حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم علامہ مصباح یزدی نے اپنے ایک بیان میں "آبادی، ایک کثیر الجہتی مسئلہ" کے موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے۔
علامہ مصباح یزدی آبادی کے بحران کو محض ایک طبی مسئلہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کی جڑ کو غلط اور بے دینی ثقافت میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، ثقافتی سرمایہ کاری کے ذریعے دین کو زندہ کیا جانا چاہیے کیونکہ اگر خدا اور انسانی اقدار پر اعتقاد درست ہو جائے تو دوسرے مسائل بھی اس کے سائے میں حل ہو سکتے ہیں۔
آبادی کا مسئلہ اور بحران صرف ایک طبی مسئلہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس مزید سنگین مسائل بھی ہیں جن کے معاشرے کے لیے کبھی کبھی فائدے بھی ہوتے ہیں۔
ایک طرف، حقیقت یہ ہے کہ کچھ لوگ اسی حالت پر خوش ہیں اور دوسری طرف، بہت سے نوجوان بچے پیدا کرنے کے خواہشمند نہیں ہیں، وہ آرام سے اور بغیر مشقت کے زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ آج معاشرے کی ثقافت یہی ہے۔
آبادی کی ترقی کی راہ میں متعدد رکاوٹیں ہیں جن کی جڑ سب کی سب غلط اور بے دینی ثقافت ہے۔
ہمیں ایسا کام کرنا چاہیے کہ جس سے دین زندہ ہو جائے، خدا پر اعتقاد، معنویت، ابدی زندگی اور انسانی اقدار کو نمایاں کیا جائے۔ اگر یہ حصہ درست ہو گیا تو دوسرے مسائل بھی درست ہو سکتے ہیں لیکن اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو ہمارا کوئی کام نتیجہ خیز نہیں ہو گا کیونکہ ہو سکتا ہے کوئی قانون بھی بنا دیں اور کچھ دن اس مسئلے پر توجہ بھی دیں لیکن کچھ عرصے بعد یہ سب بھول جائے گا اور وہی پرانی حالت رہے گی۔
میرے خیال میں ہمیں ثقافتی کام کے لیے زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے، یہ پہلا قدم ہے۔ اگر یہ مسئلہ درست ہو گیا تو دوسرے مسائل اس کے سائے میں درست ہو سکیں گے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پچھلی دہائیوں سے دینی اقدار شدت سے کمزور ہو رہی ہیں۔ یہ کام خاص طور پر ان ویب سائٹس، چینلز اور پروگراموں کے ذریعے کیا جا رہا ہے جو مسلسل نوجوانوں اور حتیٰ کہ بچوں کو نہ صرف دین سے بلکہ خاندانی اقدار سے بھی بے رغبت کر رہے ہیں۔ ان مسائل کا اسکریننگ وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ ثقافت بدل گئی ہے۔
(مرحوم علامہ مصباح یزدی کے بیانات سے ماخوذ، 6/10/1397 شمسی بمطابق 27 دسمبر 2018ء)



















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
