سلیمانی

سلیمانی

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس موقع پر اپنے خطاب میں فلسطین کے حالات اور غزہ میں صیہونی حکومت کے جاری جرائم کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ غزہ کے واقعات نے بہت سے پوشیدہ حقائق، دنیا کے لوگوں پر عیاں کر دیے، جن میں سے ایک حقیقت، مغربی ملکوں کے حکام کی جانب سے نسلی امتیاز کی طرفداری ہے۔

انھوں نے صیہونی حکومت کو نسلی پرستی کا مظہر بتایا اور کہا کہ صیہونی اپنے آپ کو برتر نسل سمجھتے ہیں اور دوسرے تمام انسانوں کو کمتر نسل مانتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے کئی ہزار بچوں کو قتل کر ڈالا اور ان کا ضمیر مطمئن ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے زور دے کر کہا کہ جب امریکا کے صدر، جرمنی کے چانسلر، فرانس کے صدر اور برطانیہ کے وزیر اعظم اپنے بلند بانگ دعووں کے باوجود، اس طرح کی نسل پرست حکومت کی حمایت اور مدد کرتے ہیں تو یہ ان کی طرف سے نسل پرستی کی طرفداری کی قابل مذمت سچائی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یورپ اور امریکا کے عوام بھی اس صورتحال میں اپنی ذمہ داری طے کر لیں اور بتا دیں کہ وہ نسل پرستی کے طرفدار نہیں ہیں۔

آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے غزہ کے حالات کے بارے میں جو دوسری اہم بات بیان کی وہ صیہونی حکومت کی فوجی اور آپریشنل ناکامی کے بارے میں تھی۔ انھوں نے کہا کہ صیہونی حکومت، غزہ میں بے تحاشا بمباری کے باوجود اب تک اپنے مشن میں ناکام رہی ہے کیونکہ اس نے شروع سے ہی کہا تھا کہ ہمارا ٹارگٹ حماس اور مزاحمتی فورس کو ختم کرنا ہے لیکن چالیس دن سے زیادہ گزر جانے اور اپنی تمام تر فوجی طاقت استعمال کرنے کے باوجود وہ اب تک ایسا نہیں کر پائي ہے۔

انھوں نے غزہ میں اسپتالوں، عورتوں اور بچوں پر وحشیانہ بمباری کو اپنی شکست پر صیہونی حکام کی شدید تلملاہٹ کی نشانی بتایا اور کہا کہ غزہ میں صیہونی حکومت کی شکست ایک حقیقت ہے اور اسپتالوں یا عام لوگوں کے گھروں میں گھس جانا فتح نہیں ہے کیونکہ فتح کا مطلب فریق مقابل کو شکست دینا ہے جو صیہونی حکومت اب تک نہیں کر پائي ہے اور مستقبل میں بھی ایسا نہیں کر پائے گی۔

رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ اس ناکامی کا دائرہ صیہونی حکومت سے کہیں وسیع تر ہے اور اس نے امریکا اور مغربی ملکوں تک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب دنیا نے یہ حقیقت دیکھ لی کہ بے انتہا اور پیشرفتہ فوجی وسائل رکھنے والی حکومت، اپنے فریق مقابل پر غلبہ حاصل نہیں کر سکی ہے جس کے پاس ان میں سے کوئی بھی وسائل نہیں ہیں۔

انھوں نے اسی طرح مسلم حکومتوں کی کارکردگی اور ذمہ داریوں کے بارے میں کہا کہ بعض مسلمان حکومتوں نے بظاہر عالمی پلیٹ فارمز پر صیہونی حکومت کے جرائم کی مذمت کی اور بعض نے تو اب تک مذمت بھی نہیں کی، یہ بات قابل قبول نہیں ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ اصلی کام یہ ہے کہ صیہونی حکومت کی شریان اور اس کی رگ حیات کاٹ دی جائے اور اسلامی حکومتیں اس حکومت تک انرجی اور سامان کی ترسیل کا راستہ روک دیں۔

آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ اسلامی حکومتوں کو چاہیے کہ کم از کم ایک محدود مدت کے لیے صیہونی حکومت کے ساتھ اپنے سیاسی تعلقات منقطع کر لیں۔ انھوں نے کہا کہ عوام اپنے مظاہرے اور ریلیاں جاری رکھیں اور فلسطینی قوم کی مظلومیت کو فراموش نہ ہونے دیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم اللہ کے وعدے پر یقین رکھتے ہیں اور مستقبل کی جانب سے بھی پرامید ہیں اور اپنی ذمہ داری پر عمل کرتے رہیں گے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے سپاہ پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کی جس نمائش گاہ کا معائنہ کیا اس میں میزائل، ڈرون، دفاعی آلات حرب اور ایرواسپیس جیسے شعبوں کی مصنوعات پر مشتمل تھی، آئي آر جی سی کے جوان سائنسدانوں اور ماہرین کی جدید اور ماڈرن ایجادات کو نمائش کے لیے پیش گيا تھا۔ نمائش گاہ "سوچ سے لے کر پروڈکٹ تک مکمل ایرانی" کے عنوان سے منعقد کی گئي تھی۔

