جناب زينب سلام اللہ عليہا سے متعلق ۱۴ نكات

Rate this item
(0 votes)

بعض افراد كا ماننا ہے زينب ايك خوشنما اور خوشبوار درخت كا نام ہے۔اور بعض كا كہنا ہے:زينب در اصل دو كلمات سے مركب ہے۔ زين اور اب اور جناب زينب كو زينب اس لئے كہتے ہيں چونكہ آپ اپنے والد امام علي عليہ السلام كے لئے زينت و فخر كا باعث تهيں اسي لئے انہيں "زينب"نام ركها گيا۔ جس طرح ان كي ماں "ام ابيہا "تهيں اسي طرح آپ "باپ كي زينت"تهيں۔

 

1-آپ كا نام

مدينہ كي سرزمين اس دن زينب كبري سلام اللہ كے نور وجود سے منور ہوئي جب پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ مدينہ سے باہر كسي اہم سفر پر گئے تهے۔ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ نے امير المومنين سے عرض كي: چونكہ اللہ كے رسول سفر پر ہيں اس لئے اس نومولد كا نام ركهئے۔ امير المومنين نے فرمايا: نہيں ميں آپ كے والد سے آگے نہيں نكل سكتا ہم ان كي واپسي تك انتظار كريں گے۔

جب پيغمبر صلي اللہ عليہ و آلہ تشريف لائے تو اميرالمومنين نے آپ سے بيٹي كا نام ركهنے كي درخواست كي۔آپ نے فرمايا: فاطمہ كي اولاد اگرچہ ميري اولاد ہے ليكن يہ فيصلہ خدا كے ہاته ميں ہے اور ميں امر الہي كا منتظر ہوں۔جبرئيل نازل ہوئے اور عرض كي:اس بچي كا نام زينب ركها جائے كيونكہ لوح محفوظ ميں اس بچي كا يہي نام لكها گيا ہے۔

 

2-جناب زينب سلام اللہ كے القاب

آپ كا ايك لقب عقيلہ بني ہاشم ہے اور عقيلہ يعني باعظمت اور صاحب تدبير خاتون جو اپنے خاندان كے درميان كافي محترم،عزيز اور ارجمند ہو۔ آپ كا ايك لقب صديقہ صغري بهي ہے۔ صديقہ اس خاتون كو كہا جاتا ہے جو بہت زيادہ سچي ہوچونكہ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا كو صديقہ كبري كہا جاتا ہے اور حضرت علي عليہ السلام كو صديق اكبر اس لئے جناب زينب كو صديقہ كبري كا لقب ديا گيا۔

اس باعظمت خاتون كا ايك لقب "عصمت صغري"بهي ہے كيونكہ پروردگار عالم نے انہيں پاكدامني اور گناہوں سے دوري كا ملكہ ديا ہے۔آپ كے اور بهي القاب ہيں جن ميں وليۃ اللہ اور امينۃ اللہ اہم ہيں۔

 

3-آپ كے كمالات

آپ كمالات كا مرقع تهيں۔جمال،اطمينان،وقار وغيرہ ميں اپني ناني جناب خديجہ كے مانند اور حيا و عصمت ميں اپني ماں جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا جيسي۔فصاحت و بلاغت ميں اميرالمومنين كي طرح اور حلم و بردباري ميں امام حسن مجتبي عليہ السلام جيسي اور شجاعت و قوت قلب ميں سيد الشہدا امام حسين عليہ السلام كے مثل۔

 

4-آپ كي تربيت

آپ كي تربيت قلعہ نبوت ، خاندان ولايت و امامت اور حصار عصمت ميں ہوئي۔ زبان وحي سے تعليم حاصل كي اور دامان كرامت ميں پرورش پائي اور پنجتن پاك كي سرپرستي ميں ادب سيكها۔

 

