امام سجاد عليہ السلام كا جہاد شہيد باقر الصدر كے قلم سے

Rate this item
(0 votes)

امام سجاد عليہ السلام كا جہاد شہيد باقر الصدر كے قلم سے

امام سجاد عليہ السلام كا جہاد شہيد باقر الصدر كے قلم سے

شہيد باقر الصدر ان نابغہ روزگار اور بلند ايہ اسلامي شخصيات ميں سے ہيں جنہوں نے اپنے بعد قيمتي قلمي و زباني آثار چهوڑے ہيں۔ جن ميں سے ايك صحيفہ سجاديہ پر ان كا گرانقدر مقدمہ ہے جس كا كچه حصہ قارئين كي خدمت ميں پيش كيا جارہا ہے۔ اس ميں شہيد صدر نے امام سجاد عليہ السلام كے جہاد سے متعلق كچه عمدہ باتيں لكهي ہيں:

قدرت كا فيصلہ يہ تها كہ اپنے والد ماجد كي شہادت كے بعد امام سجاد عليہ السلام امت اسلامي كي زمام ولايت و امامت اپنے ہاتهوں ميں ليں۔انہوں نے دوسري صدي ہجري كے نصف اول ميں امت مسلمہ كے ايك اہم اور حساس دور ميں باگ ڈور سنبهالي۔يہ امت مسلمہ كي پہلي فتوحات كے بعد كا زمانہ تها۔ان فتوحات نے اپني معنوي قدرت و حمشت اور فوجي جاہ و جلال كے ذريعہ قيصر و كسريٰ كے ايوانوں ميں لرزہ طاري كرديا تها اور بہت سي اقوام اور وسيع علاقے پر مشتمل كئي ممالك كو اپني حدود ميں لے ليا تها۔مسلمان تقريبا نصف صدي تك اپني خاص تمدن و تہذيب كے ذريعہ اس علاقہ پر حاكم رہے۔

ايك وسيع خطہ ارض پر حكومت نے اگرچہ مسلمانوں كو ايك بڑي سياسي و فوجي طاقت ميں بدل ديا تها ليكن اسلامي مملكت كے حدود سے باہر كي طرف سے دو بڑے خطرے انہيں درپيش تهے جن سے مقابلہ كرنا نہايت ضروري تها۔

پہلا خطرہ: مسلمانوں كا دوسري اقوام كے مسلمان ہونے كي وجہ سے ان كي تہذيب و ثقافت سے متاثر ہونا ان كے ساته ميل جول كا طريقہ تها۔

ايسے ميں علمي و فكري كام يہ ہونا چاہيے تها كہ مسلمانوں كو ذہني اور فكري طور پر آمادہ كيا جاتا كہ ان كا اصل عقيدہ وہي ہے جس كا سرچشمہ قرآن و سنت ہو۔اس كے لئے مجتہدانہ سعي و كوشش كي ضرورت تهي تاكہ مسلمان اتنا باشعور ہوجائے كہ وہ ايك بابصيرت مجتہد كي طرف كتاب و سنت كو سرچشمہ حيات قرار ديتے ہوئے زندگي گزار سكے۔

دوسرا خطرہ فتوحات كے نتيجے ميں حاصل ہونے والي آسائيشيں اور رفاہيات تهيں جس كي لپيٹ ميں پورا اسلامي معاشرہ آچكا تها۔آرام و آسائش كي بلا پر معاشرہ كو دنيوي لذتوں ميں غرق ہوجانے،اسراف،اس فاني دنيا كي كشش ميں مگن ہوجانے اور اخلاقي وجدان كي شمع كے بجه جانے كا سبب بنتي ہے۔

اس لئے ضرورت تهي كہ اس معاشرے ميں اسلامي شناخت كے درخت لگائے جاتے اور اجتہاد كي تخم پاشي كي جاتي۔ يہي وہ كام تها جسے امام علي الحسين عليہ السلام نے انجام ديا۔انہوں نے مسجد النبي (ص) ميں تحقيق و اجتہاد كرنے والا ايك گروہ تشكيل ديا اور لوگوں كے سامنے مختلف علوم من جملہ حديث و فقہ سے متعلق گفتگو كي۔ لوگوں كو اپنے اجداد كے طيب و طاہر علم سے آشنا كيا اور با استعداد افراد كو اجتہاد اور تفقہ كي مشق كروائي۔

