Super User
اقوام متحدہ: فلسطینی کارکنوں کی گرفتاری پر تشویش
اقوام متحدہ نے صیہونی حکومت کی جانب سے فلسطینی سرگرم کارکنوں کی گرفتاری پر تشویش ظاہر کی ہے۔
اقوام متحدہ کی ہائی کمیشنر برائے انسانی حقوق، روینا شامداسنی نے صیہونی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کی غیرقانونی گرفتاری پر تشویش ظاہر کی ہے اور صیہونی حکومت سے کہا ہے کہ غیرقانونی گرفتاریوں اور فلسطینیوں کو عدالت میں پیش کئے بغیر قید کرنے سے گریز کرے۔ روینا شامداسنی نے بتایا کہ اقوام متحدہ متعدد بار صیہونی حکومت کے اس اقدام کی مذمت کر چکا ہے۔ روینا شامداسنی نے اپنے بیان میں محمد جرار نام کے سرگرم فلسطینی کارکن کے مسئلے پر بھی روشنی ڈالی جنہیں صیہونی فوجیوں نے اغوا کرکے ان کے گھر پر قبضہ کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کو چاہیے کہ فلسطینیوں کو گرفتار کرنے سے گریز کرے اور قیدیوں سے ساتھ عالمی قوانین کے مطابق پیش آئے۔
کسب روزی

متن حدیث :
عن ابن عمر قال:قال رسول اللہ (ص): لیس شئتباعدکم من النار الا وقد ذکرتہ لکم ولا شئ یقربکم من الجنة الا وقد دللتکم علیہ انا روح القدس نفث فی روعی انہ لن یموت عبد منکم حتیٰ یستکمل رزقہ فاجملوا فی الطلب فلا یحملنکم استبطاء الرزق علیٰ ان تطلبوا شیئا من فضل اللہ بمعصیتہ فانہ لن ینال ما عند اللہ الا بطاعتہ الاوان لکل امرء رزقا ہو یاتیہ لا محالة فمن رضی بہ بورک لہ فیہ ووسعہ ومن لم یرض لم یبارک لہ فیہ ولم یسعہ ان الرزق لا یطلب الرجل کما یطلبہ اجلہ
ترجمہ :
ابن عمر سے روایت ہے کہ پیغمبر نے فرمایا : کہ جو چیز یں تم کو جہنم کی آگ سے دور رکھے گی وہ میں نے بیان کردی ہیںاور جو چیزیں تم کو جنت سے نزدکی کریں گی ان کی بھی تشریح کردی ہے، اور کسی بھی چیز کو فراموش نہیں کیا ہے ۔میرے اوپر وحی نازل ہوئی ہے کہ کوئی بھی اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اس کا رزق پورا نہ ہو جائے ،بس تم طلب روزی میں اعتدال کی رعایت کرو خدا نہ کرے کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھاری روزی کی کمی تم کو اس بات پر مجبور نہ کردے کہ تم اس کو حاصل کرنے کے لئے گناہ کے مرتکب ہو جاؤ، کیونکہ کوئی بھی اللہ کی فرمانبرداری کے بغیر اس کے پاس موجود نعمتوں کوحاصل نہیں کرسکتا اور یہ بھی جان لو کہ جس کی قسمت میں جو روزی ہے وہ اس کو ہر حال میں حاصل ہوگی بس جو اپنی روزی پر قانع ہوتا ہے اس کا رزق پربرکت اور زیادہ ہو جاتا ہے اور جو اپنی روزی پر قانع اور راضی نہیں ہوتا اس کے رزق میں برکت نہیں ہوتی رزق اسی طرح انسان کو تلاش کرتا ہے جس طرح موت انسان کو تلاش کرتی ہے ۔
تفسیر :
حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں تم کو قول و فعل کے ذریعہ ہر اس چیز سے روکتا ہوں جو تم کو جنت سے دور کرنے والی ہے اور تم کو ہر اس چیز کا حکم دیتا ہوں جو تم کو جنت سے قریب کرنے والی ہے ۔ا س حدیث کا فائدہ یہ ہے کہ ہم کو ہمیشہ اسلامی احکام کو جاری و ساری کرنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور یہ بات ہم کو اہل سنت سے (جو کہ معتقد ہیں کہ جہاں پر نص نہیں ہے وہاں پر حکم بھی نہیں ہے) جدا کرتی ہے۔ اہل سنت اس دلیل سے فقیہوں کو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ قانون بنائیں قیاس کریں اور استحسان و مصالح مرسلہ جاری کریں ۔ایسا مذہب جو آدھا تو اللہ اور معصومین (ع) کے ہاتھوں میں ہو اور آدھا عام لوگوںکے ہاتھوں میں وہ اس مذہب سے بہت زیادہ متفاوت ہوگاجو کامل طور پر اللہ اور معصومین کی طرف سے ہو۔ ا لبتہ آیہ الیوم اکملت لکم دینکم (آج ہم نے تمھارے دین کوکامل کردیا )سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے چونکہ دین عقائد ،قوانین اور اخلاقیات کے مجموعہ کا نام ہے ۔ یہ حدیث ہم کو یہ نظریہ دیتی ہے کہ ایک مجتہد کی حیثیت سے فقط استنباط کریںنہ یہ کہ تشریع کریں ۔
یہاں پر چند باتوںکا ذکر ضروری ہے :
1. کچھ سست اور بے حال لوگ <وما من دابة فی الارض الا علیٰ اللہ رزقہا >(زمین پر کوئی حرکت کرنے والا ایسا نہیں ہے جس کے رزق کا ذمہ اللہ پر نہ ہو) جیسی تعبیرات، اور ان روایات پر تکیہ کرتے ہوئے جن میں روزی کو مقدرو معین بتایا گیاہے یہ سوچتے ہیں کہ انسان کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ روزی کو حاصل کرنے کے لئے بہت زیادہ کوشش کرے کیونکہ روز ی مقدر ہے اور ہر حالت میں انسان کو حاصل ہوگی اورکوئی بھی دہن رزق سے خالی نہیں رہے گا
اس طر ح کے نادان لوگ دین کو پہچاننے میں بہت زیادہ سست اورکمزور ہیں۔ ایسے افراد دشمنوں کو یہ کہنے کا موقع دیتے ہیں کہ مذہب ایک ایسا عامل ہے جو اقتصادی رکود ،زندگی کی مثبت فعالیت کی خاموشی اور بہت سی چیزوں سے محرومیت کو وجود میں لاتا ہے ، اس عذر کے ساتھ کہ اگر فلاں چیز مجھ کو حاصل نہیں ہوئی تو وہ حتما میری روزی نہیں تھی اگر وہ میر ی روزی ہوتی تو ہر حالت میں مجھ کو مل جاتی۔اس سے استسمارگران (وہ برباد کرنے والے افراد جو اپنے آپ کو استعمار یعنی آباد کرنے والے کہتے ہیں)کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ محروم لوگوں کو اور زیادہ دوھیں(کمزور کریں) اوران کو زندگی کے ابتدائی وسائل سے بھی محروم کردیں۔جبکہ قرآن و اسلامی احادیث سے تھوڑی سی آشنائی بھی اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے ،کہ اسلام نے انسان کے مادی و معنوی فائدوں کے حصول کی بنیاد کوشش کو مانا ہے ،یہاں تکہ کہ قرآن کی آیت <یس للانسان الا ما سعیٰ> بھی نعرہ لگارہی ہے کہ انسان کی بہرہ مندی کوشش میںمنحصر ہے ۔ اسلام کے رہبر بھی دوسروںکو تربیت دینے کے لئے بہت سے موقعوںپر تھکادینے والے سخت کام انجام دیتے تھے۔
گذشتہ پیغمبران بھی اس قانون سے مستثنیٰ نہیں تھے وہ بھی بھیڑیں چرانے ،کپڑے سینے،ذرہ بننے اور کھیتی کرنے سے پرہیز نہیں کرتے تھے ۔اگر اللہ کی طرف سے روزی کی ضمانت کا مفہوم گھر میں بیٹھنا اور روزی کے اترنے کا انتظار ہوتا تو انبیاء و ائمہ(جو کہ دینی مفاہیم کو سب سے زیادہ جانتے ہیں ) روزی کو حاصل کرنے کے لئے یہ سب کام کیوں انجام دیتے ۔اسی بنا پر ہم کہتے ہیں کہ ہرانسان کی روزی مقدر ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ اس کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کی جائے ۔کیونکہ کوشش شرط اور روزی مشروط ہے لہٰذا شرط کے بغیر مشروط حاصل نہیں ہوگا یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ ”سب کے لئے موت ہے اور ہر ایک کے لئے عمر کی مقدار معین ہے “ کیااس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ اگر انسان خودکشی کرے یا ضرر پہونچانے والی چیزوں کو کھائے تب بھی اپنی معین عمر تک زندہ رہے گا ، نہیںبلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ بدن معین مدت تک باقی رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ اس کی حفاظت کے اصولوں کی رعایت کی جائے ،خطرے کے موارد سے پرہیز کیا جائے اور ان اسباب سے اپنے آپ کو دور رکھا جائے جن کی وجہ سے موت واقع ہو جاتی ہے ۔
اہم بات یہ ہے کہ وہ آیات و روایات جو روزی کے معین ہونے سے مربوط ہیں وہ حقیقتا لالچی اور دنیا پرست افراد کی فکروں پر لگام ہے ۔کیونکہ وہ اپنی زندگی کے وسائل فراہم کرنے کے لئے سب کچھ کرگزرتے ہیں اور ہرطرح کے ظلم و ستم کے مرتکب ہو جاتے ہیں،اس گمان میں کہ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان کی زندگی کے وسائل فراہم نہیں ہوں گے۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ جب انسان بڑا ہو جائے اور طرح طرح کے کام کرنے کی طاقت حاصل کرلے تواللہ اس کو بھول جائے، کیا عقل اور ایمان اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ انسان ایسی حالت میں یہ گمان کرتے ہوئے کہ ممکن ہے کہ اس کی روزی فراہم نہ ہو گناہ ،ظلم و ستم،دوسروں کے حقوق کی پامالی کے میدان میں قدم رکھے ،لالچ میں آکر مستضعفین کے حقوق کو غصب کرے ؟البتہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ بعض روزی ایسی ہیں کہ چاہے انسان ان کے لئے کوشش کرے یا نہ کرے اس کو حاصل ہو جاتی ہیں۔
کیا اس بات سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ سورج کی روشنی ہماری کوشش کے بغیر ہمارے گھر میں پھیلتی ہے یا ہوا اور بارش ہماری کوشش کے بغیر ہم کو حاصل ہو جاتی ہے ؟کیا اس سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ عقل،ہوش اور استعداد جو روز اول سے ہمارے وجود میں ذخیرہ تھی ہماری کوشش سے نہیں ہے ؟
اس کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی چیز کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا مگر اتفاقی طور پر وہ اس کو حاصل ہو جاتی ہے۔ اگرچہ ایسے حادثات ہماری نظر میں اتفاقی ہیں مگر واقعیت یہ ہے کہ خالق کی نظروں میں اس میں ایک حساب ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس طرح کی روزی کا حساب ان روزیوں سے جدا ہے جو کوشش کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہیں۔
لیکن اس طرح کی روزی جس کو اصطلاح میں ہوامیں اڑ کر آئی ہوئی یا اس سے بھی بہتر تعبیر میں وہ روزی جو کسی محنت کے بغیر ہم کو لطف الٰہی سے حاصل ہوتی ہے ،ا گر اس کی صحیح طرح سے حفاظت نہ کی جائے تو وہ یاہمارے ہاتھوں سے نکل جائیں گی یا بے اثرہو جائیں گی۔
نہج البلاغہ کے نامہ / ۳۱ میں حضرت علی علیہ السلام کا ایک مشہور قول ہے جو آپ نے اپنے بیٹے امام حسن علیہ السلام کو لکھا :فرماتے ہیں کہ ”واعلم یا بنی ان الرزق رزقان ،رزق تطلبہ و رزق یطلبک“ اے میرے بیٹے جان لو کہ رزق کی دوقسمیں ہیں ایک وہ رزق جس کو تم تلاش کرتے ہو اور دوسرا وہ رزق جو تمھیں تلاش کرتا ہے،یہ قول بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔
بہرحال بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اسلام کی تمام تعلیمات ہم کو یہ بتاتی ہیں کہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے چاہے وہ مادی زندگی ہویا معنوی ہم کو بہت زیادہ محنت کرنی چاہئے اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ رزق تو اللہ کی طرف سے تقسیم ہوتا ہی ہے ،کام نہ کرنا غلط ہے (تفسیر نمونہ ج/ ۹ ،ص/ ۲۰ )
2. یہ حدیث ہم سب طلاب کو یہ سبق دیتی ہے کہ اس بات پر ایمان رکھنا چاہئے کہ اللہ اہل علم افراد کی روزی کا نبدوبست کرتاہے ۔کیونکہ اگر اہل علم افراد مال جمع کرنے میں لگ جائیں گے تو دو بڑے خطروں سے روبرو ہونا پڑے گا :
الف۔ کیونکہ عوام علماء کے خط (راہ) پر چلتی ہے لہٰذا ان کو دوسروں کے لئے نمونہ ہونا چاہئے اگر عالم دنیا کمانے میں لگ جائیں گے تو پھر یہ دوسروں کے لئے نمونہ نہیں بن سکیں گے ۔
ب۔ وہ مال جو عالموں کے علاوہ دوسرے لوگ جمع کرتے ہیں وہ ومذہب کو نقصان نہیں پہونچاتا لیکن اگر عالم حق اور ناحق کی تمیز کئے بغیر مختلف طریقوں سے مال جمع کریں گے تو یہ مذہب کے لئے نقصان دہ ہوگا ۔واقعا یہ حسرت کاسامان ہے ۔
کیا مرد اور عورت کے درمیان عقل کے لحاظ سے کوئی فرق ہے؟

سوال :
بعض وقت خواتین کے درمیان یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض روایتوں میں عورت کی مذمت کیوں ہوئی ہے اور اسے ناقص العقل کیوں کہا گیا ہے؟
جواب:
اول یہ کہ:روایتوں میں یہ مذمت عورت کے اصل وجود سے متعلق نہیں ہے اس لئے کہ قرآن کریم کی نظر میں مرد اور عورت دونوں کا وجود ،کامل ہے ،مرد اور عورت ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے بلکہ یہ مذمت فقط بعض عورتوں سے متعلق ہے ۔در حقیقت یہ مذمت مردوں کے لئے ایک یاددہانی ہے کہ وہ بے تقویٰ اور گنہگار عورتوں کے فریب سے بچیں، اس بناء پر یہ مذمت صرف عورتوں سے مخصوص نہیں بلکہ مردوں سے بھی مربوط ہے ، جیسا کہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ منافق، شریر، بدمعاش، احمق، حاسد، بخیل، جھوٹے اور فاسد لوگوں کی ہمنشینی اختیار نہ کی جائے اور ان سے مشورہ نہ لیا جائے یہ ایک ایسا عقلی قانون ہے کہ جسے دنیا میں تمام عقلمند انسان قبول کرتے ہیں کہ اگر کوئی سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہے تو اس طرح کے لوگوں سے دوری اختیار کرے۔ لہٰذا مرداور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اگر چہ مرد کی بہ نسبت عورت کے اندر کشش اور جاذبہ زیادہ پایاجاتا ہے ،مگر اسلام سے آشنا نہ ہونے کی وجہ سے بعض لوگ صرف ان روایتوں کو پیش کرتے ہیں جو عورت کی مذمت میں آئی ہے پھر بھی سوال کا جواب دینا ضروری ہے۔
خلاصہ مطلب :
جب ہم قرآن کریم کی آیتوں اور روایتوں کی طرف رجوع کرتے ہیں تو متوجہ ہوتے ہیں کہ جس طرح دنیا میں بہادر مومن مرد ہیں اسی طرح بہادر مومنہ عورتیں بھی ہیں جس طرح مردوں میں شریر افراد پائے جاتے ہیں اسی طرح شریر،عورتوں میں بھی ہیں جبکہ مردوں کی شرارت عورتوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے ،چونکہ قدرت وطاقت مردوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس لئے عام طورسے ظلم و ستم کا شکار ہوتی ہیں جہاں بھی عورتوں کی جانب سے ایک جرم سرزد ہوتا ہے اسے کئی مرتبہ فاش کیا جاتا ہے جبکہ مردوں کے جرائم کا مقائسہ عورتوں سے نہیں کیا جاسکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ: بعض روایتوں میں یہ مذمت زمانے کے ایک خاص حصہ میں بعض عورتوں سے متعلق ہے اور یہ عورتوں ہی سے مخصوص نہیں ہے اس کے لئے زمانے کے ایک خاص حصہ میںبعض مرد یابعض شہروں کے لوگوں کی مذمت کی گئی ہے اور یہ مذمت دلیل نہیں ہے کہ عورت یا مرد یا فلاں شہر ہمیشہ کے لئے قابل مذمت ہو اور اس کے برعکس بعض روایتوں میں بعض شہروں کے لوگ اچھائی کے ساتھ یاد کئے گئے ہیں تو یہ دلیل نہیں ہے کہ ان شہروں کے لوگ ہمیشہ کے لئے نیک اور متقی ہوں، بعض عورتوں کے متعلق یہ مذمتیں بصورت موقت ہیں۔ تیسرے یہ کہ: کہا گیا ہے کہ عورت ناقص العقل ہے اس کے معنی یہ نہیں ہے کہ عورت عقل کے لحاظ سے نقص رکھتی ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب ہم مرد کا عورت سے مقائسہ کرتے ہیں تو مرد کو عورت سے سخت اور محکم پاتے ہیں اور قد کے لحاظ سے وہ عورت سے بلند ہے اور عورت مرد سے بہت نازک اور قد کے اعتبار سے چھوٹی ہے ،ان اسی کی بہ نسبت اس کا مغز مرد کے مغز سے بہت چھوٹا ہے ۔
اسی بنیاد پر فقیہ عالیقدر آیت اللہ شہید مطہری فرماتے ہیں:
''متوسط مرد کا مغز متوسط عورت کے مغز سے بڑاہوتا ہے لیکن عورت کے تمام جسم کی بہ نسبت اس کا مغز مرد کے مغز سے بڑا ہے ،اس بناء پر عورت ایک ناقص العقل وجود کا نام نہیں ہے ''۔
چوتھے یہ کہ:اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ عقل کا ایک معنی اجرائی امور میں فکر وتدبر کرنا ہے اور ایک طرف اجرائی منصب بہت مشکل اور سخت ہے ، عورت کے لطیف اور نازک جسم کے مناسب نہیں ہے لہٰذا خداوند حکیم نے اجرائی امور میں اس کے فکر وتدبر کی قدرت وطاقت کی بہ نسبت اسے بہت کم ودیعت کی ہے اس لئے کہ اجرائی منصب کوئی ایسامقام نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے عورت کی شان وشوکت میں کوئی کمی پیداہو،وہ مرد ہی ہے جو سب سے زیادہ اجرائی امور اوراجتماعی کاموں سے سروکار رکھتا ہے اور دوسری طرف چونکہ عورت خانوادہ اور سماج میں فطرت کے مطابق تربیت اور اخلاق کی بنیاد ہے اسی لئے مرد کی بہ نسبت اس کی محبت کی طاقت بہت زیادہ ہے۔
سوره الواقعة
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے
﴿1﴾ إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ
(1) جب قیامت برپا ہوگی
﴿2﴾ لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ
(2) اور اس کے قائم ہونے میں ذرا بھی جھوٹ نہیں ہے
﴿3﴾ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ
(3) وہ الٹ پلٹ کر دینے والی ہوگی
﴿4﴾ إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا
(4) جب زمین کو زبردست جھٹکے لگیں گے
﴿5﴾ وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا
(5) اور پہاڑ بالکل چور چور ہوجائیں گے
﴿6﴾ فَكَانَتْ هَبَاء مُّنبَثًّا
(6) پھر ذرات بن کر منتشر ہوجائیں گے
﴿7﴾ وَكُنتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً
(7) اور تم تین گروہ ہوجاؤ گے
﴿8﴾ فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ
(8) پھر داہنے ہاتھ والے اور کیا کہنا داہنے ہاتھ والوں کا
﴿9﴾ وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ
(9) اور بائیں ہاتھ والے اور کیا پوچھنا ہے بائیں ہاتھ والوں کا
﴿10﴾ وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ
(10) اور سبقت کرنے والے تو سبقت کرنے والے ہی ہیں
﴿11﴾ أُوْلَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ
(11) وہی اللہ کی بارگاہ کے مقرب ہیں
﴿12﴾ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ
(12) نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے
﴿13﴾ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ
(13) بہت سے لوگ اگلے لوگوں میں سے ہوں گے
﴿14﴾ وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ
(14) اور کچھ آخر دور کے ہوں گے
﴿15﴾ عَلَى سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ
(15) موتی اور یاقوت سے جڑے ہوئے تختوں پر
﴿16﴾ مُتَّكِئِينَ عَلَيْهَا مُتَقَابِلِينَ
(16) ایک دوسرے کے سامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے
﴿17﴾ يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ
(17) ان کے گرد ہمیشہ نوجوان رہنے والے بچے گردش کررہے ہوں گے
﴿18﴾ بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ
(18) پیالے اور ٹونٹی وار کنٹر اور شراب کے جام لئے ہوئے ہوں گے
﴿19﴾ لَا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَ
(19) جس سے نہ درد سر پیدا ہوگا اور نہ ہوش و حواس گم ہوں گے
﴿20﴾ وَفَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُونَ
(20) اور ان کی پسند کے میوے لئے ہوں گے
﴿21﴾ وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ
(21) اور ان پرندوں کا گوشت جس کی انہیں خواہش ہوگی
﴿22﴾ وَحُورٌ عِينٌ
(22) اور کشادہ چشم حوریں ہوں گی
﴿23﴾ كَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ
(23) جیسے سربستہ ہوتی
﴿24﴾ جَزَاء بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(24) یہ سب درحقیقت ان کے اعمال کی جزا اور اس کا انعام ہوگا
﴿25﴾ لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا
(25) وہاں نہ کوئی لغویات سنیں گے اور نہ گناہ کی باتیں
﴿26﴾ إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا
(26) صرف ہر طرف سلام ہی سلام ہوگا
﴿27﴾ وَأَصْحَابُ الْيَمِينِ مَا أَصْحَابُ الْيَمِينِ
(27) اور داہنی طرف والے اصحاب ... کیا کہنا ان اصحاب یمین کا
﴿28﴾ فِي سِدْرٍ مَّخْضُودٍ
(28) بے کانٹے کی بیر
﴿29﴾ وَطَلْحٍ مَّنضُودٍ
(29) لدے گتھے ہوئے کیلے
﴿30﴾ وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ
(30) پھیلے ہوئے سائے
﴿31﴾ وَمَاء مَّسْكُوبٍ
(31) جھرنے سے گرتے ہوئے پانی
﴿32﴾ وَفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ
(32) کثیر تعداد کے میوؤں کے درمیان ہوں گے
﴿33﴾ لَّا مَقْطُوعَةٍ وَلَا مَمْنُوعَةٍ
(33) جن کا سلسلہ نہ ختم ہوگا اور نہ ان پر کوئی روک ٹوک ہوگی
﴿34﴾ وَفُرُشٍ مَّرْفُوعَةٍ
(34) اور اونچے قسم کے گدے ہوں گے
﴿35﴾ إِنَّا أَنشَأْنَاهُنَّ إِنشَاء
(35) بیشک ان حوروں کو ہم نے ایجاد کیا ہے
﴿36﴾ فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا
(36) تو انہیں نت نئی بنایا ہے
﴿37﴾ عُرُبًا أَتْرَابًا
(37) یہ کنواریاں اور آپس میں ہمجولیاں ہوں گی
﴿38﴾ لِّأَصْحَابِ الْيَمِينِ