اس نمائش گاہ میں رہبر انقلاب اسلامی کی موجودگي میں، ہائپرسونک کروز میزائل "فتاح-2"، موبائل ڈیفنس سسٹم "مہران" اپگریڈیڈ سسٹم "9 دی" اور اسی طرح "شاہد-147" ڈرون کی رونمائی گئی۔ سیٹلائٹ کیریئر میزائل کی تیاری اور فضا میں سیٹلائٹ بھیجنے کے میدان میں کیے جانے والے اقدامات اور جدید کامیابیاں، اس نمائش گاہ کا ایک اور حصہ تھیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس طرح کی سائنسی پیشرفت کے حصول کو عزم و ایمان پر مبنی جذبے کا نتیجہ بتایا اور کہا کہ ہمارے نوجوان جہاں بھی عزم و ایمان کے ساتھ پہنچے، وہیں انھوں نے عظیم کارنامے انجام دیے اور اس نمائش گاہ میں بھی عزم و ایمان کی نشانیاں بہت واضح تھیں۔

ایران کی مسلح فورسز کے سپریم کمانڈر نے جدت طرازی کو آئی آر جی سی کی ائيرواسپیس کی نمائش گاہ کی ایک اور خصوصیت بتایا اور کہا کہ کامیابیوں کی موجودہ سطح پر ہرگز مطمئن نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دنیا میں مختلف فوجی اور غیر فوجی شعبے لگاتار پیشرفت کر رہے ہیں اور ہمیں بھی کوشش کرنا چاہیے کہ پیچھے نہ رہ جائيں۔

اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی نے کہا ہے کہ اسرائیل کا خاتمہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہوگا۔ ایران کے دارالحکومت تہران میں فلسطین کی حمایت میں ریلی نکالی گئی، جس سے ایرانی کمانڈر حسین سلامی نے خطاب کیا۔ اس دوران ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل حماس سے طویل اور خونی جنگ کی طرف جا رہا ہے۔ اسرائیل کو یقینی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حسین سلامی نے کہا کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، اسلامی دنیا جو کر سکی کرے گی۔ اسلامی دنیا کی اب بھی بہت سی صلاحیتیں باقی ہیں۔ ایرانی کمانڈر کا کہنا تھا کہ صہیونی حکومت مزید امن و سکون نہیں دیکھ سکے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلمان غزہ کے مظلوم عوام کی طرف سے بدلہ لیں گے۔ مسلمانوں کے انتقام کی کوئی میعاد بھی نہیں ہوگی۔

سات اکتوبر آپریشن طوفان الاقصیٰ کے بعد سے مسلسل جاری غزہ جنگ میں جہاں فلسطینی عوام کو جانی نقصان اور گھروں کی تباہی کا سامنا ہے، وہاں غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کو بھی درجن بھر سے زائد مشکلات اور مصائب کا سامنا ہے۔ اس مقالہ میں فقط غاصب صیہونی حکومت کو ہونے والے معاشی نقصان کے بارے میں تفصیلات پیش کی جا رہی ہیں۔ غاصب صیہونی حکومت کی اپنی انویسٹ منٹ ایجنسی جسے اسرائیلی انویسٹ منٹ ایجنسی کہا جاتا ہے، اس بات کا اعتراف کرچکی ہے کہ جنگ کے پہلے بارہ دنوں میں یعنی 09 اکتوبر سے 20 اکتوبر تک اسرائیل کی اسٹاک ایکسچینج سے بیس ارب ڈالر کا سرمایہ نکال لیا گیا تھا۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل سے نکل جانے والے سرمایہ کی کل رقم پچاس ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔

غزہ پر امریکی سرپرستی میں مسلط کردہ صیہونی جنگ کے معاشی اثرات غاصب صیہونی حکومت کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ اس جنگ میں غاصب حکومت کو بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ حال ہی میں غاصب حکومت اسرائیل کے مرکزی بینک نے ایک رپورٹ میں تمام بینکوں کو محتاط انداز میں کام کرنے کی ایڈوائزری جاری کی ہے اور ایک اندازہ کے مطابق کہا ہے کہ جنگ کے سبب اسرائیلی معیشت کو یومیہ 26 سے 30 کروڑ ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے۔ مرکزی بینک کی اسی رپورٹ میں اسرائیلی انویسٹ منٹ ایجنسی کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ غزہ کے ساتھ غاصب حکومت کی مسلسل جنگ کی وجہ سے معیشت کو 50 ارب ڈالرز کا نقصان ہوچکا ہے۔

