ان دنوں ایپسٹین کے ساتھی، بدنام جزیرے کی رسوائیوں اور اخلاقی گراوٹ کے عروج پر، ہر روز دھمکیاں دے رہے ہیں کہ انہوں نے بحری جہاز اور فوجی دستے اسلامی ایران کی طرف روانہ کر دیے ہیں اور تسلیم ہونیکا پیغام بھیج رہے ہیں۔ مگر یہاں ایک ایسی قوم کھڑی ہے جو اللہ تعالیٰ کی برتر قدرت پر کامل یقین رکھتی ہے۔ کیا حقیقت اس کے سوا کچھ اور ہے کہ جس خدا نے اصحابِ فیل کو ہلاک کیا تھا، وہ اصحابِ پیڈوفائل کو بھی ہلاک کر سکتا ہے؟۔
اس رمضان المبارک میں ہم قرآنی راستوں کے ذریعے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ زندگی کے طوفانوں اور نشیب و فراز میں پیچھے نہ رہ جائیں اور اپنے راستے پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ یہ وہ راستہ ہے جو انبیاء، شہداء اور اللہ کے صابر بندوں کے تجربات سے نکلا ہے۔ ایسے راستے جو ہمیں تمسخر، بہتان، دھمکی، فقر، تھکن، تنہائی اور وسوسوں کے مقابل ایمان کو برقرار رکھنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس یقین کے ساتھ کہ جس کے ساتھ خدا ہو، وہ کبھی شکست نہیں کھاتا۔
نصرت خداوندی کی جھلک:
1۔ "وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى" (انفال: 17)
(اے پیغمبر!) جب آپ نے دشمنوں کی طرف تیر پھینکا تو آپ نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا۔ ہر کامیابی اور ہر بڑا نتیجہ اگرچہ ہمارے ہاتھوں سے ظاہر ہوتا ہے، مگر حقیقت میں وہ اللہ کی قدرت اور ارادے سے تشکیل پاتا ہے۔ گرہیں کھولنے والا اور راستہ ہموار کرنے والا وہی ہے، ہم تو صرف وسیلہ ہیں۔
2۔ مردوں میں جان پھونکنے اور زندہ کرنیوالا خدا:
قرآن حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں فرماتا ہے کہ وہ اللہ کے اذن سے مردوں کو زندہ کرتے، مادرزاد اندھے کو بینا بناتے اور کوڑھی کو شفا دیتے تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ زندگی اور شفا کا سرچشمہ صرف اللہ کی قدرت ہے۔ ہر معجزہ اللہ کی طرف سے جاری ہوتا تھا اور حضرت عیسیٰؑ محض ایک واسطہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تین مرتبہ فرمایا: "بِإِذْنِي" یعنی "میرے حکم سے"۔ تاکہ کوئی یہ گمان نہ کرے کہ یہ طاقت حضرت عیسیٰؑ کی اپنی تھی۔ وہ تو ایک آئینہ تھے جس میں خدا کی قدرت کا نور جھلکتا تھا۔
3۔ عصا دریا پر لگا اور خدا نے سمندر چیر دیا:
"فَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنِ اضْرِب بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ فَانفَلَقَ..." موسیٰؑ کو وحی ہوئی کہ اپنے عصا سے سمندر پر ضرب لگاؤ۔ اللہ کے حکم سے پانی پھٹ گیا اور دونوں طرف پہاڑوں جیسے عظیم دیواریں کھڑی ہو گئیں۔ نہ موسیٰؑ کے بازو میں ایسی طاقت تھی، نہ عصا میں؛ یہ سب خدا کی قدرت تھی۔
4۔ ہم لڑتے ہیں، خدا دشمن کو پاش پاش کرتا ہے:
"قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ..." ان سے جنگ کرو، اللہ تمہارے ہاتھوں انہیں عذاب دے گا، رسوا کرے گا اور تمہیں فتح عطا کرے گا۔ ظاہر میں ہم لڑتے ہیں، مگر حقیقت میں ہاتھ اللہ کا ہوتا ہے جو ضرب لگاتا ہے۔
