سلیمانی

سلیمانی

 ویب سائٹ میری ٹائم ایگزیکٹو کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے شاہد-136 کے ذریعے بڑی تعداد میں اور کم لاگت والے خودکش ڈرونز کو کمال تک پہنچا دیا ہے۔ یہ ایک چھوٹا پسٹن انجن والا ون وے اٹیک ڈرون ہے جسے ایرانی اور روسی افواج استعمال کر رہی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں یہ ڈرون تیار کر کے یوکرائنی اڈوں، بندرگاہوں، بجلی گھروں اور رہائشی عمارتوں پر داغے گئے ہیں، جن کے تباہ کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ چونکہ شاہد ڈرون اپنی جنگی صلاحیت ثابت کر چکا ہے اور اسے بڑے پیمانے پر تیار کرنا آسان ہے، اس لیے امریکی بحریہ اور میرین کور نے نئے سرے سے تحقیق و ترقی کے بجائے اس مشہورِ زمانہ ایرانی ڈیزائن شدہ ڈرون کے امریکی ورژن کی جانچ شروع کر دی ہے۔

منگل کے روز، انڈیپینڈنس کلاس کے لٹورل جنگی جہاز یو ایس ایس سانٹا باربرا (LCS-32) نے اپنے ہیلی پیڈ سے شاہد-136 کی طرز کے لوکاس (LUCAS) نامی ڈرون کو لانچ کیا۔ اس ڈیوائس کو ڈرونز کے ایک خصوصی اسکواڈرن ٹاسک فورس اسکارپین اسٹرائیک نے تیار کر کے روانہ کیا، جسے سینٹرل کمانڈ میں نئے بغیر پائلٹ کے نظام متعارف کرانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

اصل شاہد ڈرون کی طرح، لوکاس کو بھی مختلف پلیٹ فارمز سے کئی طریقوں سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ یہ یو ایس ایس سانٹا باربرا پر استعمال کیے گئے راکٹ کی مدد سے ٹیک آف کر سکتا ہے، یا اسے گاڑی پر نصب کیٹاپلٹ سے بھی لانچ کیا جا سکتا ہے۔ فضا میں پہنچنے کے بعد یہ نگرانی اور ون وے اسٹرائیک سمیت مختلف کام انجام دے سکتا ہے۔ مستقبل میں اس میں ہتھیاروں کی تنصیب اور ہدف کی آٹومیٹک شناخت پر کام جاری ہے، تاہم فی الحال تجربے کے لیے اس میں موجود بارودی مواد غیر فعال رکھا گیا ہے۔

پینٹاگون کے لیے شاہد ڈرون کی کشش اس کی سادگی اور تیاری میں آسانی ہے، یہ وہی خوبیاں ہیں جنہوں نے روسی آپریٹرز کو بھی اس کا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ پینٹاگون کے ایک سینئر افسر کرنل نکولس لا نے اس ماہ کے شروع میں ایک بیان میں کہا، ہم اسے ایسی قیمت پر چاہتے ہیں جہاں ہم تیزی سے بڑی تعداد میں یہ ڈرون تیار کر سکیں۔ یہ صرف ایک مینوفیکچرر کے لیے نہیں بلکہ اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اسے کئی مینوفیکچررز بڑے پیمانے پر تیار کر سکیں۔

لوکاس ڈیوائس کو امریکی ڈرون کمپنی اسپیکٹر ورکس نے تیار کیا ہے، جو کہ اصل ایرانی ڈیزائن کی ریورس انجینئرنگ اور چھوٹے پیمانے پر تیار کردہ نقل ہے۔ اس کی دم پر ایک فلیٹ پینل ٹرمینل کا اضافہ اسے سیٹلائٹ کمیونیکیشن لنک فراہم کرتا ہے، جس سے دشمن کے ماحول میں بھی اسے دور سے کنٹرول اور نگرانی کرنا ممکن ہوتا ہے۔ سب سے قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسپیکٹر ورکس کی تیار کردہ اس ڈیوائس کی قیمت اصل ایرانی ورژن کے برابر بتائی جا رہی ہے، جو کہ چند ہزار ڈالرز کے درمیان سمجھی جاتی ہے۔

Saturday, 20 December 2025 04:48

تہران، مرمر محل

تہران کے مرکز میں واقع "مرمر محل" جسے ایران آرٹ میوزیم کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے، اپنی دلکش فن تعمیر سے ہنر کے ہر دلدادہ کو اپنی جانب کھینچ لاتا ہے۔ اس محل کی چھت کا قیاس اصفہان کی شیخ لطف اللہ مسجد سے کیا جاتا ہے۔ اس میوزیم کی چند تصاویر پیش خدمت ہیں۔

 
M
 

حقوق نسواں کے بارے ميں جو دنيا کا ابھي تک ايک حل نشدہ مسئلہ ہے، بہت زيادہ گفتگو کي گئي ہے اور کي جاري ہے۔ جب ہم اس دنيا کے انساني نقشے اور مختلف انساني معاشروں پر نظر ڈالتے ہيں ، خواہ وہ ہمارے اپنے ملک کا اسلامي معاشرہ ہو يا ديگر اسلامي ممالک کا يا حتي غير اسلامي معاشرے بھي کہ جن ميں پيشرفتہ اور متمدن معاشرے بھي شامل ہيں، تو ہم ديکھتے ہيں کہ ان تمام معاشروں ميں بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حقوق نسواں کا مسئلہ ابھي تک حل نہيں ہوا ہے۔ يہ سب انساني مسائل کے بارے ميں ہماري کج فکري اور غلط سوچ کي نشاني ہے اور اس با ت کي عکاسي کرتے ہيں کہ ہم ان تمام مسائل ميں تنگ نظري کا شکار ہيں۔ ايسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے تمام بلندو بانگ دعووں،مخلص اور ہمدرد افراد کي تمام تر جدوجہد اور حقوق نسواں اور خواتين کے مسائل کے بارے ميں وسيع پيمانے پر ہونے والي ثقافتي سرگرميوں اور فعاليت کے باوجود اِن دو جنس (مرد و عورت) اور مسئلہ خواتين کہ اِسي کے ذيل ميں مردوں کے مسائل کو ايک اور طرح سے بيان کيا جاتا ہے، کے بارے ميں ايک سيدھے راستے اور صحيح روش کو ابھي تک ڈھونڈھنے سے قاصر ہے۔

شايد آپ خواتين کے درميان بہت سے ايسي خواتين ہوں کہ جنہوں نے دنيا کي ہنرمند خواتين کے ہنري اور ادبي آثار کو ديکھا يا پڑھا ہو کہ اُن ميں بعض آثار فارسي زبان ميں ترجمہ ہوچکے ہيں اور بعض اپني اصلي زبان ميں موجود ہيں۔ يہ سب اِسي مذکورہ بالا مسئلے کي عکاسي کرتے ہيں کہ خواتين کے مسائل اور اِسي کے ذيل ميں ان دوجنس ، مرد وعورت کے مسئلے اور بالخصوص انسانيت سے متعلق مسائل کو حل کرنے ميں بشر ابھي تک عاجز و ناتوان ہے۔ بہ عبارت ديگر؛ زيادتي ، کج فکري اور فکري بدہضمي اور اِن کے نتيجے ميں ظلم و تعدّي، تجاوز، روحي ناپختگي، خاندان اور گھرانوں سے متعلق مشکلات ؛ ان دو جنس۔ مردو زن۔ کے باہمي تعلقات ميں اختلاط و زيادتي سے مربوط مسائل ابھي تک عالم بشريت کے حل نشدہ مسائل کا حصہ ہيں۔ يعني مادي ميدانوں ميں ترقي، آسماني واديوں اور کہکشاوں ميں پيشقدمي اور سمندروں کي گہرائيوں ميں اتني کشفيات کرنے، نفسياتي پيچيدگيوں اور الجھنوں کي گھتيّوں کو سُلجھانے اور اجتماعي و اقتصادي مسائل ميں اپني تمام تر حيران کن پيشرفت کے باوجود يہ انسان ابھي تک اس ايک مسئلے ميں زمين گير و ناتواں ہے۔ اگر ميں ان تمام ناکاميوں اور انجام نشدہ امور کو فہرست وار بيان کروں تو اِس کيلئے ايک بڑا وقت درکار ہے کہ جس سے آپ بخوبي واقف ہيں۔

 

دنيا ميں ’’خانداني‘‘ بحران کي اصل وجہ!