اس موقع پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا غاصب صیہونی حکومت روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے اتنے بڑے معاشی نقصان کو اکیلے ہی برداشت کر لے گی؟ یا اس معاشی نقصان کا بوجھ بھی امریکی شہریوں کے ٹیکس سے ادا کردہ رقم کی صورت میں اسرائیل کو دیا جائے گا؟ دوسری طرف غزہ میں معصوم بچوں اور انسانیت کے قاتل غاصب صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر خزانہ بیزا لیل سماٹریش پر عوامی دباو بڑھ رہا ہے کہ وہ غاصب اسرائیلی حکومت کے بجٹ پر نظرثانی کریں۔ اسرائیلی انوسٹ منٹ ایجنسی نے جہاں اسٹاک ایکسچینج سے سرمایہ نکالنے کی رپورٹ جاری کی ہے، وہاں ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ جنگ کے باعث غاصب صیہونی حکومت اسرائیل کی کرنسی شیکل 2012ء کے بعد کم ترین سطح پر آچکی ہے۔ غاصب حکومت کے مرکزی بینک کے مطابق جنگ کے باعث اسرائیل کی کرنسی شیکل مسلسل اپنی قدر کھو رہی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے بلوم برگ کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد امریکی ڈالر کے مقابلے میں اسرائیلی کرنسی شیکل کی قدر میں 0.7 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اسرائیل کے بانڈز اور سٹاکس میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ غزہ پر جاری جنگ علاقائی تنازعے کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔ اسرائیل کی وزارت افرادی قوت کا کہنا ہے کہ غزہ پر جنگ کی وجہ سے ورک فورس میں 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جنگ کے باعث اسرائیل کی درآمدات اور برآمدات متاثر ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح یہ بھی تصدیق کی گئی ہے کہ ایک ماہ میں غاصب حکومت کے تیس ہزار افراد بے روزگار ہوچکے ہیں۔

غزہ سے مسلسل فلسطینی اسلامی مزاحمت دفاع کر رہی ہے اور غاصب حکومت کے فوجی ٹھکانوں میں غزہ سمیت جنوبی لبنان سے روزانہ کی بنیادوں پر درجنوں اور سینکڑوں راکٹ اور میزائل داغے جا رہے ہیں۔ ان میزائلوں کو روکنے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لئے غاصب صیہونی حکومت کو بے پناہ جنگی نقصان کا سامنا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق غاصب حکومت کو شدید مالی اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری طرف یہ خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ غزہ جنگ سے پیدا ہونے والی اس ابتر معاشی صورتحال میں بجٹ میں ترامیم کی جائیں اور جنگی بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔ بائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے فنڈز میں کٹوتی کے فیصلے پر وزیراعظم نیتن یاہو پر تنقید کی جا رہی ہے۔

ماہرین اقتصادی امور کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کو دفاعی بجٹ میں بہت بڑی رقم کی ضرورت ہے، لیکن اس رقم کی دستیابی کیسے ہوگی، یہ ایک سوال ہے۔ کیونکہ ایک بڑی تعداد سرمایہ داروں کی مقبوضہ فلسطین سے نقل مکانی کر رہی ہے اور اپنا سرمایہ بھی نکال چکی ہے۔ دوسری جانب 300 معاشی ماہرین نے رواں ہفتے نیتن یاہو کو کہا کہ وہ تمام غیر ضروری اخراجات میں کمی کریں، اخراجات پر نظرثانی کریں، کیونکہ جنگ کے بعد امداد اور بحالی کے لیے اربوں ڈالرز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اسرائیل کی معیشت کا حجم 530 ارب ڈالرز سے زائد ہے اور فی کس آمدن 58 ہزار 273 ڈالرز ہے۔ مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 200 ارب ڈالرز ہیں، جو ایک سال کے درآمدی بل کے برابر ہے۔ غاصب اسرائیل کی معیشت میں خدمات کے شعبے کا حصہ 80 فیصد اور صنعتی شعبے کا شیئر 17 فیصد سے زائد ہے۔ غزہ پر جنگ کی وجہ سے اسرائیل کے زرمبادلہ کے ذخائر میں سات ارب ڈالرز کی کمی ہوئی ہے اور اب یہ 191.2 ارب ڈالرز تک پہنچ چکے ہیں۔