بہت سے مسلمان فقہا يہيں سے نكلے ہيں۔يہي گروہ بعد ميں يعني امام محمد باقر (ع) اور امام جعفر صادق (ع) كے زمانے ميں مختلف فقہي مكاتب كے وجود ميں آنے كا سبب بنا۔

امام(ع) نے اس طرح قاريوں و حافظوں كي اكثريت كو اكٹها كيا۔ سعيد ابن مسيب اس بارے ميں كہتا ہے: ’’قاريان قرآن مكہ اسي وقت جاتے تهے جب علي ابن الحسين وہاں جاتے تهے۔ جب آپ نے مكہ جانے كا قصد كيا تو ہزار سوار افراد آپ كے ہمراہ ہولئے۔‘‘ (اختيار معفرۃ الرجال، ۱۱۷)

دوسرا خطرہ كو بهي امام سجاد عليہ السلام نے محسوس كيا اور اس كا علاج بهي شروع كيا۔اس كے لئے امام (ع) نے دعا كا نسخہ تجويز كيا۔صحيفہ سجاديہ امام (ع) كي اسي كاوش كا نتيجہ ہے۔ امام علي بن الحسين عليہ السلام نے بہت ہي مختصر اور جامع طريقہ سے الٰہي فكر كو دلكش مفاہيم اور بليغ معاني كے قالب ميں انسان كے خدا كے ساته رشتہ،خدا كے حضور ميں اطمينان و سكون،انسان كا مبدا اور معاد كے ساته تعلق،اخلاقي اقدار كو جامہ عمل پہنانے،رشتوں كي بنا پر انسان كي گردن پر عائد ہونے والے حقوق اور اس طرح كے اعليٰ روحاني پيغام كو معاشرہ كے سامنے پيش كيا۔تاكہ انسان ايك تو خدا كے ساته اپنا رابطہ مضبوط كرے اور دوسرا اس ماحول ميں خود كو بچا سكے جس ميں شيطاني وسوسوں كي ہوائيں چاروں طرف سے چل رہي تهيں۔ جب شيطاني وسوسے اسے پستي كي طرف ڈهكيليں تو وہ دعا كے ذريعہ خود كو روحاني معراج سے متصل كرسكے۔ اور وہ تونگري كے زمانے ميں بهي نيازمندي كے زمانے كي طرح خدا كے ساته اپنے عہد و پيمان پر كاربند رہے۔

امام كي سيرت ميں نقل كيا جاتا ہے كہ آپ ہر جمعہ كو لوگوں كے درميان خطبہ پڑهتے اور انہيں نصيحت كيا كرتے تهےاور انہيں دنيا كي آفتوں ميں گرفتار ہوجانے سے ہوشيار كيا كرتے تهے،انہيں اخروي امور كي طرف بڑهنے كي ترغيب دلاتے تهے اور دعا كے قالب ميں انہيں خدا كي بندگي اور اس كي حمد و ثنا كي تعليم ديتے تهے۔

صحيفہ سجاديہ ايك معاشرتي تحريك كا سمبل ہے ايك ايسي تحريك جو حالات كي بنا پر وجود ميں آئي ۔يہ گرانقدر صحيفہ ايك الہٰي ميراث بهي ہے جو صدياں گزرنے كے بعد بهي بخشش كا سرچشمہ،ہدايت كا چراغ اور اخلاق و تہذيب كا مدرسہ بن كر آج بهي باقي ہے اور بشريت كو ہميشہ اس محمدي اور علوي ميراث كي ضرورت ہے،اور يہ ضرورت اس وقت اور بهي بڑه جاتي ہے جب چاروں طرف شيطاني فريبكارياں اور دنيوي آزمائشيں نظر آتي ہيں۔

Read 1834 times

Add comment


Security code
Refresh