مکتب مقاومت اور شہید قاسم سلیمانی

Rate this item
(0 votes)
مکتب مقاومت اور شہید قاسم سلیمانی

جب سفاکیت اپنی انتہائوں کو چھو رہی تھی، دہشت اور وحشت نے بے قصور اور نہتے عوام کا جینا دو بھر کر دیا تھا، جب خون کی ہولیاں کھیلی جا رہی تھیں، جب درندگی شام و عراق میں اپنے جوبن پر تھی، جب انبیاء کی سرزمین کو مقتل میں بدل دیا گیا تھا، جب مقدس مقامات کو بارود کے ڈھیر سے مٹی میں بدلا جا رہا تھا، جب اصحاب رسول و آئمہ کی قبور کو نبش کیا جا رہا تھا، جب اسلامی تاریخ کے ان مٹ نقوش اور آثار قدیمہ کو لوٹا جا رہا تھا، جب عالمی دہشت گرد گروہ نے نیا روپ دھار کر نئے نام کیساتھ اپنے نجس وجود کو بے گناہوں پر مسلط کرنے کیلئے عالمی استعمار، دشمن اسلام و مسلمین امریکہ و اسرائیل نے انہیں کھلا چھوڑ دیا تھا، جب اسلام کے نام پر نام نہاد فتح کئے گئے اسلامی ممالک کی سرزمینوں سے کم سن نو نو سالہ بچیوں کو مال غنیمت سمجھ کر لونڈیاں بنا کر بازاروں میں بیچنے کا کاروبار زور پکڑ چکا تھا، جب گردنیں کاٹنے، انسانوں کو زندہ جلانے، بے گناہوں کو پنجروں میں بند کرکے پانی میں ڈبونے، انسانوں کو بارود کے ہار پہنا کر ان کے چیتھڑے اڑانے اور بلڈوزروں کے ذریعے معصوم انسانوں کو بلا تمیز قیمہ بنانے کا دھندہ عروج پہ تھا۔

ایسے میں سرزمین فارس سے ایک شخص اٹھا، جس نے یہ سب برداشت نہیں کیا، جس نے حمیت و غیرت کا ایسا مطاہرہ کیا کہ رہتی دنیا تک اس کو یاد رکھا جائے گا۔ جس نے ان سفاک، ظالم، دشمنان اسلام، امریکی و صیہونی ایجنٹوں کو لگام ڈالنے کا عہد کیا، جس نے ان جانوروں کو انسانوں سے جدا کرنے کا ارادہ ظاہر کیا، جس نے یہ سب دیکھ کر اپنے اوپر آرام کو حرام قرار دیا۔ جس نے مظلوموں کی چیخ و پکار اور بے کسوں کے نالہ و فریاد پر اپنا سب کچھ لٹا دینے کا عہد کیا، جس نے یتیموں، بے آسرائوں اور ستم رسیدہ معصوم بچوں، بزرگوں، خواتین و حضرات کو ان جانوروں سے آزادی دلوانے کیلئے کمر ہمت باندھی، جس نے خداداد صلاحیت سے اپنے تن، من دھن اور ذہن و فکر سے اپنا پورا زور اور طاقت و قوت سے سب کچھ دائو پر لگایا، میدان میں اترے اور ایسا اترے کہ اپنے پسند کردہ میدان میں ہی زندگی کا آخری معرکہ بھی لڑتے ہوئے اسے ہی مقتل بنایا۔

