نذر کے بارے میں اھل سنت کے علماء کا نظریہ کیا ہے؟

Rate this item
(0 votes)
نذر کے بارے میں اھل سنت کے علماء کا نظریہ کیا ہے؟

سنندج کے شورائے علماء اور شورائے افتاء :   اگر نذر میں خدا کی معصیت نہ ہو بلکہ اس میں خداوند متعال سے تقرب حاصل کرنا مراد ہو تونذر صحیح ہے اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔

عسلویہ کے امام جمعہ شیخ ابراھیم محمدی: نذر ایک شرعی اور عملی مسئلہ ہے یہ ایک لحاظ سے انسان کے عقیدے سے بھی متعلق ہے ۔ اور وہ یہ کہ کیا ایک مرے ہوئے شخص کے لئے نذر کرنا جائز ہے یا نہیں؟ مرے ہوئے شخص کے لئے نذر کرنا جائز نہیں ہے لیکن خداوند متعال کے لئے نذرکرنا جائز ہے،اگر نذر مباح ہو اور اگر اس میں سزا ہو تو مکروہ ہے۔ اور اگرنذر  معصیت ہو تو وہ حرام ہے۔

کنگان کے امام جمعہ شیخ جمالی:نذر اگر خداوند متعال کے لئے ہو جائز ہے اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔

نخل تقی کے اھل سنت امام جمعہ شیخ عبد الستار حرمی : معصیت میں نذر کرنا جائز نہیں ہے۔ مشروط نذر کرنا مکروہ ہے لیکن اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر یوں کہے اگر میرے بیمار کو شفا ملی، میں فلان کام انجام دوں گا ۔ غیر مشروط نذر کرنا جائزہے۔

اھل سنت کے دینی مدارس کے درسی کتابوں کے ممبرِشوری ، شورای اھل سنت علماء کے نائب چیئرمین اور شورای افتاء کے سرپرست شیخ خلیل افراء:بعض کے نزدیک نذر کے لغوی معنی کسی کام کے لئے  تیار ہونے کے ہیں۔ اور بعض دوسروں کے نزدیک خیر یا شر کے بارے میں وعدہ کرنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں نذر کے معنی کسی کام کو اپنے اوپر واجب کرنے  کے ہیں۔ یوں کہ اگر وہ نذر نہیں کرتا تو اس پر واجب نہیں تھا۔ ، نذر کے بارے میں قرآنی آیات اور سنت میں احادیث بھی بیان کی گئی ہے۔ خداوند متعال کا ارشاد ہے۔ "و لیوفوا نذورھم " یعنی اپنے نذر پر عمل کرو ۔ (سورہ حج ) حضرت رسول اکرم (ص) نے نذر کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے: من نذر ان یطیع للہ فلیطیعہ و من نذر ان یعصی اللہ لا یعصیہ "  جس نے نذر کی کہ خدا کی اطاعت کرے تو وہ اس پر عمل کرے ، اور جس نے بھی نذر کی کہ خدا  کی معصیت کرے تو اس پر عمل نہیں کرنا چاھیئے۔

نذر کے تین ارکان ہیں:

          ا۔ ناذر ( نذر کرنے والا)         ۲۔ منذور ( یعنی جو چیز نذر کی ہے)           ۳۔ نذر کا صیغہ  نذر للہ ( للہ علی او جعلت ھذا الفقراء ) یعنی میں نے نذر کی ہے کہ ایک سو روپیہ کو فقرا میں تقسیم کروں گا ۔ تو اس سے اس پر عمل کرنا چاھیئے۔

شھر باباجانی کے امام جمعہ ماموستا ملا احمد شیخی:

نذر کے معنی یہ ہیں کہ کوئی نذر کرے کہ اگر اس کی حاجت پوری ہوجائے تو وہ نماز اور روزے یا اور کوئی اور کام انجام دے گا۔ یا کوئی اپنے اوپر اعتکاف میں بیٹھنا یا کوئی نیک کام کرنے کی نذر کرے۔

 سرپل ذھاب کے امام جمعہ ماموستا ملا رشید:

اسلام میں جوبھی کوئی چیز  نذر کرے تو اس پر اس کام کا انجام دینا واجب ہے۔

شھر پاوہ کے تحصیل نوسود کے امام جمعہ ماموستا حسین عینی

اھل سنت کے نظریہ کے مطابق نذر کرنا صحیح ہے۔

مدرسہ مولوی یاری کے پرنسپل ماموستا محمد محمدی یاری:

اھل سنت کے نظریہ کے مطابق نذر کرنا صحیح ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ معصیت کرنے کے سلسلے میں نہ ہو۔

قصر شیرین کے مسجد النبی (ص) کے امام جماعت ماموستا ملا عادل غلامی:اھل سنت کی نظر میں نذر کرنا جائز ہے۔ اور جس نے بھی اپنے اوپر نذر کی ہو  اس پر عمل کرے ، خدا کےلیے نیت کرے ، اس کا ثواب مردہ شخص اور جس نے بھی نیت کی ہے ہدیہ کرے  اور اس کے فوائد لوگوں کو پہنچائے ۔ مثال کے طورپر اگر کوئی بھیڑ نذر کرے اور خدا کے لئے اس کے ثواب ، قصد کرنے والے کو ہدیہ کرے اور اس کے گوشت کو فقراء اور مساکین کے درمیان تقسیم کرے ۔

روانسر کے امام جمعہ ماموستا ملا عبد اللہ غفوری :فقہ اھل سنت میں لجاج نذر متروک ہے۔ لیکن نذر تبرر مباح اور واجب ہے ، مثال کے طورپر کوئی یہ قصد کرے کہ اگر اس کے بیٹے کو بیماری سے شفا حاصل ہوئی اور اس کی بیٹی کی شادی اچھی طرح سے انجام پائی اور وہ ہر طرح کے مشکلات سے محفوظ رہے۔ تو وہ کوئی نیک کام انجام دے گا جیسے، تلاوت قرآن مجید اور اذکار پڑھے اور احسان اور صدقات انجام دے گا، ہاں معصیت کے بارے میں نذر کرنا صحیح نہیں ہے

 

Read 151 times

Add comment


Security code
Refresh