خانداني مسائل کہ جو آج دنيا کے بنيادي ترين مسائل ميں شمار کيے جاتے ہيں ، کہاں سے جنم ليتے ہيں ؟ کيا يہ خواتين کے مسائل کا نتيجہ ہيں يا پھر مردو عورت کے باہمي رابطے کے نتيجے ميں پيدا ہوتے ہيں؟ ايک خاندان اور گھرانہ جو دنيا ئے بشريت کا اساسي ترين رکن ہے، آج دنيا ميں اتنے بحران کا شکار کيوں ہے؟ يعني اگر کوئي بقول معروف آج کي متمدّن مغربي دنيا ميں خاندان کي بنيادوں کو مستحکم بنانے کا خواہ ايک مختصر سا ہي منصوبہ کيوں نہ پيش کرے تو اُس کا شاندار استقبال کيا جائے گا، مرد ، خواتين اور بچے سب ہي اُس کا پُرتپاک استقبال کريں گے۔

اگر آپ دنيا ميں ’’خاندان‘‘ کے مسئلے پر تحقيق کريں اور خاندان کے بارے ميں موجود اس بحران کو اپني توجہ اور کاوش کا مرکز قرار ديں تو آپ ملاحظہ کريں گے کہ ِاس بُحران نے اِن دو جنس يعني مرد وعورت کے درميان باہمي رابطے، تعلّقات اور معاشرے سے مربوط حل نشدہ مسائل سے جنم ليا ہے يا بہ تعبير ديگر يہ نگاہ و زاويہ، غلط ہے۔ اب ہم لوگ ہيں اور مقابل ميں مرد حضرات کے خود ساختہ افکار و نظريات ہيں، تو جواب ميں ہم يہي کہيں گے کہ خواتين کے مسئلے کو جس نگاہ و زاويے سے ديکھا جارہا ہے وہ صحيح نہيں ہے اور يہ بھي کہا جاسکتا ہے کہ مردوں کے مسئلے کو اس زاويے سے ديکھنا بھي غير معقول ہے يا مجموعاً ان دونوں کي کيفيت و حالت کا اِس نگاہ سے جائزہ لينا سراسر غلطي ہے۔

 

 

مرد و عورت کي کثير المقدار مشکلات کا علاج

اس مسئلے کي مشکلات ، زيادہ اور مسائل فراوان ہيں ليکن سوال يہ ہے کہ ان سب کا علاج کيسے ممکن ہے؟ اِن سب کا راہ حل يہ ہے کہ ہم خداوند عالم کے بنائے ہوئے راستے پر چليں۔ دراصل مرد وعوت کے مسائل کے حل کيلئے پيغام الٰہي ميں بہت ہي اہم مطالب بيان کئے گئے ہيں لہٰذا ہميں ديکھنا چاہيے کہ پيغام الٰہي اِس بارے ميں کيا کہتا ہے۔ خداوند عالم کے ’’پيغام وحي‘‘ نے اِس مسئلے ميں صرف وعظ و نصيحت کرنے پر ہي اکتفا نہيں کيا ہے بلکہ اس نے راہ حل کيلئے زندہ مثاليں اور عملي نمونے بھي پيش کيے ہيں۔

آپ ملاحظہ کيجئے کہ خداوند عالم جب تاريخ نبوّت سے مومن انسانوں کيلئے مثال بيان کرنا چاہتا ہے تو قرآن ميں يہ مثال بيان کرتا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ’’وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً لِلَّذِيْنَ آمَنُوْا امرَآَتَ فِرعَونَ ‘‘(۱) ۔ (اللہ نے اہل ايمان کيلئے زن فرعون کي مثال بيان فرمائي ہے)۔ حضرت موسي کے زمانے ميں اہل ِ ايمان کي کثير تعداد موجود تھي کہ جنہوں نے ايمان کے حصول کيلئے بہت جدوجہد اور فداکاري کي ليکن خداوند عالم نے ان سب کے بجائے زن فرعون کي مثال پيش کي ہے۔ آخر اِس کي کيا وجہ ہے؟ کيا خداوند عالم خواتين کي طرفداري کرنا چاہتا ہے يا در پردہ حقيقت کچھ اور ہے؟ حقيقتاً مسئلہ يہ ہے کہ يہ عورت (زن فرعون) خدا کے پسنديدہ اعمال کي بجا آوري کے ذريعے ايسے مقام تک جاپہنچي تھي کہ فقط اُسي کي مثال ہي پيش کي جاسکتي تھي۔ يہ حضرت فاطمہ زہر علیھا السلام اور حضرت مريم علیھا السلام سے قبل کي بات ہے۔ فرعون کي بيوي ، نہ پيغمبر ہے اور نہ پيغمبر کي اولاد ، نہ کسي نبي کي بيوي ہے اور نا ہي کسي رسول کے خاندان سے اُس کا تعلق ہے۔ ايک عورت کي روحاني و معنوي تربيت اور رُشد اُسے اس مقام تک پہنچاتي ہے !

البتہ اس کے مقابلے ميں يعني برائي ميں بھي اتفاقاً يہي چيز ہے۔ يعني خداوند متعال جب بُرے انسانوں کيلئے مثال بيان کرتاہے تو فرماتا ہے۔ ’’ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً لِلَّذِينَ کَفَرُوا امرَآَتَ نُوحٍ وَّ امرَآَتَ لُوطٍ ‘‘(۲) (اللہ نے اہل کفر کيلئے نوح اور لوط کي بيويوں کي مثال پيش کي ہے)۔ يہاں بھي خدا نے دو عورتوں کي مثال پيش کي ہے کہ جو برے انسانوں سے تعلق رکھتي تھيں۔ حضرت نوح اور حضرت لوط کے زمانے ميں کافروں کي ايک بہت بڑي تعداد موجود تھي اور ان کا معاشرہ برے افراد سے پُر تھا ليکن قرآن اُن لوگوں کو بطور ِ مثال پيش کرنے کے بجائے حضرت نوح و حضرت لوط کي زوجات کي مثال بيان کرتا ہے۔

اہل ايمان کيلئے زن فرعون کي مثال کے پيش کيے جانے کے ذريعے صِنفِ نازک پر يہ خاص عنايت اورايک عورت کے مختلف عظيم پہلووں اور اُس کے مختلف ابعاد پر توجہ کي اصل وجہ کيا ہے؟ شايد يہ سب اِس جہت سے ہو کہ قرآن يہ چاہتا ہے کہ اُس زمانے کے لوگوں کے باطل اور غلط افکار و نظريات کي جانب اشارہ کرے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اُس زمانہ جاہليت کے باطل افکار و عقائد آج بھي ہنوز باقي ہيں ، خواہ وہ جزيرۃ العرب کے لوگ ہوں جو اپني بيٹيوں کو زندہ درگور کرديتے تھے يا دنيا کي بڑي شہنشاہت کے زمانے کے لوگ ہوں مثل روم و ايران۔

 

ام کتاب : عورت ، گوہر ہستي

صاحب اثر : حضرت آيت اللہ العظميٰ سيد علي حسيني خامنہ اي دامت برکاتہ

ترجمہ واضافات : سيد صادق رضا تقوي

مال و ثروت زیادہ ہونے کی نماز
(ضروی نوٹ:روزی میں  اضافہ اس وقت ہوگا ،جب رزق اور روزی حلال طریقے سے حاصل کیا جائے اور پروردگارعالم کی نظرشامل حال رہے۔

آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ صرف ان دعاؤں اور سورتوں کے پڑھنے سے آپ کی رزق اور روزی میں اضافہ نہیں ہو گا

بلکہ رزق اور روزی تک پہنچنے کے لئے کوشش بہت موثر ہے، اگر چہ وہ بہت کم  ہی کیوں نہ ہو۔)
جب اپنے کاروبار کی جگہ جانا چاہیں تو پہلے مسجد میں جاکر دو یا چار رکعت نماز پڑھیں اور یہ کہیں: ۔

غَدَوْتُ بِحَوْلِ اللّٰهِ وَقُوَّتِهِ، وَغَدَوْتُ بِلا حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ، وَلٰكِنْ بِحَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ، يَا رَبِّ . اللّٰهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، أَلْتَمِسُ مِنْ فَضْلِكَ كَما أَمَرْتَنِي، فَيَسِّرْ لِي ذٰلِكَ وَأَنَا خَافِضٌ فِي عَافِيَتِكَ.
دوسری نماز:
دو رکعتیں ہیں پہلی رکعت میں سوره «حمد» کے بعد،  تین مرتبه «إِنّٰا أَعْطَیْنٰاکَ الْکَوْثَرَ» اور دوسری رکعت  میں سوره «حمد»، کے بعد 

