اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز، ایران کا اپنے مطالبات پر سخت مؤقف

Rate this item
(0 votes)
اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز، ایران کا اپنے مطالبات پر سخت مؤقف

 اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ بات چیت اسی صورت میں آگے بڑھے گی جب اس کے بنیادی مطالبات کو تسلیم کیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں وفد گزشتہ رات اسلام آباد پہنچا۔ وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، نیشنل ڈیفنس کونسل کے سربراہ علی اکبر احمدیان، قومی سلامتی سے متعلق اعلی عہدیدار علی باقری کنی، مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی اور نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی بھی شامل ہیں۔ وفد میں سکیورٹی، سیاسی، عسکری، اقتصادی اور قانونی ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں بھی ہیں۔

ایران نے مذاکرات کے لیے دس اہم شرائط پیش کی ہیں جن میں ایران کے خلاف جارحیت نہ کرنے کی ضمانت، آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو تسلیم کرنا، یورینیم افزودگی کے حق کو قبول کرنا، تمام ابتدائی اور ثانوی پابندیوں کا خاتمہ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور آئی اے ای اے کی قراردادوں کا خاتمہ، ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ، خطے سے امریکی فوجی انخلا اور مزاحمتی محاذوں کے خلاف جنگ کا خاتمہ شامل ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے تجربات اور امریکا کی جانب سے وعدہ خلافیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران اس عمل میں محتاط انداز اختیار کرے گا۔ ایران نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی ابھی مکمل طور پر نافذ نہیں ہوئی اور امریکا کو اسرائیل کو اس پر عملدرآمد کا پابند بنانا ہوگا۔

Read 23 times