(38) یہ سب اصحاب یمین کے لئے ہیں
﴿39﴾ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ
(39) جن کا ایک گروہ پہلے لوگوں کا ہے
﴿40﴾ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ
(40) اور ایک گروہ آخری لوگوں کا ہے
﴿41﴾ وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ
(41) اور بائیں ہاتھ والے تو ان کا کیا پوچھنا ہے
﴿42﴾ فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ
(42) گرم گرم ہوا کھولتا ہوا پانی
﴿43﴾ وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ
(43) کالے سیاہ دھوئیں کا سایہ
﴿44﴾ لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ
(44) جو نہ ٹھنڈا ہو اور نہ اچھا لگے
﴿45﴾ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ مُتْرَفِينَ
(45) یہ وہی لوگ ہیں جو پہلے بہت آرام کی زندگی گزار رہے تھے
﴿46﴾ وَكَانُوا يُصِرُّونَ عَلَى الْحِنثِ الْعَظِيمِ
(46) اور بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کررہے تھے
﴿47﴾ وَكَانُوا يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَئِنَّا لَمَبْعُوثُونَ
(47) اور کہتے تھے کہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور ہڈی ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا
﴿48﴾ أَوَ آبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ
(48) کیا ہمارے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے
﴿49﴾ قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ
(49) آپ کہہ دیجئے کہ اولین و آخرین سب کے سب
﴿50﴾ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(50) ایک مقرر دن کی وعدہ گاہ پر جمع کئے جائیں گے
﴿51﴾ ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ
(51) اس کے بعد تم اے گمراہو اور جھٹلانے والوں
﴿52﴾ لَآكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ
(52) تھوہڑ کے درخت کے کھانے والے ہو گے
﴿53﴾ فَمَالِؤُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ
(53) پھر اس سے اپنے پیٹ بھرو گے
﴿54﴾ فَشَارِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ
(54) پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے
﴿55﴾ فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ
(55) پھر اس طرح پیو گے جس طرح پیاسے اونٹ پیتے ہیں
﴿56﴾ هَذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ
(56) یہ قیامت کے دن ان کی مہمانداری کا سامان ہوگا
﴿57﴾ نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ
(57) ہم نے تم کو پیدا کیا ہے تو دوبارہ پیدا کرنے کی تصدیق کیوں نہیں کرتے
﴿58﴾ أَفَرَأَيْتُم مَّا تُمْنُونَ
(58) کیا تم نے اس نطفہ کو دیکھا ہے جو رحم میں ڈالتے ہو
﴿59﴾ أَأَنتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ
(59) اسے تم پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرنے والے ہیں
﴿60﴾ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ
(60) ہم نے تمہارے درمیان موت کو مقدر کردیا ہے اور ہم اس بات سے عاجز نہیں ہیں
﴿61﴾ عَلَى أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ
(61) کہ تم جیسے اور لوگ پیدا کردیں اور تمہیں اس عالم میں دوبارہ ایجاد کردیں جسے تم جانتے بھی نہیں ہو
﴿62﴾ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَى فَلَوْلَا تَذكَّرُونَ
(62) اور تم پہلی خلقت کو تو جانتے ہو تو پھر اس میں غور کیوں نہیں کرتے ہو
﴿63﴾ أَفَرَأَيْتُم مَّا تَحْرُثُونَ
(63) اس دا نہ کو بھی دیکھا ہے جو تم زمین میں بوتے ہو
﴿64﴾ أَأَنتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ
(64) اسے تم اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں
﴿65﴾ لَوْ نَشَاء لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ
(65) اگر ہم چاہیں تو اسے چور چور بنادیں تو تم باتیں ہی بناتے رہ جاؤ
﴿66﴾ إِنَّا لَمُغْرَمُونَ
(66) کہ ہم تو بڑے گھاٹے میں رہے
﴿67﴾ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ
(67) بلکہ ہم تو محروم ہی رہ گئے
﴿68﴾ أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاء الَّذِي تَشْرَبُونَ
(68) کیا تم نے اس پانی کو دیکھا ہے جس کو تم پیتے ہو
﴿69﴾ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ
(69) اسے تم نے بادل سے برسایا ہے یا اس کے برسانے والے ہم ہیں
﴿70﴾ لَوْ نَشَاء جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ
(70) اگر ہم چاہتے تو اسے کھارا بنادیتے تو پھر تم ہمارا شکریہ کیوں نہیں ادا کرتے ہو
﴿71﴾ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ
(71) کیا تم نے اس آگ کو دیکھا ہے جسے لکڑی سے نکالتے ہو
﴿72﴾ أَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنشِؤُونَ
(72) اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں
﴿73﴾ نَحْنُ جَعَلْنَاهَا تَذْكِرَةً وَمَتَاعًا لِّلْمُقْوِينَ
(73) ہم نے اسے یاد دہانی کا ذریعہ اور مسافروں کے لئے نفع کا سامان قرار دیا ہے
﴿74﴾ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ
(74) اب آپ اپنے عظیم پروردگار کے نام کی تسبیح کریں
﴿75﴾ فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ
(75) اور میں تو تاروں کے منازل کی قسم کھاکر کہتا ہوں
﴿76﴾ وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ
(76) اور تم جانتے ہو کہ یہ قسم بہت بڑی قسم ہے
﴿77﴾ إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ
(77) یہ بڑا محترم قرآن ہے
﴿78﴾ فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ
(78) جسے ایک پوشیدہ کتاب میں رکھا گیا ہے
﴿79﴾ لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ
(79) اسے پاک و پاکیزہ افراد کے علاوہ کوئی چھو بھی نہیں سکتا ہے
﴿80﴾ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ
(80) یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے
﴿81﴾ أَفَبِهَذَا الْحَدِيثِ أَنتُم مُّدْهِنُونَ
(81) تو کیا تم لوگ اس کلام سے انکار کرتے ہو
﴿82﴾ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ
(82) اور تم نے اپنی روزی یہی قرار دے رکھی ہے کہ اس کا انکار کرتے رہو
﴿83﴾ فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ
(83) پھر ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ جب جان گلے تک پہنچ جائے
﴿84﴾ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ
(84) اور تم اس وقت دیکھتے ہی رہ جاؤ
﴿85﴾ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَكِن لَّا تُبْصِرُونَ
(85) اور ہم تمہاری نسبت مرنے والے سے قریب ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے ہو
﴿86﴾ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ
(86) پس اگر تم کسی کے دباؤ میں نہیں ہو اور بالکل آزاد ہو
﴿87﴾ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
(87) تو اس روح کو کیوں نہیں پلٹا دیتے ہو اگر اپنی بات میں سچے ہو
﴿88﴾ فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ
(88) پھر اگر مرنے والا مقربین میں سے ہے
﴿89﴾ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّةُ نَعِيمٍ
(89) تو اس کے لئے آسائش, خوشبو دار پھول اور نعمتوں کے باغات ہیں
﴿90﴾ وَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ أَصْحَابِ الْيَمِينِ
(90) اور اگر اصحاب یمین میں سے ہے
﴿91﴾ فَسَلَامٌ لَّكَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ
(91) تو اصحاب یمین کی طرف سے تمہارے لئے سلام ہے
﴿92﴾ وَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِينَ الضَّالِّينَ
(92) اور اگر جھٹلانے والوں اور گمراہوں میں سے ہے
﴿93﴾ فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِيمٍ
(93) تو کھولتے ہوئے پانی کی مہمانی ہے
﴿94﴾ وَتَصْلِيَةُ جَحِيمٍ
(94) اور جہنّم میں جھونک دینے کی سزا ہے
﴿95﴾ إِنَّ هَذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِينِ
(95) یہی وہ بات ہے جو بالکل برحق اور یقینی ہے
﴿96﴾ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ
(96) لہذا اپنے عظیم پروردگار کے نام کی تسبیح کرتے رہو
عراقی وزیر اعظم کی آیت اللہ سیستانی سے ملاقات
عراقی وزیر اعظم نے بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سیستانی سے نجف اشرف میں ملاقات کی ہے-
السومریہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے جمعے کے روز نجف اشرف پہنچ کر بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سیستانی سے ملاقات کی اور دہشتگردی نیز داعش کے زیر قبضہ بعض علاقوں کو آزاد کرانے کی کاروائی کے بارے میں گفتگو کی- حیدر العبادی نے نجف اشرف پہنچتے ہی پہلے آیت اللہ العظمی سیستانی سے ملاقات کی اور پھر نجف اشرف کے گورنر سمیت دوسرے صوبائی حکام سے ملاقات کریں گے- عراقی وزیر اعظم علامہ بحرالعلوم کی مجلس ترحیم میں شرکت کے لئے نجف اشرف گئے ہیں-مجاہد اور مفکر عالم دین علامہ سید محمد بحرالعلوم نجف اشرف شہر میں کئی روز کوما کی حالت میں رہنے کے بعد منگل کے روز اپنے خالق حقیقی سے جا ملے- علامہ بحرالعلوم کا شمار ڈکٹیٹر صدام کی حکومت کے مخالفین میں ہوتا تھا کہ جس کی بنا پر انیس سو انہتر میں ان کی غیرموجودگی میں مقدمہ چلایا گیا اور انھیں پھانسی کی سزا سنائی گئی- صدام حکومت کے خاتمے کے بعد انھیں دو ہزار تین میں عبوری حکومت کی کونسل کا سربراہ منتخب کیا گیا اور انھیں امریکی قبضے کے خاتمے کے بعد عراق کے پہلے عبوری صدر کا خطاب دیا گیا- وہ اکتیس جولائی سے دو ہزار تین سے دو ہزار چار تک دوبار عراق کی عبوری کونسل کے سربراہ رہے-
رہبر معظم کا بعض خواتین ، شعراء اور ذاکرین اہلبیت (ع) سے اہم خطاب