سوره «فلق» تین مرتبہ اور اس کے بعد  سوره «ناس» مرتبہ پڑھی جاتی ہے۔


رزق کی دعائیں
اور وہ "پانچ" دعائیں یہ ہیں:

اول:
معاویة  بن عمّار سے نقل ہے: کہ میں نے امام صادق(علیہ‌السلام)سے درخواست کی کہ میرے لئے رزق کی دعا  تعلیم فرمائیں،  
تو آنحضرت(علیہ السلام) نے یہ دعا مجھے سکھائی اور میں نے رزق میں اضافے  کے لئے اس سے بہتر کچھ نہیں دیکھا۔  
 اللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي مِنْ‌فَضْلِكَ الْوَاسِعِ الْحَلالِ الطَّيِّبِ، رِزْقاً واسِعاً حَلالاً طَيِّباً بَلاغاً لِلدُّنْيا وَالْآخِرَةِ صَبّاً صَبّاً، هَنِيئاً مَرِيئاً مِنْ غَيْرِ كَدٍّ وَلَا مَنٍّ مِنْ أَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ إِلّا

سَعَةً مِنْ فَضْلِكَ الْوَاسِعِ، فَإِنَّكَ قُلْتَ: ﴿وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهِ﴾، فَمِنْ فَضْلِكَ أَسْأَلُ، وَمِنْ عَطِيَّتِكَ أَسْأَلُ، وَمِنْ يَدِكَ الْمَلْأَىٰ أَسْأَلُ.
دوم:
امام باقر(علیه‌السلام) سے روایت ہے: آپ (علیه‌السلام) نے زید شحّام سے فرمایا: رزق مانگنے کے لئےنماز واجب کے سجدہ میں اس دعاء کو  پڑھو:
يَا خَيْرَ الْمَسْؤُولِينَ، وَيَا خَيْرَ الْمُعْطِينَ، ارْزُقْنِي وَارْزُقْ عِيَالِي مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ.
سوم: جناب ابو بصیر سے روایت ہے: انہوں نے کہا: کہ میں نے حضرت امام صادق(علیه‌السلام) سے اپنی حاجت کی شکایت کی 

اور ان سے عرض کیا: کہ مجھے رزق کی دعا سکھا دیں، آپ علیہ السلام نے مجھے یہ دعا سکھائی۔
 جب سے میں نے اسے پڑھنا شروع کیا ہے، میں  کسی کا محتاج نہیں رہا۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا: نماز ِشب کے سجدہ کی حالت میں کہو:
يَا خَيْرَ مَدْعُوٍّ، وَيَا خَيْرَ مَسْؤُولٍ، وَيَا أَوْسَعَ مَنْ أَعْطَىٰ، وَيَا خَيْرَ مُرْتَجىً، ارْزُقْنِي وَأَوْسِعْ عَلَيَّ مِنْ رِزْقِكَ، وَسَبِّبْ لِي رِزْقاً مِنْ قِبَلِكَ، إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ.
مصنف کہتے ہیں: شیخ طوسی  (رح )نے اس دعاء کو کتاب «مصباح» میں نمازِ شب کی آٹھویں رکعت کے آخری سجدے میں ذکر کیا ہے۔
چهارم:
روایت ہے کہ: رسول خدا(صلی‌الله‌علیه‌وآله وسلم) نے اس دعاء کو طلبِ روزی کے لئے تعلیم دی ہے:
يَا رَازِقَ الْمُقِلِّينَ، وَيَا رَاحِمَ الْمَساكِينِ، وَيَا وَلِيَّ الْمُؤْمِنِينَ، وَيَا ذَاالْقُوَّةِ الْمَتِينِ، صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ، وَارْزُقْنِي وَعافِنِي وَاكْفِنِي مَا أَهَمَّنِي.
پنجم:
جنابِ ابو بصیر نے یہ دعاء حضرت صادق(علیه‌السلام) سےطلبِ  رزق  کے لئے بیان کی ہے
اور فرمایا: یہ علی بن الحسین علیہ السلام کی دعا ہے کہ  آپ علیہ السلام  جب خدا کو پکارتے تو اس طرح پکارتے تھے:
اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُسْنَ الْمَعِيشَةِ، مَعِيشَةً أَتَقَوَّىٰ بِهَا عَلَىٰ جَمِيعِ حَوَائِجِي، وَأَتَوَصَّلُ بِها فِي الْحَياةِ إِلَىٰ آخِرَتِي، مِنْ غَيْرِ أَنْ تُتْرِفَنِي فِيها فَأَطْغَىٰ، أَوْ تُقَتِّرَ بِها عَلَيَّ فَأَشْقىٰ، أَوْسِعْ عَلَيَّ مِنْ حَلالِ رِزْقِكَ، وَأَفْضِلْ عَلَيَّ مِنْ سَيْبِ فَضْلِكَ نِعْمَةً مِنْكَ سابِغَةً وَعَطاءً غَيْرَ مَمْنُونٍ، ثُمَّ لَاتَشْغَلْنِي عَنْ شُكْرِ نِعْمَتِكَ بِإِكْثارٍ مِنْها، تُلْهِينِي بَهْجَتُهُ، وَتَفْتِنُنِي زَهَراتُ زَهْوَتِهِ، وَلَا بِإِقْلالٍ عَلَيَّ مِنْها يَقْصُرُ بِعَمَلِي كَدُّهُ، وَيَمْلَأُ صَدْرِي هَمُّهُ، أَعْطِنِي مِنْ ذٰلِكَ يَا إِلٰهِي غِنىً عَنْ شِرَارِ خَلْقِكَ، وَبَلاغاً أَنالُ بِهِ رِضْوانَكَ، وَأَعُوذُ بِكَ يَا إِلٰهِي مِنْ شَرِّ الدُّنْيا وَشَرِّ مَا فِيها، وَ لَا تَجْعَلْ عَلَيَّ الدُّنْيا سِجْناً، وَلَا فِراقَها عَلَيَّ حُزْناً، أَخْرِجْنِي مِنْ فِتْنَتِها مَرْضِيّاً عَنِّي، مَقْبُولاً فِيها عَمَلِي، إِلَىٰ دَارِ الْحَيَوانِ وَمَساكِنِ الْأَخْيَارِ، وَأَبْدِلْنِي بِالدُّنْيَا الْفانِيَةِ نَعِيمَ الدَّارِ الْباقِيَةِ؛اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَزْلِها وَزِلْزالِها وَسَطَوَاتِ شَياطِينِها وَسَلاطِينِها، وَنَكالِها، وَمِنْ بَغْيِ مَنْ بَغَىٰ عَلَيَّ فِيها . اللّٰهُمَّ مَنْ كادَنِي فَكِدْهُ، وَمَنْ أَرادَنِي فَأَرِدْهُ، وَفُلَّ عَنِّي حَدَّ مَنْ نَصَبَ لِي حَدَّهُ، وَأَطْفِئ عَنِّي نارَ مَنْ شَبَّ لِي وَقُودَهُ، وَاكْفِنِي مَكْرَ الْمَكَرَةِ، وَافْقَأْ عَنِّي عُيُونَ الْكَفَرَةِ، وَاكْفِنِي هَمَّ مَنْ أَدْخَلَ عَلَيَّ هَمَّهُ، وَادْفَعْ عَنِّي شَرَّ الْحَسَدَةِ، وَاعْصِمْنِي مِنْ ذٰلِكَ بِالسَّكِينَةِ، وَأَلْبِسْنِي دِرْعَكَ الْحَصِينَةَ، وَأَحْيِنِي فِي سِتْرِكَ الْوَاقِي، وَأَصْلِحْ لِي حالِي، وَصَدِّقْ قَوْلِي بِفِعالِي، وَبَارِكْ لِي فِي أَهْلِي وَمٰالي.