ماہرین معاشی امور کہتے ہیں کہ غاصب صیہونی حکومت اسرائیل کی معیشت کو امریکہ اور یورپ کے ساتھ ملا کر دیکھیں۔ ہاں اگر اسرائیل اکیلے یہ جنگ لڑ رہا ہوتا تو شاید اب تک اس کی معیشت تباہ ہوچکی ہوتی۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی سٹینڈرڈ اینڈ پوور (ایس اینڈ پی) نے حالیہ جنگ کی وجہ سے اسرائیلی معیشت میں پانچ فیصد کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ریٹنگ ایجنسی نے آئندہ مہینوں میں اسرائیلی معیشت میں سست روی کا بھی امکان ظاہر کیا ہے۔کاروباری سرگرمیوں میں کمی ہو رہی ہے، صارفین اشیاء کی خریداری کم کر رہے ہیں، جس سے ڈیمانڈ میں کمی ہو رہی ہے اور سرمایہ کاری کے ماحول پر غیر یقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا بجٹ خسارہ اکتوبر میں ملک کی مجموعی پیدوار "جی ڈی پی" کا 2.6 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو کہ ستمبر میں 1.5 فیصد تھا۔ غاصب صیہونی حکومت اسرائیل نے 2022ء میں 35 سال بعد جی ڈی پی کا 0.6 فیصد بجٹ سرپلس دیا تھا۔ جنگی اخراجات کے باعث اسرائیل کا بجٹ خسارہ 2024ء میں 3.5 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ گذشتہ سال 2022ء میں اسرائیل کی معاشی شرح نمو "جی ڈی پی" کا 6.5 فیصد تھی۔

ایس اینڈ پی کے مطابق رواں سال اسرائیل کی جی ڈی پی 1.5 فیصد تک رہے گی، جبکہ اگلے سال 2024ء میں جی ڈی پی 5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ غاصب اسرائیل کے مرکزی بینک کے مطابق 2023ء میں اسرائیل کی معاشی شرح نمو 2.3 فیصد تک رہ سکتی ہے جبکہ اگلے سال 2024ء میں معاشی شرح نمو 2.8 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے اسرائیل کے اسلحے کی برآمدات بری طرح متاثر ہوسکتی ہیں۔ اسرائیلی اسلحے کی برآمدات مجموعی برآمدات کا پانچ فیصد ہیں، جبکہ طویل جنگ کی وجہ سے اسرائیل کی سیاحت بھی متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ جنگ کے بعد بڑی فضائی کمپنیوں کی اسرائیل کے لیے پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ جنگ کی وجہ سے اسرائیل کا قرض بلحاظ جی ڈی پی 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو اگلے سال تک 55 فیصد تک رہنے کا اندازہ تھا۔ مشرق وسطیٰ اور عرب ممالک پر گہری نظر رکھنے والے ماہر شفقت اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی اور یورپی یہودیوں کا بینکنگ، معیشت اور میڈیا پر پورا کنٹرول ہے، امریکی کانگریس میں بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی سینیٹر اسرائیل کی مخالفت کرے۔

ماہر معیشت شاہد محمود نے کہا کہ جنگ کے باعث اسرائیل کے اسلحے کی فروخت، دفاعی برآمدات اور ہائی ٹیک شعبوں میں سرمایہ کاری متاثر ہوسکتی ہے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق غاصب صیہونی حکومت کے مرکزی بینک نے اسرائیل کو جنگ کے لیے 45 ارب ڈالرز فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی کانگریس نے اسرائیل کو 14 ارب ڈالرز سے زائد کے امدادی پیکیج کی منظوری دی ہے۔ امریکی کانگریس ریسرچ سروس کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے لیے اسرائیل کو فوج کے لیے 3.3 ارب ڈالرز مختص کیے ہیں۔ ماہر معاشی امورکا کہنا ہے کہ اسرائیل کو جنگ میں جتنا مالی نقصان ہوتا ہے، امریکہ اور یورپ اس کی مدد کرتے ہیں۔ "1948 سے آج تک لڑی جانیوالی تمام جنگیں اسرائیل نے امریکہ اور یورپ کے ساتھ مل کر لڑی ہیں، اسرائیل نے آج تک کوئی جنگ اکیلے نہیں لڑی، اسرائیل کی وار مشینری میں بھی اتنی طاقت نہیں کہ وہ اکیلے یہ جنگ لڑ سکے۔"

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجک سٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج میں ایک لاکھ 69 ہزار 500 اہلکار موجود ہیں جبکہ چار لاکھ 65 ہزار افراد ریزرو فوج کا حصہ ہیں۔ اسرائیل کی بری فوج کے پاس 2200 ٹینکس اور 530 آرٹلریز ہیں۔ اسرائیل کے پاس جدید ترین موبائل ایئر ڈیفنس موجود ہے، جو چھوٹی رینج کے راکٹس کو پکڑنے اور تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسرائیلی کی فضائیہ کے پاس 339 جنگی لڑاکا طیارے ہیں جن، میں 196 ایف 16، 83 ایف 15 اور 30 ایف 35 لڑاکا طیارے بھی موجود ہیں۔ اسرائیل کے پاس پانچ جدید ترین سب میرینز بھی ہیں۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے دفاع کی مد میں 2023ء میں 23.4 ارب ڈالرز خرچ کیے۔ انڈیا اسرائیلی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ گذشتہ چار برسوں میں انڈیا نے اسرائیل سے ایک ارب 19 کروڑ ڈالرز کا اسلحہ خریدا۔ انڈیا کے بعد آذربائیجان، فلپائن اور امریکہ اسرائیلی اسلحے کے بڑے خریدار ہیں۔ اسرائیل امریکہ اور جرمنی سے اسلحے کی بڑی خریداری کرتا ہے۔
 
