ایران کے خلاف جارحیت میں امریکی فضائیہ کو بھاری جانی و مالی نقصان، امریکی کانگریس

Rate this item
(0 votes)
ایران کے خلاف جارحیت میں امریکی فضائیہ کو بھاری جانی و مالی نقصان، امریکی کانگریس

 امریکی کانگریس سے جاری ہونے والی دستاویزات اور مشرق وسطیٰ میں امریکی سینٹرل کمانڈ کی رپورٹس میں ایران کے خلاف کی گئی غیر قانونی امریکی-صہیونی جارحیت کے دوران امریکی فضائیہ کو پہنچنے والے نقصانات کے نئے اور افسوسناک پہلوؤں کو آشکار کر دیا ہے۔

ان سرکاری دستاویزات سے تصدیق ہوتی ہے کہ ایران کے خلاف اس غیر قانونی آپریشن میں مجموعی طور پر 42 طیارے (بشمول فکسڈ ونگ، روٹری ونگ اور ڈرونز) یا تو مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ میں یہ انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ انٹیلیجنس درجہ بندی، جاری جنگی سرگرمیوں اور دیگر پیچیدہ عوامل کی وجہ سے تباہ ہونے والے طیاروں کی یہ تعداد مستقبل میں مزید بڑھ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہونے والے نقصانات کی درجہ بندی کچھ یوں ہے:

ڈرونز اور نگرانی کے طیارے

امریکا نے ایران کے خلاف اس آپریشن میں 24 جدید ’ایم کیو-9 ریپر‘ (MQ-9 Reaper) ڈرونز کھو دیے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ’ایم کیو-4 سی ٹرائیٹن‘ (MQ-4C) ڈرون بھی ایک حادثے میں تباہ ہوچکا ہے۔

جنگی طیارے

4 ’ایف-15 ای سٹرائیک ایگل‘ (F-15E) طیارے ضائع ہوئے۔ ان میں سے 3 طیارے 2 مارچ 2026 کو کویت کی فضائی حدود میں اپنے ہی نظام کی غلطی (فرینڈلی فائر) کے باعث تباہ ہوئے۔ ایک اور ایف-15 طیارہ 5 اپریل کو ایران کے خلاف جنگی کارروائی کے دوران مار گرایا گیا۔ مزید برآں، ایک ’ایف-35 اے‘ (F-35A) کو 19 مارچ کو ایران کے دفاعی نظام نے شدید نقصان پہنچایا، اور ایک ’اے-10 تھنڈربولٹ‘ (A-10) طیارہ بھی ایران کی فائرنگ سے تباہ ہوا۔

سپورٹ اور ری فیولنگ کا عملہ

سات ’کے سی-135‘ (KC-135) ٹینکر طیارے حادثات کا شکار ہوئے۔ 12 مارچ کو دو ٹینکرز کو فضائی حدود میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس میں سے ایک عراق میں گر کر تباہ ہوا اور اس میں سوار تمام 6 اہلکار ہلاک ہوگئے، جبکہ دوسرے کو ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔ باقی 5 طیارے سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس پر ایران کے موثر میزائل اور ڈرون حملے میں تباہ ہوئے۔ اسی حملے میں ایک ’ای-3 سینٹری‘ (AWACS) طیارہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔

خصوصی آپریشنز

5 اپریل کو گرائے گئے ایک ایف-15 طیارے کے عملے کو بچانے کے لیے بھیجے گئے 2 ’ایم سی-130 جے‘ (MC-130J) طیارے، اپنی پرواز جاری رکھنے کے قابل نہ رہنے پر ایران کے اندر ہی تباہ کر دیے گئے۔ اسی آپریشن کے دوران ایک ’ایچ ایچ-60 ڈبلیو‘ (HH-60W) ہیلی کاپٹر بھی زمینی فائرنگ سے شدید متاثر ہوا۔

ایران کے خلاف جارحانہ مہم امریکی فضائیہ کے لیے تاریخ کی سنگین ترین ناکامیوں میں سے ایک ثابت ہوئی ہے۔ امریکی کانگریس کے ان انکشافات نے اس جنگ کی کامیابی کے دعووں پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں اور نقصانات کی وسعت نے واشنگٹن کی عسکری حکمت عملی کی ناکامی کو عالمی سطح پر عیاں کر دیا ہے۔

Read 2 times