نماز عشاء کے بعد رزق اور روزی کےلئے دعاء:
اللّٰهُمَّ إِنَّهُ لَيْسَ لِى عِلْمٌ بِمَوْضِعِ رِزْقِى، وَإِنَّما أَطْلُبُهُ بِخَطَراتٍ تَخْطُرُ عَلَىٰ قَلْبِى، فَأَجُولُ فِى طَلَبِهِ الْبُلْدانَ، فَأَنَا فِيَما أَنَا طالِبٌ كَالْحَيْرانِ، لَاأَدْرِى أَفِى سَهْلٍ هُوَ أَمْ فِى جَبَلٍ، أَمْ فِى أَرْضٍ أَمْ فِى سَماءٍ، أَمْ فِى بَرٍّ أَمْ فِى بَحْرٍ، وَعَلَىٰ يَدَيْ مَنْ، وَمِنْ قِبَلِ مَنْ، وَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ عِلْمَهُ عِنْدَكَ، وَأَسْبابَهُ بِيَدِكَ، وَ أَنْتَ الَّذِى تَقْسِمُهُ بِلُطْفِكَ، وَتُسَبِّبُهُ بِرَحْمَتِكَ، اللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَاجْعَلْ يا رَبِّ رِزْقَكَ لِى وَاسِعاً، وَمَطْلَبَهُ سَهْلاً، وَمَأْخَذَهُ قَرِيباً، وَلَا تُعَنِّنِى بِطَلبِ مَا لَمْ تُقَدِّرْ لِى فِيهِ رِزْقاً، فَإِنَّكَ غَنِيٌّ عَنْ عَذَابِي وَ أَنَا فَقِيرٌ إِلَىٰ رَحْمَتِكَ، فَصَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَجُدْ عَلَىٰ عَبْدِكَ بِفَضْلِكَ، إِنَّكَ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ.

مؤلف فرماتے ہیں: کہ یہ دعاء طلبِ روزى کی دعاؤں میں سے ہے.

مناجاتِ طلب روزی
اللّٰهُمَّ أَرْسِلْ عَلَيَّ سِجالَ رِزْقِكَ مِدْراراً، وَأَمْطِرْ عَلَيَّ سَحائِبَ إِفْضالِكَ غِزَاراً، وَأَدِمْ غَيْثَ نَيْلِكَ إِلَيَّ سِجالاً، وَأَسْبِلْ مَزِيدَ نِعَمِكَ عَلَىٰ خَلَّتِي إِسْبالاً، وَأَ فْقِرْنِي بِجُودِكَ إِلَيْكَ، وَأَغْنِنِي عَمَّنْ يَطْلُبُ مَا لَدَيْكَ، وَداوِ داءَ فَقْرِي بِدَواءِ فَضْلِكَ، وَانْعَشْ صَرْعَةَ عَيْلَتِي بِطَوْلِكَ، وَتَصَدَّقْ عَلَىٰ إِقْلالِي بِكَثْرَةِ عَطائِكَ، وَعَلَى اخْتِلالِي بِكَرِيمِ حِبائِكَ، وَسَهِّلْ رَبِّ سَبِيلَ الرِّزْقِ إِلَيَّ، وَثَبِّتْ قَواعِدَهُ لَدَيَّ، وَبَجِّسْ لِي عُيُونَ سَعَتِهِ بِرَحْمَتِكَ، وَفَجِّرْ أَنْهارَ رَغَدِ الْعَيْشِ قِبَلِي بِرَأْفَتِكَ، وَأَجْدِبْ أَرْضَ فَقْرِي، وَأَخْصِبْ جَدْبَ ضُرِّي، وَاصْرِفْ عَنِّي فِي الرِّزْقِ الْعَوائِقَ، وَاقْطَعْ عَنِّي مِنَ الضِّيْقِ الْعَلائِقَ . وَارْمِنِي مِنْ سَعَةِ الرِّزْقِ اللّٰهُمَّ بِأَخْصَبِ سِهامِهِ، وَاحْبُنِي مِنْ رَغَدِ الْعَيْشِ بِأَكْثَرِ دَوامِهِ، وَاكْسُنِي اللّٰهُمَّ سَرابِيلَ السَّعَةِ وَجَلابِيبَ الدَّعَةِ، فَإِنِّي يَا رَبِّ مُنْتَظِرٌ لِإِنْعامِكَ بِحَذْفِ المَضِيقِ، وَ لِتَطَوُّلِكَ بِقَطْعِ التَّعْوِيقِ، وَ لِتَفَضُّلِكَ بِإِزَالَةِ التَّقْتِيرِ، وَ لِوُصُولِ حَبْلِي بِكَرَمِكَ بِالتَّيْسِيرِ؛ وَأَمْطِرِ اللّٰهُمَّ عَلَيَّ سَماءَ رِزْقِكَ بِسِجالِ الدِّيمِ، وَأَغْنِنِي عَنْ خَلْقِكَ بِعَوائِدِ النِّعَمِ، وَارْمِ مَقاتِلَ الْإِقْتارِ مِنِّي، وَاحْمِلْ كَشْفَ الضُّرِّ عَنِّي عَلَىٰ مَطايَا الْإِعْجالِ، وَاضْرِبْ عَنِّي الضِّيقَ بِسَيْفِ الاسْتِئْصالِ، وَأَتْحِفْنِي رَبِّ مِنْكَ بِسَعَةِ الْإِفْضالِ، وَامْدُدْنِي بِنُمُوِّ الْأَمْوَالِ، وَاحْرُسْنِي مِنْ ضِيقِ الْإِقْلالِ، وَاقْبِضْ عَنِّي سُوءَ الْجَدْبِ، وَابْسُطْ لِي بِساطَ الْخِصْبِ، وَاسْقِنِي مِنْ ماءِ رِزْقِكَ غَدَقاً، وَانْهَجْ لِي مِنْ عَمِيمِ بَذْلِكَ طُرُقاً، وَفاجِئْنِي بِالثَّرْوَةِ وَالْمالِ، وَانْعَشْنِي بِهِ مِنَ الْإِقْلالِ، وَصَبِّحْنِي بِالاسْتِظْهارِ، وَمَسِّنِي بِالتَّمَكُّنِ مِنَ الْيَسارِ، إِنَّكَ ذُو الطَّوْلِ الْعَظِيمِ، وَالْفَضْلِ الْعَمِيمِ، وَالْمَنِّ الْجَسِيمِ، وَأَنْتَ الْجَوادُ الْكَرِيمُ.

رزق میں توسیع و کثرت کی دعاء:
کتاب «مجتنی»میں سید ابن طاووس(رحمه الله) سے نقل ہے:
اللّٰهُمَّ إِنَّ ذُنُوبِي لَمْ يَبْقَ لَها إِلّا رَجاءُ عَفْوِكَ، وَقَدْ قَدَّمْتُ آلَةَ الْحِرْمانِ بَيْنَ يَدَيَّ، فَأَنَا أَسْأَلُكَ مَا لَاأَسْتَحِقُّهُ، وَأَدْعُوكَ مَا لَاأَسْتَوْجِبُهُ، وَأَتَضَرَّعُ إِلَيْكَ بِما لَا أَسْتَأْهِلُهُ، وَلَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ حالِي وَ إِنْ خَفِيَ عَلَى النَّاسِ كُنْهُ مَعْرِفَةِ أَمْرِي . اللّٰهُمَّ إِنْ كانَ رِزْقِي فِي السَّماءِ فَأَهْبِطْهُ، وَ إِنْ كانَ فِي الْأَرْضِ فَأَظْهِرْهُ، وَ إِنْ كانَ بَعِيداً فَقَرِّبْهُ، وَ إِنْ كانَ قَرِيباً فَيَسِّرْهُ، وَ إِنْ كانَ قَلِيلاً فَكَثِّرْهُ وَ بارِكْ لِي فِيهِ.

رزق اور روزی میں اضافے کےلئے نماز
روایت شده: کوئی مرد رسول خدا(صلی‌الله‌علیه‌وآله وسلم)  کی خدمت اقدس میں آکر کہنے لگا:
یا رسول الله(ص)!

میں عیال‌دار ہوں اور مقروض ہوں اور میری حالت بہت خراب ہے، مجھے کوئی دعاء سکھائیں  تاکہ خدا عزّوجلّ کواس دعاء کے ذریعے پکاروں اور وہ ذات الہی مجھے اتنی روزی عطا کرے کہ میرا قرض ادا ہوجائے اور میں اپنے خاندان کے لئے بھی کوئی راہ حل نکال سکوں۔  
آپ نے فرمایا:

اے خدا کے بندے مکمل درست  وضو کرو،پھر دو رکعت نماز پڑھو اور رکوع و سجود پورا کرنےکے بعد کہو:
يَا ماجِدُ يَا واحِدُ يَا كَرِيمُ، أَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّكَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ، يَا مُحَمَّدُ يَا رَسُولَ اللّٰه، إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى اللّٰهِ رَبِّي وَ رَبِّكَ وَرَبِّ كُلِّ شَيْءٍ، وَأَسْأَلُكَ اللّٰهُمَّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ، وَأَسْأَلُكَ نَفْحَةً كَرِيمَةً مِنْ نَفَحَاتِكَ وَفَتْحاً يَسِيراً وَ رِزْقاً واسِعاً أَلُمُّ بِهِ شَعَثِي، وَأَقْضِي بِهِ دَيْنِي، وَأَسْتَعِينُ بِهِ عَلَىٰ عِيَالِي.