 
 تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

قطر کے "الجزیرہ" نیوز چینل نے بدھ کی شام اپنی نیوز سائٹ پر لکھا ہے کہ جمہوریہ جنوبی افریقہ کے صدر "سیریل رامافوسا" کے اعلان کے مطابق صیہونی حکومت کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جنگی جرائم کے ارتکاب پر ان کے ملک کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کو شکایت کی گئی ہے۔

 

اس رپورٹ کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ کے سرکاری دورے کے دوران ایک پریس کانفرنس میں جنوبی افریقہ کے صدر نے غزہ کی پٹی میں جنگی جرائم اور نسل کشی کے بارے میں کہا کہ یہ پٹی ایک حراستی کیمپ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ 

 

جنوبی افریقہ کے صدر نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہ ان کا ملک دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ مل کر صیہونی حکومت کے موجودہ اقدامات کو بین الاقوامی فوجداری عدالت سے رجوع کرنا مناسب سمجھتا ہے، مزید جانوں کو بچانے کے لیے فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا اور مطالبہ کیا کہ دنیا کے مختلف ممالک اس حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ مزید جنگی جارحیت کو فوری طور پر روک دے۔

رامافوسہ نے کہا کہ غزہ میں اب تک مرنے والے گیارہ ہزار افراد میں سے نصف بچے تھے اور یہ تاریخ میں ایک بے مثال مسئلہ ہے جہاں دنیا اس خوفناک انداز کا مشاہدہ کر رہی ہے جس میں انکیوبیٹر سے نکالے جانے کے بعد بچے مر جاتے ہیں۔

 

غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پیروی کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، جنوبی افریقہ کے صدر نے کہا کہ یہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے کہ بے گناہ لوگوں کو اجتماعی سزا دی جائے اور اس طرح قتل کیا جائے۔

 

 رامافوسہ نے تاکید کی کہ ہم مختلف فریقوں کے درمیان جنگ بندی چاہتے ہیں جبکہ واحد حل فلسطینی عوام کی توقعات کا جواب اور ان کی آزاد ریاست کا قیام ہے۔

 

قابل غور ہے کہ صیہونی فوج نے دو ہفتے قبل غزہ کی پٹی پر زمینی حملہ کیا تھا جب کہ اس پٹی پر اس کے مہلک حملے فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کی"عزالدین القسام" بٹالین کے مقبوضہ علاقوں میں آپریشن"الاقصیٰ طوفان" کے جواب میں تھے جو کہ مسلسل 40ویں روز بھی جاری ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای سے گارڈین کونسل کے ممبران نے ملاقات کی۔

 

اس ملاقات میں آیت اللہ خامنہ ای نے گارڈین کونسل کی محنت اور کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کونسل کے قانونی فرائض کے بارے میں کچھ نکات کا اظہار کرتے ہوئے تاکید کی کہ ہر ایک کا فرض ہے کہ اس سال مارچ میں پرجوش انتخابات کے انعقاد کے لیے ماحول بنائے اور میدان فراہم کرے۔

فلسطینی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں طوفان الاقصی کے بیالسویں دن بھی صہیونی حکومت کی بربریت جاری ہے۔ تازہ ترین حملوں میں صہیونی دہشت گرد فورسز نے طبی مراکز، مساجد اور دیگر غیر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

 

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق غزہ کے شمال میں جبالیا میں صہیونی فورسز نے حملہ کرکے دو گھروں کو نقصان پہنچایا ہے۔

 

علاوہ ازین التفاح، الشجاعیہ اور یافا کے علاقے میں اسرائیلی توپخانے سے گولے فائر کرنے کی وجہ سے عوامی املاک کو نقصان ہوا ہے۔

 

غاصب صہیونی فوج کے حملے میں رفاح کراسنگ بارڈر کے نزدیک سات فلسطینی شہید ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

 

خان یونس کے مشرقی حصے اور النصیرات کیمپ میں بھی صہیونی فوج نے وحشیانہ حملے کئے ہیں۔

 

دراین اثناء جہاد اسلامی فلسطین کے ترجمان طارق السلمی نے کہا ہے کہ دشمن صہیونی حکومت کو ہر میدان میں شکست کے بعد اپنی ناکامی کا داغ چھپانے کے لئے شفاء ہسپتال کے بارے میں جھوٹے دعوے کا سہارا لینا پڑا۔

 

انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر کو مقاومت کے ہاتھوں ہزیمت کا شکار ہونے کے بعد صہیونی حکومت اب تک سنبھل نہیں سکی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ قدس کے سربراہ جنرل اسماعیل قاآنی نے القسام بریگیڈ کے کمانڈر محمد الضیف کے نام ایک پیغام میں کہا۔القدس کے دفاع میں آپ کے بھائی آپ کے ساتھ متحد ہیں اور وہ دشمن کو غزہ اور فلسطین میں اپنے مذموم مقاصد تک پہنچنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ مزاحمت کے محور سے مراد لبنان، عراق، یمن اور دیگر جگہوں پر ایران، شام اور اسرائیل مخالف گروہوں کے درمیان اتحاد ہے جس نے غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے حالیہ ہفتوں میں اسرائیل اور امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

جنرل قاانی نے حماس کی جانب سے 7ا کتوبر کے آپریشن کو سراہا جس میں صہیونی حکومت پر حملے کرکے ناقابل تسخیر ہونے دعووں کا پول کھول دیا تھا۔

 

انہوں نے کہا کہ آپ نے اللہ کی مدد سے طوفان الاقصی آپریشن کے ذریعے تاریخ رقم کی ہے جس میں القسام اور مقاومت کے مجاہدین نے بہادری دکھائی ہے۔

 

فلسطین اور خطے کی صورتحال الاقصی طوفان کے بعد پہلے سے کافی مختلف ہوگی۔ 

 

اپنے پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ آپ نے غاصب صیہونی حکومت کی کمزوری کو واضح طور پر سامنے لایا اور آ


پ نے عملی طور پر دکھایا کہ یہ حکومت مکڑی کے جالے سے بھی کمزور ہے۔ 

یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی نے مقبوضہ علاقوں میں عراقی مزاحمتی فورسز کے پہلے آپریشن کا خیر مقدم کیا ہے۔

 

انہوں نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر مقبوضہ علاقوں میں عراقی مزاحمتی فورسز کے پہلے آپریشن اور قابض حکومت کے خلاف جنگ میں باضابطہ شمولیت کے جواب میں لکھا کہ ’’امریکہ جس چیز سے شدید خوفزدہ ہے وہ جنگ کے دائرہ کار کا بڑھ جانا ہے ۔ آپ کا شکریہ اے عراق کی غیور ملت، آپ نے ہمارا سر فخر سے بلند کردیا۔

 

واضح رہے کہ غزہ کی پٹی میں صیہونی حکومت کے جرائم میں اضافے کے ساتھ ہی کل جمعرات کی شام عراقی اسلامی مزاحمتی فورسز نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ "ہم نے بحیرہ مردار کے ساحل پر صیہونی رجیم کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا"۔

 

فلسطین کی حالیہ جنگ کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ عراقی مزاحمتی گروہ مقبوضہ علاقوں میں صیہونی حکومت کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

-ارنا- فلسطینی ذرائع نے بتایا ہے کہ صیہونی حکومت کے جنگي طیاروں نے جمعہ کی شام غزہ کے الشفاء اسپتال کے گیٹ پر بمباری کی جس میں 60 لوگ شہید و زخمی ہو گئے۔

 

        اسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے بتایا ہے کہ اس بمباری میں کئي ڈاکٹر اور اسپتال کے کارکن بھی شہید ہو گئے ہیں۔

 

        غزہ کی وزارت صحت نے جمعہ کی شام بتایا ہے کہ غزہ پر صیہونی حکومت کے حملوں کے نتیجے میں اب تک 9227 لوگ شہید ہوئے جن میں سے 3826 بچے اور 2405 خواتین ہيں۔

 

        رپورٹوں کے مطابق غزہ کے 2100 لوگ اب بھی ملبے میں دبے ہيں جن میں 1200 بچے ہيں۔

 

 

 

 

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ خطے کی تازہ ترین صورتحال اور غزہ کے خلاف صہیونی جرائم سے متعلق اہم خطاب شروع۔

 

انہوں نے خطاب میں کہا کہ شہداء فلسطین پر ہم فخر کرتے ہیں اور یہی شہداء اور انکی فیملی ہماری طاقت ہیں جنہوں نے سب کچھ اسلام اور مقدسات کے لئے قربان کیا۔

 

انہوں مزید کہا کہ طوفان الاقصی اب کئی مختلف محاذوں اور میدانوں میں پھیل چکا ہے۔ 

 

سید مقاومت نے مزید کہا کہ صہیونیوں کے ساتھ ہماری جنگ راہ خدا میں جنگ کا بہترین نمونہ ہے اور دنیا میں فلسطینی قوم کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہماری اصل طاقت ایمان، بصیرت اور آمادگی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر ہم مکمل طور پر جائز جنگ کی بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں صیہونیوں کے ساتھ جنگ سے زیادہ جائز جنگ نہیں ملے گی۔

 

سید مقاومت نے فرمایا کہ صیہونیوں کے خلاف طوفان الاقصی کی جنگ اخلاقیات اور قانونی حیثیت کے معاملات میں کوئی ابہام نہیں رکھتی۔