۲۰۱۵/۰۴/۰۹ - رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے بعض خواتین ، شعراء اور ذاکرین اہلبیت علیھم السلام کے ساتھ ملاقات میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کی اور ایٹمی مذاکرات نیز یمن کے حالات کے بارے میں بہت ہی اہم مطالب کو بیان فرمایا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کا آغاز اس مقدمہ سے کیا کہ " بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ حالیہ ایٹمی مذاکرات کے بارے میں رہبری نے کیوں کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا ہے؟ "
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: رہبری کی طرف سے مؤقف بیان نہ کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ مؤقف بیان کرنے کے لئے کوئی گنجائش موجود نہیں ہے کیونکہ ملک کے حکام اور ایٹمی مذاکراتی ٹیم کا کہنا ہے کہ ابھی کوئی کام انجام پذیر نہیں ہوا ہے اور فریقین کے درمیان ابھی تک کوئی ایسا معاملہ طے نہیں پایا ہے جو پابند بنانے والا ہو۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایسی صورتحال میں مؤقف بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اگر مجھ سے یہ سوال کیا جائے کہ آپ حالیہ ایٹمی مذاکرات کے حامی ہیں یا مخالف ، تو میں کہوں گا کہ نہ میں حامی ہوں اور نہ ہی مخالف، کیونکہ ابھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: تمام مشکلات اس کے بعد ہیں کیونکہ اس کی تفصیلات کے بارے میں بحث و گفتگو ہوگی کیونکہ فریق مقابل، عہد شکن، ،لجوج، ضدی اور پشت میں خنجر گھونپنے والا ہے اور ممکن ہے وہ مذاکرات کے تفصیلی مرحلے میں ملک و قوم اور مذاکراتی ٹیم کو اپنے محاصرے میں کرلے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اب تک جو کام انجام پذیر ہوا ہے نہ وہ اصل معاہدہ ہے، نہ معاہدے تک پہنچنے والا قدم ہے اور نہ ہی مذاکرات کا متن قابل ضمانت ہے حتی اس معاملہ کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ یہ اعلامیہ معاہدے تک پنہچےگا لہذا اس مرحلے پر مبارکباد پیش کرنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے دوران چند نکات کی یاددہانی کرتے ہوئے فرمایا: میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں کبھی بھی پرامید نہیں تھا اور یہ مسئلہ بھی کسی وہم و گمان کی بنا پر نہیں بلکہ ان تجربات کی روشنی میں ہے جو اس سلسلے میں موجود ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: حالیہ ایام میں ایٹمی مذاکرات کے سلسلے میں اگر مستقبل میں یادداشتیں، واقعات اور تفصیلات شائع ہوئیں تو سب کو معلوم ہوجائے گا کہ ہمارے اس تجربہ کا اصل سرچشمہ کہاں سے ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں پرامید نہ ہونے کے باوجود میں نے مذاکرات کی حمایت کی اور اگر کوئی یہ کہے کہ رہبری معاہدے تک پہنچنے کے مخالف ہیں تو ایسے شخص نے حقیقت کے خلاف بات کہی ہے ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک و قوم کے مفادات کی حفاظت کرنے والے معاہدے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے فرمایا: البتہ میں نے یہ کہا ہے کہ برے معاہدے سے معاہدہ نہ کرنا بہتر ہے کیونکہ ایسے معاہدہ کو قبول نہ کرنا بہتر ہےجو ایرانی قوم کے حقوق ، مفادات اور ان کی عزت و شرف کو پامال کرے اور ایرانی قوم کی ذلت اور بے حرمتی کا باعث ہو۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایک ابہام کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ مذاکرات کی تفصیلات رہبری کے زیر نظر ہیں حالانکہ یہ بات دقیق نہیں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: میں مذاکرات کی نسبت بے تفاوت نہیں ہوں لیکن ابھی تک مذاکرات کی تفصیلات میں مداخلت نہیں کی ہے اور اس کے بعد بھی مداخلت نہیں کروں گا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: میں نے بلند مدت مسائل، اصلی خطوط و حدود اور ریڈ لائنوں کے متعلق صدر جمہوریہ اور بعض موارد میں وزیر خارجہ کو آگاہ کیا ہے لیکن تفصیلات ان کے پاس ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: میں مذاکراتی ٹیم پر اعتماد رکھتا ہوں، اوراس کے بارے میں ابھی تک شک و تردید سے دوچار نہیں ہوا ہوں اور انشاء اللہ کہ آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا لیکن مذاکرات کے بارے میں مجھے سخت تشویش ضرور ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فریق ثانی کے مکر و فریب، عہد شکنی ، جھوٹ ، صحیح راہ کے برخلاف حرکت کو اپنی تشویش کا اصلی سبب قراردیتے ہوئے فرمایا: حالیہ مذاکرات میں فریق ثانی کی غلط اور متضاد رفتار کا ایک نمونہ فوری طور پر سامنے آگیا کہ مذاکرات ختم ہونے کے صرف دو گھنٹے بعد مذاکرات کی تشریح کے سلسلے میں وہائٹ ہاؤس نے چند صفحوں پر مشتمل اعلامیہ شائع کردیا جس میں اکثر موارد حقیقت کے بالکل خلاف تھے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایسے اعلامیہ کے متن کی تحریر دو گھنٹوں میں ممکن نہیں ہے لہذا وہ ایک طرف مذاکرات میں مشغول تھے تو دوسری طرف وہ مذاکرات کے سلسلے میں اپنی مرضی کے مطابق غلط اور غیر حقیقی اعلامیہ تیار کررہے تھے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فریق ثانی کے جھوٹ بولنے، عہد شکن ہونے اور دھوکہ باز ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:دوسرا نمونہ یہ ہے کہ وہ ہر دفعہ مذاکرات کے بعد آشکارا بیان دیتے ہیں اور پھر خصوصی طور پر کہتے ہیں کہ ہمارا بیان صرف اندرونی معاملات اور مخالفین کا منہ بند کرنے کے لئے ہے جبکہ ان مسائل کا ہم سے کوئی ربط نہیں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: معروف ضرب المثل ہے کہ " کافر سب کو اپنا ہم مذہب اور ہم عقیدہ سمجھتا ہے" کہتے ہیں کہ ایران کے رہبر بھی اگر مذاکرات کی مخالفت کریں تو ان کی حقیقی بات نہیں ہے بلکہ اندرونی سطح پر آبرو حفظ کرنے کے لئے ہے حالانکہ وہ ایران کے اندر کے حقائق کو نہیں سمجھتے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: عوام کے ساتھ رہبری کی باتیں باہمی اعتماد کی بنیاد پر ہیں جس طرح عوام کو مجھ حقیر پر اعتماد ہے اسی طرح مجھے بھی عوام پر مکمل اعتماد ہے اور میرا اعتقاد ہے کہ ایرانی عوام کو اللہ تعالی کی ہمیشہ پشتپناہی حاصل رہی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: 22 بہمن کی سخت سردی اور یوم قدس کے موقع پر رمضان میں شدید گرمی میں عوام کی میدان میں موجودگی سبھی اللہ کی نصرت اور مدد کی نشانیاں ہیں اور ہم بھی اسی بنیاد پر عوام پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ ہماری گفتگو اسی احساس ، صداقت اور عوامی بصیرت کے دائرے میں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: مذاکرات جاری رکھنے کے سلسلے میں مجھے فریق ثانی کی رفتار پر تشویش ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی مذاکرات کے سلسلے میں بعض حمایتوں اور مخالفتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس سلسلے میں مبالغہ اور عجلت سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ صبر کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ مسئلہ کونسا رخ اختیار کرےگا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حکام پر زوردیا کہ وہ مذاکرات کی تفصیلات سے عوام بالخصوص دانشوروں کو آگاہ کریں اور حقائق ان کے سامنے پیش کریں کیونکہ کوئی بھی چیز پوشیدہ اور مخفیانہ نہیں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مذاکرات کی تفصیلات سے عوام اور دانشوروں کو آگاہ کرنے کو عوام اور حکام کے درمیان ہمدلی کا مصداق قرار دیتے ہوئے فرمایا: ہمدلی کوئی دستوری معاملہ نہیں ہےبلکہ اس کو وجود میں لانا چاہیے اور اسے رشد و فروغ دینا چاہیے اور عوام کے ساتھ ہمدلی پیدا کرنے کے سلسلے میں موجودہ شرائط مناسب فرصت اور بہترین موقع ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں حکام کو ایک تجویز پیش کرتے ہوئے فرمایا: حکام جو قومی مفادات کی حفاظت کے سلسلے میں صداقت اور دلچسپی رکھتے ہیں انھیں چاہیے کہ وہ مذاکرات پر تنقید کرنے والوں کو دعوت دیں اور ان کے ساتھ گفتگو کریں ؛ اگر ان کے مطالب میں مذاکرات کے لئے کوئی مفید بات سامنے آئے تو اس سے استفادہ کریں اور اگر کوئی مفید بات نہ ہو تو انھیں قانع کریں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: دلوں اور اعمال کو یکساں اور ہمدل بنانے کا یہ مصداق ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ممکن ہے حکام کہیں کہ تین ماہ کا وقت ہے بحث و گفتگو اور تبادلہ خیال کے لئے وقت کم ہے اور ناقدین کی باتیں سننے کا موقع نہیں ہے لیکن انھیں یہ بات مد نظر رکھنی چاہیے کہ تین ماہ کا وقت کوئی ناقابل تغییر وقت نہیں ہے اگر مدت بڑھا دی جائے تو کوئی اشکال نہیں ہے جیسا کہ فریق ثانی نے بھی ایک دور میں مذاکرات کو سات ماہ تک مؤخر کردیا تھا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو صرف ایٹمی معاملے تک محدود قراردیتے ہوئے فرمایا: البتہ ایٹمی معاملے میں مذاکرات ایک تجربہ ہیں اگر فریق ثانی اپنی ضد ، کج فہمی اور عہد شکنی ترک کردے تو دیگر موضوعات پر بھی بات کی جاسکتی ہے لیکن اگر وہ اپنی بد عہدی پر باقی رہے تو ہمارا سابقہ تجربہ امریکہ پر عدم اعتماد کو مزید قوی بنا دےگا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فریق ثانی کو عالمی برادری کہنے والوں کے مؤقف پر افسوس اور شکوہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کے مد مقابل فریق جو عہد شکنی کرتے ہیں وہ صرف امریکہ اور تین یورپی ممالک ہیں نہ عالمی برادری ، عالمی برادری میں 150 ممالک شامل ہیں جن کے صدور اور اعلی نمائندوں نے چند سال قبل تہران میں ناوابستہ تحریک کے اجلاس میں شرکت کی تھی ۔یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہمیں عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرنا چاہیے یہ بات بالکل غلط ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس کے بعد ایٹمی معاملے کے سلسلے میں خصوصی جلسات میں حکام کو پیش کی جانے والی اپنی سفارشات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: میرا اس بات پر اصرار ہے کہ حکام ملک کی موجودہ ایٹمی پیشرفت کو بہت زيادہ اہمیت دیں اور اس کو کم اہمیت نہ سمجھیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی صنعت کو ملک کی اہم ضرورت قراردیتے ہوئے فرمایا: بعض روشنفکر خیال کرتے ہیں کہ ہمیں ایٹمی صنعت کا کیا فائدہ ہے؟ ان کی یہ بات صرف ایک فریب ہے۔
