شہید خامنہ ای مرکز وحدت اُمت

Rate this item
(0 votes)
شہید خامنہ ای مرکز وحدت اُمت

"بے شک تمہاری یہ اُمت ایک ہی اُمت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس میری ہی عبادت کرو۔"یہ سورہ انبیاء کی اس آیت کا ترجمہ ہے جو شہید آیت اللہ العظمٰی رہبر معظم سید علی خامنہ ای اپنے اکثر خطابات میں بیان فرماتے تھے۔ ہم ہمیشہ یہی سمجھتے رہے کہ اس عظیم شہید نے ساری زندگی  مسلمانوں کی وحدت کے لئے کوششوں میں صرف کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے اپنی زندگی میں مسلمانوں میں وحدت پیدا کرنے کے لئے جو خدمات انجام دی ہیں، وہ بے مثال اور ناقابل فراموش ہیں۔ لیکن ہم آج دیکھ رہے ہیں کہ ان کی شہادت نے بکھری ہوئی امتِ مسلمہ کو ایک تسبیح کے دانوں کی طرح  ایک لڑی میں پرو دیا ہے۔ ان کی شہادت کے بعد  وحدت کا ایک عملی مظاہرہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہر کوئی اس شہید کے گُن گاتا نظر آ رہا ہے۔
 
خامنہ ایؒ کون تھے دشمن ان سے اتنا خائف کیوں تھا؟ کیوں کہ وہ دشمنوں کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیتے تھے اور ان کے ہر اس عمل میں رکاوٹ ڈال دیتے تھے جس کے تحت دشمن مسلمانوں کو کمزور کرکے آپس میں لڑوا کر فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ شروع میں تو دشمن اس میں کافی کامیاب بھی رہا لیکن رہبر کی قیادت نے بہت جلد تمام مسلمانوں کے سامنے ان سازشوں کو آشکار کیا اور دشمن کے خوابوں کو چکنا چُور کر دیا۔ جب دشمن کی سازشوں کا شکار  ہو کر عالم اسلام کے مختلف فرقے اور مسالک دست و گریبان تھے تو 2010 میں خامنہ ای صاحب نے عالم اسلام کے لئے  ایک ایسا تاریخی فتوٰی دیا جس نے مسلمانوں کے درمیان کشیدگی اور کدورتوں کو ختم کرکے انھیں امت واحدہ بنا دیا۔

یہ تاریخی فتویٰ اہلسنت کے مقدسات کے بارے میں تھا۔ انھوں نے فتوٰی دیا کہ اہلسنت کے مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے۔ یہ ایک ایسا تاریخی فتویٰ تھا کہ جس کا عالم اسلام میں زبردست انداز میں خیر مقدم کیا گیا۔ اس فتوے کے عملی اور عالمی اثرات کا میں خود شاہد ہوں کیونکہ اس سلسلے میں خانہ فرہنگ ایران لاہور نے ایک کتاب چھاپی جسے ایڈٹ کرنے کا اعزاز مجھے حاصل ہے۔ بعد میں اس کتاب کو دوبارہ اسلامی ثقافتی قونصلیٹ اسلام آباد نے شائع کیا۔ اس سے مسلمانوں کے درمیان کدورتیں ختم ہوگئیں۔ اور وہ ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے۔ اور انھیں آپس میں لڑانے کی اس سازش کو بھی سمجھ گئے۔ غرض یہ فتویٰ ان کی زندگی کا وہ اہم ترین موڑ ہے، جس نے فرقہ واریت کی آگ بجھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 

رہبر معظم نے مسلمانوں کو دشمن کے ایک بہت ہی باریک نکتے اور وار  سے خبردار کیا۔ وہ فرماتے تھے کہ وہ شیعہ جو لندن سے بیٹھ کر اشتعال انگیزی کرتا ہے اور وہ سنی جو امریکہ کی شہ پر نفرت پھیلاتا ہے، دونوں اسلام کے دشمن اور استعمار کے ایجنٹ ہیں۔ انہوں نے "خالص محمدی اسلام" بمقابلہ "امریکی اسلام" کی اصطلاح متعارف کرائی۔ انہوں نے ایک بہت بڑا اور آسان  کلیہ دیا کہ "ہر وہ آواز جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرے، وہ چاہے کسی بھی گلے سے نکلے، وہ شیطان کی آواز ہے۔ ان کا یہ نظریہ امت کو فرقہ وارانہ تعصب سے نکال کر 'بصیرت' کی اس بلندی پر لے گیا جہاں دشمن کی ہر چال بے نقاب ہو گئی۔"