5۔ ابابیلوں اور طبس کی ریتوں کا خدا، خلیج فارس کا بھی خدا ہے:
.png)
ابرہہ کے لشکر کے ہاتھی کعبہ کو گرانے نکلے تھے، مگر اچانک عذابِ الٰہی نازل ہوا اور ننھے پرندوں نے کنکریاں برسا کر لشکر کو تباہ کر دیا۔ ہزاروں سال بعد تاریخ نے خود کو دہرایا۔ سن ۱۳۵۹ (1980) میں امریکی طیارے اور ہیلی کاپٹر طبس کے صحرا میں ایک خفیہ فوجی کارروائی کے لیے آئے، مگر اچانک اٹھنے والے ریت کے طوفان نے ان کی کارروائی ناکام بنا دی۔ یہ بھی اللہ کی مدد تھی۔

اسرائیل نے بھی تفرقہ ڈال کر اتحاد توڑنے کی کوشش کی، مگر اللہ کی مشیت نے اسی تفرقے کو اتحاد اور مزاحمت میں بدل دیا۔ دشمن سازش کرتا ہے، مگر خدا اس کی تدبیر الٹ دیتا ہے۔ آج بھی ایپسٹین کے ساتھی دھمکیاں دے رہے ہیں، مگر یہاں ایک ایسی قوم ہے جو اللہ کی برتری پر یقین رکھتی ہے۔ جس خدا نے اصحابِ فیل کو نابود کیا، وہ فساد کرنے والوں کو بھی نابود کر سکتا ہے۔
6۔ ارادہ ہمارا، اذن اس کا:
"وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ" ہم ارادہ کرتے ہیں، مگر وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہے۔ ہر کامیابی اس کے اذن سے ہوتی ہے۔ یہ یقین غرور کو توڑتا اور دل کو مطمئن کرتا ہے۔
رہبر انقلاب کی نظر میں: اے مادی دنیا! تمہارے حساب غلط ہیں
رہبر انقلاب نے فرمایا کہ "اے مادی دنیا! تمہارے حساب غلط ہیں۔ تم نے سمجھا کہ چونکہ ہمارے پاس بڑے ہتھیار نہیں، اس لیے ہم ہتھیار ڈال دیں گے؟ ہرگز نہیں۔ ہمارے پاس وہ قوت ہے جو انبیاء کو ظالموں پر غالب کرتی رہی ہے۔ ہمارے پاس توکل، صبر اور استقامت ہے۔"
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟:
ہمیں اپنی پوری کوشش کرنی ہے، مگر یہ جانتے ہوئے کہ برکت اور نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کامیابی پر تکبر نہ کرو، شکر ادا کرو۔ نفع ملے تو اسے اپنی ذہانت نہ سمجھو، خدا کی عطا سمجھو۔ اگر کسی کی مدد کرو تو جان لو کہ تم وسیلہ تھے۔ یہی سوچ انسان کو عاجزی سکھاتی ہے۔
وہ طریقہ جس سے علیؑ کے پیروکاروں نے دشمن کو جھکایا:
یہ اللہ کی مدد تھی کہ مومنوں کا اتحاد دشمن پر لرزہ طاری کر دیتا ہے۔ ہاتھوں کی دعائیں اور بند مٹھیاں ایک ہو جائیں تو دشمن گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔
سوشل میڈیا کا طوفان:
آج ہم سوشل میڈیا کے طوفان میں گھرے ہوئے ہیں۔ انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز ہمیں ایسی ثقافت دکھاتے ہیں جو نمائش کے لیے بنی ہے، حقیقت کے لیے نہیں۔
قرآن میں اقوام کے زوال کا نقشہ:
قرآن قوموں کے زوال کا نقشہ کھینچتا ہے، جب نعمتوں کی ناشکری اور اسراف بڑھتا ہے تو نعمت زحمت بن جاتی ہے۔ یہ آیات ہمارے لیے وارننگ ہیں۔
امریکہ کی آخری حکمت عملی:
آج دشمن کی حکمت عملی براہِ راست جنگ نہیں بلکہ اندرونی تفرقہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ میڈیا کے ذریعے ہمیں آپس میں لڑا دیں تاکہ ہم اصل خطرے کو نہ دیکھ سکیں



















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