رہبر معظم سے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور اس کے ہمراہ وفد نے ملاقات کی
7/4/2015 - رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور اس کے ہمراہ وفد کے ساتھ ملاقات میں عام اسلامی بیداری کے عظیم تحول کو اسلام دشمنوں کی تشویش کا اصلی باعث قراردیا اور اس عظیم واقعہ کا مقابلہ کرنے کے لئے دشمنوں کے منصوبوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج امریکہ و اسرائیل بعض اسلامی ممالک کے اندرونی اختلافات اور کشیدگی سے خوشحال ہیں اور ان مشکلات کا راہ حل اسلامی ممالک کے باہمی تعاون ، مناسب ، تعمیری اور عملی اقدام انجام دینے پر استوار ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں ایران و ترکی کے مشترکہ مفادات اور منافع اور باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عالم اسلام میں ہر مسلم ملک کی طاقت و قدرت درحقیقت امت مسلمہ کی طاقت اور قدرت ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی کلی پالیسی یہ ہے کہ اسلامی ممالک ایکدوسرے کو مضبوط بنائیں اور ایکدوسرے کو کمزور کرنے سے پرہیز کریں ایران اور ترکی کے باہمی تعلقات کی مضبوطی بھی اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ہماری ہمیشہ اس بات پر تاکید رہی ہے کہ اسلامی ممالک کو مغربی ممالک پر اعتماد کرنے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا اور آج علاقہ میں مغربی ممالک کے اقدامات کو سبھی واضح طور پر دیکھ رہے ہیں مغربی ممالک کے اقدامات علاقہ اور عالم اسلام کے لئے نقصان دہ ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بعض علاقائی ممالک کے حالات اور شام و عراق میں دہشت گرد گروہوں کی وحشیانہ سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر کوئی ان حالات و واقعات کے پیچھے دشمن کا پنہاں ہاتھ نہ دیکھے تو اس نے خود کو دھوکہ اور فریب دیا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس حقیقت کی تائید میں علاقہ کی صورتحال کے بارے میں امریکہ اور صہیونیوں کی خوشحالی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: علاقہ میں جاری صورتحال سے سب سے زيادہ امریکہ ، صہیونیوں اور بہت سی مغربی حکومتوں کو خوشی اور مسرت حاصل ہورہی ہےاور داعش کا مسئلہ ختم کرنے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے داعش دہشت گردوں کی وحشی گری کے کچھ نمونوں اور اسی طرح بغداد پر تسلط پیدا کرنے کے ان کے ارادے کی یاد دلاتے ہوئے یہ بنیادی سوال پیش کیا کہ کون لوگ ان دہشت گرد گروہوں کو ہتھیار اور مالی تعاون فراہم کررہے ہیں؟
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: یقینی طور پر غیر علاقائی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ عالم اسلام کی مشکلات اور مسائل حل ہوں لہذا اسلامی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مشکلات اور مسائل کو حل کرنے کا فیصلہ کریں ، لیکن افسوس ہے کہ کوئی اجتماعی ، مناسب اور تعمیری فیصلہ نہیں کیا جاتا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے یمن کے حالات کو عالم اسلام کے لئے ایک نئی مشکل قراردیا اور یمن کے بحران کے راہ حل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کا تمام اسلامی ممالک منجملہ یمن کے بارے میں مؤقف غیر ملکی مداخلت کے خلاف ہے لہذا ہماری نظر میں یمن کے بحران کا راہ حل یہ ہے کہ یمن پر ہوائی حملے متوقف اور یمنی عوام کے خلاف غیر ملکی مداخلت بند ہونی چاہیے اور یہ حق یمنی عوام کا ہے کہ وہ اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کریں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عمومی اسلامی بیداری اور اسلام کے بارے میں قوموں کی عطش و پیاس کو دشمنوں کی حساسیت کا اصلی سبب قراردیتے ہوئے فرمایا: اس بیداری کے خلاف دشمنوں نے مدتوں سے اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بعض اسلامی حکومتیں بھی خیانت کررہی ہیں اور وہ دشمنوں کو مال و وسائل فراہم کررہی ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس کے بعد عراق کی صورتحال کی طرف اشارہ کیا اور عراقی عوام کی مدد اور بغداد پر دہشت گردوں کے تسلط کو روکنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عراق میں ایران کی فوجی موجودگی نہیں ہے لیکن ایران اور عراق کی دو قوموں کے درمیان تاریخی ، بنیادی اور بہت ہی قریبی روابط برقرار ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عالم اسلام کے لئے روز افزوں عزت و عظمت اور علاقائی مسائل کے حل کے لئے ہمفکری اور تبادلہ خیال پر تاکید کی۔
اس ملاقات میں ایران کے صدر روحانی بھی موجود تھے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے تہران میں اپنے مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم نے اس سفر میں دوطرفہ مسائل کا جائزہ لیا اور سیاسی، اقتصادی اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔
ترکی کے صدر نے انرجی کے شعبہ میں تہران اور انقرہ کے باہمی روابط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایران اور ترکی کی اقتصادی کونسل تشکیل دیدی گئی ہے اور اپنے وزراء کو حکم دیدیا ہے کہ وہ کام کا پیچھا کریں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی حجم میں 30 ارب ڈالر تک اضافہ ہوجائے۔
ترکی کے صدر نے عالم اسلام کے مسائل کو مغربی ممالک کے بغیر اور اندرونی سطح پر حل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا: علاقہ میں مشکلات بہت زیادہ ہیں جنھیں ایکدوسرے کے تعاون سے حل کیا جاسکتا ہے اور ان مشکلات و مسائل کو حل کرنے کے سلسلے میں مغربی ممالک کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
ترکی کے صدر نے داعش دہشت گردوں کے سنگین جرائم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا : میں داعش کو مسلمان نہیں سمجھتا ہوں اور داعش کے خلاف میں نےاپنا مؤقف بھی بیان کیا ہے۔
سوره الرحمن
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے
﴿1﴾ الرَّحْمَنُ
(1) وہ خدا بڑا مہربان ہے
﴿2﴾ عَلَّمَ الْقُرْآنَ
(2) اس نے قرآن کی تعلیم دی ہے
﴿3﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ
(3) انسان کو پیدا کیا ہے
﴿4﴾ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ
(4) اور اسے بیان سکھایا ہے
﴿5﴾ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ
(5) آفتاب و ماہتاب سب اسی کے مقرر کردہ حساب کے ساتھ چل رہے ہیں
﴿6﴾وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ
(6) اور بوٹیاں بیلیں اور درخت سب اسی کا سجدہ کررہے ہیں
﴿7﴾ وَالسَّمَاء رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ
(7) اس نے آسمان کو بلند کیا ہے اور انصاف کی ترازو قائم کی ہے
﴿8﴾ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ
(8) تاکہ تم لوگ وزن میں حد سے تجاوز نہ کرو
﴿9﴾ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ
(9) اور انصاف کے ساتھ وزن کو قائم کرو اور تولنے میں کم نہ تولو
﴿10﴾ وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ
(10) اور اسی نے زمین کو انسانوں کے لئے وضع کیا ہے
﴿11﴾ فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ
(11) اس میں میوے ہیں اور وہ کھجوریں ہیں جن کے خوشوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں
﴿12﴾ وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ
(12) وہ دانے ہیں جن کے ساتھ بھس ہوتا ہے اور خوشبودار پھول بھی ہیں
﴿13﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(13) اب تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿14﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ
(14) اس نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے
﴿15﴾ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ
(15) اور جنات کو آگ کے شعلوں سے پیدا کیا ہے
﴿16﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(16) تو تم دونوں اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
﴿17﴾ رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ
(17) وہ چاند اور سورج دونوں کے مشرق اور مغرب کا مالک ہے
﴿18﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(18) پھر تم دونوں اپنی رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے
﴿19﴾ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ
(19) اس نے دو دریا بہائے ہیں جو آپس میں مل جاتے ہیں
﴿20﴾ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ
(20) ان کے درمیان حد فا صلِ ہے کہ ایک دوسرے پر زیادتی نہیں کرسکتے
﴿21﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(21) تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
﴿22﴾ يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ
(22) ان دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں
﴿23﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(23) تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
﴿24﴾ وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ
(24) اسی کے وہ جہاز بھی ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح کھڑے رہتے ہیں
﴿25﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(25) تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
﴿26﴾ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ
(26) جو بھی روئے زمین پر ہے سب فنا ہوجانے والے ہیں
﴿27﴾ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
(27) صرف تمہاری رب کی ذات جو صاحبِ جلال و اکرام ہے وہی باقی رہنے والی ہے
﴿28﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(28) تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
﴿29﴾ يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ
(29) آسمان و زمین میں جو بھی ہے سب اسی سے سوال کرتے ہیں اور وہ ہر روز ایک نئی شان والا ہے
﴿30﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(30) کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
﴿31﴾ سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَا الثَّقَلَانِ
(31) اے دونوں گروہو ہم عنقریب ہی تمہاری طرف متوجہ ہوں گے
﴿32﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(32) تو تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿33﴾ يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ
(33) اے گروہ جن و انس اگر تم میں قدرت ہو کہ آسمان و زمین کے اطرف سے باہر نکل جاؤ تو نکل جاؤ مگر یاد رکھو کہ تم قوت اور غلبہ کے بغیر نہیں نکل سکتے ہو
﴿34﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(34) تو تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿35﴾ يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّن نَّارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنتَصِرَانِ
(35) تمہارے اوپر آگ کا سبز شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا تو تم دونوں کسی طرح نہیں روک سکتے ہو
﴿36﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(36) پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿37﴾ فَإِذَا انشَقَّتِ السَّمَاء فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ
(37) پھر جب آسمان پھٹ کر تیل کی طرح سرخ ہوجائے گا
﴿38﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(38) تو تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿39﴾ فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ
(39) پھر اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا
﴿40﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(40) تو پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
﴿41﴾ يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ
(41) مجرم افراد تو اپنی نشانی ہی سے پہچان لئے جائیں گے پھر پیشانی اور پیروں سے پکڑ لئے جائیں گے
﴿42﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(42) تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿43﴾ هَذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ
(43) یہی وہ جہنّم ہے جس کا مجرمین انکار کررہے تھے
﴿44﴾ يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ
(44) اب اس کے اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان چکر لگاتے پھریں گے
﴿45﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(45) پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿46﴾ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ
(46) اور جو شخص بھی اپنے رب کی بارگاہ میں کھڑے ہونے سے ڈرتا ہے اس کے لئے دو دو باغات ہیں
﴿47﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(47) پھر تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
﴿48﴾ ذَوَاتَا أَفْنَانٍ
(48) اور دونوں باغات درختوں کی ٹہنیوں سے ہرے بھرے میوؤں سے لدے ہوں گے
﴿49﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(49) پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے
﴿50﴾ فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ
(50) ان دونوں میں دو چشمے بھی جاری ہوں گے
﴿51﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(51) پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿52﴾ فِيهِمَا مِن كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِ
(52) ان دونوں میں ہر میوے کے جوڑے ہوں گے
﴿53﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(53) پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿54﴾ مُتَّكِئِينَ عَلَى فُرُشٍ بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ وَجَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ
(54) یہ لوگ ان فرشوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استراطلس کے ہوں گے اور دونوں باغات کے میوے انتہائی قریب سے حاصل کرلیں گے
﴿55﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(55) پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿56﴾ فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ
(56) ان جنتوں میں محدود نگاہ والی حوریں ہوں گی جن کو انسان اور جنات میں سے کسی نے پہلے چھوا بھی نہ ہوگا
﴿57﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(57) پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿58﴾ كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ
(58) وہ حوریں اس طرح کی ہوں گی جیسے سرخ یاقوت اور مونگے
﴿59﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(59) پھر تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿60﴾ هَلْ جَزَاء الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
(60) کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ اور بھی ہوسکتا ہے
﴿61﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(61) تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿62﴾ وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ
(62) اور ان دونوں کے علاوہ دو باغات اور ہوں گے
﴿63﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(63) پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿64﴾ مُدْهَامَّتَانِ
(64) دونوں نہایت درجہ سرسبز و شاداب ہوں گے
﴿65﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(65) پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿66﴾ فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ
(66) ان دونوں باغات میں بھی دو جوش مارتے ہوئے چشمے ہوں گے
﴿67﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(67) پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿68﴾ فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ
(68) ان دونوں باغات میں میوے, کھجوریں اور انار ہوں گے
﴿69﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(69) پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿70﴾ فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ
(70) ان جنتوں میں نیک سیرت اور خوب صورت عورتیں ہوں گی
﴿71﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(71) پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿72﴾ حُورٌ مَّقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ
(72) وہ حوریں ہیں جو خیموں کے اندر چھپی بیٹھی ہوں گی
﴿73﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(73) تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿74﴾ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ
(74) انہیں ان سے پہلے کسی انسان یا جن نے ہاتھ تک نہ لگایا ہوگا
﴿75﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(75) پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿76﴾ مُتَّكِئِينَ عَلَى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ
(76) وہ لوگ سبز قالینوں اور بہترین مسندوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے
﴿77﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(77) پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے
﴿78﴾ تَبَارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
(78) بڑا بابرکت ہے آپ کے پروردگار کا نام جو صاحب جلال بھی ہے اور صاحبِ اکرام بھی ہے
سوره القمر
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے
﴿1﴾ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(1) قیامت قریب آگئی اور چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے
﴿2﴾ وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ
(2) اور یہ کوئی بھی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک مسلسل جادو ہے
﴿3﴾ وَكَذَّبُوا وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ
(3) اور انہوں نے تکذیب کی اور اپنی خواہشات کا اتباع کیا اور ہر بات کی ایک منزل ہوا کرتی ہے
﴿4﴾ وَلَقَدْ جَاءهُم مِّنَ الْأَنبَاء مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ
(4) یقینا ان کے پاس اتنی خبریں آچکی ہیں جن میں تنبیہ کا سامان موجود ہے
﴿5﴾ حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ
(5) انتہائی درجہ کی حکمت کی باتیں ہیں لیکن انہیں ڈرانے والی باتیں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتیں
