سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان جنرل محبی نے کہا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ جنگ میں دشمن شکست سے دوچار ہوا ہے، تاہم وہ اس شکست کا اعتراف کرنے اور اسے قبول کرنے کی جرأت نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی شکست کو مختلف پہلوؤں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک پہلو یہ ہے کہ امریکہ اپنے پیشگی طے شدہ اہداف حاصل نہیں کرسکا، جبکہ اس سے بھی اہم پہلو امریکی اسٹریٹجک شکست ہے، جو تاریخی اور غیر معمولی نوعیت کی حامل ہے۔
جنگ کے نئے مرحلے یا اسی جنگ کے تسلسل سے متعلق سوال کے جواب میں جنرل محبی نے کہا کہ سپاہ پاسداران کے نقطہ نظر سے یہ وہی جنگ ہے جس کے مختلف مراحل ہیں۔ جنگ ختم نہیں ہوئی بلکہ جاری ہے اور سپاہ پاسداران نے طویل المدت جنگ کے لیے خود کو تیار کر رکھا ہے۔ اگر مستقبل میں دوبارہ حملوں میں شدت آتی ہے تو سپاہ دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہوگی۔
امریکی اندازوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے ایرانی عوام اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مزاحمت کا درست اندازہ نہیں لگایا تھا اور اسے توقع تھی کہ چند روز میں ایران تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا۔ صہیونی قیادت کی جانب سے بھی امریکی حکام کو یہی تاثر دیا گیا تھا کہ ایران چند روز میں شکست تسلیم کر لے گا۔
جنرل محبی کے مطابق امریکہ ایرانی میزائلوں کی رینج، تباہ کن صلاحیت، درستگی، ریڈار سے بچنے کی صلاحیت اور ایران کے میزائلوں و ڈرونز کے تنوع سے بھی حیران ہوا اور خود کو ایسی صورتحال میں پایا جہاں اس کے لیے آگے کنواں پیچھے کھائی کی صورتحال تھی۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