5-جناب زينب اور توحيد

بچپن ميں آپ بابا علي مرتضي كے زانو پر بيٹه جاتيں اور وہ آپ كو بڑي مہرباني اور لطافت كے ساته تعليم ديتے۔ايك دن امام عليہ السلام نے اپني نازنين سے كہا:بيٹي كہو "ايك" بيٹي نے كہا: "ايك"۔امام عليہ السلام نے فرمايا :كہو دو۔ليكن آپنے دو نہيں كہا اور خاموش رہيں۔امام نے پهر سے كہا: ميري آنكهوں كے نور كہو دو ۔آپ نے جواب ميں فرمايا: بابا جس زبان سے ايك كہا ہے اس سے دو كيسے كہہ سكتي ہوں۔شاہد ہم جيسے انسانوں كي سمجه ميں نہ آيا ہو كہ اس كا كيا مطلب ہے ليكن امام نے اپني بيٹي كي زباني يہ معرفت بهرا جملہ سنا تو انہيں سينے سے لگا ليا كيونكہ وہ جانتے تهے كہ ان كي بيٹي توحيد كي طرف اشارہ كررہي ہے كہ جس زبان سے خدا كي وحدانيت كا اقرار كيا ہے اس سے اس كي دوئي كيسے ادا ہوسكتي ہے۔

 

6-باپ كي زينت

بعض افراد كا ماننا ہے زينب ايك خوشنما اور خوشبوار درخت كا نام ہے۔اور بعض كا كہنا ہے:زينب در اصل دو كلمات سے مركب ہے۔ زين اور اب اور جناب زينب كو زينب اس لئے كہتے ہيں چونكہ آپ اپنے والد امام علي عليہ السلام كے لئے زينت و فخر كا باعث تهيں اسي لئے انہيں "زينب"نام ركها گيا۔ جس طرح ان كي ماں "ام ابيہا "تهيں اسي طرح آپ "باپ كي زينت"تهيں۔

 

7-خدا كي بندگي

جناب زينب كي شجاعت اور قوت كا سرچشمہ توحيد اور پروردگار كے ساته ان كا مستحكم رابطہ ہے۔يزيد كے دربار ميں ان كي كفر شكن باتيں،اس آلودہ فضا ميں نہي عن المنكر كرنا،سفر كے تمام مراحل ميں حيا و عفت كي حفاظت اور ہر جگہ اپني ذمہ داري پر عمل اس بات كي نشاندہي ہے كہ يہ سب بندگي پروردگار كے جلوے ہيں جو ان كي ذات سے نماياں ہورہے ہيں۔

 

8-جناب زينب سلام اللہ عليہا اور امام حسين عليہ السلام كي محبت

جناب زينب سلام اللہ عليہا اور امام حسين عليہ السلام كے درميان بہت زيادہ محبت تهي جو ان كي پوري زندگي نماياں طور پر نظر آتي ہے۔بچپن ميں وہ امام حسين عليہ السلام كے ساته ہونے ميں انہيں سكون ملتا اور ہميشہ ان كے ساته ساته رہتي تهيں۔كہتے ہيں جب جناب عبداللہ ابن جعفر كے ساته جناب زينب سلام اللہ علہيا كي شادي ہوئي تو انہيں اپنے شوہر عبد اللہ كے ساته اس شرط پر عقد كي رضامندي ظاہر كي كہ وہ انہيں امام حسين عليہ السلام كے پاس جانے سے نہيں روكيں گے اور انہيں ہر امام سے ملاقات كي اجازت ہوگي اور بہت كم ايسا ہوتا تها كہ بي بي امام حسين عليہ السلام كي زيارت نہ كريں۔

 

9-امام حسين عليہ السلام كي ہمسفر

بعض مورخين كہتے ہيں جب جناب عبداللہ ابن جعفر كے ساته جناب زينب سلام اللہ علہيا كي شادي ہوئي تو انہيں اپنے شوہر عبد اللہ كے ساته اس شرط پر عقد كي رضامندي ظاہر كي كہ وہ انہيں امام حسين عليہ السلام كے ساته كربلا جانے سے نہيں روكيں گے عبد اللہ نے ان كي شرط مان لي اور اپنے عہد پر قائم رہے۔