 

عراق اور یمن کے مقاومتی محاذ کا جنہوں نے جنگ غزہ میں حصہ لیا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ طوفان الاقصی کی جنگ 100 فیصد فلسطینیوں کی فیصلہ سازی اور عمل درآمد تھی۔ہزاروں فلسطینی قیدی کئی سالوں سے جیلوں میں قید ہیں اور کسی نے اس سلسلے میں کوئی تحریک نہیں چلائی۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں تقریبا 20 سال سے دو ملین سے زائد افراد محاصرے میں ہیں۔ 

 

انہوں نے کہا کہ موجودہ صہیونی وحشی حکومت کی وجہ سے مقبوضہ علاقوں میں کئی سال سے حالات بہت ناسازگار ہوچکے ہیں۔

 

سید مقاومت نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں فلسطینی عوام کے خلاف صہیونی جارحیت کے خلاف مظاہروں پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔

 

طوفان الاقصی مکمل طور پر فلسطینی ہے۔

 

آپریشن کی اس رازداری نے اسے کامیاب بنایا۔ حزب اللہ بالکل پریشان نہیں تھی کیونکہ اسے آپریشن کے بارے میں علم نہیں تھا۔

 

ان کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا تعلق ایران سے ہے۔ یہ اقدام سو فیصد فلسطینی ہے اور ان مسائل کو بیان کرنا صرف توجہ ہٹانے کے لیے ہے۔

 

سید مقاومت نے مزید کہا کہ ایران کھلے عام مزاحمت کی حمایت کرتا ہے لیکن طوفان الاقصی میں ایران کا کوئی کردار نہیں ہے۔

 

اسرائیل مکڑی کے جالے سے بھی کمزور ہے۔

 

امریکہ اسرائیل غاصب حکومت کی مدد کرنے میں جلد بازی ان کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ طوفان الاقصی میں جو کچھ ہوا وہ بہادری اور جرأت مندانہ تھا۔

 

طوفان الاقصیٰ نے اسرائیل کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا اور یہ ثابت ہوا کہ اسرائیل واقعی مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے۔

 

انہوں نے مزید کہ کپ امریکہ فوری طور پر اس لڑکھڑاتی ہوئی حکومت کو بچانے اور اسے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔

 

طوفان الاقصی نے اسرائیل میں ایک زلزلہ برپا کردیا

 

غزہ اور غرب اردن کے عوام کی جرات اور بہادری کو الفاظ اور جملوں کی صورت میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

 

اسرائیل پہلے دن سے ہی امریکہ سے رقم اور ہتھیاروں کا مطالبہ کر رہا ہے۔

 

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ آپریشن طوفان الاقصی کا فیصلہ دانشمندانہ اور جرات مندانہ اور صحیح وقت پر درست تھا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی مزاحمت کے خلاف اس آپریشن کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا اور یہ صحیح وقت پر ایک جرات مندانہ اور دور اندیش فیصلہ تھا۔

 

پہلے گھنٹوں سے ہی یہ بات واضح تھی کہ دشمن طوفان اقصیٰ کے وقت کا پتہ نہیں لگا سکا اور الجھن کا شکار تھا۔

 

اہداف کے انتخاب میں اشتباہ صہیونیوں کی سب بڑی غلطی ہے

 

شروع میں کہتے تھے کہ حماس کی نابودی اولین ترجیح ہے حالانکہ ذرہ برابر بھی عقل رکھنے والا جانتا ہے کہ حماس کی نابودی کو ہدف ناقابل حصول ہے۔

 

اس کے بعد کہنا شروع کیا کہ قیدیوں کو آزاد کرنا چاہتے ہیں۔ حالات سے آگاہی رکھنے والے جانتے ہیں کہ شرائط قبول کئے بغیر قیدیوں کی رہائی ممکن نہیں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ تیس دنوں سے نام نہاد انسانی حقوق کے مغربی علمبرداروں کی نظروں کے سامنے غزہ پر بمباری کی جارہی ہے۔

 

غزہ میں جو کچھ ہوا وہ اسرائیل کی حماقت اور نااہلی کو ظاہر کرتا ہے، تقریبا ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی اسرائیلی فوج غزہ میں ایک بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکی ہے۔ انہیں ایک ماہ کے بعد بھی کوئی فوجی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی عام جنگ نہیں بلکہ فیصلہ کن اور تاریخی جنگ ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ ابتداء سے ہی حالت جنگ میں ہے لیکن طوفان الاقصیٰ کے فوراً بعد سے ہم جنگ میں شریک ہیں۔

 

اس جنگ کا براہ راست ذمہ دار امریکہ ہے۔ وہ جنگ بندی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کی مذمت کو روکتے ہیں اور اسی لئے امام خمینی نے کہا کہ امریکہ بڑا شیطان ہے۔

