﴿الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ﴾
یہ آیتِ کریمہ مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کرتی ہے کہ اب کفار تمہارے دین کے مقابلے میں مایوس ہو چکے ہیں؛ وہ اس قابل نہیں رہے کہ تمہارے دین کو نقصان پہنچا سکیں۔ تمہارے خارجی دشمن شکست کھا چکے ہیں اور اب ان کی جانب سے کوئی فوری خطرہ باقی نہیں رہا۔ تاہم قرآن اسی مقام پر ایک نہایت باریک نکتہ کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ آج، یعنی کامیابی کے دن، ایک اور خوف ضروری ہے—اور وہ ہے خدا کا خوف۔
مفسرینِ قرآن اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ یہاں خطرے کے ختم ہونے سے مراد صرف بیرونی دشمنی کا خاتمہ ہے، نہ کہ خطرے کا مکمل اختتام۔ اصل خطرہ اب اندر سے پیدا ہو سکتا ہے۔ آیت میں خدا سے ڈرنے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان خدا کے قانون سے خوف محسوس کرے؛ اس بات سے ڈرے کہ کہیں خدا اس کے ساتھ اپنے فضل کے بجائے عدل کے مطابق معاملہ نہ کرے۔
اسی مفہوم کی بازگشت امیرالمؤمنین علیؑ کی ماثور دعا میں سنائی دیتی ہے:
"اے وہ ذات کہ جس کے عدل کے سوا کسی اور چیز سے خوف نہیں کیا جاتا!"
ایک ایسا کامل عادلانہ نظام، جس میں ذرّہ برابر بھی ظلم کی گنجائش نہ ہو، انسان کو خوف زدہ کر دیتا ہے؛ اس اندیشے سے کہ کہیں اس سے کوئی لغزش سرزد نہ ہو جائے اور وہ سزا کا مستحق ٹھہرے۔
انقلابات اور داخلی اختلافات
دنیا کے اکثر انقلابات اور تحریکوں میں یہ منظر دہرایا جاتا ہے کہ مختلف انقلابی، آزادی پسند اور سیاسی فکر رکھنے والے افراد فرسودہ نظام کے خلاف متحد ہو جاتے ہیں۔ ایک مشترکہ دشمن اور ایک مشترکہ ہدف کی موجودگی ان کے باہمی اختلافات کو وقتی طور پر پس منظر میں دھکیل دیتی ہے۔ مگر فتح کے بعد، جب مشترکہ دشمن ختم ہو جاتا ہے، تو وہی اختلافات بتدریج سر اٹھانے لگتے ہیں۔
ایران کا اسلامی انقلاب—جو مؤرخین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق دنیا کے دیگر انقلابات سے نمایاں طور پر مختلف ہے—اس عمومی قاعدے سے کلیتاً مستثنیٰ نہیں، تاہم اس کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس انقلاب میں معاشرے کے مختلف طبقات، نظریات اور سیاسی کردار شامل تھے۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پہلوی حکومت کے خلاف متعدد گروہوں نے اپنے اپنے نظریاتی پس منظر کے ساتھ جدوجہد کی، مگر ان سب میں سب سے زیادہ منظم، عوامی اور روشن فکر تحریک وہ تھی جو علمائے دین، بالخصوص امام خمینیؒ کی قیادت میں اٹھی۔
منافقین کی پیدائش
امام خمینیؒ کی قیادت میں اٹھنے والی اسلامی تحریک میں جہاں علماء پیش پیش تھے، وہیں معاشرے کے دیگر طبقات اور گروہ بھی شاہی حکومت کی مخالفت میں شریک ہوئے۔ تاہم ان میں سے بعض گروہ نصف راستے میں ہی رک گئے اور فتح کے سورج کے طلوع کے منتظر ہو گئے، تاکہ انقلاب کی کامیابی کے بعد نئی ابھرتی ہوئی طاقت سے اپنے حصے کا مطالبہ کر سکیں۔