وہ جس نے جراءت، شجاعت، دلیری، بہادری، ایثار، قربانی، احساس، درد، عمل، جہاد کے ایسے نمونے پیش کئے کہ جن لوگوں نے کربلا کو نہیں پڑھا، جن لوگوں نے میدان کربلا میں نواسہء رسول اور ان کے جانثار انصاران کے قصے تاریخ کے سنہرے اوراق پر نہیں پڑھے یا علماء کی زبانی نہیں سنے، جن کی آنکھوں میں کربلا کے بے مثال شجاعت و بہادری کے واقعات نہیں سموئے ہوئے یا جن لوگوں نے امیر المومنین علی ابن ابی طالب کے باوفا، دلیر و شجاع کمانڈر انچیف مالک اشتر کے منافقین و خوارجین، دشمنان اسلام و اہلبیت کی جنگی حکمتوں سے آشنائی نہیں، انہیں اس دور میں چودہ صدیاں پیشتر کے شجاعانہ و دلیرانہ قصے یاد آگئے۔ یہ بات میں اپنے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر مولا امام علی و امام حسن علیھم السلام کو حاج قاسم سلیمانی جیسے شجاع و باوفا ساتھی مل جاتے تو بنو امیہ کے پروردہ اسلام کو ابتدا میں ہی کبھی بھی اتنا نقصان نہ پہنچا سکتے۔

آج کی دنیا میں ایک انسان اتنے ممالک اور اس کے لائو لشکر، اسلحہ و طاقت کے سامنے ایسے پل باندھ سکتا ہے، یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا۔ اگر شام و عراق میں لائی گئی، دنیا بھر کی بھرتی کی ہوئی، نام نہاد مجاہدین کی فوج جسے داعش کے نام سے پہچانا گیا ہے، جو جبھة النصرہ اور کئی ایک دیگر ناموں سے سرگرم عمل ہوئی، جس میں اسی سے زائد ممالک کے بھرتی کردہ دہشت گرد شامل تھے، ان کا راستہ روکنا، اسلامی و تاریخی مقدسات اور ان پاک سرزمینوں کا دفاع اور ان کے ہاتھ میں جا چکی زمینوں کو واپس لینا اتنی بڑی انویسٹمنٹ کرنے والوں کے وہم و گمان اور سوچ و فکر میں بھی نہیں ہوگا، ان کے خوابوں کو کیسے چکنا چور کیا گیا، یہ تو حاج قاسم سلیمانی کیساتھ اپنی جانوں پر کھیلنے والے ہی جانتے ہیں، ہم نے تو انہیں ایک دیو مالائی کردار اور لافانی ایثار گر کے طور پہ ویڈیوز میں دیکھا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم ان کے ہم زمان ہوئے ہیں اور اس پر جتنا بھی افتخار اور فخر کیا جائے کم ہے، ہم نے ان کے بارے میں اس دور کی سب سے معزز و صادق و امین رہبریت و قیادت کی زبانی سنا ہے، ہم نے ان کی المناک شہادت پر ولی امر المسلمین سید علی خامنہ ای کو گریہ کناں دیکھا ہے۔

سید مقاومت سید حسن نصر اللہ کو غم و اندوہ اور غیض و غضب میں دیکھا ہے، جنہوں نے برملا اس کا بدلہ لینے کا اعلان فرمایا۔ ہم نے تو شہید جنرل قاسم سلیمانی کی دختر زینب سلیمانی کو استعمار جہاں اور عالمی دہشت گرد امریکہ اور اس کے حواریوں کو للکارتے اور گرجتے دیکھا ہے۔ ہم نے یہ منظر دیکھا ہے کہ اہل عراق جن سے قاسم سلیمانی نے آٹھ سال تک جنگ تحمیلی (صدام کی مسلط کردہ جنگ) میں حصہ لیا تھا اور پھر ایک موقعہ ایسا آیا کہ اسی عراق کے دفاع کیلئے انہوں نے سر پہ کفن باندھ لیا اور پھر اسی قاسم سلیمانی کیلئے اہل عراق کو امریکی سفارت خانہ کی عمارت پہ نعرے لکھتے اور اس کے شعار بلند کرتے، اس کی تصویروں کو اٹھائے امام خمینی کے نعرے لگاتے دیکھا ہے۔ عراق کو امریکہ، آل سعود، اس کے گماشتوں اور داخلی دشمنوں سے بچانے کیلئے جنرل قاسم سلیمانی کی جدوجہد ایسی مثال ہے، جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ وہ ایران کا قیمتی ترین فرد تھا، مگر عراق پر قربان ہوگیا، کیا عجب ہے یہ کردار۔ آج کے ایک انسان میں اتنی خوبیاں اور اتنی کشش ہوسکتی ہے، یہ شائد ہی کسی اور پر صادق آئے، جتنی خوبیاں اور کشش جنرل قاسم سلیمانی میں بہ یک وقت دیکھی جا سکتی تھی۔

