جناب زینب بنت خزیمہ کی سیرت

Rate this item
(0 votes)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جناب زینب بنت خزیمہ بن عبداللہ بن عمرو بن عبد مناف بن ہلال بن عامر بن صعصعہ عامری، ترتیب زمانی کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پانچویں شریک حیات تھیں اور آنحضرت {ص} کی قبیلہ قریش کی پانچ بیویوں میں سے ایک تھیں-

ابن عبدالبر نے، ابی الحسن جرجانی سے نقل کرکے ان کے شجرہ نسب کو پیغمبر اکرم {ص} کی شریک حیات جناب میمونہ بنت حارثہ کی بہن کے طور پر معرفی کیا ہے- لیکن ابن حبیب بغدادی ان کے مادری بھائیوں اور بہنوں کی فہرست یوں بیان کرتے ہیں: پیغمبر اکرم {ص} کے چچا جناب عباس کی شریک حیات ام الفضل لبابہ کبری بنت حارثہ، ولید بن مغیرہ کی بیوی اور خالد بن ولید کی ماں لبابہ صغری اور عزہ بنت حارثہ- اس کے بعد زینب بنت حزیمہ کی مادری بہنوں کی فہرست یوں بیان کرتے ہیں: میمونہ بنت حارثہ، جناب جعفر بن ابیطالب کی بیوی اسماء بنت عمیس اورجناب حمزہ بن عبدالمطلب کی بیوی سلامہ { سلمی} بنت عمیس-

پیغمبر اسلام {ص} سے ازدواج کرنے سے پہلے زینب کی زندگی:

جناب زینب بنت حزیمہ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت سے تیرہ سال پہلے پیدا ھوئی تھیں- مورخین نے لکھا ہے کہ انھوں نے پیغمبر اسلام {ص} سےازدواج کرنے سے پہلے عبداللہ بن جحش سے شادی کی تھی، لیکن ان کے شوہر عبداللہ بن جحش جنگ احد میں شہید ھوئے-

بعض مورخین نے کہا ہے کہ انھوں نے پہلے طفیل بن حارث سے شادی کی تھی، لیکن طفیل نے انھیں طلاق دی تھی اور اس کے بعد طفیل کے بھائی عبیدہ بن حارث مطلبی نے ان کے ساتھ شادی کی تھی اور وہ جنگ بدر یا جنگ احد میں شہید ھوئے-

جناب زینب، اپنے شوہر کی مفارقت میں کافی غمگین ھوئی تھیں اور ان کے شوہر کی شہادت، ان کے لئے ایک بڑی مصیبت بن چکی تھی، کیونکہ جناب زینب بنت حزیمہ مکہ سے مدینہ ھجرت کرچکی تھیں، اس لئے مدینہ منورہ میں اپنے آپ کو تنہا اور بے سہارا محسوس کرتی تھیں-

رسول خدا{ ص} سے ازدواج:

جناب زینب کے شوہر کی شہادت کو ایک مدت گزرنے کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے خواستگاری کی- انھوں نے رسول خدا {ص} کو ہی اپنی طرف سے اختیار بخشا، کیونکہ مدینہ میں کوئی ایسا نہیں تھا جو ان کا ولی امر ھوتا اس لئے وہ حضرت ختمی مرتبت{ص} کو ہی اپنے لئے بہترین ولی امر جانتی تھیں-

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند گواھوں کو بلا کر، زینب بنت خزیمہ کے ساتھ عقد نکاح پڑھ کر ان کو اپنی شریک حیات قرار دیا- پیغمبر اکرم {ص} نے چار سو درہم کی رقم جناب زینب کو مہر کے عنوان سے ادا کی اور ان کے لئے اپنی دوسری بیویوں کے مانند ایک کمرہ تعمیر کیا – اس طرح جناب زینب ، پیغمبر اسلام {ص} کی شریک حیات کی حیثیت سے آنحضرت {ص} کے گھر میں تشریف لائیں اور وہیں پر ساکن ھوئیں-