مجمع تقریب مذاہب اسلامی ادارے کا قیام بھی ان کے وحدت اسلامی کی کوششوں کا عملی اقدام ہے۔ "مجمع تقریب مذاہب اسلامی محض ایک ادارہ نہیں، بلکہ شہید سید علی خامنہ ای کے اس عالمی وژن کا عملی مظہر ہے جس کا مقصد امتِ مسلمہ کو مسلکی جنگوں سے نکال کر ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا ہے۔ رہبر بننے کے بعد وحدت اسلامی کی ان کا یہ پہلا اقدام تھا، جب ۱۹۹۰ء میں انہوں نے اس عالمی ادارے کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقصد علماء کو قریب لانا اور اسلامی فقہ کے درمیان مشترکات کو تلاش کرنا ہے۔ ہر سال "ہفتہ وحدت" کے موقع پر تہران میں ایک عظیم الشان "بین الاقوامی وحدتِ اسلامی کانفرنس" منعقد کی جاتی ہے۔ جس میں دنیا بھر سے سینکڑوں مفتیانِ کرام، سکالرز اور دانشور شرکت کرتے ہیں۔ یہ کانفرنس اس بات کا ثبوت بنتی ہے کہ خلافت ہو یا امامت، تمام مسلمان "کلمہ توحید" پر ایک ہیں۔ رہبر کے نزدیک مسئلہ فلسطین بھی وحدت کا سب سے بڑا مظہر ہے۔

انہوں نے مسلمانوں کو دعوت دی کہ مسلکی تفریق سے بالاتر ہو کر حماس اور جہاد اسلامی کی حمایت کی جائے۔ ان کا یہ موقف ثابت کرتا ہے کہ ایران کی حمایت کا معیار "مسلک" نہیں بلکہ "مظلومیت اور اسلام" ہے۔ مسئلہ فلسطین شہید سید علی خامنہ ای کی نگاہ میں"اسلامی غیرت" اور "عملی وحدت" کا سب سے بڑا امتحان تھا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ جب بات اسلام کے قبلہ اول کی ہو، تو شیعہ اور سنی کا فرق مٹ جاتا ہے۔ رمضان المبارک کا آخری جمعہ یوم القدس، وحدت کا عالمی دن مسلمانوں کے "نفسیاتی وحدت" کی وہ لہر ہے، جس کی آبیاری شہید خامنہ ای نے زندگی بھر حتٰی اپنے خون سے کی ہے۔ اس لئے مسلمانوں پر اس دن کی اہمیت اب کئی گنا اور بڑھ جاتی ہے۔

میری اپنی نظر میں رہبر کی تمام زندگی وحدت کا عملی نمونہ بنی رہی لیکن ان کی شہادت نے اس کو ایک نیا اور بھرپور موڑ دے دیا ہے۔ ان کی شہادت پر تمام عالم اسلام کا نہ صرف غم و غصے کا دیکھنے میں آیا بلکہ حقیقی طور پر عملی وحدت کا مظاہر ہ  بھی نظر آیا۔ موجودہ دور میں جس طرح اسلام کے اس واحد شیر نے دشمن کو للکارا بھی اور لتاڑا بھی اس کی مثال نہیں ملتی اور بے اختیار بلا تفریق و مسلک  تمام مسلمان رہبر کے معترف ہو گئے ہیں۔ شہادت کے واقعے نے مسلمانوں کو یہ تلخ حقیقت ایک بار پھر یاد دلائی کہ صیہونی اور استعماری طاقتیں کسی خاص مسلک کی دوست یا دشمن نہیں، بلکہ ہر اس آواز کی دشمن ہیں جو "لا الہ الا اللہ" کی بنیاد پر بلند ہوتی ہے۔

سید علی خامنہ ای نے اپنی  شہادت سے اس کلمے کی آبیاری کی ہے کہ ان کے بعد، ان کے صاحبزادے سید مجتبیٰ خامنہ ای کا بطور نئے رہبرِ انتخاب بلاشبہ ایک تاریخی اقدام ہے۔ منصب سنبھالنے کے بعد ان کے ابتدائی بیانات اور پیغامات میں اسی "وحدت" پر زور دیا گیا ہے جو ان کے والد کا خاصہ تھا۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں فلسطین اور اتحادِ اسلامی کی اہمیت پہلے کی طرح برقرار رہے گی۔ اس دور کے تیسرے خمینی تقریبی نظریات کو ہی آگے بڑھائیں گے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان شااللہ دشمن کبھی سکون کی نیند نہیں سو سکے گا۔

تحریر: حاجی شبیر احمد شگری

Read 4 times