ایران-امریکہ جنگ نے مغربی ایشیاء میں طاقت کے تصور کے بارے میں کیا واضح کیا؟

Rate this item
(0 votes)
ایران-امریکہ جنگ نے مغربی ایشیاء میں طاقت کے تصور کے بارے میں کیا واضح کیا؟

مہر خبررساں ایجنسی، تجزیہ، امیرحسین رجبی معمار: اب طاقت کو صرف طیاروں، میزائلوں، جنگی جہازوں، فوجی اڈوں اور دفاعی بجٹ کی تعداد سے نہیں ناپا جا سکتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ فوجی طاقت کی اہمیت کم ہوگئی ہے؛ بلکہ حالیہ جنگ نے ظاہر کیا ہے کہ فوجی صلاحیت اب بھی بقا کی بنیادی شرط ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ’’طاقت رکھنے‘‘ اور ’’طاقت کو سیاسی نتیجے میں تبدیل کرنے‘‘ کے درمیان فاصلہ پیدا ہوجائے۔

28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی جنگ اب ساتویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے اور بدستور جاری ہے۔ اس لیے اس کے حتمی نتیجے کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہے۔ تاہم جنگ کے اختتام سے پہلے ہی اس نے مغربی ایشیاء کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے: جب کوئی فوجی طاقت ایک طویل جنگ میں داخل ہوتی ہے تو وہ اپنے فوجی، اقتصادی اور سیاسی اخراجات کو کب تک برداشت کرتے ہوئے اپنے اہداف حاصل کرسکتی ہے؟

ایسی لاگت جو اب پوشیدہ نہیں رہی

امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، یکم اگست تک امریکی محکمہ دفاع کے لیے جنگ کے اخراجات 38 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے تھے اور اگر موجودہ سطح پر جنگ جاری رہی تو ہر ماہ مزید تقریباً 2 سے 3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا۔ اسی رپورٹ میں امریکہ کے اہم گولہ بارود کے ذخائر اور دفاعی نظاموں پر دباؤ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

یہ اعداد و شمار تنہا جنگ کا نتیجہ طے نہیں کرتے، تاہم ایک اہم حقیقت واضح کرتے ہیں: طاقت، خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، لامحدود نہیں ہوتی۔ ہر فوجی کارروائی بالآخر وقت، ذخائر، معیشت اور جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کے پیمانے پر پرکھی جاتی ہے۔

فوجی میدان سے فیصلہ سازی کے میدان تک

امریکہ نے ایران کی میزائل اور بحری صلاحیت کو کمزور کرنے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے جیسے اہداف کا ذکر کیا ہے۔ لیکن ایسی جنگ میں جو اب بھی جاری ہے، صرف تباہ کیے گئے اہداف کی تعداد طاقت جانچنے کے لیے کافی معیار نہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا بالآخر مخالف حریف اپنی سلامتی، خارجہ پالیسی اور مستقبل کے بارے میں حملہ آور کی خواہش کے مطابق فیصلے کرنے پر مجبور ہوتا ہے یا نہیں؟ یہی وہ مقام ہے جہاں طاقت کا تصور ’’ضرب لگانے کی صلاحیت‘‘ سے آگے بڑھ کر ’’اثرانداز ہونے کی صلاحیت‘‘ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

ایران نے بھی یہ جنگ ایسے حالات میں شروع نہیں کی کہ اقتصادی اور تکنیکی اعتبار سے اس کا امریکہ سے موازنہ کیا جاسکے۔ اس لیے دونوں فریقوں کے ہتھیاروں کے ذخیرے کا محض تقابلی جائزہ حقیقت کے ایک اہم حصے کو نظرانداز کرتا ہے۔ اصل تزویراتی سوال یہ ہے کہ شدید دباؤ کا شکار ایک ملک اپنی جوابی صلاحیت، آزادانہ فیصلہ سازی اور اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ بحال کرنے کی استعداد کو کس حد تک برقرار رکھ سکتا ہے؟

اگر یہ صلاحیت برقرار رہتی ہے تو جنگ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے۔ مخالف فریق کو صرف ایک فوجی ہدف کا سامنا نہیں رہتا بلکہ اسے ایسے ملک سے واسطہ پڑتا ہے جو اب بھی فیصلے کرسکتا ہے، اخراجات عائد کرسکتا ہے، اپنی صلاحیتیں دوبارہ بحال کرسکتا ہے اور وقت کو بھی جنگ کے حساب میں شامل کرسکتا ہے۔

ایسی صورتحال میں طاقت صرف میزائل داغنے کے لمحے میں متعین نہیں ہوتی؛ بلکہ جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت اور مخالف فریق کو اپنی حکمتِ عملی پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کرنے کی صلاحیت بھی طاقت کا حصہ بن جاتی ہے۔

آبنائے ہرمز؛ وہ جغرافیہ جو حکمتِ عملی میں تبدیل ہوگیا

آبنائے ہرمز اس جنگ میں محض ایک آبی گزرگاہ نہیں، بلکہ جغرافیہ، فوجی طاقت اور عالمی معیشت کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی ایک مثال بن چکی ہے۔ 15 اور 16 ستمبر کی رپورٹس کے مطابق اس گزرگاہ میں بحری آمدورفت میں شدید کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

ہرمز کی اہمیت بالکل یہی ہے۔ ایک جغرافیائی مقام اپنا اثر میدانِ جنگ سے بہت دور موجود توانائی کی قیمتوں، انشورنس، نقل و حمل اور سپلائی سلسلے تک منتقل کرسکتا ہے۔

