پیغمبراکرم (ص) کے طرز زندگی میں مشکلات حل کے آسان راستہ

Rate this item
(0 votes)
پیغمبراکرم (ص) کے طرز زندگی میں مشکلات حل کے آسان راستہ

 دو لحاظ سے نبوی طرززندگی پرعمل کرنا ضروری ہے اوراس سلسلے میں ہم قرآن کریم کی اس آیہ مجیدہ کا حوالہ بھی دے سکتے ہیں: «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» اس آیہ کےمطابق ہمیں اپنی زندگی اوراپنےاعمال وکردارکو پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زندگی کےمطابق کرنا چاہیے۔

دوسری جانب روایات میں ہےکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق، قرآن کا جلوہ تھا اوردیگرروایات میں آیا ہےکہ نبی مکرم اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،مجسم قرآن ہیں۔ لہذا روایات کی رو سے بھی پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نمونہ عمل ہونا ثابت ہوتا ہے۔

پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مخلوقات میں بلند ترین انسان ہیں اوراللہ تعالیٰ کے بعد پوری کائنات میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک خاص مقام ہے اورآپ تمام انبیاء اوراولیاء سے افضل ہیں۔ ہمیں ایسے چمکتے ہوئے سورج کی ضرورت ہے اوران سے نور اور روشنی حاصل کرنی چاہیے۔

پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نمونہ عمل قراردینے کے لیے سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معاشرے میں کیسا برتاو کیا کرتے تھے، کمزور لوگوں کے ساتھ کس طرح سلوک کیا کرتے تھے، علماء اور دانشوروں کے ساتھ کیسا برتاو کیا کرتے تھے اور دیگرممالک کے حکمرانوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے تھے، عام لوگوں کے ساتھ آپ کا برتاو کیسا تھا اورآپ کا سیاسی کردار کس طرح کا تھا ؟ اسی طرح دوستوں، دشمنوں اور نیزہمسائیوں کے ساتھ آپ کس طرح کو سلوک کیا کرتے تھے، اپنے بیوی بچوں کے ساتھ کیسا برتاو کرتے تھے؟

 

Read 92 times

Add comment


Security code
Refresh