رہبرانقلاب اسلامی : اتحاد عالم اسلام کی اہم ضرورت

Rate this item
(0 votes)

رہبرانقلاب اسلامی : اتحاد عالم اسلام کی اہم ضرورت

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اتحاد کو عالم اسلام کی آج کی اہم ترین ضرورت قرار دیا اور تاکید فرمائی کہ دشمن کا اصلی منصوبہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا اور مغربی خفیہ اداروں کے منصوبوں کے ساتھ ہماہنگ ہوتے ہوئے اسلام دشمنی کو ہوا دینا ہے ۔ عید سعید بعثت کی مناسبت سے تھران میں اعلی حکومتی عہدیداروں اورمختلف ملکوں کے سفیروں اورشہداء کے اہل خانہ نے رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی ۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس موقع پر عید سعید مبعث کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے موجودہ صورت حال میں امت اسلامیہ کی اہم ترین ذمہ داری ، ہوشیاری اور اپنے راستے اور دشمن کے منصوبہ کی مکمل شناخت قرار دیا اور فرمایا کہ دشمن کا اصلی منصوبہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا اور انہیں آپس میں دست وگریبان کرنا ہے ، اس بنا پر عالم اسلام کی اہم ترین ضرورت ، اتحاد و اتفاق قائم رکھنا اور باہمی تعاون اور ہمدلی ہے ۔ اس وقت دنیا بھر خاص طور پر شمالی افریقہ و مشرق وسطی کے اہم سوق الجیشی علاقے میں اسلامی بیداری کی بابرکت لہر نے ، اسلامی ملکوں کے مستقبل کو روشن کردیا ہے ۔ڈکٹیٹروں اور تسلط پسند حکومتوں کے حکمرانوں کی سالہاسال کی حکمرانی کے بعد ، قوموں نے ان حکومتوں اور ان کی حامیوں کی سازشوں کو بھانپتے ہوئے ، دو سال قبل سے مسلمانوں کے لئے ، حق پسندی اور سعادتمندانہ زندگی کے راستے کا انتخاب کرلیا ہے ۔ اسلامی بیداری کی لہر ، مصر کہ جو امریکہ و اسرائیل کے مفادات کے محافظ ملک کے عنوان سے معروف تھا شروع ہوئی اور مرحلہ وار علاقائی ملکوں منجملہ تونس اوربحرین تک پھیل گئی اور اسلامی بیداری کی اس لہر نے تسلط پسند نظاموں اور صہیونیوں کو وحشت زدہ کردیا ہے ۔ امریکہ و اسرائیل نے مصر کے انقلاب کی کامیابی کے ساتھ ہی اس ملک میں اپنے مفادات کو خطرے میں دیکھتے ہوئے ، مصر کے عوامی انقلاب کو نقصان پہنچانے کے لئے ، ہر قسم کے حربے کو استعمال کیا ۔ اگر چہ دشمنان اسلام مصر اور دیگر ملکوں کے عوامی انقلاب کو کنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ، لیکن مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ خفیہ اداروں کے تعاون کے دائرے اور مختلف سازشوں کے ذریعے امریکی و صہیونی مخالف انقلابات کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کریں ۔ آج کے دور میں علاقے میں عوامی انقلابات کی لہر کے منظم ہونے کے ساتھ ہی ، صہیونیوں کے پالیسیوں کے خلاف احساسات میں اضافہ ہوگیا ہے اور قومیں ، مختلف عرب و افریقی ملکوں میں احتجاجی مظاہروں میں ، امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اپنے شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے نعرے لگارہی ہیں ۔ مصر میں اسرائیل کے سفارت خانے پر حملہ ، مسلمانوں کے مشترکہ دشمن کے عنوان سے صہیونی حکومت کے خلاف عوامی تحریک کی صرف ایک مثال ہے ۔ عالم اسلام کے دشمن خاصطور پر امریکہ و اسرائیل نے اس موضوع کو سمجھتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کروانے کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرلیا ہے ۔ رہبر انقلاب اسلامی کے تعبیر کے مطابق ، دشمن کا اصلی منصوبہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ہے تاکہ امت اسلامیہ کی توجہ ، دشمنوں کے اصلی مراکز یعنی فاسدو خراب سرمایہ داری ، غاصب و خون خوار صہیونی حکومت اور اسی طرح اسلامی معاشرے کی ترقی و پیشرفت سے ہٹائی جائے۔اسی طرح اگر شام کے خود ساختہ بحران اور مصر ، تیونس ، لیبیا اور یمن کے عوامی انقلاب کے حوالے سے امریکہ و اسرائیل کی پالیسیوں کی شکست پر گہری نظر ڈالی جائے تو مسلمانوں کے خلاف ان کی واضح سازشوں کا پتہ چل جاتا ہے ۔شام سالہاسال سے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی فرنٹ لائن پر ہے ، اور آج ایک میدان جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ عالم اسلام کے دشمن ، مسلمان نما انتہا پسند گروہوں منجملہ القاعدہ نیٹ ورک سے وابستہ عناصر کو شام کے مختلف علاقوں میں بھیج رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کریں اور اپنی شرمناک سازشوں کو عملی جامہ پہنائیں ۔ اس صورت حال میں اسی طرح جیسے رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید فرمائی ہے

Read 1564 times

Add comment


Security code
Refresh