آبنائے ہرمز کو محفوظ رکھنے کے لیے کوئی فوجی منصوبہ موثر نہیں، پینٹاگون

Rate this item
(0 votes)
آبنائے ہرمز کو محفوظ رکھنے کے لیے کوئی فوجی منصوبہ موثر نہیں، پینٹاگون

 پینٹاگون نے اعتراف کیا ہے کہ موجودہ حالات میں کوئی بھی فوجی منصوبہ آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت کی مکمل حفاظت، اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے اور خطے میں توانائی کے استحکام کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

امریکی فوجی معاملات سے واقف ایک انٹیلی جنس اہلکار کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کو خلیج فارس میں ایک پیچیدہ تزویراتی تعطل کا سامنا ہے۔

آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریبا پانچواں حصہ تیل کی سپلائی گزرتی ہے، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکہ کے لیے ایک اہم کمزوری بن چکی ہے۔

علاقائی امور سے واقف ذریعے نے پریس ٹی وی کو بتایا کہ پینٹاگون کا جائزہ یہ ہے کہ اس وقت کوئی بھی فوجی منصوبہ سیاسی اور سکیورٹی اعتبار سے اس صلاحیت کا حامل نہیں کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے، محفوظ بحری راستہ یقینی بنانے اور توانائی کے استحکام کو برقرار رکھنے کی ضمانت دے سکے۔

یہ اعتراف امریکی فوجی منصوبہ سازوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ واشنگٹن طویل عرصے سے آبنائے ہرمز کو ایک اہم تزویراتی گزرگاہ سمجھتے ہوئے وہاں مسلسل بحری موجودگی برقرار رکھتا آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس اہم آبی راستے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکامی نے خطے میں امریکہ کی تزویراتی پوزیشن کو متاثر کیا ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کی غیر روایتی دفاعی صلاحیتوں کے مقابلے میں امریکی فوجی طاقت کی کچھ حدود موجود ہیں۔

ذریعے نے مزید بتایا کہ اس تعطل کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شدید ناراضی کا شکار ہیں اور وہ اپنی انتظامیہ کے اندر ذمہ داری کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انٹیلی جنس ذریعے کے مطابق ٹرمپ موجودہ صورتحال سے پریشان ہیں اور وہ فوجی و سیاسی حلقوں میں ذمہ داری عائد کرنے اور اختلافات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ نے فوجی اہداف حاصل کرنے میں مشکلات کے بعد ایران کی معیشت کے خلاف دباؤ اور نفسیاتی جنگ کی مہم تیز کر دی ہے، جس میں دھمکیوں اور اقتصادی دباؤ کو بطور ذریعہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

پینٹاگون کے اعتراف کو اس بات کا اشارہ قرار دیا جارہا ہے کہ محدود جغرافیائی راستے پر ایران کو تزویراتی فائدہ حاصل ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی جغرافیائی ساخت دفاع کرنے والے فریق کے لیے زیادہ سازگار سمجھی جاتی ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والا راستہ اس وقت مکمل طور پر محفوظ ہوجائے گا جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری جنگی اقدامات تمام محاذوں پر ختم ہوں گے اور واشنگٹن اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں درج ایران کے جائز مطالبات کو تسلیم کرے گا۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ کسی بھی خطرے یا جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

سپاہ پاسداران نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی افواج اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ملک کی دیگر مسلح افواج کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ذریعے اسلامی انقلاب، ایران کی علاقائی سالمیت، آزادی، وقار اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کردار ادا کریں گی۔

Read 12 times