امت اسلامی کا اتحاد اہم ہے

Rate this item
(0 votes)

شیعہ سنی علماء سے خطاب،15/01/2007

 

دوسرانکتہ "ہمارے زمانے میں امت اسلامی کا اتحاد "ہے یہ اہم نکتہ ہے ہم نے نہ صرف انقلاب کے زمانے سے بلکہ انقلاب سے کئی برس قبل شیعہ اور سنی بھائيوں کے دلوں کو نزدیک کرنے اورسب کو اس اتحاد کی اہمیت سے آگاہ کرنے کی غرض سے کوششیں شروع کی تھیں میں نے بلوچستان میں " انقلاب سے برسوں قبل جب میں وہاں شہربدرکرکے بھیجا گياتھا " مرحوم مولوی شہداد کو (جو کہ بلوچستان کے معروف علماء میں سے تھے اور بلوچستان کے لوگ ان کو پہچانتے ہیں،فاضل شخص تھے اس زمانے میں سراوان میں تھے اور میں ایرانشہرمیں تھا)پیغام بھیجا کہ آئيں موقع ہے بیٹھتے ہیں اور اہل سنت و اہل تشیع کے درمیان علمی، حقیقی اور قلبی اور واقعی اتحاد کے اصول بناتے ہیں انہوں نے بھی میری تجویزکاخیر مقدم کیا لیکن بعد میں انقلاب کے مسائل پیش آگۓ،انقلاب کی کامیابی کے بعد ہم نے جو نمازجمعہ کے موضوع پر پہلی کانفرنس کی تھی اس میں مولوی شہداد سمیت اہل سنت کے بعض علماءبھی شریک تھے بحث و گفتگو ہوئي اور ان مسائل پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

تعصبات کی بناپر دوطرح کے عقیدوں کے حامیوں میں اختلاف ہونا ایسا امر ہے جوفطری ہے اور یہ شیعہ و سنی سے مخصوص نہیں ہے خود شیعہ فرقوں اور سنی فرقوں کے مابین ہمیشہ سے اختلافات موجود رہے ہیں تاریخ کا جائزہ لیں دیکھیں گے کہ اہل تسنن کے اصولی اور فقہی فرقوں جیسے اشاعرہ ، معتزلہ جیسے حنابلہ احناف اور شافعیہ کے درمیان اختلاف رہا ہے اسی طرح شیعوں کے مختلف فرقوں کے مابین بھی اختلافات رہے ہیں ،یہ اختلافات جب عام لوگوں تک پہنچتےہیں تو خطرناک رخ اختیارکرلیتے ہیں لوگ دست بہ گریباں ہوجاتے ہیں ،علماء باہم بیٹھتے ہیں گفتگو کرتے ہیں بحث کرتے ہیں لیکن جب علمی صلاحیت سے عاری لوگوں کی بات آتی ہے تو وہ جذبات تشدد اور مادی ہتھیاروں کا سہارالیتے ہیں اور یہ خطرناک ہے ۔دنیا میں یہ ہمیشہ سے ہے مومنین اور خیرخواہ لوگوں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اختلافات کاسد باب کریں ،علما‏ء اور سربرآوردہ شخصیتوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ عوام میں تصادم نہ ہونے پائے لیکن حالیہ صدیوں میں ایک اور عامل شامل ہوگیاجو استعمار ہے میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ ہمیشہ شیعہ سنی اختلافات سامراج کی وجہ سے تھے ایسا نہیں ہے مسلمانوں کے جذبات بھی دخیل تھے ،بعض جہالتیں بعض تعصبات بعض جذبات بعض کج فہمیاں دخیل رہی ہیں لیکن جب سامراج میدان میں اترا تو اس نے اختلافات کےحربے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا ۔

اس بناپر آپ دیکھتے ہیں کہ سامراج اور استکبارکے خلاف جدجہد کرنے والی ممتازشخصیتوں نے امت اسلامی کے اتحاد پر بے حد تاکید کی ہے ،آپ دیکھیں سید جمال الدین اسد آبادی ر|ضوان اللہ علیہ المعروف بہ افغانی اور ان کے شاگرد شیخ محمد عبدہ اور دیگرشخصیتوں اور علماءشیعہ سے مرحوم شرف الدین عاملی اور دیگر بزرگوں نے سامراج کے مقابلے میں کس قدر وسیع کوششیں کی ہیں کہ یہ سامراج کے ہاتھ میں یہ آسان وسیلہ عالم اسلام کے خلاف ایک حربے میں تبدیل نہ ہوجائے،ہمارے بزرگ اور عظيم رہنما حضرت امام خمینی(رہ) ابتداء ہی سے امت اسلامی کے اتحاد پر تاکید کیا کرتےتھے سامراج نے اس نقطہ پر آنکھیں جمائے رکھیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا۔

 

Read 1467 times

Add comment


Security code
Refresh