حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی معاشرے میں لڑکیوں کے کردار، ذمہ داریوں اور مقام کے حوالے سے رہبرِ شہیدِ انقلاب کے بیانات کو دوبارہ سامنے لایا گیا ہے، جن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ لڑکیاں نہ صرف معاشرے کا اہم حصہ ہیں بلکہ وہ اس کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی اسلامی شناخت، عفت و حیا اور اخلاقی اقدار کو برقرار رکھیں۔
رہبرِ شہیدِ انقلاب نے واضح کیا کہ لڑکیوں کے لیے تعلیم، سماجی خدمات، سیاست، صحافت اور دیگر میدانوں میں آگے بڑھنے کے دروازے کھلے ہیں۔ اگر کوئی لڑکی ڈاکٹر بننا چاہتی ہے، تدریس کے شعبے میں آنا چاہتی ہے یا سماجی و سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہتی ہے تو اسے مکمل حق حاصل ہے، لیکن اس کے ساتھ اسلامی حدود، خصوصاً عفت و حجاب کی پابندی ضروری قرار دی گئی ہے۔ ان کے مطابق مردوں کی طرح خواتین بھی معاشرے کے مسائل کے بارے میں ذمہ داری محسوس کریں اور ان کے حل میں حصہ لیں۔
بیانات میں لڑکیوں کو حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی سیرت کو اپنانے کی تلقین کی گئی ہے، تاکہ وہ اپنی شخصیت اور شناخت کو مضبوط بنا سکیں۔ اسی طرح خواتین کو یہ ذمہ داری بھی دی گئی ہے کہ وہ اسلامی خاتون کے اعلیٰ کردار کو دنیا کے سامنے پیش کریں اور ایک مثبت مثال قائم کریں۔
رہبرِ شہیدِ انقلاب نے تعلیم کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کو پڑھائی، تحقیق، دینی شعور اور سیاسی بیداری پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق یونیورسٹیاں خواتین کی علمی ترقی کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتی ہیں، جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی طالبات اور اساتذہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں اسلامی ماحول اور اقدار کو فروغ دیں۔
اخلاقی تربیت کو بھی بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔ لڑکیوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ خودنمائی اور بے جا نمائش سے بچیں، کیونکہ اس کے معاشرتی اور اخلاقی نقصانات دیرپا ہوتے ہیں، جب کہ عفت و حیا کو ان کی عزت اور شخصیت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، انہیں دشمنوں کی ثقافتی یلغار اور گمراہ کن تبلیغات سے ہوشیار رہنے اور اپنی پاکیزگی و ایمان کی حفاظت کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
خاندانی نظام کے حوالے سے بھی رہنمائی دی گئی ہے کہ لڑکیاں والدین کی نصیحتوں کو اہمیت دیں، کیونکہ اکثر اوقات والدین کی رہنمائی ان کے مستقبل کے لیے بہتر ہوتی ہے۔ اسی طرح نوجوانوں کو معاشرے اور ملک کے اہم مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنے، سیاسی شعور رکھنے اور حالات کا تجزیہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ایمان اور نیک عمل ترقی کی بنیاد ہیں۔ لڑکیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے علم، کردار اور ایمان کے ذریعے نہ صرف اپنی زندگی سنواریں بلکہ ملک و قوم کی ترقی میں بھی حصہ ڈالیں۔ انہیں مستقبل میں ملک کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے خود کو تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
آخر میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اسلامی معاشرے میں لڑکیاں علم، ایمان، اخلاق اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھ کر نہ صرف اپنی شخصیت کو مضبوط بنا سکتی ہیں بلکہ پورے معاشرے کو مثبت سمت دے سکتی ہیں۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