دوسری نماز روزى میں برکت کےلئے:
جب آپ اپنے کاروبار کی جگہ جانا چاہیں تو پہلے مسجد میں جائیں اور دو چار رکعت نماز  پڑھیں اور یہ کہیں:
غَدَوْتُ بِحَوْلِ اللّٰهِ وَقُوَّتِهِ، وَغَدَوْتُ بِلا حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ، وَلٰكِنْ بِحَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ، يَا رَبِّ . اللّٰهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، أَلْتَمِسُ مِنْ فَضْلِكَ كَما أَمَرْتَنِي، فَيَسِّرْ لِي ذٰلِكَ وَأَنَا خَافِضٌ فِي عَافِيَتِكَ.

تیسری نماز:
دو رکعت نماز اداء کریں پہلی  رکعت میں سوره «حمد»، کے بعد تین مرتبہ کہیں
«إِنّٰا أَعْطَیْنٰاکَ الْکَوْثَرَ»
اور دوسری رکعت میں سوره «حمد»، کےبعدتین مرتبہ، سوره «فلق»  اور سوره «ناس» کی تلاوت کیجئے.
 
ائمہ اطہار علیہم السلام  کی روایات  کے مطابق سوروں  اور دعاؤں کی جوناقابل انکار  تاثیر  خصوصا مال و ثرو ات میں فزایش اور  زندگی میں موجود فقر و تنگ دستی کا خاتمہ ہوگا۔ 

 
رزق و روزی میں اضافے کی دعاء


ختمِ سوره واقعه:
امام سجاد علیه السلام سے روایت نقل ہے کہ: ختم «اذا وقعه» رزق و روزی میں افزایش  کےلئے بہت مفیدہے .
ختم سورہ واقعہ کا طریقہ یہ ہے:
اگر ماہ قمری ماہ کے روز دو شنبه سے شروع کرےتو ہر روز کی تعداد کے لحاظ سے دنوں کی شمار سے پہلے روز سے لے کر چودہویں روز تک "سوره واقعه "کی تلاوت کریں  یعنی مثلا پہلے دن ایک بار، دوسرے دن دو بار اور اسی طرح ... .

پھر ہر روز سوره مبارکه واقعه پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھیں:  
اَللّهُمَّ اِنْ کانَ رِزْقی فِی السَّماءِ فَأنْزِلْهُ وَ اِنْ کانَ فِی الْاَرْضِ فَأخْرِجْهُ وَ اِنْ کانَ بَعیداً فَقَرِّبْهُ وَ اِنْ کانَ قَریباً فَیَسِّرْهُ وُ اِنْ کانَ قَلیلاً فَکَثِّرْهُ وَ اِنْ کانَ کَثیراً فَبارِکْ لی فیهِ وَ أرْسِلْهُ عَلی اَیْدی خِیارِ خَلْقِکَ وَ لا تُحْوِجْنی اِلی شِرارِ خَلْقک. وَ اِنْ لَمْ یَکُنْ فَکَوِّنْهُ بکِیْنُونِیَّتِکَ وَ وَحْدانِیَّتِکَ، اَللّهُمَّ انْقُلْهُ اِلَیََّ حَیْثُ اَکُونُ وَ لا تَنْقُلْنی اِلَیْهِ یَکُونُ، اِنَّکَ عَلی کُلِّ شَِیْءٍ قَدیرٌ. یا حَیُّ یا قَیُّومُ، یا واحِدُ یا مَجیدُ، یا بَرُّ یا رَحیمُ یا غَنیُّ ، صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ تَمِّمْ عَلَیْنا نِعْمَتَکَ، وَ هَنِّئْنا کَرامَتَکَ، وَ اَلْبسْنا عافیَتَکَ
اور ان ایام کے دوران  جب بھی جمعرات کا دن واقع ہوجائے اس دن اس دعاء کی تلاوت کیجئے:
یا ماجِدُ، یا واحِدُ، یا جَوادُ، یا حلیمُ، یا حَنّانُ، یا مَنّانُ، یا کَریمُ اَسْألُک تُحْفَةً مِنْ تحَفِکَ تَلُمُّ بها شَعْثی وَ تَقْضی بها دَیْنی وَ تُصْلِحُ بها شَأنی برَحْمْتِکَ یا سَیِّدی .
(رزق و روزی میں اضافے کی دعاء: آیت الله العظمی سید "صادق روحانی” کی تعلیم کردہ دعاؤں سے منتخب)

وسعت رزق کےلئے ختم سوره «واقعه» کا دوسرا طریقہ
ہفتے کے دن سے، ہر شب تین بار "برائے افزایش رزق ""سوره مبارکہ واقعه" کو پڑھیں اور شب جمعہ 8 مرتبہ پڑھیں اور  یہ سلسلہ پانچ ہفتے متواتر اسی طرح جاری رکھیں اور ہر بار پڑھنے سے پہلے یہ دعا پڑھیں  
اَللَّهُمَّ ارْزُقنا رِزْقاً حَلاَلاً طَیِّباً مِنْ غَیْرِ کَدٍّ اِسْتَجِب ْ. دَعْوَتَنَا مِنْ غَیْرِ رَدٍّ وَ اَعُوذُ مِنَ الْفَضِیحَتِین الفَقرا وَالدِّینِ وَاِدْفَعْ عَنِّی هَذَیْنِ بِحَقِّ الامَامِیْن الحسن وِالحُسَین بِرَحْمَتِکَ یاارحم الراحمین.
کہا گیا ہے کہ اس دعاء اور ختم کی تاثیر بہت زیادہ ہے.


مال و ثروت میں افزایش  :
وہ سورے جو روزی  میں افزایش  کا باعث ہیں:
ختم "سوره مبارکه طه" افزایش رزق : کے لئے مجرب ہے:
ہر روز بعد از اذان صبح وقبل از طلوع آفتاب" سوره مبارکه طہ " کو افزایش رزق  کی نیت سے تلاوت کریں تاکہ خدا وند  ایسی جگہ سے رزق آپ کو پہنچائےگا جس کا آپ کو گمان  تک نہ ہو، اگر آپ اس سوره کو طلوع آفتاب کے وقت پڑھیں گے تو آپ کو نئے رزق ملے گا اور اگر آپ اس سوره مبارکہ کو لکھ کر اپنے پاس رکھیں گے تو ہر حاجت رواء اور  کامیاب ہوں گے،
 اور اگر آپ دو افراد کے درمیان صلح کے لئے جائیں تو جانے سے پہلے یہ سوره پڑھیں۔  


رزق میں اضافے کا ذکر:
مرحوم کشمیری نے قاضی کیمیا مرحوم کے حوالے سے کہا:
اگر کوئی رزق میں اضافہ کرنا چاہے تو اس ذکر کا ورد کرے۔
اللّهُمَ اَغنِنِی بِحلالِکَ عَن حَرامِک و بِفَضِلکَ عَمَّن سِواک
کو زیادہ پڑھیں
حضرت استاد بهجت(رح) سے نقل  ہوئی ہے کہ اس ذکر کے ابتداء اور انتہاء میں صلوات پڑھیں مثلاً اگر100 مرتبہ پڑھنا چاہیے تو، ابتداء صلوات بھیجے پھر110 بار ذکر اور آخر میں دوبارہ صلوات  پڑھیں۔
   گشایش رزق و روزیکےلئے هر روز 77 مرتبہ:یا غَفور یا وَدود " کہیں


   افزایش رزق  کی دعاء :
اللهم اَغْنِنِی بحَلالِکَ عَنْ حَرامِکْ و بِطاعَتِکَ عَنْ مَعْصیَتِکْ و بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِواکَ
اس دعاء کو مسلسل پڑھیں اور مسلسل صدقہ بھی دیں.


   افزایش روزی کےلئے یہ ذکر"
 لا إلهَ إلاَّ اللهُ المَلِکُ الحَقُّ المُبینُ.

[ ١٠٠ مرتبہ]، ہرنماز صبح کے بعد مجرب ہے.
    اسی طرح ذکر:
 یَا رَازِق یَا فَتَّاحُ یَا وَهَّابُ یَا غَنِیُّ یَا مغنِی یَا بَاسِط ُ.

