سلیمانی

سلیمانی

 روسی خبر رساں ادارے اسپوٹنگ کے نامہ نگار نے رپورٹ دی ہے کہ آج بدھ کے روز علی الصبح شام کے صوبہ الحسکہ میں موجود امریکہ کا سب سے بڑا فوجی بیس کیمپ متعدد شدید دھماکوں سے لرز اٹھا۔

رپورٹ کے مطابق دھماکوں کے بعد امریکی اتحاد کے ہیلی کاپٹروں نے علاقے کی فضائی حدود میں وسیع پیمانے پر پروازیں شروع کردیں۔

مقامی ذرائع کے اعلان کے مطابق یہ دھماکے آج علی الصبح تیل سے مالا مال شہر الشدادی کے شمالی اور مغربی مضافات میں ہوئے جہاں پر صوبہ الحسکہ میں امریکی افواج کا سب سے بڑا فوجی بیس کیمپ ہے۔ امریکی افواج اس بیس کیمپ کو تیل کے اخراج کو کنٹرول کرنے اور البتہ شام کا تیل چوری کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ 

اس رپورٹ کے مطابق دھماکوں کے بعد آگ کے شعلے آسمان کی جانب اٹھے جس کے متعلق قوی امکان ہے کہ اس فوجی بیس کیمپ پر میزائل حملے کا نتیجہ تھے۔

قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی افواج نے صوبہ الحسکہ میں اپنے غیر قانونی بیس کیمپ کی سیکورٹی کو مزید مضبوط کیا تھا۔ شامی ذرائع نے علاقے میں مزید دو امریکی فوجی دستوں کی آمد کی خبری دی تھی۔ 

حالیہ دنوں میں مقامی ذرائع نے امریکی افواج کی صوبہ الحسکہ کے شمال مغربی علاقوں فوجی مشقیں بڑھانے کی خبر دی تھی۔ ان علاقوں میں امریکی افواج کے علاوہ کرد ڈیموکریٹک فورسز ﴿قسد﴾ کے کمانڈ بیس بھی موجود ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ملک بھر کے آئمہ جمعہ و جماعات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ایران اسلامی نے دین و سیاست کی جدائی کے نظریے کو جو مغربی تمدن کی شناخت کا مرکزی نقطہ تھا، باطل کر دیا ہے اور یہ اسلامی جمہوریہ ایران کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ایران نے اسلامی جمہوریت کے نعرے کو نہ صرف زندہ رکھا ہے بلکہ وہ اپنی ترقی و پیشرفت کی منزلیں طے کرکے، دین و سیاست کو ناسازگار بناکر پیش کرنے کی طویل مغربی کوششوں کے سامنے مضبوط رکاوٹ بن گیا ہے۔ 

آپ نے امریکہ کو صیہونیوں اور سرمایہ دارانہ نظام کا شوکیس قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ مغربی طاقتوں کی مافیا جس میں صیہونی اور صیہونی سرمایہ دار سر فہرست ہیں، جھنجھلاہٹ کا شکار ہیں اور اسلامی جمہوریہ نظام پر ضربیں لگانے کی مسلسل ناکام کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے حالیہ دنوں میں عید غدیرخم کے تہوار میں مختلف فرقوں اور طبقوں سے کروڑوں افراد کی شرکت کو ایک عجیب و غریب واقعہ قرار دیا اور فرمایا کہ اس جشن میں ہر قسم کے لوگ موجود تھے اور سب ظاہری اختلافات کے باوجود دین کے حامی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کے عظیم کام کو مغربی تہذیب کے تشخص کا مرکزی نقطہ یعنی(سیاست کو دین سے الگ کرنا) کو باطل کرنا قراردیتے ہوئے کہا کہ ایران نے دین کے نعرے کے ساتھ نہ صرف اپنے آپ کو محفوظ رکھا بلکہ اس نے ایران کی ترقی کے ساتھ دین اور سیاست کو متضاد ظاہر کرنے کے لیے مغرب کی طویل المدتی کوششوں کو ناکام بنادیا۔ اسی لیے مغربی طاقتوں کا مافیا جس کی سربراہی صیہونیوں اور ان کے سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہے اور امریکہ ان کا شوکیس ہے۔ اس حقیقت پر غصے میں ہیں اور ہمیشہ اسلامی جمہوریہ ایران پر ضربہ لگانے کی مسلسل منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

