قرآن میں رحمت الہی کے دو پہلو

Rate this item
(0 votes)
قرآن میں رحمت الہی کے دو پہلو

ایکنا نیوز- سوره حمد قرآن کی پہلی سورت ہے جس کو «مادر قرآن» بھی کہا گیا ہے اور اس سورے کو قرآن کی عظیم ترین اور شریف ترین سورتوں میں سرفہرست قرار دیا گیا ہے کیونکہ آیت ۸۷ سوره حِجر میں اس کو قرآن کے برابر قرار دیتا ہے اور نماز میں اس سورت کا پڑھنا لازمی ہے اور اس کی جگہ کسی اور سورت کو نہیں پڑھ سکتے۔

 

رحمت الهی

سوره حمد میں خدا کے  رحمان و رحیم کی صفت سے شروع کیا گیا ہے «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ»(سوره حمد، 2-3). اللہ تعالی نے متعدد بار خود کو (رحمان و رحیم) کے نام سے متعارف کرایا ہے: «رحمان کا مطلب رحمت الهی کی کثرت کی طرف اشارہ ہے جس میں کافر و مومن سب شامل ہیں جب کہ رحیم خدا کی ابدی اور دائمی رحمت کی طرف اشارہ ہے جس میں صرف مومن شامل ہے» (المیزان).

رسول گرامی اسلام سے روایت ہے «خدا کی رحمت کے سو حصے ہیں جنمیں سے ایک کو اہل زمین پر تقسیم کیا گیا ہے جس سے روئے زمین میں لوگ مہربانی سے پیش آتے ہیں اور باقی ننانوے حصوں سے خدا قیامت میں بندوں سے رحم سے پیش آئے گا»(مجمع‌البیان)

البتہ واضح رہے کہ سو کی عدد کا ذکر کثرت کی طرف اشارہ ہے۔

 

راه مستقیم

صراط یا راه مستقیم یعنی واضح اور روشن راستہ جسمیں کجی نہیں اور اس سے مراد وہی خدا کی طرف سیدھا راستہ اور حق پر پابندی ہے۔

اسی طرح حمد کی آیت سات کے علاوہ آیت 161 سوره انعام میں ہم پڑھتے ہیں: «اے پیغمبر، کہ دو میرے رب نے مجھے راہ راست پر ہدایت کی ہے».  آیت 59 سوره نساء، راہ مستقیم کو تین چیزوں سے جوڑا گیا ہے: «اے ایمان لانے والو، خدا کی اور پیغمبر کی اطاعت کرو اولی الامر کی، لہذا جب [دينى] میں اختلاف کرو تو اگر خدا و قیامت پر ایمان رکھتے ہو تو اس امر کو [كتاب] خدا اور [سنت] پيغمبر کے رو سے دیکھو».

Read 139 times

Add comment


Security code
Refresh