کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر انحراف کرو گے تو رسول کی ذمہ داری واضح طور پر پیغام پہچادینے کے علاوہ کچھ نہیں ہے
﴿13﴾ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(13) اللرُ ہی وہ ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور تمام صاحبانِ ایمان کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے
﴿14﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(14) ایمان والو - تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں لہذا ان سے ہوشیار رہو اور اگر انہیں معاف کردو اور ان سے درگزر کرو اور انہیں بخش دو تو اللہ بھی بہت بخشنے والا اور مہربان ہے
﴿15﴾ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللَّهُ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ
(15) تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تمہارے لئے صرف امتحان کا ذریعہ ہیں اور اجر عظیم صرف اللہ کے پاس ہے
﴿16﴾ فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَأَنفِقُوا خَيْرًا لِّأَنفُسِكُمْ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(16) لہذا جہاں تک ممکن ہو اللہ سے ڈرو اور اس کی بات سنو اور اطاعت کرو اور راسِ خدا میں خرچ کرو کہ اس میں تمہارے لئے خیر ہے اور جو اپنے ہی نفس کے بخل سے محفوظ ہوجائے وہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں
﴿17﴾ إِن تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ
(17) اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو گے تو وہ اسے دوگنا بنادے گا اور تمہیں معاف بھی کردے گا کہ وہ بڑا قدر داں اور برداشت کرنے والا ہے
﴿18﴾ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(18) وہ حاضر و غائب کا جاننے والا اور صاحب عزت و حکمت ہے




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