﴿6﴾ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ إِلَى شَيْءٍ نُّكُرٍ
(6) لہذا آپ ان سے منہ پھیر لیں جسن دن ایک بلانے والا (اسرافیل) انہیں ایک ناپسندہ امر کی طرف بلائے گا
﴿7﴾ خُشَّعًا أَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ
(7) یہ نظریں جھکائے ہوئے قبروں سے اس طرح نکلیں گے جس طرح ٹڈیاں پھیلی ہوئی ہوں
﴿8﴾ مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَذَا يَوْمٌ عَسِرٌ
(8) سب کسی بلانے والے کی طرف سر اٹھائے بھاگے چلے جارہے ہوں گے اور کفار یہ کہہ رہے ہوں گے کہ آج کا دن بڑا سخت دن ہے
﴿9﴾ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا عَبْدَنَا وَقَالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ
(9) ان سے پہلے قوم نوح نے بھی تکذیب کی تھی کہ انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہہ دیا کہ یہ دیوانہ ہے بلکہ اسے جھڑکا بھی گیا
﴿10﴾ فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(10) تو اس نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوگیا ہوں میری مدد فرما
﴿11﴾ فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاء بِمَاء مُّنْهَمِرٍ
(11) تو ہم نے ایک موسلا دھار بارش کے ساتھ آسمان کے دروازے کھول دیئے
﴿12﴾ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاء عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ
(12) اور زمین سے بھی چشمے جاری کردیئے اور پھر دونوں پانی ایک خاص مقررہ مقصد کے لئے باہم مل گئے
﴿13﴾ وَحَمَلْنَاهُ عَلَى ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ
(13) اور ہم نے نوح کو تختوں اور کیلوں والی کشتی میں سوار کرلیا
﴿14﴾ تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاء لِّمَن كَانَ كُفِرَ
(14) جو ہماری نگاہ کے سامنے چل رہی تھی اور یہ اس بندے کی جزا تھی جس کا انکار کیا گیا تھا
﴿15﴾ وَلَقَد تَّرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(15) اور ہم نے اسے ایک نشانی بناکر چھوڑ دیا ہے تو کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے
﴿16﴾ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ
(16) پھر ہمارا عذاب اور ڈرانا کیسا ثابت ہوا
﴿17﴾ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(17) اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے
﴿18﴾ كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ
(18) اور قوم عاد نے بھی تکذیب کی تو ہمارا عذاب اور ڈرانا کیسا رہا
﴿19﴾ إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ
(19) ہم نے ان کی اوپر تیز و تند آندھی بھیج دی ایک مسلسل نحوست والے منحوس دن میں
﴿20﴾ تَنزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ
(20) جو لوگوں کو جگہ سے یوں اُٹھالیتی تھی جیسے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں
﴿21﴾ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ
(21) پھر دیکھو ہمارا ذاب اور ڈرانا کیسا ثابت ہوا
﴿22﴾ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(22) اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے
﴿23﴾ كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِالنُّذُرِ
(23) اور ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا
﴿24﴾ فَقَالُوا أَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهُ إِنَّا إِذًا لَّفِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ
(24) اور کہہ دیا کہ کیا ہم اپنے ہی میں سے ایک شخص کا اتباع کرلیں اس طرح تو ہم گمراہی اور دیوانگی کا شکار ہوجائیں گے
﴿25﴾ أَؤُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ
(25) کیا ہم سب کے درمیان ذکر صرف اسی پر نازل ہوا ہے درحقیقت یہ جھوٹا ہے اور بڑائی کا طلبگار ہے
﴿26﴾ سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ
(26) تو عنقریب کل ہی انہیں معلوم ہوجائے گا جھوٹا اور متکبر کون ہے
﴿27﴾ إِنَّا مُرْسِلُو النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ
(27) ہم ان کے امتحان کے لئے ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں لہذا تم اس کا انتظار کرو اور صبر سے کام لو
﴿28﴾ وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاء قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ
(28) اور انہیں باخبر کردو کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک کو اپنی باری پر حاضر ہونا چاہئے
﴿29﴾ فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ
(29) تو ان لوگوں نے اپنے ساتھی کو آواز دی اور اس نے اونٹنی کو پکڑ کر اس کی کونچیں کاٹ دیں
﴿30﴾ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ
(30) پھر سب نے دیکھا کہ ہمارا عذاب اور ڈرانا کیسا ثابت ہوا
﴿31﴾ إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَاحِدَةً فَكَانُوا كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(31) ہم نے ان کے اوپر ایک چنگھاڑ کو بھیج دیا تو یہ سب کے سب باڑے کے بھوسے کی طرح ہوگئے
﴿32﴾ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(32) اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے
﴿33﴾ كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ بِالنُّذُرِ
(33) اور قوم لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا
﴿34﴾ إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا إِلَّا آلَ لُوطٍ نَّجَّيْنَاهُم بِسَحَرٍ
(34) تو ہم نے ان کے اوپر پتھر برسائے صرف لوط کی آل کے علاوہ کہ ان کو سحر کے ہنگام ہی بچالیا
﴿35﴾ نِعْمَةً مِّنْ عِندِنَا كَذَلِكَ نَجْزِي مَن شَكَرَ
(35) یہ ہماری ایک نعمت تھی اور اسی طرح ہم شکر گزار بندوں کو جزادیتے ہیں
﴿36﴾ وَلَقَدْ أَنذَرَهُم بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ
(36) اور لوط نے انہیں ہماری گرفت سے ڈرایا لیکن ان لوگوں نے ڈرانے ہی میں شک کیا
﴿37﴾ وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ فَطَمَسْنَا أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ
(37) اور ان سے مہمان کے بارے میں ناجائز مطالبات کرنے لگے تو ہم نے ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا کہ اب عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو
﴿38﴾ وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ
(38) اور ان کے اوپر صبح سویرے نہ ٹلنے والا عذاب نازل ہوگیا
﴿39﴾ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ
(39) کہ اب ہمارے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو
﴿40﴾ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(40) اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے
﴿41﴾ وَلَقَدْ جَاء آلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ
(41) اور فرعون والوں تک بھی پیغمبر آئے
﴿42﴾ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذْنَاهُمْ أَخْذَ عَزِيزٍ مُّقْتَدِرٍ
(42) تو انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کا انکار کردیا تو ہم نے بھی ایک زبردست صاحب اقتدار کی طرح انہیں اپنی گرفت میں لے لیا
﴿43﴾ أَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِّنْ أُوْلَئِكُمْ أَمْ لَكُم بَرَاءةٌ فِي الزُّبُرِ
(43) تو کیا تمہارے کفار ان سب سے بہتر ہیں یا ان کے لئے کتابوں میں کوئی معافی نامہ لکھ دیا گیا ہے
﴿44﴾ أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ
(44) یا ان کا کہنا یہ ہے کہ ہمارے پاس بڑی جماعت ہے جو ایک دوسرے کی مدد کرنے والی ہے
﴿45﴾ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(45) عنقریب یہ جماعت شکست کھاجائے گی اور سب پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے
﴿46﴾ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(46) بلکہ ان کا موعد قیامت کا ہے اور قیامت انتہائی سخت اور تلخ حقیقت ہے
﴿47﴾ إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ
(47) بیشک مجرمین گمراہی اور دیوانگی میں مبتلا ہیں
﴿48﴾ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ
(48) قیامت کے دن یہ آگ پر منہ کے بل کھینچے جائیں گے کہ اب جہنمّ کا مزہ چکھو
﴿49﴾ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ
(49) بیشک ہم نے ہر شے کو ایک اندازہ کے مطابق پیدا کیا ہے
﴿50﴾ وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(50) اور ہمارا حکم پلک جھپکنے کی طرح کی ایک بات ہے
﴿51﴾ وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا أَشْيَاعَكُمْ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(51) اور ہم نے تمہارے ساتھیوں کو پہلے ہی ہلاک کردیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے
﴿52﴾ وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوهُ فِي الزُّبُرِ
(52) اور ان لوگوں نے جو کچھ بھی کیا ہے سب نامہ اعمال میں محفوظ ہے
﴿53﴾ وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ مُسْتَطَرٌ
(53) اور ہر چھوٹا اور بڑا عمل اس میں درج کردیا گیا ہے
﴿54﴾ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَهَرٍ
(54) بیشک صاحبان تقویٰ باغات اور نہروں کے درمیان ہوں گے
﴿55﴾ فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرٍ
(55) اس پاکیزہ مقام پر جو صاحبِ اقتدار بادشاہ کی بارگاہ میں ہے
سوره النجم
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے
﴿1﴾ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى
(1) قسم ہے ستارہ کی جب وہ ٹوٹا
﴿2﴾ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى
(2) تمہارا ساتھی نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بہکا
