امریکی فوجی اڈے میزبان ملکوں کو شریک جرم بنا رہے ہیں/ ایران کے خلاف کھلے جنگی جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے

Rate this item
(0 votes)
امریکی فوجی اڈے میزبان ملکوں کو شریک جرم بنا رہے ہیں/ ایران کے خلاف کھلے جنگی جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے

تہران یونیورسٹی سے وابستہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر داؤود آقائی نے کہا کہ امریکہ کا فضا یا خلا میں کوئی فوجی اڈہ نہیں جہاں سے وہ ایران پر حملہ کرے لہذا مذکورہ ممالک کی سرزمین کو استعمال کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور جنگ کے حقوق کے مطابق، نہ صرف جنگ کی فریق حکومتیں بلکہ غیرجانبداری کی خلاف ورزی کرنے والی حکومتیں بھی ذمہ دار ٹہرائی جا سکتی ہیں۔

پروفیسر داؤود آقائی نے کہا کہ اگر کوئی حکومت اپنی سرزمین، اپنے فوجی اڈے اور وسائل دوسرے ملک پر حملے کے لیے  کسی جارح حکومت کے حوالے کریں یا اس کے لیے سہولت فراہم کریں تو خود جنگی فریق کے زمرے میں شامل ہوجائیں گے اور جارحیت کا شکار ہونے والے ملک کو انہیں نشانہ بنانے کا مکمل حق حاصل ہوگا۔

انہوں نے جنیوا کے چار نکاتی 1949 کے کنوینشن اور 1977 کے ترمیمی نکات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان قوانین کے مطابق ، جنگ کے دوران، جھڑپوں کے اصولوں کا پاس رکھنا فریقین کے لیے ضروری ہے نیز شہری مراکز، بنیادی تنصیبات اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے پر سخت پابندی عائد کی گئی ہے۔

تہران یونیورسٹی کے پروفیسر نے کہا کہ دشمن جنگ کے دوران یہ توجیہ بھی پیش کرسکتا ہے کہ شاہراہیں، پل، مواصلات اور بجلی کے ٹاور فوجی کارروائی کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں لہذا انہیں تباہ کیا جاسکتا ہے لیکن یہ بات جاننے کی ضرورت ہے کہ مذکورہ قوانین کے مطابق ایسا اقدام بھی سرے سے غیرقانونی ہے۔

انہوں نے ہسپتالوں اور شہری تنصیبات پر حملے کو بھی عالمی قوانین اور جنیوا کنوینشن کی کئی شقوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اصولوں اور حقوق کے تحت شجرہ طیبہ اسکول اور ایران کے شہری مراکز پر امریکہ کی جارحیت، کھلا جنگی جرم ہے۔

Read 6 times