موساد اور داعش کے ٹھکانوں پر ایران کے میزائل حملوں کے پیغامات

Rate this item
(0 votes)
موساد اور داعش کے ٹھکانوں پر ایران کے میزائل حملوں کے پیغامات

حال ہی میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران نے کرمان میں دہشت گردانہ اقدامات کی انتقامی کاروائی کے طور پر عراق کے علاقے کردستان میں موساد کے جاسوسی مرکز اور شام کے شہر ادلب میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے ہیڈکوارٹر کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ اربیل میں اسرائیل کی جاسوسی ایجنسی موساد کے اس مرکز اور ادلب میں داعش کے ہیڈکوارٹر پر یہ میزائل حملے کئی لحاظ سے منفرد اور بے مثال ہیں۔ ایک طرف ان حملوں کی شدت بہت زیادہ تھی اور مطلوبہ اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا گیا جبکہ دوسری طرف ان حملوں میں استعمال ہونے والے بیلسٹک میزائلوں کی نوعیت بھی جدید طرز کی تھی۔ یہ جدید ترین ٹیکنالوجی والے ٹھوس ایندھن سے چلنے والے میزائل تھے۔ ان میزائل حملوں میں کچھ اہم پیغامات پوشیدہ ہیں اور چند اہم نکات پائے جاتے ہیں۔
 
1) سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران نے پہلی بار ٹھیک نشانے پر مار کرنے والے لانگ رینج میزائل استعمال کئے ہیں جنہوں نے ادلب میں داعش کے ٹھکانوں کو تقریباً 1230 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے نشانہ بنایا ہے۔ اسی طرح عراق کے کردنشین علاقے اربیل میں موساد کے جاسوسی مرکز کو بھی گائیڈڈ میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
2) سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کے بقول یہ میزائل حملے ایران کے اندر اور باہر ایرانی شہریوں کے خلاف انجام پانے والے دہشت گردانہ اقدامات کے انتقام کے طور پر انجام پائے ہیں۔ کچھ ہفتے پہلے ایران کے شہر کرمان میں شہید قاسم سلیمانی کی برسی کے موقع پر دہشت گردانہ خودکش بم دھماکے ہوئے جن میں تقریباً 84 ایرانی شہری شہید ہو گئے تھے۔ ان حملوں کے انتقام میں اربیل میں موساد کے جاسوسی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
 
اسی طرح شام کے شہر ادلب میں داعش کے علاوہ ھیئت تحریر الشام نامی دہشت گرد گروہ کے ٹھکانوں کو بھی میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ حملے شام میں ایران کے فوجی مشیروں کی ٹارگٹ کلنگ کے انتقام کے طور پر انجام پائے ہیں۔ یاد رہے کچھ ہفتے پہلے شام کے دارالحکومت دمشق میں شہید قاسم سلیمانی کے دیرینہ ساتھ جنرل سید رضی الموسوی کو شہید کر دیا گیا تھا۔
3) اس بار سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران نے اعلانیہ طور پر ان میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جو ایک اہم نکتہ ہے۔ اس سے پہلے اکثر مواقع پر سپاہ پاسداران یا تو خاموشی اختیار کرتی تھی یا مختصر بیانیہ جاری کر دیتی تھی۔
4) یہ میزائل حملے معمول سے ہٹ کر دہشت گردانہ اقدامات کے بعد مختصر مدت میں ہی انجام پائے ہیں جبکہ اس سے پہلے اعلان کیا جاتا تھا کہ مناسب وقت اور جگہ پر جوابی کاروائی کی جائے گی۔
 
5) سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران نے اعلان کیا ہے کہ یہ انتقامی کاروائی صرف ایرانی شہریوں کے خلاف دہشت گردانہ اقدامات کیلئے انجام نہیں پائی بلکہ یہ شام، لبنان، فلسطین اور عراق کے اسلامی مزاحمتی کمانڈرز کی شہادت کے انتقام میں بھی انجام پائی ہے۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف اسلامی مزاحمتی محاذوں کے درمیان ایک اتحاد تشکیل پا چکا ہے اور یہ ایک نئی تبدیلی ہے۔ لبنان میں فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تنظیم حماس کے اعلی سطحی رہنما صالح العاروری کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی تھی۔ اسی طرح جنوبی لبنان میں حزب اللہ لبنان کے اعلی سطحی کمانڈر وسام الطویل اسرائیل کے ڈرون حملے میں شہید ہوئے تھے جبکہ عراق میں امریکہ کے دہشت گردانہ اقدام کے نتیجے میں اسلامی مزاحمتی گروہ النجباء کے اعلی سطحی کمانڈر ابوتقوی العراقی شہید ہو گئے تھے۔
 
مذکورہ بالا پانچ نکات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران براہ راست طور پر امریکہ اور خطے میں اس کے اتحادیوں کے خلاف میدان میں اتر آیا ہے اور شام اور عراق کے محاذوں کو بھی کھول دیا گیا ہے۔ لہذا ایران کا واضح اور براہ راست پیغام یہ ہے کہ وہ "مناسب جگہ اور وقت پر جواب دینے" کے مرحلے سے عبور کر چکا ہے اور دوسرے الفاظ میں یہ کہ اس کے بعد ایران کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آئے گا اور موجودہ حالات ہی اسرائیل یا امریکہ کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے مناسب وقت اور جگہ ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے خلاف براہ راست میدان جنگ میں آنے اور غزہ جنگ کو وسعت دینے کا فیصلہ کر چکا ہے۔
 
ہم اس وقت مشرق وسطی میں مختلف طاقتوں کے درمیان ٹکراو کے نئے مرحلے کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اسلامی مزاحمتی محاذ ان مراحل کو آگے لے جا رہا ہے اور اسٹریٹجک صبر اپنے اختتام کے قریب پہنچتا جا رہا ہے۔ اس نئے مرحلے کی علامات امریکہ اور اسرائیل کے ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملوں اور بحیرہ احمر میں مزید کشتیوں کو روکے جانے کی صورت میں یمن، جنوبی لبنان، شام اور عراق کے محاذوں پر جھڑپوں میں شدت کے طور پر قابل مشاہدہ ہے۔ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کا واشنگٹن اور تل ابیب کیلئے ایک طاقتور پیغام ہے۔ آیا وہ اس پر توجہ دیں گے اور اس سے اچھی طرح عبرت حاصل کریں گے یا اپنی حماقت جاری رکھیں گے اور آخرکار اس کا بہت بھاری تاوان ادا کریں گے؟

Read 100 times