ولایتِ فقیہ کے خلاف پروپیگنڈا، حقیقت کیا ہے؟

Rate this item
(0 votes)
ولایتِ فقیہ کے خلاف پروپیگنڈا، حقیقت کیا ہے؟


آج کل کچھ لوگ یہ جملے پھیلا رہے ہیں کہ "بیعت صرف حجتِ خدا کی ہوتی ہے" اور "تقلید صرف مرجع کی ہونی چاہیئے، ولی فقیہ کی نہیں"۔ بظاہر یہ جملے بڑے خوبصورت لگتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہی وہ آدھی سچ اور آدھی جھوٹ والی باتیں ہیں جن کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ولایتِ فقیہ کوئی نیا عقیدہ نہیں بلکہ یہ ولایتِ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کا تسلسل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اَطِیعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیعُوا الرَّسُولَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ"۔ جب اطاعتِ اولی الامر واجب ہے، تو سوال یہ ہے کہ زمانۂ غیبت میں امت کو کس کے سپرد کیا جائے؟ کیا امت کو بغیر رہبر کے چھوڑ دیا جائے؟ عقل اس بات کو قبول نہیں کرتی۔ امام زمانہؑ کی توقیع واضح دلیل ہے: "فَارْجِعُوا فِیهَا اِلٰی رُوَاةِ حَدِیْثِنَا فَاِنَّهُمْ حُجَّتِی عَلَیْکُمْ"۔ یعنی فقہاء امامؑ کی طرف سے حجت ہیں۔ جب فقیہ امامؑ کا نائب ہے تو اس کی اطاعت دراصل امامؑ ہی کی اطاعت ہے۔

پہلا بڑا دھوکہ "بیعت صرف امامؑ کی ہوتی ہے"۔ یہ جملہ سن کر لوگ جذباتی ہو جاتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کیا آئمہؑ نے اپنے نمائندے مقرر نہیں کیے تھے؟ کیا لوگوں کو ان نمائندوں کی طرف رجوع کا حکم نہیں دیا گیا تھا؟ اگر نائب کی اطاعت جائز نہ ہوتی تو آئمہؑ کبھی اپنے نمائندے مقرر نہ کرتے۔ لہٰذا ولی فقیہ کی اطاعت، امامؑ کے مقابل نہیں بلکہ امامؑ کی اطاعت کا تسلسل ہے۔ دوسرا بڑا دھوکہ "تقلید صرف مرجع کی ہے، ولایت کی نہیں"۔ یہ بھی ایک ادھوری بات ہے۔ تقلید فقہی مسائل کے لیے ہے، جبکہ ولایت اجتماعی نظام کے لیے۔ سوچئے! اگر دشمن حملہ کرے، اگر امت کو سیاسی فیصلے کرنے ہوں، اگر اسلام کے دفاع کا وقت آئے۔ تو کیا ہر شخص اپنی مرضی سے فیصلہ کرے گا؟ یا ایک عادل اور باصلاحیت فقیہ قیادت کرے گا؟ عقل اور شریعت دونوں کہتی ہیں کہ قیادت ضروری ہے، اور یہی قیادت ولایتِ فقیہ ہے۔

دشمن کا اصل ہتھیار پروپیگنڈا ہے۔ یاد رکھیں! جب بھی شیعہ مضبوط ہوتے ہیں، دشمن ان کے درمیان شک اور اختلاف پیدا کرتا ہے۔ دشمن کا طریقہ بہت سادہ ہے، خوبصورت جملے بنا دو، آدھی بات سچ رکھو، آدھی چھپا دو، سوشل میڈیا پر پھیلا دو اور عوام بغیر تحقیق کے شیئر کرتی جائے۔ بدقسمتی سے آج سوشل میڈیا یونیورسٹی بن چکی ہے، جہاں ہر شخص بغیر علم کے استاد بنا ہوا ہے، اور یہی دشمن کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ عوام اس وقت بیوقوف بنتی ہے جب دلیل کے بجائے جذبات سے فیصلہ کرے، تحقیق کے بجائے فارورڈ پر یقین کرے، علماء کے بجائے سوشل میڈیا کو استاد مان لے، یہی وہ کمزوری ہے جس سے دشمن فائدہ اٹھاتا ہے۔

عوام کو کیا کرنا چاہیئے؟ اگر واقعی امام علیؑ اور امام زمانہؑ سے محبت ہے تو ہر بات کو تحقیق کے بغیر قبول نہ کریں، مستند علماء اور مراجع کی طرف رجوع کریں، سوشل میڈیا کے جملوں کے بجائے علمی دلائل پڑھیں اور یاد رکھیں کہ بصیرت کے بغیر محبت بھی انسان کو گمراہ کر سکتی ہے۔ آخری بات یہ کہ ولایتِ فقیہ، ولایتِ امیرالمؤمنینؑ کا مقابل نہیں بلکہ اسی کا تسلسل ہے۔ جو لوگ اس کے خلاف شکوک پیدا کرتے ہیں، چاہے دانستہ یا نادانستہ، وہ اسی دشمنی کے بیانیے کو مضبوط کر رہے ہوتے ہیں جو ہمیشہ اہل بیتؑ کے ماننے والوں کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ آج کا سب سے بڑا جہاد تلوار نہیں، بصیرت ہے اور جس قوم میں بصیرت آ جائے، اسے کوئی دشمن شکست نہیں دے سکتا۔

اسلام ٹائمز: 

Read 3 times