یہاں رہبرِ انقلاب امام خمینیؒ کی غیر معمولی بصیرت، حالات پر گہری نظر اور سیاسی ہوشیاری قابلِ تحسین ہے کہ انہوں نے ان گروہوں کے پوشیدہ عزائم کو بھانپ لیا اور انہیں عملی جامہ پہننے سے روک دیا۔ اسی مرحلے پر سازشوں کے طوفان نے جنم لیا اور نو تشکیل شدہ اسلامی نظام کی بنیادوں کو متزلزل کرنے کی کوششیں تیز ہو گئیں۔
فرقانی گروہ کا قیام
شاہی حکومت کے خاتمے کے بعد دراصل ان گروہوں کے مابین شدید اختلافات کا آغاز ہوا جو اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے انقلاب کا حصہ بنے تھے۔ وہ اس امید میں تھے کہ اسلامی انقلاب کی نئی سیاسی طاقت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی حریفوں پر غلبہ حاصل کریں گے۔ یہی سبب تھا کہ انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد بعض سیاسی گروہ اس تحریک سے دور ہونا شروع ہو گئے۔
ان میں سے کچھ گروہ تو انقلاب کی کامیابی سے پہلے ہی قیادت کے مخالف بن گئے تھے اور کامیابی کے بعد مسلح گروہوں کی صورت میں انقلاب کے خلاف سرگرم ہو گئے۔ ان میں سب سے نمایاں فرقانی گروہ تھا، جس نے 12 بہمن 1357ھ ش میں اپنا ہینڈ بل شائع کر کے یہ دعویٰ کیا کہ اسلامی انقلاب اپنے اصل راستے سے منحرف ہو چکا ہے۔
علمائے دین کی مخالفت
اس منحرف گروہ نے دینی تعلیمات سے دوری، کج فکری، انحرافی نظریات اور خوارجی طرزِ فکر کے تحت علماء دین کی مخالفت کو اپنا بنیادی ہدف بنایا۔ یہی وہ گروہ تھا جس نے انقلاب کی کامیابی کے بعد شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری اور شہید آیت اللہ ڈاکٹر مفتح جیسی عظیم علمی و فکری شخصیات کو شہید کیا۔
یہی عناصر بعد ازاں "منافقین" کے عنوان سے اسلامی انقلاب کے بدترین دشمن بن کر سامنے آئے اور نو تشکیل شدہ اسلامی نظام کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے لگے۔ ایران کے پہلے صدر بنی صدر کی منافقت آشکار ہونے اور اس کی برطرفی کے بعد، انہی منافقین نے مسلح بغاوت کا اعلان کیا۔ بنی صدر عوامی ردِعمل سے بچنے کے لیے انہی کے خفیہ مراکز میں پناہ لے کر رجوی کے ذریعے ملک سے فرار ہوا اور مغربی طاقتوں کی آغوش میں جا پناہ لی۔
نتیجہ
اسلامی انقلاب کی کامیابی محض خارجی دشمن کی شکست کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک نئے نظام کی تشکیل اور داخلی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کا مرحلہ بھی ہے۔ قرآن ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ بیرونی خطرات ختم ہو سکتے ہیں، مگر سب سے بڑا خطرہ اندرونی اختلافات، منافقت اور انسانی کمزوریوں سے جنم لیتا ہے۔
ایران کا اسلامی انقلاب اس حقیقت کی عملی مثال ہے کہ انقلاب کے آغاز میں اتحاد مضبوط ہوتا ہے، مگر کامیابی کے بعد ذاتی مفادات رکھنے والے عناصر نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جاتے ہیں۔ امام خمینیؒ کی بصیرت اور قیادت نے ان داخلی خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا اور اسلامی نظام کو استحکام بخشا۔
یہ تجربہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی کامیابی صرف دشمن کی شکست میں نہیں، بلکہ نظام کی اخلاقی، سیاسی اور عدالتی مضبوطی میں مضمر ہے۔
تحریر: عادل کھوسہ




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