لہٰذا ہرمز کو صرف ’’جنگ کے وقت دباؤ کے ایک ذریعے‘‘ کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ موجودہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ جب جغرافیہ فوجی طاقت، توانائی، معیشت اور سفارت کاری سے جڑ جائے تو وہ طاقت کے ڈھانچے کا حصہ بن سکتا ہے۔

باب المندب؛ جب میدانِ جنگ نقشے سے کہیں وسیع ہوجائے

باب المندب بھی مغربی ایشیا کے دوسرے حصے میں اسی منطق کو آگے بڑھاتا ہے۔ یمن میں ہونے والی پیش رفت اور بحیرۂ احمر کے ساحل پر بڑھتی کشیدگی نے ظاہر کیا ہے کہ اس آبی گزرگاہ کی سلامتی بھی ایران اور امریکہ کی جنگ میں ہونے والی پیش رفت سے الگ نہیں ہے۔

خلیج فارس کے جنوب میں ہرمز اور بحیرۂ احمر کے داخلی راستے پر باب المندب، ایک دوسرے سے الگ دو مقامات نہیں، بلکہ ایک ہی نیٹ ورک کی دو اہم کڑیاں ہیں۔ اس تناظر میں مغربی ایشیاء اب الگ الگ بحرانوں کا مجموعہ نہیں رہا۔ توانائی، بحری نقل و حمل، فوجی اڈے، معیشت، سفارت کاری اور جغرافیہ ایک زنجیر میں باہم جڑے ہوئے ہیں۔

حالیہ جنگ میں طاقت کے تصور میں شاید یہ سب سے اہم تبدیلیوں میں سے ایک ہے: کسی فریق کی اثراندازی کی صلاحیت کو اب صرف اس کی اپنی جغرافیائی حدود میں نہیں ناپا جاسکتا۔

اگلا مرحلہ؛ جنگ کے تجربے سے مستقبل کے ڈھانچے تک

جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، لیکن اس کے بعد کے مستقبل کی منصوبہ بندی جنگ کے خاتمے تک مؤخر نہیں کی جاسکتی۔ ایران کے لیے مستقبل کا مسئلہ صرف متاثرہ فوجی سازوسامان کی دوبارہ تعمیر نہیں، بلکہ اس جنگ کے تجربے کو قومی طاقت کے ایک پائیدار اصول میں تبدیل کرنا زیادہ اہم ہے۔

یہ اصول کئی بنیادوں پر قائم ہونا چاہیے: اقتصادی استقامت، اہم صلاحیتوں کی تقسیم اور فوری بحالی، سپلائی سلسلے کو مضبوط بنانا، بازدارندگی کو برقرار رکھنا اور فروغ دینا اور جغرافیائی صلاحیتوں کو اقتصادی و سفارتی وسائل میں تبدیل کرنا۔

مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اگلی جنگ میں جواب دینے کی صلاحیت موجود ہو؛ بلکہ اس سے بلند مقصد یہ ہونا چاہیے کہ کوئی بھی حملہ ملک سے اس کی تزویراتی فیصلہ سازی کا اختیار نہ چھین سکے۔

یہاں سماجی سرمایہ، قومی اتحاد اور ایک قوم کے اعتقادات بھی فوجی تجزیے کے حاشیے سے نکل کر اہمیت اختیار کرتے ہیں۔ طویل جنگوں میں کسی ملک کو سفر جاری رکھنے کے قابل بنانے والی چیز صرف میزائلوں اور طیاروں کی تعداد نہیں ہوتی؛ بلکہ برداشت، امید، اتحاد اور وہ معنویت بھی ہوتی ہے جو معاشرہ اپنی مزاحمت کو دیتا ہے۔ اس سطح پر الٰہی وعدوں پر یقین کو مادی طاقت کے متبادل کے طور پر نہیں، بلکہ ایک قوم کی استقامت کے معنوی پشت پناہ کے ایک حصے کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔

جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور اس کا حتمی نتیجہ واضح نہیں ہے۔ تاہم ایک حقیقت آج ہی دیکھی جاسکتی ہے: مغربی ایشیاء میں مستقبل کی طاقت صرف اس ملک کے پاس نہیں ہوگی جس کے پاس زیادہ ہتھیار ہوں؛ بلکہ طاقت اس فریق کے پاس ہوگی جو فوجی صلاحیت، جغرافیہ، معیشت، استقامت اور سفارت کاری کو ایک مربوط منطق کے تحت استعمال کرسکے، اخراجات عائد کرسکے، اخراجات برداشت کرسکے اور سب سے بڑھ کر اپنی فیصلہ سازی کا اختیار برقرار رکھ سکے۔

اس صورتحال میں وقت بھی محض فرسودگی کا عامل نہیں؛ جس فریق میں استقامت موجود ہو، اس کے لیے وقت طاقت کا ذریعہ بن سکتا ہے اور حساب کتاب کو تبدیل کرسکتا ہے۔

اس تناظر میں حالیہ جنگ صرف فوجی طاقت کا امتحان نہیں، بلکہ یہ امتحان بھی ہے کہ کون جنگ کے تجربے سے مستقبل کے طاقت کے اصول تشکیل دے سکتا ہے۔

اور شاید سب سے اہم فرق یہی ہے: حقیقی طاقت صرف میدانِ جنگ کو تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں، بلکہ میدانِ جنگ کے تجربے کو مستقبل کے ڈھانچے میں تبدیل کرنے کی صلاحیت ہے۔

Read 6 times