آنحضرت {ص] کی یہ شادی، جناب حفصہ بنت عمر بن خطاب سے شادی کے بیس دن بعد رمضان المبارک سنہ ۳ ھجری میں ھجرت کے ۳۱ مہینے کے بعد انجام پائی- بعض مورخین کا اعتقاد ہے کہ جناب زینب بنت خزیمہ سے آنحضرت {ص} کی شادی، حضرت خدیجہ {س} کی وفات کے سات سال بعد انجام پائی ہے-

ام المومنین جناب زینب بنت خزیمہ کی سخاوت اور " ام المساکین" کا لقب پانا:

جناب زینب بنت خزیمہ کو مساکین، فقراء اور محتاجوں کے تئیں ہمدرد اور مہربان ھونے کی وجہ سے" ام المساکین" { محتاجوں اور لاچاروں کی ماں} کا لقب دیا گیا تھا، کیونکہ وہ ہر مسکین و محتاج کی مدد کرتی تھیں- البتہ وہ ایام جاہلیت میں بھی ان ہی پاک خصلتوں کی مالک ھونے کی وجہ سے اسی لقب یعنی " ام المساکین" سے مشہور تھیں- اور جب دین رحمت یعنی اسلام نے ظہور کیا، تو اسلام کی حیات بخش تعلیمات میں سے ایک یہی خصوصیت تھی، جس کی اخلاقی طور پر جناب زینب بنت خزیمہ پابند تھیں، یعنی فقراء اور حاجتمندوں کی مدد کرنا اور ان سے نیکی سے پیش آنا-

ایک مورخ کہتا ہے:" وہ لوگوں کے ساتھ اس قدر نیکی کا برتاو کرتی تھیں کہ انھیں " ام المساکین" کہا جاتا تھا- فقراء کو کافی مقدار میں صدقہ دیتی تھیں اور ان کے ساتھ نیکی کا برتاو کرتی تھیں- انھیں " ام المساکین" کہا جاتا تھا، کیونکہ وہ بہت سے حاجتمندوں اور بھو کوں کو کھانا کھلاتی تھیں-"

ام المومنین زینب بنت خزیمہ کی رحلت اور رسول خدا{ص} سے مفارقت:

ام المومنین جناب زینب بنت خزیمہ کی قبل از وقت رحلت کی وجہ سے رسول خدا {ص} کی دوسری بیویوں کی بہ نسبت انھیں کم تر پہچانا جاتا ہے- کیونکہ پیغمبر اسلام {ص} کے ساتھ ان کی مختصر زندگی، اس امر کا سبب بنی ہے کہ مورخین اور سیرت نگاروں نے اس جلیل القدر خاتون کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے یا غفلت کی وجہ سے ان کا نام تک نہیں لیا ہے- کچھ مورخین نے پیغمبر اکرم {ص} کے ساتھ ازدواج کے ۸ ماہ بعد ربیع الاول سنہ ۴ ھجری ان کی وفات درج کی ہے- اور بعض مورخین نے رسول خدا {ص} کے ساتھ ان کی زندگی دو یاتین مہینوں سے زیادہ ذکر نہیں کی ہے- اسی وجہ سے جناب زینب بنت خزیمہ کو پیغمبر اکرم {ص} کی ان معدود بیوی میں شمار کیا جاسکتا ہے کہ احادیث کی کتابوں میں جن سے کوئی روایت نقل نہیں کی گئی ہے-

ام المومنین زینب بنت خزیمہ نے تقریباً تیس سال کی عمر یعنی جوانی میں مدینہ النبی {ص} میں رحلت فرمائی-

پیغمبر اسلام {ص} نے خود ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور انھیں جنت البقیع میں سپرد خاک کیا گیا

چونکہ جناب زینب بنت خزیمہ اور حضرت خدیجہ {س} پیغمبر اسلام کی صرف دو بیویاں تھیں جو آنحضرت {ص} کی حیات میں وفات پائی ہیں، اس لئے مورخین جناب زینب کو آنحضرت {ص} کی پہلی بیوی جانتے ہیں، جس نے مدینہ منورہ میں آنحضرت {ص} کی حیات میں وفات پائی ہے-

Read 1627 times

Add comment


Security code
Refresh