اسلام میں شادی کی اہمیت

Rate this item
(0 votes)
اسلام میں شادی کی اہمیت

شادی انسانی حیات اور زندگی کے اہم مسائل کا حصہ اور لازمہ ہے، قران کریم ، مرسل اعظم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اور دیگر معصوم اماموں علیھم السلام سے منقول روایتوں میں شادی کی کافی ترغیب دلائی گئی ہے ، قران کریم کا اس سلسلہ میں ارشاد ہے کہ " وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ " (۱) اور اپنے غیر شادی شدہ آزاد افراد اور اپنے غلاموں اور کنیزوں میں سے باصلاحیت افراد کے نکاح کا اہتمام کرو کہ اگر وہ فقیر بھی ہوں گے تو خدا اپنے فضل و کرم سے انہیں مالدار بنادے گا کہ خدا بڑی وسعت والا اور صاحب علم ہے ۔ اور رسول خدا (ص) کا اس سلسلہ میں ارشاد ہے کہ " تَنَاكَحُوا تَنَاسَلُوا تَكْثُرُوا فَإِنِّي أُبَاهِي بِكُمُ اَلْأُمَمَ يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ وَ لَوْ بِالسِّقْطِ " (۲) نکاح (شادی) کرو، نسلوں کو بڑھاو کہ میں قیامت کے دن اپنی امت کی کژت پر فخر و مباہات کروں گا ولو ساقط شدہ بچہ ہو۔ ایک دوسری روایت میں آنحضرت سے منقول ہے کہ اپ نے فرمایا " اذا تزوج الرجل احرز نصف دینه ، جس انسان نے شادی (نکاح) کرلیا اس نے اپنا آدھا ایمان محفوظ کرلیا ۔ (۳) نیز رسول اسلام (ص) نکاح اور شادی کی اھمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا : یفتح ابواب السماء بالرحمة فی اربع مواضع: عند نزول المطر، و عند نظر الولد فی وجه الوالدین، و عند فتح باب الکعبة، و عند النکاح ۔ (۴) چار موقع پر رحمت الھی کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں :

۱: بارش کے وقت ۔

۲: جب اولاد ماں اور باپ کے چہرہ کو بغور دیکھتی ہے ۔

۳: جب خانہ کعبہ کا دروازہ کھولا جاتا ہے ۔

۴: جب عقد اور شادی کی رسم اجرا ہوتی ہے ۔

اور امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے شادی کی اہمیت کے سلسلہ میں فرمایا "افضل الشفاعات ان تشفع بین اثنین فی نکاح یجمع الله بینهما ؛ بہترین وساطت یہ ہے کہ لڑکے اور لڑکی کے درمیان [ یا اسکے گھرانے و خاندان] کے درمیان وساطت کی جائے تاکہ دونوں کی شادی ہوسکے ۔ (۵) اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس سلسلہ میں فرمایا کہ "من ترک التزویج مخافة الفقر فقد اساء الظن بالله - عزوجل - ان الله- عزوجل - یقول: «ان یکونوا فقراء یغنهم الله من فضله ؛ اگر کوئی فقر و تنگدستی کی وجہ سے شادی نہ کرے تو گویا ہو لطف الھی اور خداوند متعال کی بہ نسبت بدگمان ہوا ہے کیوں کہ اس نے فرمایا ہے کہ اگر وہ فقیر بھی ہوں گے تو خدا اپنے فضل و کرم سے انہیں مالدار بنادے گا ۔ (۶) اور امام کاظم علیہ السلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ " ثلاثة یستظلون یظل عرش الله یوم القیامة، یوم لا ظل الا ظله: رجل زوج اخاه المسلم او اخدمه او کتم له سرا " (۷)

تین گروہ ایسا ہے جو قیامت کے دن کہ جس دن خدا کے سوا کوئی انسان کا پشت و پناہ اور اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ، خدا کے زیر سایہ اور اس کی پشت پناہی میں ہوں گے :

۱: جو کسی مسلمان کی شادی کا زمینہ فراھم کرے ۔

۲: جو اپنے مسلمان بھائی کی خدمت کرے ۔

۳: جو مسلمان بھائی کے سر پر سائبان تنے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ:
۱: قران کریم ، سورہ نور ، ایت ۳۲
۲: شعیری ، شیخ تاج‌ الدین محمد ، جامع الأخبار، ج۱ ،  ص ۱۰۱
۳: نوری ، میرزا حسین ، مستدرک الوسائل، ج ۱۴، ص ۱۵۴
۴: مجلسی ، محمد باقر، بحار الانوار، ج ۱۰۳، ص ۲۲۱
۵: شیخ طوسی ، تهذیب، ج ۷، ص ۴۰۵ ۔
۶: شیخ صدوق ، من لا یحضره الفقیه، ج ۳، ص ۲۵۱
۷: شیخ حر عاملی ، وسائل الشیعه، ج ۲۰، ص ۴۶

 
Read 113 times

Add comment


Security code
Refresh