﴿3﴾ وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى
(3) اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتا ہے
﴿4﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى
(4) اس کا کلام وہی وحی ہے جو مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے
﴿5﴾ عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى
(5) اسے نہایت طاقت والے نے تعلیم دی ہے
﴿6﴾ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَى
(6) وہ صاحبِ حسن و جمال جو سیدھا کھڑا ہوا
﴿7﴾ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى
(7) جب کہ وہ بلند ترین افق پر تھا
﴿8﴾ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى
(8) پھر وہ قریب ہوا اور آگے بڑھا
﴿9﴾ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(9) یہاں تک کہ دو کمان یا اس سے کم کا فاصلہ رہ گیا
﴿10﴾ فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى
(10) پھر خدا نے اپنے بندہ کی طرف جس راز کی بات چاہی وحی کردی
﴿11﴾ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى
(11) دل نے اس بات کو جھٹلایا نہیں جس کو آنکھوں نے دیکھا
﴿12﴾ أَفَتُمَارُونَهُ عَلَى مَا يَرَى
(12) کیا تم اس سے اس بات کے بارے میں جھگڑا کررہے ہو جو وہ دیکھ رہا ہے
﴿13﴾ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(13) اور اس نے تو اسے ایک بار اور بھی دیکھا ہے
﴿14﴾ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى
(14) سدرِالمنتہیٰ کے نزدیک
﴿15﴾ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى
(15) جس کے پاس جنت الماویٰ بھی ہے
﴿16﴾ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(16) جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ کہ چھا رہا تھا
﴿17﴾ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى
(17) اس وقت اس کی آنکھ نہ بہکی اور نہ حد سے آگے بڑھی
﴿18﴾ لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(18) اس نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیان دیکھی ہیں
﴿19﴾ أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى
(19) کیا تم لوگوں نے لات اور عذٰی کو دیکھا ہے
﴿20﴾ وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى
(20) اور منات جو ان کا تیسرا ہے اسے بھی دیکھا ہے
﴿21﴾ أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَى
(21) تو کیا تمہارے لئے لڑکے ہیں اور اس کے لئے لڑکیاں ہیں
﴿22﴾ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى
(22) یہ انتہائی ناانصافی کی تقسیم ہے
﴿23﴾ إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاء سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ وَلَقَدْ جَاءهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى
(23) یہ سب وہ نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے طے کرلئے ہیں خدا نے ان کے بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے - درحقیقت یہ لوگ صرف اپنے گمانوں کا اتباع کررہے ہیں اور جو کچھ ان کا دل چاہتا ہے اور یقینا ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے
﴿24﴾ أَمْ لِلْإِنسَانِ مَا تَمَنَّى
(24) کیا انسان کو وہ سب مل سکتا ہے جس کی آرزو کرے
﴿25﴾ فَلِلَّهِ الْآخِرَةُ وَالْأُولَى
(25) بس اللہ ہی کے لئے دنیا اور آخرت سب کچھ ہے
﴿26﴾ وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَاء وَيَرْضَى
(26) اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں جن کی سفارش کسی کے کام نہیں آسکتی ہے جب تک خدا .... جس کے بارے میں چاہے اور اسے پسند کرے .... اجازت نہ دے دے
﴿27﴾ إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ لَيُسَمُّونَ الْمَلَائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنثَى
(27) بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں وہ ملائکہ کے نام لڑکیوں جیسے رکھتے ہیں
﴿28﴾ وَمَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا
(28) حالانکہ ان کے پاس اس سلسلہ میں کوئی علم نہیں ہے یہ صرف وہم و گمان کے پیچھے چلے جارہے ہیں اور گمان حق کے بارے میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا ہے
﴿29﴾ فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّى عَن ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا
(29) لہذا جو شخص بھی ہمارے ذکر سے منہ پھیرے اور زندگانی دنیا کے علاوہ کچھ نہ چاہے آپ بھی اس سے کنارہ کش ہوجائیں
﴿30﴾ ذَلِكَ مَبْلَغُهُم مِّنَ الْعِلْمِ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَى
(30) یہی ان کے علم کی انتہا ہے اور بیشک آپ کا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بہک گیا ہے اور کون ہدایت کے راستہ پر ہے
﴿31﴾ وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاؤُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى
(31) اوراللہ ہی کے لئے زمین و آسمان کے کل اختیارات ہیں تاکہ وہ بدعمل افراد کو ان کے اعمال کی سزادے سکے اور نیک عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے سکے
﴿32﴾ الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى
(32) جو لوگ گناہانِ کبیرہ اور فحش باتوں سے پرہیز کرتے ہیں (گناہان صغیرہ کے علاوہ) بیشک آپ کا پروردگار ان کے لئے بہت وسیع مغفرت والا ہے وہ اس وقت بھی تم سب کے حالات سے خوب واقف تھا جب اس نے تمہیں خاک سے پیدا کیا تھا اور اس وقت بھی جب تم ماں کے شکم میں جنین کی منزل میں تھے لہذا اپنے نفس کو زیادہ پاکیزہ قرار نہ دو وہ متقی افراد کو خوب پہچانتا ہے
﴿33﴾ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي تَوَلَّى
(33) کیا آپ نے اسے بھی دیکھا ہے جس نے منہ پھیر لیا
﴿34﴾ وَأَعْطَى قَلِيلًا وَأَكْدَى
(34) اور تھوڑا سا راسِ خدا میں دے کر بند کردیا
﴿35﴾ أَعِندَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَى
(35) کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس کے ذریعے وہ دیکھ رہا ہے
﴿36﴾ أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَى
(36) یا اسے اس بات کی خبر ہی نہیں ہے جو موسٰی کے صحیفوں میں تھی
﴿37﴾ وَ إِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى
(37) یا ابراہیم کے صحیفوں میں تھی جنہوں نے پورا پورا حق ادا کیا ہے
﴿38﴾ أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
(38) کوئی شخص بھی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والا نہیں ہے
﴿39﴾ وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى
(39) اور انسان کے لئے صرف اتنا ہی ہے جتنی اس نے کوشش کی ہے
﴿40﴾ وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى
(40) اور اس کی کوشش عنقریب اس کے سامنے پیش کردی جائے گی
﴿41﴾ ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاء الْأَوْفَى
(41) اس کے بعد اسے پورا بدلہ دیا جائے گا
﴿42﴾ وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنتَهَى
(42) اور بیشک سب کی آخری منزل پروردگار کی بارگاہ ہے
﴿43﴾ وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى
(43) اور یہ کہ اسی نے ہنسایا بھی ہے اور ----- فِلایا بھی ہے
﴿44﴾ وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
(44) اور وہی موت و حیات کا دینے والا ہے
﴿45﴾ وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَى
(45) اور اسی نے نر اور مادہ کا جوڑا پیدا کیا ہے
﴿46﴾ مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى
(46) اس نطفہ سے جو رحم میں ڈالا جاتا ہے
﴿47﴾ وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الْأُخْرَى
(47) اور اسی کے ذمہ دوسری زندگی بھی ہے
﴿48﴾ وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَى وَأَقْنَى
(48) اور اسی نے مالدار بنایا ہے اور سرمایہ عطا کیا ہے
﴿49﴾ وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَى
(49) اور وہی ستارہ شعریٰ کا مالک ہے
﴿50﴾ وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَادًا الْأُولَى
(50) اور اسی نے پہلے قوم عاد کو ہلاک کیا ہے
﴿51﴾ وَثَمُودَ فَمَا أَبْقَى
(51) اور قوم ثمود کو بھی پھر کسی کو باقی نہیں چھوڑا ہے
﴿52﴾ وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَى
(52) اور قوم نوح کو ان سے پہلے .کہ وہ لوگ بڑے ظالم اور سرکش تھے
﴿53﴾ وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى
(53) اور اسی نے قوم لوط کی اُلٹی بستیوں کو پٹک دیا ہے
﴿54﴾ فَغَشَّاهَا مَا غَشَّى
(54) پھر ان کو ڈھانک لیا جس چیز نے کہ ڈھانک لیا
﴿55﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكَ تَتَمَارَى
(55) اب تم اپنے پروردگار کی کس نعمت پر شک کررہے ہو
﴿56﴾ هَذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَى
(56) بیشک یہ پیغمبر بھی اگلے ڈرانے والوں میں سے ایک ڈرانے والا ہے
﴿57﴾ أَزِفَتْ الْآزِفَةُ
(57) دیکھو قیامت قریب آگئی ہے
﴿58﴾ لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّهِ كَاشِفَةٌ
(58) اللہ کے علاوہ کوئی اس کا ٹالنے والا نہیں ہے
﴿59﴾ أَفَمِنْ هَذَا الْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ
(59) کیا تم اس بات سے تعجب کررہے ہو
﴿60﴾ وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَ
(60) اور پھر ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو
﴿61﴾ وَأَنتُمْ سَامِدُونَ
(61) اور تم بالکل غافل ہو
﴿62﴾ فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا
(62) ( اب سے غنیمت ہے) کہ اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
