شفاعت کے بارے میں اھل سنت و الجماعت علماء کا نظریہ کیا ہے؟

Rate this item
(0 votes)
شفاعت کے بارے  میں اھل سنت و الجماعت علماء کا نظریہ کیا ہے؟

 

شھر سنندج کی شورای افتاء اور شورائے علماء کا نظریہ: قرآن شفاعت کا قائل ہے ، اور اس کا انکار کرنا کفر ہے۔

شھر عسلویہ کے اھل سنت امام جمعہ  شیخ ابراھیم محمدی:  شفاعت ایک مذھبی اور مشروع امر ہے اور قیامت کے دن خدا نے جن کو  شفاعت کرنے کی اجازت دی ہیں وہ شفاعت کریں گے ، اور صرف جنھیں خدا چاھے گا شفاعت کر سکیں گے ، اس کی دلیل خداوند متعال کا یہ قول ہے : " ولا یشفعون الا لمن ارتضی"

شھر کنگان کے اھل سنت امام جمعہ شیخ محمد جمالی: خدا نے قرآن میں شفاعت کے بارے میں گفتگو کی ہے(من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ) ، شفاعت خدا کے اذن سے ہے ، خدا جسے بھی اجازت دے گا وہ شفاعت کرسکتے ہیں۔

 شھر نخل تقی کے اھل سنت امام جماعت شیخ عبد الستار حرمی : ایک شخص سے دنیوی امور میں شفاعت طلب کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ قیامت کے دن شفاعت کرنے کے کچھ شروط ہیں : یہ خدا کے اذن سے ہونا چاھیئے۔ خدا شفاعت کرنے والے کو اجازت دے، جس کے بارے شفاعت ہوگی خدا اس سے راضی ہونا چاہیئے ،  علماء  ، اولیاء اور شھداء شفاعت کریں گے۔

اھل سنت کے دینی مدارس کے شورائے تدریس کے ممبر اور شورائے علماء اور شورائے افتاء  کے نائب صدر شیخ خلیل افراء:

 خلیل بن احمد فراھیدی ( متوفی ۱۵۰ ھ) نے اپنی کتاب العین میں بیان کیا ہے: شافع اس کو کہتے ہیں جو اپنے غیر سے شفاعت طلب کرے، اور جو طلب شفاعت کرتا ہے اس کو شفیع کہتے ہیں۔  قاضی ایاض کہتے ہیں : اھل سنت شفاعت کو عقلی طور پر جائز اور شرعی طور پر واجب جانتے ہیں۔ اس کے واجب ہونے کی دلیل سورہ طہ کی آیہ ۱۰۹ ہے۔ جس میں ارشاد ہوتا ہے جس میں ارشاد ہے: "اس دن کسی کی سفارش کام نہ آئے گی سوائے ان کے جنہیں خدا نے اجازت دے دی ہو اور وہ ان کی بات سے راضی ہو" اور سورہ انبیاء آیت نمبر ۲۸ میں ارشاد ہے: "وہ ان کے سامنے اور ان کے پس پشت کی تمام باتوں کو جانتا ہے اور فرشتے کسی کی سفارش بھی نہیں کرسکتے مگر یہ کہ خدا اس کو پسند کرے اور وہ اس کے خوف سے برابر لرزتے رہتے ہیں"

بہت سی روایات میں جن کی تعداد حد تواتر تک پہنچتی ہے، وہ قیامت کے دن گنھکار مومنوں کی شفاعت کو صحیح جانتے ہیں۔ اھل سنت کے سبھی علماء گذشتہ سے لیکر آج تک شفاعت کے صحیح ہونے پر اجماع رکھتے ہیں۔ اس طرح اھل سنت متکلمین کے پاس شفاعت کی تعریف کی مفصل بحث کی گئی ہیں ، ان متکلمین میں ابو حفص نسفی (متوفی ۵۳۸ ھ )  نے اپنی مشہور کتاب المقلۃ النسفیۃ میں فرماتے ہیں: بہت سی روایات سے پیغمبروں اور خدا کے خالص بندوں سے امت کے اھل کبائر کے لئے شفاعت طلب کرنا،  ثابت ہوتا ہے۔