[ ١٠ مرتبہ]، ہرنماز صبح کے بعد مجرب ہے.
   افزایش روزی کےلئے یہ ذکر"
"سُبْحَانَ اللهِ العَظیمِ وَبِحَمْدِهِ، أسْتَغفِرُ اللهَ وأُتوبُ إلیهِ وَأسْأَلُهُ مِنْ َفضْلِهِ". 

[ ١٠ مرتبہ] ہرنماز صبح کے بعد مجرب ہے.

ترجمہ: یوسف حسین عاقلی

 الجزیرہ نیوز کے مطابق، دو انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حکام کو شہریت منسوخ کرنے کے لیے دیے گئے اختیارات میں اضافے کے باعث برطانیہ میں لاکھوں مسلمان اپنی شہریت سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

یہ رپورٹ برطانیہ کی نسل پرستی کے خلاف کام کرنے والی تنظیم رنی میڈ ٹرسٹ (Runnymede Trust) اور غیر سرکاری تنظیم ریپریو (Reprieve) نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیرِ داخلہ کے تخمینے کے مطابق برطانیہ میں تقریباً 90 لاکھ افراد قانونی طور پر اپنی شہریت کی منسوخی کے خطرے میں ہیں۔

رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہ تعداد ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 13 فیصد بنتی ہے اور شہریت منسوخی کے یہ اختیارات غیر متناسب طور پر ان برادریوں کو متاثر کرتے ہیں جہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ موجودہ طریقۂ کار جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ سے تعلق رکھنے والی برادریوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کر رہا ہے اور یہ اختیارات مسلم معاشروں کے لیے ایک "منظم خطرہ"  بن چکے ہیں۔

رپورٹ کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت برطانوی شہریت اس صورت میں بھی منسوخ کی جا سکتی ہے کہ کسی فرد کا کسی دوسرے ملک سے کوئی حقیقی تعلق نہ ہو، بشرطیکہ اسے اس ملک کی شہریت کے لیے اہل سمجھا جائے۔

رپورٹ کے مطابق، وہ افراد جن کے روابط پاکستان، بنگلہ دیش، صومالیہ، نائجیریا، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے ہیں، سب سے زیادہ کمزور اور خطرے سے دوچار ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہر پانچ غیر سفید فام افراد میں سے تین افراد کو اپنی شہریت کھونے کا خطرہ لاحق ہے، جبکہ سفید فام برطانوی شہریوں میں یہ شرح پانچ میں سے ایک ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ 2010ء سے اب تک "عوامی مفاد" سے متعلق وجوہات کی بنیاد پر 200 سے زائد افراد کی شہریت منسوخ کی جا چکی ہے، جن کی بھاری اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

اس رپورٹ کو تیار کرنے والی دونوں تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ شہریت منسوخی کا عمل فوری طور پر روکا جائے، برطانوی شہریت کے قانون میں متعلقہ شق کو ختم کیا جائے اور جن افراد کی شہریت ان اختیارات کے تحت منسوخ کی گئی ہے، ان کے حقوق بحال کیے جائیں۔/

 

 حجت‌الاسلام والمسلمین رضا محمدی شاہرودی نے پروگرام «پرسمانِ دینی» میں اس موضوع پر کہ „مرحوم کی روح کی خوشی کے لیے کیا کیا کام کیے جا سکتے ہیں؟“ تفصیلی جواب دیا ہے، جس کی مکمل وضاحت ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔

سوال: میری والدہ کئی برس بیمار رہیں۔ شدید تکالیف کے باوجود نماز اور روزے ادا کرتی رہیں اور اب اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں۔ ان کی روح کی خوشی کے لیے ہم کیا کیا کام انجام دے سکتے ہیں؟

جواب: آپ ان کی نیت سے جو بھی نیک عمل کریں گے، وہ ان کی روح کے لیے باعثِ خوشی ہوگا۔ سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ کہیں ان کے ذمے کوئی حق تو باقی نہیں تھا۔

آپ کے بیان کے مطابق حقُ‌اللہ (اللہ کا حق) ان کے ذمے نہیں تھا؛ کیونکہ انہوں نے نمازیں پڑھیں، روزے رکھے، غالباً زکوٰۃ و خمس بھی واجب نہیں تھا، کفارہ بھی نہیں تھا اور حج بھی شاید واجب نہیں تھا۔ اس لحاظ سے حقُ‌اللہ تو ادا ہو چکا، لیکن حقُ‌الناس (لوگوں کے حقوق) باقی ہو سکتے ہیں۔

حقُ‌الناس کی ادائیگی کو اوّلین ترجیح دیں

اگر کسی کا حق ان کے ذمے ہو تو سب سے پہلے وہ ادا کریں۔ مثلاً اگر کسی کا دل دکھایا ہو، یا کسی کا مال نادانستہ یا لاعلمی میں ضائع ہو گیا ہو، تو جہاں تک ممکن ہو ردِّ مال کے ذریعے یا کسی مناسب طریقے سے وہ حقوق ادا کریں۔ یہ سب سے پہلی اور اہم ترجیح ہے۔

خیراتی اور عوامی فلاح کے کام

اس کے بعد خیر و بھلائی اور عام‌المنفعہ کاموں کی طرف آئیں۔ اگر استطاعت ہو تو اسپتالوں میں مدد کریں، مدارس کی معاونت کریں، آبادیوں میں مفید کتابیں شائع کروائیں، دینی میڈیا کی مدد کریں، مذہبی مجالس کے انعقاد میں تعاون کریں۔

خصوصاً ایّامِ محرم میں بامقصد اور باوقار مجالس کے انعقاد میں مدد کرنا بھی ایک بہت اچھا عمل ہے۔ یہ سب نیکیاں ہیں جن کا ثواب مرحومہ کی روح کو پہنچتا ہے۔

روحانی اور عبادی اعمال

ان سب کے بعد دعا کرنا، قرآن پڑھ کر ایصالِ ثواب کرنا، نوافل ادا کرنا، ان کی طرف سے زیارت کرنا یا زیارت پر جانا، یہ تمام اعمال بھی ایسے نیک کام ہیں جو آپ ان کی نیت سے انجام دے سکتے ہیں اور ان کی روح کے لیے باعثِ سکون و خوشی ہوں گے۔


غزہ کی جنگ نے نہ صرف صہیونی رژیم کا اصل چہرہ عالمی رائے عامہ کے سامنے بے نقاب کر دیا بلکہ مغربی حکومتوں اور ان کی عوام کے درمیان ایک گہری خلیج بھی پیدا کر دی ہے۔ اس خلیج میں تل ابیب کی حمایت کرنے والے حکمران، اپنی اقوام کی انسانی فطرت کے مقابل کھڑے نظر آتے ہیں، اور اسی کے نتیجے میں اسرائیل اور امریکہ کے خلاف عالمی نفرت کی ایک بڑھتی ہوئی لہر جنم لے چکی ہے۔ غزہ کے خلاف جنگ کے بعد صہیونی رژیم دنیا میں پہلے سے کہیں زیادہ نفرت کا نشانہ بن چکا ہے۔ یہ حقیقت ظاہر کرتی ہے کہ مختلف سماجی سطحوں پر، بالخصوص مغرب میں، انسانی اخلاقیات اب بھی زندہ اور مؤثر ہیں۔

وہ مغربی معاشرے جو برسوں سے اپنی حکومتوں کی غیر اخلاقی اور غیر انسانی پالیسیوں کی زد میں رہے ہیں، آج انسانی فطرت کے سہارے ان پالیسیوں سے بیزار ہو چکے ہیں۔ اسی وجہ سے انسانیت کے خلاف جرائم اور غزہ میں نسل کشی جیسے موضوعات پر مغربی عوام میدان میں آئے ہیں اور مختلف طبقات، طلبہ و نوجوانوں سے لے کر مختلف پیشوں سے وابستہ افراد تک، حتیٰ کہ کھیلوں کے میدانوں میں بھی، انسانی اور احتجاجی ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔

