دورِ حاضر میں اگر دعائے عرفہ کے فکری نظریات اور کربلا کے انقلابی اصولوں کی کوئی زندہ، مجسم اور عملی مثال دیکھنی ہو، تو وہ رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی قیادت، بصیرت اور ان کی دہائیوں پر محیط مسلسل جدوجہد ہے۔ رہبرِ معظم کی قیادت نے یہ ثابت کیا ہے کہ دعائے عرفہ کی توحید اور کربلا کا سرفروشانہ جذبہ صرف کتابوں کی زینت نہیں، بلکہ ان کے ذریعے دنیا کی سپر پاورز کے سامنے نہ صرف ڈٹا جا سکتا ہے، بلکہ دنیا بھر کے کچلے ہوئے طبقات (مستضعفین) کو بیدار بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کے اس طویل اور بابرکت دورِ قیادت سے چند اہم ترین پہلو درج ذیل ہیں جو براہِ راست پیغامِ کربلا اور دعائے عرفہ کی عکاسی کرتے ہیں:
1۔ توکل اور بے خوفی (عرفانی و ملکوتی طاقت)
دعائے عرفہ کا جوہر یہ ہے کہ انسان کا دل خدا کی عظمت سے ایسا بھر جائے کہ دنیا کے فرعون اس کی نظر میں مچھر کے پر کے برابر بھی نہ رہیں۔ رہبرِ معظم نے اپنے پورے دورِ قیادت میں، عالمی استعمار (امریکہ اور اس کے حواریوں) کی تمام تر اقتصادی، فوجی اور نفسیاتی جنگ کے باوجود، کبھی خوف یا پسپائی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کا یہ محکم موقف دراصل اسی "توکلِ حسینی" کا تسلسل ہے جو انہوں نے کربلا سے سیکھا۔
2۔ مستضعفینِ جہاں کی عالمی بیداری اور اتحاد
امام حسین علیہ السلام کا مقصد کسی ایک خطے کی اصلاح نہیں تھا، بلکہ وہ پوری انسانیت کے نجات دہندہ ہیں۔ اسی طرح، رہبرِ معظم نے اپنی قیادت کو صرف ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے فلسطین، لبنان، یمن، کشمیر اور افریقہ سمیت دنیا کے ہر کونے میں موجود مظلوم اور مستضعف انسان کی کھل کر حمایت کی۔ انہوں نے بکھرے ہوئے محروم طبقات کو ملا کر "محورِ مقاومت" (Axis of Resistance) تشکیل دیا، جس نے عالمی طاقتوں کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ آج دنیا کا غریب اور مظلوم انسان یہ جانتا ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا لیڈر موجود ہے جو بلا خوف و تردید اس کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے۔
3۔ معاشی خود انحصاری اور عزتِ نفس (ہیہات منا الذلۃ)
جیسا کہ کربلا کا درس ہے کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے، رہبرِ معظم نے شدید ترین عالمی پابندیوں کے باوجود اپنے ملک اور قوم کو جھکنے نہیں دیا۔ انہوں نے "اقتصادِ مزاحمتی" (Resistance Economy) اور علمی و ٹیکنالوجیکل خود انحصاری کا نظریہ پیش کیا۔ مستضعفین کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ اگر تمہارے پاس ایمان، علم اور عزم ہو، تو تم اقتصادی محاصرے کو بھی اپنی کامیابی میں بدل سکتے ہو اور استعمار کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے بچ سکتے ہو۔
4۔ بصیرت اور شجاعت کا امتزاج
دعائے عرفہ انسان کو بصیرت (اندرونی آنکھ) دیتی ہے اور کربلا شجاعت عطا کرتی ہے۔ رہبرِ معظم کی 47 سالہ علمی، سیاسی اور انقلابی جدوجہد (چاہے وہ قبل از انقلاب کے ایام ہوں، دورانِ جنگ فرنٹ لائن پر ان کی موجودگی ہو، یا بعد میں رہبری کا کٹھن سفر) اس بات کی گواہ ہے کہ وہ وقت کے یزیدی ہتھکنڈوں اور ان کی چالوں کو نہ صرف خوب سمجھتے ہیں، بلکہ ان کا دندان شکن جواب بھی دیتے ہیں۔
اگر امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے انقلابِ اسلامی کی بنیاد رکھ کر مستضعفین کو ایک نئی زندگی دی تھی، تو رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای نے اس شمع کو نہ صرف روشن رکھا بلکہ اس کی روشنی کو پوری دنیا میں پھیلا دیا۔ آج غاصب صیہونی نظام اور استعماری قوتوں کے خلاف جو بیداری ہم عالمی سطح پر دیکھ رہے ہیں، وہ اسی حسینی اور کربلائی فکر کی مرہونِ منت ہے جسے رہبرِ معظم نے اپنے عمل، تقاریر اور فیصلوں سے دنیا بھر کے مستضعفین کے دلوں میں راسخ کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر رہبر باایمان اور باصیرت ہو، تو کربلا کا کارواں کبھی رک نہیں سکتا۔
تحریر: سید آل حسنین




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
