ٹاماہاک میزائل، امریکی دفاعی شاہکار ایرانی ریورس انجینئرنگ کی زد میں

Rate this item
(0 votes)
ٹاماہاک میزائل، امریکی دفاعی شاہکار ایرانی ریورس انجینئرنگ کی زد میں

مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک: ایران کے خلاف جون میں امریکی آپریشن مڈنائٹ ہیمر اور آپریشن ایپک فیوری کے بعد شروع ہونے والی جھڑپوں کے دوران امریکہ نے اصفہان سمیت ایران کے کئی اہم دفاعی اور صنعتی مراکز کو ٹاماہاک کروز میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ ان حملوں کا مقصد ایران کے دفاعی نظام کو مفلوج کرنا تھا۔ ان حملوں میں استعمال ہونے والے جدید اور مہنگے میزائلوں میں سے متعدد اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔ کچھ تیکنیکی خرابی کے باعث پھٹ نہ سکے، جبکہ کچھ میزائل ایران کے الیکٹرانک وارفیئر سسٹم کی وجہ سے ہدف سے بھٹک گئے۔

ان ناکام میزائل حملوں کے نتیجے میں کئی ٹاماہاک میزائل تقریباً سالم یا جزوی طور پر محفوظ حالت میں زمین پر گرے اور ایرانی فورسز کے قبضے میں آگئے۔ یہ میزائل اب ریورس انجینئرنگ کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں تاکہ ان کی ساخت، تکنیکی صلاحیت اور دفاعی نظام کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔

ٹاماہاک میزائل، امریکی دفاعی شاہکار ایرانی ریورس انجینئرنگ کی زد میں

ٹاماہاک: ناقابل گرفت سمجھا جانے والا میزائل

ٹاماہاک کروز میزائل کو کئی سالوں تک ایسا ہتھیار سمجھا جاتا رہا جو بہت نیچی پرواز کرتا ہے اور راستے میں آنے والی پہاڑیوں، میدانوں اور زمین کی اونچ نیچ کو پہچان کر اپنا راستہ خود درست کرتا رہتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ عام فضائی دفاع کے لیے ہمیشہ مشکل ہدف رہا ہے۔ حالیہ جھڑپوں میں ایران کے دفاعی نظام نے ثابت کردیا کہ یہ میزائل اب پہلے جیسا ناقابل گرفت نہیں رہا۔ مختلف جگہوں سے اس کے کئی میزائل نیم سالم حالت میں ملے، جس نے ایرانی ماہرین کو اس کے اندرونی حصوں اور کام کرنے کے طریقے کو سمجھنے کا ایک اہم موقع دیا۔

ٹاماہاک میزائل، امریکی دفاعی شاہکار ایرانی ریورس انجینئرنگ کی زد میں

جدید ٹیکنالوجی تک دسترسی

ٹاماہاک میزائل ہاتھ لگ جانا صرف ایک ناکام حملے کی نشانی نہیں، بلکہ اہم ٹیکنالوجی تک رسائی بھی ہے۔ وہ ٹیکنالوجی جسے امریکہ نے برسوں تک چھپا کر رکھا۔ ان میزائلوں میں موجود چھوٹے لیکن طاقتور انجن یہ دکھاتے ہیں کہ ہلکے وزن کے انجن کتنی دیر تک مسلسل پرواز کر سکتے ہیں۔ ان کا مطالعہ ایرانی ڈرونز اور مقامی میزائلوں کی پرواز کا وقت بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسی طرح ان کے راستہ پہچاننے والے سینسر اور تصویر دیکھ کر ہدف ڈھونڈنے والے نظام کو سمجھ کر ایسے نئے طریقے بنائے جاسکتے ہیں جو دشمن کے خودکار میزائلوں کو غلط سمت میں لے جائیں۔