انہوں نے ایک سوال اٹھایا کہ کیوں امریکہ اور برطانیہ کے سرکاری میڈیا بیک وقت حجاب کے بہانے سے خواتین کے موضوع پر حملہ آور ہوتے ہیں؟ اور کیا مغرب حقیقی طور پر ایرانی خواتین کے حقوق کا مدافع ہے؟ مغرب اگر حتی پانی کو ایرانی عوام پر ممنوع کر سکتا تھا، کرتا تھا۔ جیسا کہ اس نے ایپی ڈرمولیس بلوسا کا شکار ایرانی بچوں کیلئے دوا پر پابندی عائد کی ہے، اب مغرب ایرانی خواتین کے خیرخواہ ہیں؟

آیت اللہ خامنہ ای نے بتایا کہ مغرب بہت سالوں سے کہتا ہے کہ جب تک عورت اخلاقی اور مذہبی اقدار سے آزاد نہ ہوجائے تب تک وہ ترقی نہیں کر سکتی اور اعلیٰ سائنسی، سیاسی اور سماجی درجے پر نہیں پہنچ سکتی ہے۔ لیکن ایرانی خواتین نے گزشتہ 40 سالوں میں اپنے اسلامی حجاب کے ساتھ سائنسی ، سماجی، کھیلوں، سیاسی، انتظامی، معاشی اور ثقافتی میدانوں میں کامیابیاں حاصل کیں ہیں۔

سحر نیوز/ عالم ا سلام: واضح رہے کہ پیر کے روز حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے کاریش آئل اور گیس فیلڈ پر اسرائیل کے قبضے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بارے میں  حزب اللہ کا رد عمل، اسرائیل اور امریکا کے رویہ پر منحصر ہوگا۔

انہوں نے کہا تھا کہ حزب اللہ، اس آئل فیلڈ سے اسرائیلا کو تیل نکالنے سے روکنے کے لئے ہر قیمت چکانے کو  تیار ہے۔

المیادین ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ صرف کاریش ہی نہیں بلکہ ہر فیلڈ تک حزب  اللہ کی رسائی ہے اور اسرائیل میں کوئی ایسا نکتہ نہیں ہے جو اسلامی مزاحمتی گروہوں کے گائیڈیڈ میزائلوں کی رینج میں نہ ہو۔

حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کے انتباہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے جنرل عاموس گلعاد کا کہنا تھا کہ سید حسن نصر اللہ کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہمیں تیار رہنا ہوگا۔

ایران کے ادارۂ ایٹمی توانائی کے سربراہ محمد اسلامی نے اقوام متحدہ کی ایٹمی ایجنسی آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ 2015 کو ہوئے ایٹمی معاہدہ کی بحالی تک ایرانی ایٹمی تنصیبات میں لگے اقوام متحدہ  کے ایٹمی نگراں ادارے کے کیمرے بند رہیں گے، ایران پر الزامات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، اگر الزامات کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ان کیمروں کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے ایٹمی توانائی کے نگران ادارے کے سربراہ  نے  جون میں یو این کو خبردار کیا تھا کہ 27 نگرانی کرنے والے کیمرے ایجنسی کے بورڈ آف گورنر میں مغربی ممالک کی طرف سے پیش کردہ قرارداد کے بعد اتارے جا رہے ہیں۔

محمد اسلامی نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے اعتراضات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے کبھی بھی آئی اے ای اے کی طرف سے بنائے  گئے طریقہ کار کی مخالفت کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی نہیں کی اور یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔

اس سے  پہلے ایران کی وزارت خارجہ  کے ترجمان ناصر کنعانی نے گروسی  کے بیان پر ردعمل میں کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران آئی اے ای اے اور این پی ٹی کا کئی برسوں سے رکن ہے اور اس نے بین الاقوامی ایجنسی کے نمائندوں کو اپنی تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت دی ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ادارے کے سربراہ رافائل گروسی نے ایرانی ایٹمی پروگرام کے حوالے سے جانب داری کا مظاہرہ کیا ہے۔

 

المیادین ٹیلی ویژن چینل سے کل رات گفتگو کرتے ہوئے لبنان کی عوامی اور انقلابی تحریک حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصرالله نے کہا کہ تموز کی جنگ سے لے کر آج تک اسرائیل کو معلوم ہو چکا ہے کہ لبنان کے خلاف ہر قسم کے جارحانہ اقدام کا اسے جواب ملا ہے۔