حکمرانوں کی غیر اخلاقی پالیسیوں کے خلاف اقوام مغرب کا احتجاج:
اس تناظر میں صہیونی رژیم، مغربی حکومتی پالیسیوں اور غیر انسانی طرزِ عمل کی مکمل علامت بن چکا ہے۔ سات اکتوبر کے واقعات کے بعد غزہ کے خلاف جنگ نے اس حقیقت کو دنیا کے سامنے واضح کر دیا کہ یہ رژیم مغربی طاقتوں کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کا عملی مجری ہے اور سرکاری طور پر مغربی حکومتوں کی حمایت سے لطف اندوز ہوتا ہے، مگر ان ہی ممالک کی عوام کے ذہن و ضمیر میں اس کی شبیہ انتہائی سیاہ اور نفرت انگیز ہے۔ یہ صورتحال رہبرِ معظم انقلاب کی نظر میں دنیا کی رائے عامہ سے درست رابطے اور اس کی صحیح رہنمائی کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔ آپ نے ہمیشہ اقوام، بالخصوص دنیا کے نوجوانوں کے بارے میں ایک مثبت، انسانی اور امید افزا نقطۂ نظر اپنایا ہے اور اسی سلسلے میں مغربی نوجوانوں اور طلبہ کے نام خطوط بھی تحریر کیے ہیں۔ 

دنیا کا سب سے منفور انسان صہیونی حکومت کا سربراہ ہے:
رہبرِ معظم انقلاب نے ایرانی قوم سے ٹیلی وژن خطاب میں فرمایا کہ غزہ کے اس سانحے میں، جو آج ہمارے خطے کی تاریخ کے سب سے بڑے المیوں میں سے ایک ہے، صہیونی رژیم بری طرح رسوا اور بدنام ہوا ہے۔ امریکہ بھی اس غاصب اور ظالم رژیم کے ساتھ کھڑا ہو کر اسی بدنامی کا شکار ہوا ہے اور اسے بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ دنیا کے لوگ جانتے ہیں کہ اگر امریکہ نہ ہوتا تو صہیونی رژیم اتنی بڑی تباہی مچانے کے قابل نہ تھا۔ آج دنیا کا سب سے منفور انسان صہیونی حکومت کا سربراہ ہے؛ آج دنیا کا سب سے منفور انسان وہی ہے، اور دنیا کی سب سے منفور حکمران جماعت اور گروہ صہیونی رژیم ہے۔ امریکہ بھی اسی سمت میں اس کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کی نفرت امریکہ تک بھی سرایت کر چکی ہے۔

اسرائیل سے نفرت، امریکہ تک پھیل گئی:
رہبرِ انقلاب نے اس عالمی نفرت کے اسرائیل کے حامیوں تک پھیلنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں امریکہ کی مداخلتیں، اسے روز بروز زیادہ تنہا کر رہی ہیں۔ جہاں کہیں بھی امریکہ گیا ہے، اس کا نتیجہ یا تو جنگ، نسل کشی، یا تباہی و آوارگی کی صورت میں نکلا ہے۔ یوکرین کی بھاری نقصان والی جنگ امریکہ نے شروع کروائی اور وہ اس میں بھی کامیاب نہ ہو سکا… لبنان پر صہیونی حملے، شام پر جارحیت اور مغربی کنارے اور غزہ میں جرائم سب امریکہ کی پشت پناہی سے انجام پاتے ہیں۔ اس معاملے میں امریکہ نے واقعی نقصان اٹھایا اور نفرت کا نشانہ بنا۔

عالمی نفرت کے شماریاتی شواہد:
معتبر اداروں جیسے پیو ریسرچ سینٹر، گیلپ اور دیگر تحقیقی مراکز کے اعداد و شمار اسرائیل اور امریکہ کے خلاف عالمی نفرت میں اضافے کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ غزہ کے جرائم نے نہ صرف ایک وسیع انسانی بحران پیدا کیا بلکہ امریکہ اور صہیونی رژیم کی اخلاقی ساکھ اور نرم طاقت کو عالمی سطح پر شدید طور پر متزلزل کر دیا ہے۔ یہ صورتحال مغربی حکومتوں اور ان کی عوام کے درمیان ایک گہری خلیج کا سبب بنی ہے۔

امریکہ میں، جو صہیونی رژیم کا سب سے بڑا حامی ہے، غزہ کی جنگ نے عوامی رائے میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ پیو انسٹیٹیوٹ کی اپریل 2025 کی رپورٹ کے مطابق، 53 فیصد امریکی اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں، یہ شرح مارچ 2022 کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح انتہائی منفی رائے رکھنے والوں کی تعداد 10 فیصد سے بڑھ کر 19 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ تبدیلی خاص طور پر ڈیموکریٹس میں (69 فیصد) نمایاں ہے، جو امریکہ کی نوجوان نسل کے صہیونی جرائم کے بارے میں بیدار ہونے کی علامت ہے۔

نتن یاہو، دنیا کا سب سے منفور فرد:
بنیامین نتن یاہو حقیقتاً دنیا بھر کی عوام اور حتیٰ کہ بہت سے حکمرانوں کے نزدیک بھی سب سے زیادہ نفرت انگیز سیاسی شخصیات میں شامل ہو چکا ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نتن یاہو کو بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا اور کئی ممالک کے نمائندوں نے احتجاجاً اجلاس چھوڑ دیا۔ اسی دوران آسٹریلیا، فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی سمت اقدامات کیے، جو نتن یاہو کی حکومت پر عالمی دباؤ میں اضافے کی واضح علامت ہے۔

اسی تناظر میں ABC نیوز نے غزہ میں بچوں کے قتل اور بھوک کی تصاویر کے پھیلاؤ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ان مناظر نے عالمی رائے عامہ میں نتن یاہو کو اس سانحے کا براہِ راست ذمہ دار بنا دیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اگرچہ مغربی مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ محتاط انداز اپنا کر اس عالمی نفرت کی شدت کم دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم رائٹرز، بی بی سی، ایسوسی ایٹڈ پریس اور ABC نیوز جیسے میڈیا اداروں کی رپورٹس اور تجزیے صہیونی رژیم اور خود نتن یاہو کی گہری عالمی تنہائی کو بخوبی ظاہر کرتے ہیں۔

آج مغرب میں جو کچھ طلبہ تحریکوں، سماجی سرگرمیوں، ثقافتی ردعمل اور حتیٰ کہ کھیلوں کے میدانوں میں نظر آ رہا ہے، وہ کوئی وقتی یا جذباتی ردعمل نہیں بلکہ عالمی رائے عامہ میں ایک گہرے اور بنیادی تغیر کی علامت ہے۔ یہ تبدیلی صہیونی رژیم اور اس کے سب سے بڑے حامی امریکہ کی اخلاقی حیثیت اور نرم طاقت کو شدید طور پر کمزور کر چکی ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو عالمی طاقت کے نرم توازن میں، اشغال گری کے حامی محاذ کے خلاف ایک تاریخی تنہائی جنم لے سکتی ہے، ایسی تنہائی جو اس بار حکومتوں نہیں بلکہ خود عوام کے دلوں سے ابھرے گی۔
 
 
خصوصی رپورٹ: امیر حمزہ نژاد

ایکنا نیوز، رشیاالیوم کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شدید بارش کے نتیجے میں غزہ شہر میں واقع عظیم العمری مسجد کا ایک دروازہ منہدم ہو گیا۔

۸ دسمبر ۲۰۲۴ کی صبح صہیونی رژیم نے مسجدِ العمری پر بمباری کی۔ یہ مسجد، مسجدِ اقصیٰ (یروشلم) اور عکا میں واقع مسجد احمد پاشا الجزار کے بعد فلسطین کی تیسری بڑی مسجد ہے۔ یہ مسجد دنیا کے قدیم ترین عبادت گاہوں میں شمار ہوتی ہے۔

مسجدِ عظیم العمری غزہ کی قدیم ترین مسجد ہے۔ یہ مسجد قدیم شہر کے قلب میں ایک عوامی بازار کے قریب واقع ہے اور تقریباً ۱۶۰۰ مربع میٹر رقبے پر مشتمل ہے، جس میں ۴۱۰ مربع میٹر نماز ہال اور ۱۱۹۰ مربع میٹر اس کا وسیع صحن شامل ہے، جہاں کبھی ہزاروں نمازی عبادت کیا کرتے تھے۔

یہ مسجد ۳۸ مضبوط سنگِ مرمر کے ستونوں پر قائم ہے جو اس کے قدیم طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں اور اسے ایک ایسا معماری شاہکار بناتے ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے۔

اس مسجد کا نام مسلمانوں کے خلیفہ حضرت عمر بن خطابؓ کے نام پر مسجدِ عمری رکھا گیا۔ اسے جامع مسجد بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ غزہ کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ اس مسجد کی تاریخ عیسائیت سے پہلے کے دور تک جاتی ہے، جب یہاں ایک قدیم معبد موجود تھا۔ پانچویں صدی عیسوی میں بازنطینیوں نے اسے کلیسا میں تبدیل کیا۔ ساتویں صدی میں اسلامی فتوحات کے بعد مسلمانوں نے اسے دوبارہ مسجد کی حیثیت سے تعمیر کیا، یہاں تک کہ اس کا مینار ۱۰۳۳ء میں ایک زلزلے کے نتیجے میں گر گیا۔