جیمنگ سے بچنے والے طریقے سیکھنے کا موقع

ٹاماہاک میزائلوں میں ایسے مخصوص حفاظتی اور کنٹرول نظام بھی شامل ہوتے ہیں جو دشمن کی جانب سے پیدا کی گئی ریڈاری مداخلت یا الیکٹرانک خلل کے باوجود اپنی پرواز اور رہنمائی جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان نظاموں کا کام یہ ہوتا ہے کہ اگر راستے میں ریڈار جامنگ یا سگنل میں خلل پیدا ہو جائے تو میزائل مکمل طور پر بے سمت ہونے کے بجائے متبادل طریقوں سے اپنی سمت برقرار رکھے۔ اب جبکہ ایران کے پاس ایسے میزائل نسبتا محفوظ حالت میں پہنچ چکے ہیں، ماہرین ان میں موجود ان حفاظتی نظاموں کے بنیادی اصولوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ ان چیزوں کا مطالعہ ایران کو یہ جاننے میں مدد دے سکتا ہے کہ مستقبل میں ایسے میزائلوں کو روکنے، گمراہ کرنے یا کم مؤثر بنانے کے لیے کون سے طریقے زیادہ بہتر ثابت ہوسکتے ہیں۔

ناکارہ میزائل اور تحقیقات کے لئے مفید مواد

12 روزہ لڑائی میں زیادہ توجہ حملے روکنے پر تھی، لیکن 40 روزہ جھڑپ کے دوران ایران نے زمین پر گرنے والے تاماہاک میزائلوں کو قیمتی نمونے سمجھ کر ان کا تفصیلی جائزہ لیا۔ جو میزائل نہیں پھٹے اور پوری حالت میں ملے، وہ ماہرین کے لیے ایک طرح کی کھلی کتاب ثابت ہوئے جن سے ان کے انجن، سینسر اور رہنمائی کے طریقے بہتر انداز میں سمجھے گئے۔ ایرانی حکام کے مطابق کئی ٹام ہاک میزائل ایرانی دفاعی نظام کی مداخلت سے ہلکی سافٹ ویئر خرابی کا شکار ہو کر بغیر بڑے نقصان کے بیابان علاقوں میں گرے، جس سے ان کی جانچ اور بھی آسان ہوگئی۔

نئی ٹیکنالوجی تک رسائی اور امریکی تشویش

امریکی ماہرین کو اس بات پر تشویش ہے کہ ایران ان میزائلوں کی صرف نقل کرنے کے بجائے حاصل شدہ معلومات کو اپنی موجودہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ملا کر زیادہ دورمار اور بہتر میزائل تیار کرسکتا ہے۔ ایران پہلے بھی امریکی ڈرونز کو کھول کر دیکھنے اور سمجھنے سے اپنی دفاعی ٹیکنالوجی کو ترقی یافتہ بناچکا ہے۔ جون 2025 اور گذشتہ مہینوں میں ہونے والی جنگ نے یہ واضح کیا کہ کروز میزائلوں کے تیز حملے اب پہلے جیسے مؤثر نہیں رہے، اور یہی میزائل اب لیبارٹریوں میں کھول کر دیکھے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل کے دفاعی نظام کو بہتر بنایا جاسکے۔

حاصل سخن

ایران اور امریکہ و صہیونی حکومت کے درمیان ہونے والی جنگ سے یہ بات سامنے آئی کہ ایران کے خلاف کیے گئے امریکی میزائل حملے مکمل طور پر اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکے۔ کئی ٹاماہاک میزائل ہدف تک نہ پہنچ سکے اور بعض محفوظ حالت میں زمین پر گرے، جس سے ایران کو ان کی جدید ٹیکنالوجی کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔ ان میزائلوں کے اندرونی نظام، انجن اور رہنمائی کے طریقوں کا مطالعہ مستقبل میں ایرانی دفاعی اور میزائل صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسی وجہ سے امریکی ماہرین کو خدشہ ہے کہ ایران ان معلومات کو اپنی موجودہ صلاحیت کے ساتھ ملا کر مستقبل میں زیادہ بہتر اور طویل فاصلے تک مارکرنے والے میزائل بناسکتا ہے۔

 
Read 9 times