فرانس نے احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے 70 ہزار اہلکار تعینات کر دیے

Rate this item
(0 votes)
فرانس نے احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے 70 ہزار اہلکار تعینات کر دیے

- فرانس کی وزارت داخلہ نے پیرس اور ملک کے دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہروں کی نئی لہر سے پہلے 70 ہزار پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے اور تشدد کے امکان، راستوں کی بندش اور عوامی املاک کو نقصان پہنچائے جانے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق فرانس کی حکومت سنیچر کے روز ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اور سیکورٹی اہلکار تعینات کر رہی ہے تاکہ احتجاجی مظاہروں کی نئی لہر سے نمٹا جا سکے۔ حکام نے غیر قانونی اجتماعات کے دوران تشدد، ٹریفک جام اور عوامی املاک کو نقصان پہنچائے جانے کے امکان کی طرف سے خبردار کیا ہے۔

فرانس کے وزیر داخلہ لوران نونیز نے جمعے کے روز ایک پریس کانفرنس میں نئے حفاظتی اقدامات کا اعلان کیا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے سنیچر کے روز جاری کردہ بیان کے مطابق احتجاجی مظاہروں کی متعدد اپیلیں کسی باضابطہ قیادت یا مزدور یونینوں کی نگرانی کے بغیر جمع کرائی گئی ہیں اور ان میں سے بعض اپیلوں کے ساتھ سوشل میڈیا پر تشدد اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کی دعوتیں بھی دی گئی ہیں۔

اسی تناظر میں فرانسیسی حکام نے بعض شہری مراکز میں اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے اور اجازت یافتہ احتجاجی مظاہروں کے منتظمین سے بھی کہا ہے کہ وہ جلوسوں کے لیے متبادل راستے منتخب کریں۔

پورے فرانس میں وسیع پیمانے پر حفاظتی کارروائیوں کے تحت موبائل فورسز کے 110 یونٹ، 25 بکتر بند گاڑیاں، واٹر کینن، ہیلی کاپٹر اور ڈرون تعینات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ پولیس سڑکوں، ریلوے لائنوں اور اسٹیشنوں پر تلاشی لے گی تاکہ ایسی خطرناک اشیاء ضبط کی جا سکیں جنھیں ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

روزنامہ لوموند نے رپورٹ دی ہے کہ فرانس کے مختلف علاقوں میں متعدد اجتماعات منعقد ہونے والے ہیں۔ پیرس میں بھی طلبہ گروپوں اور مزدور یونینوں نے ڈیموکریسی اسکوائر سے نیشن اسکوائر تک مارچ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ یلو ویسٹ تحریک نے بھی الگ سے کنکورڈ اسکوائر میں اجتماع منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

فرانس کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پُرامن اجتماعات کی حمایت کرے گی تاہم ہنگامہ آرائی کرنے والوں اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور انھیں گرفتار کیا جائے گا۔ حالیہ ہفتوں کے دوران فرانس کے مختلف علاقوں میں طلبہ کے احتجاجی مظاہروں میں اضافہ ہوا ہے۔ مظاہرین نے اسکولوں کے داخلی راستے بند کر کے تعلیمی صورت حال اور سہولتوں اور وسائل کی کمی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

یہ احتجاج 5 نومبر کو ملک گیر احتجاجی اقدام کے ایک حصے کے طور پر کیے گئے تھے۔ فرانس کی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 193 احتجاجی اجتماعات میں 5 لاکھ 75 ہزار افراد نے شرکت کی۔ ان میں سے 65 ہزار افراد پیرس کی سڑکوں پر نکلے۔

Read 2 times