سید حسن نصرالله نے کہا کہ قدس کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت نے 1985 میں بعض مقبوضہ علاقوں سے پسپائی اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے فلسطین میں استقامتی جوانوں کے داخلے کو روکنے کیلئے سرحدی پٹی پر سکیورٹی زون بنا کر اپنی شکست کا سامان فراہم کیا اور پھر 1993 سے 1996 تک اسے کئی بار شکست کا مزہ چھکنا پڑا۔

سید حسن نصرالله نے کہا کہ صیہونی دشمن کے خلاف  استقامتی جوانوں کی شہادت پسندانہ کارروائیاں شروع ہوئیں اور انہوں نے اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور 2006 کے بعد دشمن نے لبنان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کرنے کی جرأت نہیں کی۔

، حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی قمی نے حرم حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا میں موجود شبستان حضرت امام خمینی (رہ) میں خطاب کے دوران کہا: بہت سے معاملات میں جب ہم حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کی بات کرتے ہیں تو اس سے متعلق آیات و روایات کا ہم جائزہ لیتے ہیں لیکن ایک عالم شخص نے تحقیق کر کے اس نکتے کو ایک دوسرے طریقے سے ثابت کیا ہے، جس کے بہت سے دلچسپ نکات ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: علامہ "قاضی کراجکی" جو کہ شیخ مفید کے شاگردوں میں سے ہیں اور جو تقریباً ایک ہزار سال پہلے زندہ رہے اور اسّی سے زیادہ کتابیں تحریر کی ہیں۔ ان کی ولایت کے موضوع پر "التعجب" نامی ایک کتاب ہے جس کا فارسی میں ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔

حوزہ علمیہ کے اس استاد نے کہا: ولایت کے بارے میں علامہ کراجکی کی گفتگو خاص طور پر نوجوانوں کے لیے بہت موزوں ہے اور انہوں نے آیات و روایات سے ہٹ کر موضوعِ ولایت کا ایک اور انداز سے جائزہ لیا ہے اور اپنے مخاطب سے مختلف سوالات پوچھے ہیں۔

حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی قمی نے تاکید کرتے ہوئے کہا: ولایت کا انکار کرنے والوں کو اس کتاب میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا: اس کتاب کے مندرجات کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بابرکت زندگی میں کھانے پینے، سونے، حفظانِ صحت وغیرہ کے آداب کے بارے میں بھی بہت سے امور کو بیان کیا ہے، تو آیا کیا انسانی عقل اس چیز کو قبول کرتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان زندگی کے آداب و امور کو تو بیان کریں لیکن اپنے بعد حکومتی نظم و نسق کو بیان نہ کیا ہو اور خدانخواستہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس اہم مسئلہ کو بھول گئے ہوں؟!

حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی قمی نے مزید کہا: اس کتاب میں ایک اور سوال اٹھایا گیا ہے کہ قرآن اور مذہب کے مطابق وصیت کرنا ضروری اور واجب ہے، تو کیا انسانی ذہن اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قوم کے لیے تو وصیت کو واجب کہیں لیکن وہ خود وصیت کرنا بھول گئے ہوں؟

حرم مطہر کے خطیب نے مزید کہا: تاریخ اسلام کے مطابق جب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دن کے لیے بھی مدینہ سے باہر جانا چاہتے تھے تو اپنے جانشین کا انتخاب کیا کرتے تھے، تو کیا یہ بات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مناسب ہے کہ وہ چند دنوں کے سفر کےلئے تو اپنے جانشین کا انتخاب کریں لیکن اپنے ابدی سفر کے لیے جانشین مقرر نہ کریں؟!

انہوں نے کہا: جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں حکومت قائم کی تو آپ نے بہت سے کمانڈر مقرر کیے، کیا یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ تمام فوجی کمانڈرز اور مختلف شہروں کے گورنرز تو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود مقرر کرتے ہوں لیکن امت اسلامی کی سرپرستی جیسے سب سے اہم مسئلہ میں کسی شخص کو مقرر نہ کیا ہو اور اسے امت پر ہی چھوڑ دیا ہو؟!

حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی قمی نے دعوتِ فکر دیتے ہوئے کہا: اگر ہم یہ مان لیں کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی شخص کو اپنا جانشین منتخب نہیں کیا اور اس کا انتخاب امت پر چھوڑ دیا اور ساری امت بھی خلیفۂ اول کے انتخاب پر متفق ہوئی تو اس وقت آیا دوسرے خلیفہ کے انتخاب میں بھی عوام کی مرضی کو مدِنظر رکھا گیا یا انہیں خلیفۂ اول نے منتخب کیا؟ تو پھر یہاں انتخاب کا معیار کیوں تبدیل کیا گیا؟ اگر خلیفہ اول کو دوسرا خلیفہ مقرر کرنے کا حق تھا تو خدا کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حق کیوں نہیں حاصل تھا؟!