 

عراق اور شام میں امریکی اڈوں پر مزاحمت کی طرف سے حملہ دانشمندانہ اور بہادرانہ ہے۔ عراقی مزاحمت آنے والے گھنٹوں اور دنوں میں مزید حملے کرے گی اور انشاء اللہ ہم دیکھیں گے۔

 

غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ پچھلی جنگوں کی طرح جنگ نہیں ہے بلکہ ایک فیصلہ کن اور تاریخی جنگ ہے۔

 

غزہ کی جنگ میں دو مقاصد حاصل ہونا چاہیے۔

 

پہلا مقصد انسانی اور دینی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی اور دوسرا حماس کی جیت، حماس کو ہر حال میں جیتنا چاہیے۔

 

آج غزہ کی فتح خطے کے تمام ممالک کے قومی مفاد کے لیے ضروری ہے۔ اگر غزہ ناکام ہوا تو خطے کے تمام ممالک اور لبنان کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ اسرائیل کو برآمد کرنا بند کریں۔ تیل اور کھانا بھیجنا بند کریں۔

 

کیا عربوں کی ناتوانی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ وہ غزہ تک انسانی امداد نہیں پہنچا سکتے اور زخمیوں کو نکال نہیں سکتے؟

 

عراق میں اسلامی مزاحمت نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

 

یمنی میزائل ایلات کی بندرگاہ تک پہنچ گئے ہیں۔ باقی دنیا کی طرح ہمیں بھی ہفتے کے دن پتہ چلا۔

 

جو پوچھتے ہیں کہ کب جنگ میں شامل ہوجائیں گے؟ میں اعلان کرتا ہوں کہ ہم 8 اکتوبر کو جنگ میں داخل ہوچکے ہیں۔حقیقت میں ہم دوسرے دن سے ہی جنگ میں داخل ہوچکے ہیں۔ لبنانی محاذ پر پیش آنے والے حادثات انتہائی اہم ہیں۔ ہم سرحدوں پر حملے پر اکتفا نہیں کریں گے۔

 

انہوں نے فرمایا کہ ہمارے شہداء کی کثیر تعداد کو جنگ کے الگے محاذوں پر جانے کا اصرار تھا۔ لبنان میں مقاومت کی طرف سے تمام سرحدی مقامات کو روزانہ ٹارگٹڈ حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس میں مختلف نوعیت کے ہتھیاروں کے ذریعے ٹینکوں، گاڑیوں، فوجیوں اور ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

 

سید مقاومت نے کہا کہ لبنان میں مزاحمتی محاذ ایک تہائی صہیونی فوج کو لبنان کی سرحد پر مشغول رکھنے میں کامیاب رہا۔ ہم نے دشمن کی آنکھیں موند کر نئے اہداف کے ساتھ بھرپور جنگ شروع کر دی ہے، خبروں سے آگاہی رکھنے والے ہی جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ لبنان کی سرحد پر اس کارروائی نے اسرائیل اور امریکہ کی قیادت پر خوف و وحشت طاری کردی ہے۔ دشمن آج تمام مزاحمتی کارروائیوں کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ اسے حقیقی خوف ہے کہ حالات ایسا رخ اختیار نہ کریں جس سے وہ ڈرتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ پر پیشگی حملہ جس پر اسرائیل غور کر رہا ہے وہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہو گی۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ہر روز عرب ممالک کی طرف سے پیغامات موصول ہوتے ہیں کہ ہم کارروائی نہ کریں، پہلے دن سے انہوں نے ہمیں بتایا کہ اگر آپ جنوب میں آپریشن کرنے کا سوچتے ہیں تو امریکی بحری بیڑا آپ پر بمباری کرے گا۔ دھمکیوں سے ہمارا موقف نہیں بدلا۔ امریکیو! سن لو ہم نے تہمارے بحری جہازوں کے لئے مخصوص چیزیں تیار کر رکھی ہیں۔ دھمکی راہ حل نہیں ہے، تنہا راہ حل غزہ پر مظالم کا خاتمہ اور جنگ بندی ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں اور ہم کسی بھی لمحے، کسی بھی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ اگر امریکہ اور مغربی ممالک چاہتے ہیں کہ جنگ کا دائرہ مزید نہ پھیلے تو اس کا ایک ہی راہ حل ہے کہ غزہ پر حملے بند کئے جائیں۔

 

امریکہ بخوبی جانتا ہے کہ جنگ ہونے کی صورت میں نہ بحری بیڑا کام آئے گا اور نہ فوجی، سب سے بڑا نقصان آپ کا ہوگا۔

 

انہوں نے کہا کہ 33 روزہ جنگ میں جب کوئی امید کی کرن نہیں تھی اس وقت امام خامنہ ای نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ کامیاب ہوجائیں گے کیونکہ طاقت کے ایک بڑے سرچشمے سے متصل ہیں