۱۱۴۹ء میں صلیبیوں نے اس مسجد کو دوبارہ کلیسا میں تبدیل کر دیا، لیکن ۱۱۸۷ء میں جنگِ حطین کے بعد ایوبیوں نے اسے واپس حاصل کر کے دوبارہ تعمیر کیا۔

تیرہویں صدی میں ممالیک نے اس مسجد کی مرمت کی، تاہم ۱۲۶۰ء میں منگولوں نے اسے تباہ کر دیا۔ اس کے باوجود جلد ہی مسلمانوں نے اسے دوبارہ حاصل کر کے تعمیر کر لیا۔

بعد ازاں تیرہویں صدی کے اواخر میں آنے والے ایک اور زلزلے نے اسے دوبارہ نقصان پہنچایا۔

پندرھویں صدی میں عثمانیوں نے زلزلے کے بعد اس کی مرمت کی، لیکن پہلی جنگِ عظیم کے دوران ایک مرتبہ پھر برطانوی بمباری سے اسے نقصان پہنچا۔

۱۹۲۵ء میں اعلیٰ مسلم کونسل نے اس مسجد کی مرمت کی اور اسے غزہ کے عوامی و سماجی زندگی کا ایک مرکزی مرکز بنا دیا، یہاں تک کہ حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں یہ مسجد دوبارہ تباہ ہو گئی۔/

آیت اللہ فاضل لنکرانی نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ولادت کی مناسبت سے مرکز فقہی ائمہ اطہار علیہم السلام کے اساتذہ، طلباء اور کارکنان کے خاندانوں کے لیے منعقدہ آٹھویں کانفرنس «جشن فاطمی» میں خطاب کرتے ہوئے کہا: آج کے اس سخت دور میں جس میں علماء و روحانیت ہر سمت سے دباؤ کا شکار ہیں آپ طلبہ کی زوجات پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ روحانیت فکری اور اعتقادی حملوں کی زد میں ہے اور دشمن کی کوشش ہے کہ عوام کو روحانیت سے جدا کر دے۔

انہوں نے کہا: روحانیت دین کو سمجھنے اور اس کی تبلیغ کی ذمہ دار ہے اور آج ایک فاضل اور واجدِ شرائط عالم دین دشمن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ دشمن کا اصل ہدف دین اور قرآن کو مٹانا ہے تاکہ خداوند متعال اور اس کے احکام کا نام و نشان باقی نہ رہے۔

آیت اللہ فاضل لنکرانی نے کہا: مغرب میں دشمن نے خاندان کو تباہ کر دیا ہے جبکہ اسلام خاندان کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: «قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا» اور یہ ایک بنیادی اصول ہونا چاہیے کہ خاندان میں ہر وہ بات کہی جائے جو انسان کو جنت کے قریب کرے۔

انہوں نے مزید کہا: دشمن خاندان کی بنیاد کو ختم کرنا چاہتا ہے اور دین میں انسان کی رشد کے لیے جو کچھ مقرر کیا گیا ہے اسے نشانہ بنا رہا ہے تاکہ انسانیت کو اپنی غلامی میں لے آئے۔ اس بنا پر ان میدانوں میں علماء کی ذمہ داری بہت سنگین ہے اور ان کی زوجات کو بھی ان امور پر پوری توجہ دینی چاہیے۔ آج روحانیت نہایت نازک حالات سے گزر رہی ہے لہٰذا کامیاب عالم دین وہی ہے جس کی زوجہ بھی ان حالات اور حساسیتوں کو سمجھتی ہو۔

گذشتہ روز سڈنی میں یہودیوں کی ایک روایتی مذہبی تقریب پر مسلح حملے میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ سڈنی کے بونڈی بیچ پر پیش آنے والے حالیہ واقعے کے بعد اسرائیلی اخبار نے صیہونی سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ اسرائیلی میڈیا میں اس خبر کی اشاعت کے ساتھ ہی، بعض اسلامی جمہوریہ مخالف میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس پر سابق شاہ ایران کے حامیوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر ایک مربوط کمپین چلائی گئی۔ ایک ایسی تحریک جس نے کوئی معتبر دستاویز یا ذریعہ فراہم کیے بغیر اپنے وہم و خیال اور ایک باقاعدہ سازش کے تحت قطعی طور پر اعلان کیا کہ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کا کام ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس بیانیے کی پیروی بیک وقت اسرائیلی میڈیا اور فارسی زبان کے انقلاب دشمن میڈیا نے فوری طور پر کی۔ گویا اس واقعے کے فوراً بعد پہلے سے تیار شدہ خبروں کا فریم ورک فعال ہوگیا۔

حالانکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سرکاری طور پر اس حملے کی مذمت کی ہے۔ ایک ایسا مؤقف جو "ایرانی مداخلت" کے دعوے سے متصادم ہے اور درحقیقت صہیونی میڈیا میں پیش کیے جانے والے بیانیے کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ بہرحال انٹیلیجنس پولیس کے اصول پر مبنی اس واقعے کی اصل وجہ جاننے کے لیے ہمیں پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس واقعے سے فائدہ کس کو ہوسکتا ہے۔؟ سڈنی لندن کے بعد دوسرا شہر ہے، جہاں گذشتہ دو سالوں میں غزہ کی حمایت میں سب سے زیادہ صیہونیت مخالف مظاہرے ہوئے ہیں اور ان مظاہروں میں بڑی تعداد میں یہودیوں نے بھی شرکت کی ہے۔ اس رجحان نے صیہونی حکومت کو بہت زیادہ پریشان کیا ہے اور صیہونی حکومت کے رہنماء اس سلسلے میں آسٹریلوی حکومت کو بارہا خبردار کرچکے ہیں۔ آسٹریلوی حکومت رائے عامہ کی خواہش کے باوجود کچھ نہ کرسکی۔

1۔ کیا یہ واقعہ سڈنی کے عوام کے صیہونی مخالف مظاہروں میں سہولت فراہم کرتا ہے یا اس سے آسٹریلوی پولیس کے ہاتھ صیہونی مخالف عناصر کو دبانے کے لیے مزید کھل گئے ہیں۔؟
2۔ سڈنی کے یہودیوں کے لیے سکیورٹی کے فقدان سے کس کو فائدہ پہنچتا ہے۔
سڈنی اسرائیل سے فرار ہونے والوں کی منزلوں میں سے ایک ہے اور مقبوضہ فلسطین میں رہنے والے یہودیوں کی الٹی ہجرت کے لیے یہ اہم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔؟
3۔ کیا یہ واقعہ صیہونی حکومت کے جرائم اور غزہ کے عوام پر ہونے والے ظلم کو عالمی رائے عامہ میں اجاگر کرنے میں مدد کرتا ہے یا اس سے حکومت کے تنہائی سے نکلنے میں مدد ملتی ہے۔؟

4۔ سڈنی میں متعدد صیہونی کمپنیوں اور اداروں کی موجودگی اور اس حکومت کے بحری جہاز جو جائے وقوعہ کے قریب پورٹ جیکسن میں لنگر انداز ہیں اور ان پر حملہ کرنا اسرائیلی معیشت کے لیے ایک اچھا خاصا خطرہ ہے، اس کے پیش نظر سڈنی میں ہتھیار رکھنے والے عناصر ایک اچھے اور غیر محفوظ اہداف کو چھوڑ کر عام لوگوں اور عبادت گاہوں کی طرف کیوں گئے۔؟
5۔ چھٹیاں گزارنے کے لیے سڈنی جانے والے صہیونی فوجیوں پر حملہ کیوں نہیں کیا جاتا اور مسلح حملے صرف مذہبی مراکز پر ہی کیوں ہوتے ہیں۔؟
جواب واضح ہے کہ سڈنی کے واقعے سے فائدہ اٹھانے والی صرف اور صرف صیہونی حکومت ہی ہے۔ مظلوم فلسطین اور بہادر غزہ کی بہترین مدد یہ ہے کہ دنیا کی رائے عامہ میں ان کی مظلومیت اور بہادری کی تصویر کو زندہ رکھا جائے اور اس حکومت کے جرائم کی ہر ممکن عکاسی کی جائے اور ہر وہ چیز جو ان ترجیحات کو تباہ کرتی ہے، وہ صیہونیوں کی مدد میں شامل ہے

تحریر: محمد رضا دھقان