حرمِ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے خطیب نے کہا: مذکورہ بالا تمام سوالات کے ساتھ دیگر سوالات بھی اس کتاب میں اٹھائے گئے ہیں جن کا جواب ان لوگوں کو دینا چاہیے جو حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی کا انکار کرتے ہیں۔

حوزہ/ حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے بتایا کہ اسلام میں مسئلہ تحکیم اور اصلاح بین الناس کی ضرورت و اہمیت قرآن و احادیث میں نہایت واضح ہےمگر یہ بہت کٹھن اور دشوار گزار منزل ہے کیونکہ ہمیں ملکی قانون کو بھی مد نظر رکھنا ہوتا ہے اور شرعی احکام کی پاسداری بھی کرنی ہوتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،بڈگام - سرینگر کشمیر/ حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن نے بڈگام کشمیر میں شرعی عدالت کی روایت کو پروقار طور پر جاری و ساری رکھا ہوا ہے۔

اسلام میں مسئلہ تحکیم کی ضرورت و اہمیت

بیشک اللہ و رسول کے نزدیک بندوں کے جو اعمال و افعال محبوب و پسندیدہ ہیں ان میں لوگو ں کے درمیان معاملات کا تصفیہ کرا دینا ،صلح سمجھوتا کرادینا ،تحکیم و حکم اور حاکم شرع کا کردار ادا کرنا نمایاں اور سر فہرست ہے۔ اس حقیقت سے کا انکار کی کوئی گنجائش نہیں کہ ادیان عالم میں صرف اسلام ہی ایسا دین ہے جو زندگی کے ہرموڑ پر مکمل رہنمائی فرماتا ہے، ذاتی و انفرادی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کی تمام پیچیدگیوں اور الجھنوں کوسلجھاتا ہے، اس کا مؤثراور آسان حل بھی پیش کرتا ہے۔

قرآن کریم میں ہے :

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ (النساء:۵۹)
’’اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور والیانِ امر کی جو تم میں سے ہوں. پھر اگر باہم جھگڑپڑو کسی چیز میں تو اس کو لوٹا دو اللہ اور رسولؐ کی طرف اگر یقین رکھتے ہو اللہ پر اور آخرت کے دن پر‘‘۔
قرآن مجید ایک اور مقام پر ارشاد رب العزت ہو رہا ہے:۔
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُواْ بَینْ أَخَوَیکمُ وَ اتَّقُواْ اللَّهَ لَعَلَّکمُ تُرْحَمُونَ ﴿الحجرات ۱۰﴾
مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان اصلاح کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ شاید تم پر رحم کیا جائے‘‘۔

اسلام میں مسئلہ تحکیم کی ضرورت و اہمیت

ہندوستان میں مختلف شہروں میں شرعی عدالتیں اسلامی خدمت کے طور پر مسلمانوں کے معاملات میں خاص رول ادا کررہی ہیں مگر انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر (بڈگام) کے طرز پر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی دام ظلہ العالی کی طرح شاید کہیں باقاعدہ نظام و اصول اور پابندی کے ساتھ یہ خدمت انجام نہیں دی جاتی۔