 

10-آپ كا علمي مقام

آپ كا علمي مقام يہ ہے كہ مدينہ كي بہت سي خواتين آپ كے پاس آكر آپ كے علم سے بہرہ مند ہوتيں اور آپ كے درس تفسير سے فيضياب ہوتيں تهيں۔البتہ انہيں كسي مدرسہ يا مكتب سے تعليم حاصل نہيں كي تهي بلكہ جيسا كہ تاريخ ميں ملتا ہے جب مسجد كوفہ ميں آپ نے ايك طولاني خطبہ ارشاد فرمايا تو امام سجاد عليہ السلام نے آپ كو عالمہ غير معلمہ يعني ايسي عالمہ جس نے كسي كے سامنے زانوے ادب تہہ نہيں كئے بلكہ پروردگار عالم نے آپ كے قلب و زبان پر علم و حكمت كے چشمے كئے تهے۔

 

11-آپ كي عبادت

خشوع و خضوع اور عبادت و بندگي ميں آپ اپنے والدين كے نقش قدم پر تهيں۔راتوں كو تہجد ميں گزارتيں اور روزنہ قرآن مجيد كي تلاوت كيا كرتيں۔ اس باعظمت خاتون اسلام نے ميدان كربلا اور وہاں سے شام تك كے راستے كي مشكلات ميں بهي نماز شب اور خدا كي عبادت كو ترك نہيں كيا۔

 

12-فصاحت و بلاغت

ابن عباس جناب زينب عليا مقام سلام اللہ عليہا كے بارے ميں كہتے ہيں: عقيلہ بني ہاشم جناب زينب سلام اللہ عليہا فصاحت و بلاغت اور ادب ميں اپنے باپ علي عليہ السلام كي طرح بے مثل تهيں۔جب وہ گفتگو كرتيں تو ايسا لگتا علي بول رہے ہوں اور اس بات كي شاہد دربار يزيد ميں ان كي تقرير ہے جو فصاحت كے اورج پر تهي اور اتنا سليس تهي سب اس گفتگو سے مبہوت تهے۔

 

13-سياسي امور ميں بصيرت

اہل سنت كے ايك عالم محمد غالب شافعي كہتے ہيں: علي عليہ السلام كي بيٹي زينب نے علم و اخلاق كے بہترين مكتب ميں پرورش پائي اور آيات الہي كے چشمہ نوراني سے فيضياب ہوئيں اور وہ حلم و كرم اور سياسي بصيرت ميں بني ہاشم كے درميان معروف تهيں اور ساته ہي وہ جمال و جلال،سيرت و صورت اور اخلاق فضيلت كے اعلي مقام پر فائز تهيں۔وہ راتوں كو عبادت كرتيں اور دن ميں روزے ركهتيں۔

 

14-صبر و پائداري

معروف سيرت نگار مرحوم سپہر كہتے ہيں: جناب زينب كبري سلام اللہ كي فضيلت كے مختلف پہلو ہيں۔ان كي فصاحت و بلاغت كا اعتراف سبهي كو ہے كہ جب بهي گفتگو كرتيں تو ايسا لگتا كہ علي عليہ السلام گفتگو كررہے ہوں۔ان كي عفت و عصمت اور درايت و علم كا يہ علم ہے كہ اسے قلمبند نہيں كيا جاسكتا ہے اور نہ ہي كوئي اسے بيان كرسكتي ہے۔صبر و ثبات قدم ميں ايسي تهيں كہ سب كو مبہوت كرديتي تهيں۔اگر ان كے آلام و مصائب تهورا سا حصہ پہاڑوں،آسمانوں يا زمين كے دوش پر ڈال ديا جائے تو وہ بكهر جائيں گے۔ بردباري ، شجاعت اور ايثار ميں آغاز خلقت سے آج تك ان جيسي خاتون نہيں ملتيں ۔

Read 1444 times

Add comment


Security code
Refresh