امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے کہا ہے کہ بعض امریکی سفارت کاروں کا خیال ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرنا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دوبارہ جنگ شروع کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔
دوسری جانب، سی این این نے ریپبلکن پارٹی کے بعض ارکان کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹھ نے ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کی واشنگٹن کی صلاحیت کا ضرورت سے زیادہ اندازہ لگایا تھا۔
سی این این نے وائٹ ہاؤس کے حکام کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ ٹرمپ کا ہیگسٹھ پر اعتماد متزلزل نہیں ہوا، تاہم امریکی صدر نے ان کی کارکردگی کے بارے میں اپنے مشیروں سے رائے طلب کی ہے۔
ایک باخبر ذریعے نے اس چینل کو بتایا کہ اگر ٹرمپ ایران کے خلاف مزید حملے کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ممکن ہے وہ ہیگسٹھ کو ان کے عہدے پر برقرار رکھنا ضروری سمجھیں۔
ادھر امریکی وزیر جنگ کے قریبی ایک ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ ہیگسٹھ اب بھی اپنے عہدے پر برقرار رہنے کی توقع رکھتے ہیں اور انہیں ہٹانے کی کسی بھی کوشش کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اس ذریعے کے مطابق، ہیگسٹھ کا خیال ہے کہ وہ اپنی وزارت کے دوران کیے گئے تمام فیصلوں کا کھلی سماعتوں میں دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب، فاکس نیوز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کے ممکنہ نئے حملوں کا امکان وزارت جنگ میں اعلیٰ فوجی عہدیداروں کی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
اسی سلسلے میں سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹرمپ نے ابھی تک ہیگسٹھ کی جگہ کسی دوسرے شخص کو تعینات کرنے کا فیصلہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے اپنے مشیروں کے ساتھ اس عہدے پر ہیگسٹھ کی مزید ذمہ داریوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔





















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