شھر بابا جانی کے امام جمعہ ماموستا ملا احمد شیخی : شفاعت خدا کے اذن سے مشروط ہے اور جس سے خدا راضی ہو ، یعنی شفاعت ثابت ہے لیکن خدا کی اجازت اور ان لوگوں کے لئے جو خدا کے مورد نظر ہیں۔

شھر سر پل ذھاب کے امام جمعہ ماموستا ملا رشید ثنائی : سب مسلمان پیغمبر اکرم (ص) ، شھدا، علماء کی شفاعت پر باذن پروردگار یقین رکھتے ہیں۔

پاوہ شھر کے تحصیل نوسود کے امام جمعہ ماموستا حسین عینی : سب ادیان میں شفاعت کا عقیدہ موجود ہے، پیغمبر (ص) شھداء اور صالح افراد شفاعت کرسکتے ہیں۔

مدرسہ مولوی یاری کے پرنسپل ماموستا محمد محمدی : عقیدہ اھل سنت میں شفاعت صحیح  اور مورد قبول ہے قرآن مجید ، صحیح احادیث میں شفاعت کی بحث ثابت ہے، ہم سب یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ پیغمبر، شھداء ، علماء اوراولیاء اللہ شفاعت کریں گے۔

 قصر شیرین کے مسجد النبی (ص) کے امام جماعت ماموستا ملا عادل غلامی :

اھل سنت علماء کے نزدیک شفاعت پیغمبر اکرم (ص) کے اس قول کے مطابق : "عم شفاعتی لاھل الکبائر من امتی " ( میری امت کے اھل کبائر ( گناھگاروں) کو میری شفاعت شامل ہوگی) ثابت ہے۔ البتہ جو لوگ شفاعت کے قایل نہیں ہیں  وہ کفار کے بارے میں نازل شدہ آیات جس میں شفاعت کی نفی کی گئی ہے کو مسلمانوں پر منطبق کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر"ما للظالمین من حمیم و ولا شفیع یطاع "یہ آیت کافروں اور ظالموں کے بارے میں نازل ہوئی ہے نہ کہ مسلمانوں کے بارے میں ۔

 روانسر کے امام جمعہ ماموستا ملا عبدا للہ غفوری: شفاعت کا موجود ہونا بہت سےقرآنی آیات اور رسول اکرم ﴿ص﴾ کی سنت  سے ثابت ہے۔ ً من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ  شفاعت کو نقلا اور عقلا ثابت کرتا ہے شفاعت عظمی اور کبری آنحضرت ﴿ص﴾ سے مخصوص ہے اس کے بعد اولیاء ، شھداء، علماء اور صالحین شفاعت کرسکتے ہیں۔

شھر باغلق کے امام جمعہ آخوند رحیم بردی صمدی: شفاعت نا قابل انکار ہے اس کو پیغمبر اکرم(ص)  نے اپنی روایات میں بیان کیا ہے" شفاعتی لاھل الکباءر من امتی ۔

خلیل آباد خواف کے مولوی نور اللہ فرقانی: اھل سنت کی نظر میں شفاعت مورد قبول ہے۔ اور روز جزا کے شفیع پیغمبر اکرم ﴿ص) قرآن مجید ، صالح اور حافظ قرآن ہوں گے۔

تربت جام کے امام جمعہ مولوی شرف الدین جامی الاحمدی :

شفاعت کے موضوع کو خدا نے قرآن میں بیان کیا ہے، شھدا ، بچے اپنے والدین ، پیغمبر و ۔ ۔ ۔  سب شفاعت کرسکتے ہیں، لیکن اھم نکتہ یہ ہے کہ یہ سب شفاعت باذن خدا واقع ہوں گی اور کوٴی بھی حتی پیغمبر بھی بغیر اذن خدا کے شفاعت نہیں کرسکتے ہیں۔

سمیع آباد کے امام جمعہ مولوی امان اللہ برزگر :  انبیاء،صالحین ،شھداء اور ائمہ شفاعت کرسکتے ہیں آیة الکرسی میں اس مسلے کو بیان کیا گیا ہے، اور خدا نے اس کا وعدہ  دیا ہے۔

Read 278 times

Add comment


Security code
Refresh