اسلام میں مسئلہ تحکیم کی ضرورت و اہمیت

بڈگام میں تمام تر دینی ،مذہبی،قومی،سماجی اور ثقافتی امور بشمول شرعی عدالتی نظام کا رواج آیۃاللہ آغا سید یوسف الموسوی الصفوی طاب ثراہ نےاپنے داماد اور برادر زادہ (بھتیجہ)آیۃ اللہ آغا سید مصطفےٰ الموسوی الصفوی طاب ثراہ کی نصرت و حمایت اور باہمی مشارکت و معاونت سے اپنے مکان میں رائج و نافذ کیا تھا ،دونوں حضرات نے شانہ بشانہ مل ،ایک دوسرے کے لئے دست راست بن کر دینی و تعلیمی مشن کو پروان چڑھایا تھا ۔آیۃ اللہ آغا یوسف صاحب قبلہ کی وفات کے بعد آیۃ اللہ آغا سید مصطفےٰ الموسوی الصفوی صاحب قبلہ اپنے مکان میں شرعی عدالت کا نظام بدستور شان و شوکت کے ساتھ چلاتے رہے، آیۃ اللہ آغا سید مصطفےٰ الموسوی الصفوی صاحب قبلہ کی رحلت کے بعد ان کے فرزند ارجمند حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن دام ظلہ نے اپنے مکان میں اپنی ذاتی زمین پر علٰحدہ سے انجمن شرعی کا دفتر اور اسی میں شرعی عدالت کے لئے شاندار وسیع نہایت پر فضا عمارت تعمیر کرائی اور اس میں ہر جمعرات کو ۱۰؍بجے دن سے ۴؍بجے شام تک باقاعدہ شرعی عدالت کا انعقاد ہوتا ہے جس میں اکثر جامعہ باب العلم بڈگام کے کچھ سینیر اساتذہ اور کچھ اسلامی اسکالرز اور خود حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی موجود ہوتے ہیں اور لوگوں کے معاملات کا تصفیہ کرتے ہیں۔اس طرح حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی بحیثیت صدر انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر اپنے اب و جد (بابا اور نانا) دونوں کے قومی و مذہبی و سماجی و تعلیمی مشن کو بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں۔آج اس موقع پر حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا ابن حسن املوی واعظ بھی بطور خاص موجود رہے۔

اسلام میں مسئلہ تحکیم کی ضرورت و اہمیت

حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے بتایا کہ اسلام میں مسئلہ تحکیم اور اصلاح بین الناس کی ضرورت و اہمیت قرآن و احادیث میں نہایت واضح ہےمگر یہ بہت کٹھن اور دشوار گزار منزل ہے کیونکہ ہمیں ملکی قانون کو بھی مد نظر رکھنا ہوتا ہے اور شرعی احکام کی پاسداری بھی کرنی ہوتی ہے۔

مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سپاہ پاسداران کی فضائی افواج کے سربراہ جنرل امیر علی حاجی زادہ نے کہا کہ غزہ ڈرون ہماری فضائیہ کے ہزاروں منصوبوں میں سے ایک ہے جبکہ آپ اس میدان میں دشمن کے تجزیات دیکھیں اور ان کے بیانات کو ملاحظہ کریں، کہ امریکی ڈرون ٹکنالوجی کے چھوٹے سے شعبے کے متعلق کہتے ہیں کہ اس شعبے میں ۸۰ سال کے بعد ان کی فضائی برتری کو ختم کردیا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ دشمن کے بقول فضائیہ کا شعبہ اور ڈرون اور میزائل طاقت جوہری معاملے سے بھی زیادہ اہم مسئلہ ہے۔ البتہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ دفاعی نظام میں بھی یہی سلسلہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم سے ہم تمام شعبوں میں طاقتور ہوچکے ہیں۔

سپاہ پاسداران کے سربراہ نے مزید کہا کہ یہ جو دشمن اس صلاحیت کا اقرار کر رہا ہے مسئلے کی گہرائی کو سمجھیں اور الحمد للہ آج ہمارے ملک، مسلح افواج اور سپاہ نے قابل قدر مقام اور حقیقی برتری حاصل کرلی ہے جبکہ دشمن بھی اعتراف کررہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباو کی پالیسی ذلت آمیز شکست کھا چکی ہے اور مفلوج کنندہ پابندیاں بھی ناکام ہوچکی ہیں اور یہ مشکلات جو امریکہ کے دامنگیر ہیں، ایران کی وجہ سے ہیں۔

خطے کے بعض ممالک کا صہیونی رجیم کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے حوالے سے جنرل حاجی زادہ کا کہنا تھا کہ کچھ ملک صہیونی رجیم کی پناہ میں جا رہے ہیں جبکہ یہ رجیم کینسر کا ایک غدہ ہے اور یہ لوگ ارادی یا غیر ارادی طور پر کینسر کے غدے کو اپنے ملک میں منتقل کر رہے ہیں۔ اگر انہوں نے پرہیز نہ کی تو صہیونی رجیم ان کی کوئی مدد نہیں کرے گی بلکہ یہ کینسر کا غدہ ان کے لئے بھی وبال جان بن جائے گا اور جلد یا بدیر یہ بنیادی مشکلات کا شکار ہوجائیں گے، تاہم ہم مطلق خاموشی کے ساتھ اس عمل کا جائزہ لے رہے ہیں۔ 

