حضرت زینبؑ کی استقامت اور بصیرت نے عاشورا کے پیغام کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ کردیا Featured

Rate this item
(0 votes)
حضرت زینبؑ کی استقامت اور بصیرت نے عاشورا کے پیغام کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ کردیا

مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک: اسلامی تاریخ میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا صبر، بصیرت اور ذمہ دارانہ قیادت کی روشن مثال ہیں۔ واقعہ عاشورا کے بعد حضرت زینبؑ کی استقامت، فکری بصیرت اور حالات کو سنبھالنے کی صلاحیت نے نہ صرف امام حسینؑ کی تحریک کو زندہ رکھا بلکہ سوئی ہوئی اجتماعی فکر کو بھی جھنجھوڑ کر بیدار کر دیا۔  حضرت زینبؑ کا صبر محض مصیبت برداشت کرنا ہی نہیں بلکہ یہ ایک باشعور صبر تھا جو ظلم کے مقابل ڈٹ جانے، حق کو بیان کرنے اور باطل کے پردے چاک کرنے سے کا نام ہے۔ کوفہ اور شام کے درباروں میں آپؑ کے خطبات نے اموی حکومت کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا اور عوامی رائے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔

 حضرت زینبؑ کا تاریخی جملہ «ما رأیتُ إلّا جمیلا» اس بات کی دلیل ہے کہ آپؑ کو شہادت امام حسینؑ کے فلسفے کا مکمل ادراک تھا اور آپؑ نے دینِ اسلام کی بقا کے لیے ہر قربانی کو حُسنِ مطلق کے طور پر قبول کیا۔ یہی شعوری صبر اور فکری پختگی نہضتِ عاشورا کی ماندگاری اور امت کی بیداری کا بنیادی سبب بنی۔

حضرت زینبؑ کے صبر اور عام انسانوں کے صبر میں کیا فرق ہے؟

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے صبر کی توضیح میں صبر کے دقیق اور عمیق مفہوم پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔ دینی نگاہ میں صبر صرف دکھ اور تکلیف کو برداشت کرنے یا ایک جذباتی بردباری کا نام نہیں، بلکہ صبر ایک با شعور استقامت اور پائیداری ہے جو بحران کے مؤثر نظم و نسق کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ یہی وہ صبر ہے جو انسان کو ایک باوقار، فکری طور پر بالغ اور ذمہ دار شخصیت میں ڈھال دیتا ہے۔

اسی بنیاد پر حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا صبر کوئی عام صبر نہیں، بلکہ آگاہی، ذمہ داری اور بحرانی حالات کی دانشمندانہ مدیریت سے آراستہ ایک بے مثال نمونہ ہے۔ عاشورا کے دن اس عظیم خاتون نے بنی ہاشم کے اٹھارہ نوجوانوں کی شہادت کا منظر دیکھا؛ وہ نوجوان جو ان کے قریبی رشتہ دار تھے، کوئی بھائی، کوئی بیٹا، کوئی بھتیجا اور کوئی قریبی عزیز۔

حضرت عباس اور حضرت امام حسین علیہ السلام جیسے عظیم ہستیوں کی شہادت کے ساتھ ساتھ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے دو فرزند بھی راہِ خدا میں قربان کیے، اور اپنے بھائی کے فرزندوں، جن میں علی اکبر، قاسم بن حسن اور عبداللہ بن حسن شامل ہیں، کی شہادت کی گواہ بھی بنیں۔ ان تمام مصائب کے ساتھ اموی حکومت کی شدید اور منظم پروپیگنڈا مہم نے حالات کو غیر معمولی طور پر دشوار بنا دیا تھا۔

اس کے باوجود حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا کے اسیر قافلے کی سرپرستی کی ذمہ داری سنبھالی اور 80 سے زائد عورتوں اور بچوں کو دوران اسیری عزت، وقار اور تدبیر کے ساتھ سنبھالا؛ یہاں تک کہ نہ صرف ان کی حرمت محفوظ رہی بلکہ کسی کو گستاخی یا حتی قریب آنے کی بھی جرأت نہ ہوئی۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا گہرے غم اور عزاداری کے عالم میں بھی، جب اپنے بھائی کے سر مطہر کو نیزے پر بلند دیکھا، تو دردناک اشعار کے ذریعے اپنے دل کا کرب بیان کیا، مگر اپنی ذمہ داری سے کبھی غافل نہ ہوئیں۔ اسیروں کا قافلہ جب کوفہ میں داخل ہوا تو شہر خوشی اور ہلہ گلہ کے شور سے گونج رہا تھا، لیکن زینب کبری سلام اللہ علیہا کی بصیرت افروز خطبات نے اس فضا کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔

حضرت زینبؑ نے سخت ترین حالات میں اپنی سیاسی و سماجی بصیرت کیسے برقرار رکھی؟

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کوفہ کے سماجی حالات کا گہرا اور درست ادراک رکھتے ہوئے، پیغام عاشورا کی رسانی کے لیے شہر کی خواتین کو مخاطب بنانے کی حکمت عملی اختیار کی؛ اس لیے کہ کوفہ کے مرد پہلے ہی امام حسین علیہ السلام کے براہ راست مخاطب تھے اور اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے انکار کرچکے تھے۔ چنانچہ حضرت زینبؑ نے ایک واضح، جرات مندانہ اور ولولہ انگیز خطبے کے ذریعے کوفہ کے لوگوں کو ان کی خیانت، فریب اور بے وفائی پر جھنجھوڑا۔

اس خطبے کا اثر اتنا گہرا تھا کہ تاریخی روایات کے مطابق پورے شہر پر ایک خوفناک خاموشی طاری ہوگئی، یہاں تک کہ اونٹوں کی گھنٹیوں کی آواز بھی سنائی دینا بند ہوگئی۔ کوفہ کے حاکم عبیداللہ بن زیاد بھی اس روحانی عظمت کے سامنے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور بے اختیار کہہ اٹھا: یوں محسوس ہوتا ہے جیسے علی کی روح اپنی بیٹی کے وجود میں زندہ ہوگئی ہو۔

ان خطبات کے نتیجے میں عوامی شعور بیدار ہوا اور اس سے پہلے کہ مرد اپنے گھروں کو لوٹتے، پیغام عاشورا لوگوں کے دلوں میں اتر چکا تھا۔ کوفہ خوشیوں کے شہر سے ایک سوگوار بستی میں بدل گیا، اور کوفی خواتین اس جنایت کی سنگینی کو سمجھ گئیں جس کے مرتکب ان کے شوہر بنے تھے۔

یہ تمام واقعات حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے اسی صبر اور مدبرانہ طرزعمل کا نتیجہ تھے۔ ایسا صبر جو اطاعت میں استقامت، معصیت سے اجتناب اور مصیبت میں ثابت قدمی تینوں پہلوؤں کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھا، اور جس نے ایک غفلت زدہ معاشرے کو جھنجھوڑ کر بدل دیا۔

حضرت زینبؑ اتنے دردناک حالات میں بھی «ما رأیتُ إلّا جمیلاً» کیسے کہہ سکیں کہ انہیں سب کچھ خوبصورت دکھائی دیا، اور یہ جملہ ان کے ایمان کی کس بلندی کو ظاہر کرتا ہے؟

حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے منقول مشہور جملہ «ما رأیتُ إلّا جمیلاً» نہایت وضاحت کے ساتھ اس بلند مقام رضا اور کامل تسلیم و رضا کو بیان کرتا ہے جو انہوں نے اپنے عظیم بھائی حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کے معرفتی مکتب میں سیکھا تھا۔ یہ کوئی عام یا معمولی جملہ نہیں، بلکہ ایک خاص اور ممتاز کلام ہے، جس کی حقیقت اور عظمت کو سمجھنے کے لیے اس مجلس کے ماحول کو درست طور پر سمجھنا ضروری ہے جہاں یہ جملہ ادا ہوا۔

وہ مجلس یزید کی مجلس تھی؛ ایسی محفل جو اموی حکومت کی ظاہری فتح کے اظہار کے لیے منعقد کی گئی تھی، اور جس میں اس دور کے اوباش، لمپن اور آلودہ کردار رکھنے والے لوگ مبارک باد اور خوشی کے اظہار کے لیے جمع تھے۔ یزید کو یہ خبر مل چکی تھی کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کوفہ میں کس طرح ایک فکری طوفان برپا کیا، کیسے مردوں کے گھروں کو لوٹنے سے پہلے پیغامِ عاشورا کو دلوں تک پہنچا دیا، اور خوشیوں میں ڈوبا ہوا شہر ایک سوگوار بستی میں بدل دیا۔ اسی احساسِ شکست اور غصے کے زیرِ اثر یزید نے اس مجلس میں اس عظیم خاتون سے انتقام لینے کا ارادہ کیا۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے دورانِ اسارت جس شہر، گاؤں یا آبادی میں قدم رکھا، وہاں اپنے بھائی کی مظلومیت بیان کی اور لوگوں کے دلوں کو امام حسین علیہ السلام کے قیام کی حقیقت کی طرف مائل کیا۔ یہی مسلسل روشنگری تھی جس نے یزید کو مجبور کیا کہ سب سے پہلے ایک تحقیر آمیز جملے کے ذریعے حضرت زینبؑ کا حوصلہ توڑنے کی کوشش کرے۔ چنانچہ اس نے کہا: “دیکھا، خدا نے تمہارے بھائی کے ساتھ کیا کیا؟” اس کے جواب میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا: «ما رأیتُ إلّا جمیلاً»، یعنی میں نے سوائے خوبصورتی کے کچھ نہیں دیکھا۔ یہ جملہ اس عظیم خاتون کے قلبی اطمینان، معرفتِ الٰہی اور بلند روحانی مقام کی گواہی دیتا ہے۔

لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حضرت زینبؑ کی نظر میں خوبصورتی صرف ظاہری شکل تک محدود نہیں تھی۔ خوبصورتی ایک گہری حقیقت ہے، جس کی جڑیں انسان کی روح اور معرفت میں پیوست ہوتی ہیں۔ اس جملے کا مفہوم یہ ہے: اے یزید! خدا نے تمام بھائیوں میں سے میرے بھائیوں کو چن لیا، تمام بیٹوں میں سے میرے بیٹوں کو منتخب کیا، اور بنی ہاشم کے تمام جوانوں میں سے انہی کو اس لائق سمجھا کہ ان کا خون درختِ اسلام کی آبیاری کے لیے بہایا جائے۔ ہم خاندانِ نبوت ہیں؛ اسلام ہمارے ذریعے زندہ رہا، پروان چڑھا، اور تم جیسے اوباش، ظالم اور بدکار لوگوں کے مقابل ڈٹ کر کھڑا رہا، تاکہ دین اور قرآن لوگوں کے درمیان سے مٹ نہ جائیں۔

اس سے بڑی خوبصورتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان یہ دیکھے کہ اس کے عزیزوں کا خون راہِ خدا میں بہنے کے لائق ٹھہرا اور تاریخ ساز بن گیا۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا اسی نگاہ سے اپنے بھائیوں، فرزندوں اور عزیزوں کی شہادت کو دیکھتی تھیں؛ وہ اسے شکست نہیں بلکہ حسنِ الٰہی کا ظہور سمجھتی تھیں، اور اسی یقین کے ساتھ کہتی تھیں: «ما رأیتُ إلّا جمیلاً»۔

اسلامی تاریخ کے اس درخشاں کردار میں آج ہمارے لیے کیا درس ہے؟

یہی حقیقت ہمیں آج بھی شہداء کے خاندانوں کے طرزِ عمل میں صاف دکھائی دیتی ہے۔ وہ ماں جو اپنے شہید بیٹے کے جسدِ خاکی کے پاس کھڑی ہو کر کہتی ہے: “بیٹا، تمہیں نیا ٹھکانہ مبارک ہو”، یا وہ زوجہ جو اپنے شوہر کی شہادت پر مبارک باد دیتی ہے۔ یہ مبارک باد دراصل اسی حقیقت کا ترجمہ ہے جسے حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے بیان فرمایا تھا؛ یعنی تم نے وہ راستہ چُنا جس کے نمونے امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام ہیں، اور تم نے خود کو اس بلند مقام تک پہنچانے کی کوشش کی۔

شہداء کے خاندانوں کی جانب سے مبارک باد دینے کا مفہوم یہ ہے کہ تمہارا خون اس قدر قیمتی ٹھہرا کہ وہ اسی راہ میں بہا جس میں تم سے پہلے امیرالمؤمنین، امام حسین، امام حسن، علی اکبر اور حضرت عباس علیہم السلام کا خون بہایا گیا۔ اس سے بڑھ کر کون سا اعزاز ہو سکتا ہے کہ خداوندِ متعال اپنے بندے کی جان اور مال کو خرید لے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

«إِنَّ اللَّهَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ»۔

اللہ تعالیٰ اس سودے پر خود مبارک باد دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس الٰہی خرید و فروخت کی بشارت دو۔ لہٰذا جب شہداء کے خاندان اپنے عزیزوں کی قبروں کے پاس ان کو مبارک باد دیتے ہیں تو درحقیقت وہ اسی الٰہی کلام کو دہراتے ہیں اور مقام رضا کو عملا پیش کرتے ہیں۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے «ما رأیتُ إلّا جمیلاً» کہہ کر یہ دکھانا چاہا کہ مقامِ رضا کتنا بابرکت اور بلند مرتبہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو انسان کو اس منزل تک پہنچا دیتا ہے جہاں تمام غموں اور مصیبتوں کے باوجود ہر چیز خوبصورت دکھائی دیتی ہے، کیونکہ وہ سب کچھ اللہ کی مشیت اور تقدیر کے تحت ہوتا ہے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں کوئی ناگوار چیز نظر نہیں آتی، اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اسی دنیا میں اس مقام کو پا لیا تھا۔

اسی ایک جملے کے ذریعے حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے نہ صرف یزید کی سازش کو ناکام بنایا بلکہ اس کی سوچ اور شخصیت کو تاریخ اور انسانیت کے سامنے ہمیشہ کے لیے مجرم ٹھہرا دیا۔ جیسا کہ امام سجاد علیہ السلام نے بھی فرمایا: «القتل لنا عادة»؛ شہادت ہمارے لیے ایک عادت ہے اور ہماری کرامت شہادت ہی میں ہے، کیونکہ اللہ مؤمنوں کی جانوں کا خریدار ہے۔

Read 15 times