ایک ہی وقت میں وہ باکمال جرنیل، جس کی حکمت عملی دشمنوں کو چند ساعتوں میں پچھاڑ دے، جو اگر خود میدان میں اتر آئے تو دشمن اپنا اسلحہ و ٹینک چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھے، جو مجاہدین کے درمیاں ہو تو کسی کو احساس نہ ہو کہ اس کیساتھ کاندھا ملا کر لڑنے والا ایک نابغہ، ایک لازوال کردار ہے، جو نماز ادا کرے تو ایسے جیسے خدا کے ساتھ محو راز و نیاز ہو اور ہتھیار اٹھائے تو اس کی للکار سے مایوسیاں فتح میں تبدیل ہو جائیں۔ جو خاک کو اوڑھنا بچھونا بنا لے اور نرم و گداز بستر کو اپنے لئے حرام قرار دے، جسے کلید کامیابی سمجھا جائے، جسے حل المشکلات سمجھا جائے، جو مایوسیوں میں امید کی آخری کرن ہو، جو روشن اور چمکتے ستارے کی مانند ہو، جو دشمنوں کیلئے شدید ترین اور اپنوں کیلئے نہایت ہی رحم دل ہو۔ جس کا عمل اس کے کردار اور افکار کی گواہی دے رہا ہو، جس میں کسی بھی قسم کی ریا، دکھاوا، نمود و نمائش یا ستائش کی تمنا نہ ہو، بلکہ اس کا مطمع و مقصد مظلوم، محکوم، ستم رسیدہ اور انسانوں کے بنائے جال اور دنیا کے نام نہاد خدائوں، فرعونوں و نمرودوں کی زنجیروں سے آزادی دلوانا ہو۔

جنرل قاسم سلیمانی ایک ایسا ہی کردار تھے، وہ ایک ایسے ہی نگینہ تھے، جنہوں نے خود کو ولایت کی انگوٹھی میں جڑ لیا تھا اور ولی امر امسلمین کی آرزوئوں اور تمنائوں کی تکمیل کیلئے خود کو وقف کر لیا تھا بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ولی امر المسلمین کی ڈھارس و امید کا نام قاسم سلیمانی ہی تھا۔ شہید قاسم سلیمانی اور ان کے باوفا ساتھی، جنہوں نے ان کیساتھ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، بالاخص ابو مہدی المہندس نے اپنے لازوال اور لافانی کردار سے ایک مکتب کو زندگی بخشی ہے۔ یہ مکتب، مکتب مقاومت ہے، یہ مکتب مکتب حریت ہے، یہ مکتب مکتب استقلال ہے، یہ مکتب مکتب ایثار ہے، یہ مکتب مکتب آزادی ہے، یہ مکتب مکتب شجاعت ہے، یہ مکتب مکتب شہادت ہے۔ عراق و ایران میں ان کی نماز جنازہ کے اجتماعات اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے بلا تفریق کروڑوں لوگوں، جوانوں، بچوں، بوڑھوں اور خواتین کا باہر نکلنا ان کی جرات مندانہ شہادت اور ان کے قاتل دشمن کیلئے موت کے پیغام سے کم نہ تھا، جس نے اس کے ارادوں پہ اوس ڈال دی تھی۔

Read 149 times

Add comment


Security code
Refresh