ماضی میں باپ خاندان کے اندر نظم و ضبط اور ذمہ داری جیسی بنیادی قدروں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری نبھایا کرتا تھا۔ وہ خصوصاً اپنے بچوں کو اس قابل بناتا تھا کہ جب وہ گھریلو ماحول سے باہر قدم رکھیں تو زندگی کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ذمہ داری کے ساتھ معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ پھر یہی بچے اساتذہ کے سپرد کیے جاتے تھے، جو تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی اصولوں، سماجی قوانین اور نظم و ضبط کی پابندی کرانے میں باپ ہی کا سا کردار ادا کرتے تھے۔ اس طرح گھر میں باپ کی ذمہ داریاں اور معاشرے میں استاد کا کردار، عورت کی فطری اور بنیادی ذمہ داریوں کے ساتھ مل کر ایک متوازن اور مکمل خاندانی نظام تشکیل دیتے تھے۔
لیکن آج یہ توازن بُری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ گھر ہو یا سکول، دونوں میدانوں میں باپ کا کردار کمزور پڑتا جا رہا ہے، اور تربیت کا پورا بوجھ صرف ماں کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ یہی عدمِ توازن مغربی معاشروں میں پروان چڑھنے والی نوجوان نسل کے اندر پیدا ہونے والے گہرے نفسیاتی بحران اور اخلاقی انحرافات کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔
فرانس ہی کی مثال لیجیے کہ جہاں علیحدگی اختیار کرنے والے والدین کے ۸۰ فیصد بچے صرف اپنی ماؤں کے ساتھ رہتے ہیں، جبکہ ۱۶فیصد اپنے باپ کو کبھی نہیں دیکھتے، اور ۱۶ فیصد ایک ماہ میں ایک بار سے بھی کم اپنے پاب سے ملاقات کر پاتے ہیں۔ (ماخذ: "جدل النسوية والذكورية"، ص115)
مغربی معاشروں میں اگر باپ کا کردار ہے بھی تو یہ صرف مالی اخراجات کی ادائیگی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اوریا پھر بچوں سے ہفتہ وار وہ مختصر ملاقاتیں جن میں باپ کے لیے تربیت کا بنیادی کردار ادا کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ وہاں ایک اصطلاح بھی عام ہو چکی ہے کہ "اتوار والے باپ" یعنی وہ باپ جو صرف اتوار کی چھٹی کے موقع پر بچوں سے ملتے ہیں، اور یہ ملاقات بھی محض چند تفریحی سرگرمیوں تک محدود رہتی ہے کسی روزمرہ تربیت کا حصہ نہیں ہوتی۔مزید یہ کہ جن خاندانوں میں ماں اور باپ دونوں گھر میں موجود ہوتے ہیں، وہاں بھی باپ اکثر عملی طور پر تربیتی ذمہ داریوں سے دور ہی رہتا ہے۔
آج مغربی معاشرے میں ایک خاص خاندانی ماڈل کو ’’جدید نظریات‘‘ کے نام پر فروغ دیا جا رہا ہے، جس میں ماں کو بچوں کی زندگی کے تقریباً ہر پہلو کی ذمہ دار ٹھہرا دیا گیا ہے جس میں خوراک اور لباس سے لے کر صحت و اخلاق کی نگرانی تک، اسباق کی پیروی سے لے کر اساتذہ اور اسکول انتظامیہ سے رابطے تک، حتیٰ کہ بچوں کو اسکول لانے لے جانے اور روزمرہ ضروریات کی خریداری تک ہر ذمہ داری ماں کے کاندھوں پر ہی ڈال دی گئی ہے۔
اس کے برعکس، باپ اپنے بچوں کے لیے محض چند لمحے اور معمولی سی توجہ کا موقع نکال پاتا ہے حتی کہ وہ اگر گھر میں بھی موجود ہو بھی تو بھی عموماً شام کو ٹی وی کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر فٹبال میچ دیکھنے میں مشغول رہتا ہے۔
یہ صورتِ حال صرف ان گھروں تک محدود نہیں جہاں باپ باہر ملازمت کرتا ہے اور ماں گھر پر ہوتی ہے، بلکہ اُن خاندانوں میں بھی یہی منظر نظر آتا ہے جہاں میاں اور بیوی دونوں تقریباً یکساں وقت کے ساتھ بیرونِ خانہ ملازمت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود عورت ہی اپنے بچے کی پرورش اور دیکھ بھال کے لیے اپنا باقی ماندہ وقت وقف کرتی ہے۔ مغرب میں ایسی عورت کو "ڈبل ذمہ داری اٹھانے والی ماں" کہا جاتا ہے۔
مزید تشویش ناک صورتحال یہ ہے کہ ماں اور بچوں کے درمیان یہ حد سے زیادہ انحصار اور لگاو صرف ابتدائی عمر تک محدود نہیں رہتا جیسا کہ اسلام میں ہے کہ بچے کا فطری تعلق ابتدائی بچپن تک ماں سے زیادہ ہوتا ہے بلکہ اس کے برعکس مغربی معاشروں میں یہ تعلق جوانی تک جاری رہتا ہے۔ اس رجحان کو "حد سے زیادہ پرورش کرنے والی ماؤں "کہا جاتا ہے، جو شدید نفسیاتی مسائل کو جنم دیتا ہے۔
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بچوں کی پرورش و نگہداشت میں عورت کا مرکزی کردار کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ ہمیشہ سے چھوٹے بچوں کی پرورش کا حق اور فطری طورپر یہ اہلیت عورت کے پاس رہی ہے، اور یہی خاندان کے توازن کا ایک حصہ تھا۔ مگر اس کے باوجود پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ گھر کی اقدار اس حد تک عورت کے رحم و کرم کے تابع ہوجائیں جیسا کہ آج کے مغربی معاشرے میں نظر آ رہا ہے۔
لہٰذا اصل مسئلہ دو بنیادی باتوں میں پوشیدہ ہے:
اوّل: جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا، بچوں کی نگہداشت کا یہ سلسلہ بچپن سے بڑھ کر نوجوانی اور جوانی کی عمر تک پھیل جانا۔
دوم: خاندان اور معاشرے میں مرد و عورت کے کرداروں کا بنیادی طور پر بدل جانا۔ یعنی دونوں نے اپنے اپنے روایتی اور فطری کردار ترک کر کے نئے کردار اختیار کر لیے ہیں اور یہ سب مکمل صنفی مساوات کے نام پر کیا گیا۔
مندرجہ بالا گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مغربی معاشرے میں خاندانی مسائل کی وجہ بچوں کی پرورش کا فقدان نہیں بلکہ باپ اور ماں کے تربیتی کرداروں میں توازن کا بگڑ جانا ہے۔ باپ کے کردار کو غیر تربیتی بنا دینا، ماں کی سرپرستی کو فطری حدود سے آگے بڑھا دینا، اور فطری خاندانی ڈھانچے کو صنفی برابری کی آڑ میں توڑ دینا ۔ان سب عوامل نے ایک ایسی نسل پیدا کر دی ہے جو نفسیاتی مسائل اور شدید اخلاقی کمزوری کا شکار ہے۔
لہٰذا یہ ضروری ہے کہ باپ کی ذمہ داری کو صرف اخراجات کی فراہمی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے تربیت کا بنیادی ستون تسلیم کیا جائے۔کیونکہ خاندان کے اندراس کے فطری کرداروں میں دوبارہ توازن قائم کرنا ہی بچوں اور معاشرے کی نفسیاتی و سماجی صحت کی بحالی کی واحد مؤثر راہ ہے۔
شیخ مصطفیٰ الہجری




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
