غم واندوہ کی برطرفی کےلیےامام صادق(ع) کا شفابخش نسخہ

Rate this item
(0 votes)
غم واندوہ کی برطرفی کےلیےامام صادق(ع) کا شفابخش نسخہ

امام جعفرصادق علیہ السلام نےفرمایا: جب تمہیں غم واندوہ گھیرلےتو تم وضو کرکے مسجد میں جاکردو رکعت نماز پڑھ کراللہ تعالیٰ سےاس غم واندوہ اورمشکل کی برطرفی کے لیے دعا کیوں نہیں کرتے ہو؟ مگرتم نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"وَ اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلاَةِ". اسی طرح جب پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےخاندان کے لیے بھی کوئی مشکل اورمصیبت پیش آتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اٹھو اورنمازپڑھو تاکہ تمہاری مشکل حل ہوجائے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین علی اصغرآیتی نے گفتگوکے دوران خاندان میں نماز کی تربیتی برکات اوراثرات کے بارے میں کہا ہےکہ اس وقت موجودہ خاندانوں کی زندگی پہلے سے زیادہ مادہ پسند ہوچکی ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی شخصیت اورکرامت کو تقویٰ کے مرہون منت قراردیتے ہوئے فرمایا ہے: ("يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَ أُنْثَى وَ جَعَلْنَاکُمْ شُعُوباً وَ قَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاکُمْ) اے لوگو، میں نے تمہیں ایک مرد اورعورت سےخلق کیا ہےاورتمہیں قبیلوں گروہوں میں سےقراردیا ہےتاکہ تم پہچانے جاو( البتہ یہ امتیاز کا معیارنہیں ہے) تم میں سےاللہ کےنزدیک عزیزترین شخص وہ ہےکہ جو متقی  ہے۔

دوسری جانب توجہ کروکہ نماز کے ذریعے انسان اپنےخالق کے ساتھ ارتباط قائم کرتا ہے۔ نمازمیں بھی انسان کی اللہ کےنزدیک ترین حالت اس وقت ہےکہ جب وہ سجدے میں ہوتا ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے نمازی سےفرماتا ہے: اپنے گھروالوں کو فراموش نہ کرو اوررزق کی وسعت کے لیے اپنے اوراپنے گھروالوں کےلیے دعا کرو۔

امام باقرعلیہ السلام فرماتے ہیں:«ادْعُ فِي طَلَبِ الرِّزْقِ فِي الْمَكْتُوبَةِ وَ أَنْتَ سَاجِدٌ: يَا خَيْرَ الْمَسْئُولِينَ وَ يَا خَيْرَ الْمُعْطِينَ ارْزُقْنِي وَ ارْزُقْ عِيَالِي مِنْ فَضْلِكَ فَإِنَّكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ)

امام صادق علیہ السلام نے فقروغربت کی شکایت کرنےکےجواب میں فرمایا: رزق میں وسعت، فقرسےدوری کے لیے واجب نماز کے سجدے میں اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجات طلب کرو۔

روایت میں ہے کہ ایک جوان، پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازجماعت میں شرکت کیا کرتا تھا۔ کچھ لوگوں نےآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ جوان گناہ کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا: عنقریب اس کی نمازاسے گناہوں سے روک دے گی۔ تھوڑے ہی عرصے کے بعد اس نے گناہوں کو چھوڑدیا۔ دوسری طرف نمازسے دوری جرم اورگناہ کی طرف جانے کی راہ ہموارکرتی ہے۔

Read 294 times

Add comment


Security code
Refresh