زلزلہ زدگان کی ہرممکن امداد پر رہبر معظم کی تاکید

Rate this item
(0 votes)
زلزلہ زدگان کی ہرممکن امداد پر رہبر معظم کی تاکید

رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے انتظامیہ،مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں سے ہونے والی ملاقات میں فرمایا کہ حکام کو زلزلہ زدگان کے ساتھ ھمدردی کرنے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات کرنے چاہئیں تا کہ عوام کے دکھ درد اور مسائل و مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔

رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے انتظامیہ، مقننہ اورعدلیہ کے سربراہوں اور بعض دیگراعلی حکام کے ساتھ ملاقات میں کرمانشاہ کے زلزلے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک الہی آزمایش اور حکام کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کیلئے ایک موقع قراردیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے  زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں اعلی حکام من جملہ صدر مملکت کی موجودگی اور امداد رسانی کے امورکی نگرانی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہمدردی اور امداد رسانی کا عمل پوری قوت اورطاقت کے ساتھ جاری رہنا چاہیے اور زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں اور وہ بھی موسم سرما کے پیش نظر زلزلہ زدگان  کے مسائل و مشکلات کو برطرف کرنے کے سلسلے میں کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرنی چاہیے۔

حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے  فرمایا کہ اس قسم کے واقعات اسلامی معاشرے میں اخوت و برادری میں اضافے کا باعث بنتے ہیں اوراس قسم کے واقعات سب کو ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون کی ترغیب دلاتے ہیں اور دعا ہے کہ الہی برکات اس قسم کے باہمی تعاون اور اخوت و برادری ایرانی قوم خاص طور سے کرمانشاہ کے بہادرعوام کے شامل حال ہو۔

رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے فرمایا زلزلے میں جاں بحق ہونے والے عزیزوں کا داغ سخت ہے اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ جاں بحق ہونے والوں پر اپنی رحمت اور مغفرت نازل فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبرجمیل مرحمت فرمائے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایرانی قوم ، حکومت اور تمام ادارے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں صدر محترم نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ان شاء اللہ اس ہمدردی اور امداد رسانی کا سلسلہ پوری قوت اور قدرت کے ساتھ جاری رہےگا۔

واضح رہے کہ اتوار کی رات ایران کے مغربی صوبوں میں آنے والے شدید زلزلے نے تباہی مچا دی تاہم زیادہ تر جانی اور مالی نقصانات کرمانشاہ میں ہوئے اور اب تک 435افراد جاں بحق اور7817 زخمی ہوئے۔

 

Read 19 times

Add comment


Security code
Refresh