سوره مبارکه احزاب کی ابتدائی ایات کی تفسیر

Rate this item
(1 Vote)

سوره مبارکه احزاب کی ابتدائی ایات کی تفسیر

ایران کے نامور عالم دین حضرت آیت‌ الله عبد الله جوادی آملی نے اپنے تفسیر کے درس میں جو مسجد اعظم قم حرم مطھر حضرت معصومہ قم میں منعقد ہوا سوره مبارکه احزاب کی ابتدائی ایات کی تفسیر میں کہا: سوره مبارکه احزاب مدینہ میں نازل ہوئی اور اس سورہ کا اھم محور اسلامی حکومت اور مسلمانوں کے سیاسی مسائل ہیں ۔

نظام اسلامی کی تاسیس و تبیین ، اسلامی فوج اور اسلامی معیشت و اقتصاد کا مرکز مدنی سورہ میں بیان کیا گیا ہے ، سوره مبارکه احزاب میں مرجوفون کا تذکرہ ہے ، مرجوفون وہ لوگ ہیں جو رجفہ دار، لرزه دار اور خرافات معاشرہ تک منتقل کیا کرتے تھے ، بے بنیاد خبریں معاشرہ میں اضطراب کا سبب ہیں ۔

سوره احزاب میں پانچ دفعہ «یَا أَیُّهَا النَّبِیُّ» آیا ہے جو خاص اھمیت کا حامل ہے ، اس سورہ میں کبھی فوجی مسائل کا تذکرہ ہے تو کبھی خانوادہ کے مسائل کا بیان ہے جو ائندہ بہت ساری مشکلات کی جڑ بن سکتا ہے وگرنہ بذات خود خانوادہ کے مسائل اس سطح پر نہیں ہیں کہ ان کا بیان کیا جائے ۔

ایت «یَا نِسَاءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ» یہ اس بات کی بیان گر ہے کہ گھرانہ کی مشکلات پورے معاشرہ پر اثر انداز ہے ، یا یوں فرمایا : «وَقَرْنَ فِی بُیُوتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْأُولَىٰ» جیسا کہ جنگ جمل کی بنیاد بھی گھر میں پڑی ۔

انہوں نے ایت «یَا أَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللَّـهَ وَلَا تُطِعِ الْکَافِرِینَ وَالْمُنَافِقِین إِنَّ اللَّـهَ کَانَ عَلِیمًا حَکِیمًا» کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اگاہ رہیں کہ حکومت کی تشکیل و تاسیس آسان کام نہیں ہے ، ایت میں «یَا أَیُّهَا» ندا انسانوں کو متوجہ کرنے کے لئے یا غفلت سے باہر نکالنے کے لئے اور یا مسائل کی اھمیت کو بیان کرنے کے لئے ہے ، یا ایها النبی بھی موضوع کی اھمیت کا بیان گر ہے ، خداوند متعال نے قران کریم میں کہیں بھی مرسل اعظم کو ان کے نام سے خطاب نہیں کیا ، اور اگر سوری ال عمران اور فتح میں اپ کو اپ کے نام سے یاد کیا گیا تو وہ اس لئے کہ لوگ جان لیں کہ حضرت کے پاس رسول الله یا نبی الله کا عھدہ بھی موجود ہے ، ان سوروں میں خداوند متعال یہ بیان کرنا چاھتا ہے کہ اپ کا ایک منصب ہے جو خدا کی رسالت ہے ، خدا نے جس طرح دیگر انبیاء کو ان کے نام سے یاد کیا رسول اسلام کو یاد نہیں کیا ، جو خود ھمارے لئے بھی درس ہے کہ رسول اسلام کا احترام کریں ۔

قران کریم کے نامور مفسر نے یاد دہانی کی : خداوند متعال نے سورہ احزاب کی ابتدائی ایتوں میں پیغمبراسلام سے خطاب میں کہا کہ اے نبی اپنے اھم وظائف کے پیش نظر خدا کا تقوی اختیار کریں ، کیوں کہ ان وظائف کی انجام دہی بغیر تقوی الھی کے ممکن نہیں ، جنگ ، خون ریزی ، اسیری ، اصحاب کی شھادت اپ کے روبرو ہے ، اپ اس راہ میں اپ کے عزیز مارے جائیں گے اور اپ کو ذیت و ازار کا سامنا ہوگا تقوے کے بغیر اس راستہ کو طے کرنا ناممکن ہے ۔

انہوں نے مزید کہا: اگر پیغمبر اسلام معاشرہ کی تعمیر میں معمولی طور و طریقہ اپنائیں تو کام نہایت دشوار ہوگا لھذا ضروری ہے کہ تقوی الھی ساتھ ساتھ رہے ، حضرت ابراهیم(ع) و اسماعیل(ع) نے کعبہ کی تعمیر کی اور ایک مدت کے بعد یہی کعبہ بت کدہ ہوگیا ، لوگوں نے کعبہ میں بت رکھدیئے مگر پیغمبر اسلام نے ایک بار بھی ان بتوں کو برا بھلا نہیں کہا انہیں گالیاں نہیں دیں بلکہ کہا کہ یہ کچھ بھی نہیں کرسکتے ، اگر اپ بھی چین و سکون کی زندگی بسر کرنا چاھتے ہیں اور کفریہ فتوی سے روبرو نہیں ہونا چاھتے ، میانمار ، بنگلادیش اور دنیا کے دیگر کونے میں بے رحمانہ قتل عام نہیں دیکھنا چاھتے تو پیغمبر اسلام کی سیرت پر عمل کریں ، پیغمبر کے راستہ پرچلیں اور دشمنوں کو گالیاں دینے اور برا بھلا کہنے سے پرھیز کریں ۔

آیت ‌الله جوادی آملی نے تولی و تبرا کو یکجا کرنا اور مسلمانوں کے خون کی حفاظت اسلامی اصول میں سے شمار کیا اور کہا: پیغمبر اسلام نے تقوے الھی کے ذریعہ معاشرہ کا ادارہ کیا ، کیوں کہ اگر گالیاں دیں گے تو گالیاں سنیں گے ، گالیوں کے ذریعہ مشکلات کا خاتمہ نہیں ہوسکتا ، ، اگر کفر بولیں گے تو کفر سے روبرو ہوں گے ۔

انہوں نے مزید کہا: پیغمبر اسلام کے راستہ کی حافظت ، دلیلوں کے قیام اور استدلال کی ذریعہ قدم اگے بڑھائیں ، قران نے پیغمبر اسلام سے کہا کہ کفار و منافقین کمین کئے بیٹھیں ہیں ، مرجفون خرافاتیں پھیلاتے ہیں ، لھذا اپ تقوا اختیار کریں ، کبھی لوگ تجویز پیش کرتے ہیں جس پر انسان غور کرتا ہے مگر کبھی لوگ سامراجی انداز اپناتے ہیں پیغمبر اسلام کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا ، پیغمبر کسی کی باتوں کی اطاعت نہیں کرسکتا ، اگر کوئی پیغمبر پر اپنی بات کی تحمیل کرنا چاھے تو وہ کافر ہے ۔

Read 2849 times

Add comment


Security code
Refresh