انہوں نے ڈرون طاقت میں اضافے کے حوالے سے رہبر انقلاب اسلامی کی ہدایات کے متعلق کہا کہ ڈرون طاقت ایک نئی اور نوزائیدہ طاقت ہے اور اس کی مختلف شاخیں ہیں اور اس کے بہت سے شعبے ایرانی ایجاد ہیں۔ 

سپاہ پاسدارن کی فضائیہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ زمین سے ہوا میں مار کرنے والے ڈرون بیسڈ دفاعی میزائل ایرانی ایجاد ہیں اور اس طرح کی چیزیں بہت زیادہ ہیں۔ ہمیں کہنا پڑے گا کہ چاہے دفاعی شعبے میں میزائلوں کی ایکوریسی اور صحیح نشانے پر بیٹھنا ہو یا ہماری ریڈار اور ڈرون کے شعبے میں کامیابیاں ہوں سب کچھ رہبر معظم انقلاب کی ہدایات اور تدابیر کے مکمل طور پر عملی بنانے کے مرہون منت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آج دشمن اس طاقت سے پریشان ہیں اور مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں، ایران کو محدود کرنے کے لئے کوئی قانون پاس کرنے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، یہ سب کچھ ان تدابیر کو عملی بنانے کا نتیجہ ہے اور الحمد للہ آج ہم دوسروں سے کئی درجہ اوپر طاقت کے مالک ہیں۔ 
سپاہ پاسداران کی فضائیہ کے سربراہ نے سیٹلائیٹ نور کی صورتحال کے بارے میں بھی بتایا کہ جو ۵۰۰ کلومیٹر سے زائد کی بلندی پر موجود ہے اور اعلان کیا کہ رواں سال نیا خلائی سیٹلائٹ راکٹ قائم بھی خلا میں بھیجیں گے۔

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے غرب اردن کے مختلف شہروں منجملہ نابلس اور قباطیہ پر صیہونی فوجیوں کی جارحیت کے مقابلے میں فلسطینی مجاہدین کی بہادری، شجاعت و دلیری کی قدردانی کی۔

تحریک حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے کہا کہ غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں نے فلسطینی علاقوں کو جارحیت کا نشانہ بنایا جبکہ فلسطینی جیالوں نے جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

تحریک حماس کے ترجمان نے کہا کہ غاصب صیہونیوں کو سیاسی و سیکیورٹی بحران کا سامنا ہے اور وہ فلسطینیوں کی استقامت کا مقابلہ کرنے کی توانائی نہں رکھتے۔

اس سے قبل فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے بھی فلسطینیوں کے خلاف غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں کی جارحیت اور ظلم و ستم پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطین کی تحریک استقامت شہدا کا خون ہرگز پایمال نہیں ہونے دے گی۔

واضح رہے کہ آج غرب اردن میں غاصب صیہونی فوجیوں اور فلسطینیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں دو فلسطینی شہید اور 9 زخمی ہوئے تھے۔

ستر برسوں سے زائد عرصے سے فلسطین کے مظلوم عوام کے بنیادی اور فطری حقوق کو روندنے پر مصر غاصب صیہونی حکومت اب تک لاتعداد انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کر چکی ہے جس میں قتل و غارت، مکانات کی مسماری، باغات اور زرعی اراضی کی تباہی، ناجائز قبضہ، گرفتاری، ظلم و بربریت، جسمانی ایذائیں، اقتصادی محاصرہ اور دیگر بہت سے اعصاب شکن اقدامات شامل ہیں۔

 

 فتح مکہ کے بعد پیغمبر اسلام (ص) نے نجراں کے نصاریٰ کی طرف خط لکھا جس میں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ نصاریٰ نجراں نے اس مسئلہ پر کافی غور و فکر کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ساٹھ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو حقیقت کو سمجھنے اور جاننے کے لئے مدینہ روانہ ہو۔

 

نجران کا یہ قافلہ بڑی شان و شوکت اور فاخرانہ لباس پہنے مدینہ منورہ میں داخل ہوتا ہے ۔ میر کارواں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کے گھر کا پتہ پوچھتا ہے، معلوم ہوتا کہ پیغمبر اپنی مسجد میں تشریف فرما ہیں ۔

 

کارواں مسجد میں داخل ہوتا ہے ۔پیغمبر نے نجران سے آئے افراد کے نسبت بے رخی ظاہر کی ، جو کہ ہر ایک کیلئے سوال بر انگیز ثابت ہوا ۔ ظاہر سی بات ہے کارواں کے لئے بھی ناگوار گذرا کہ پہلے دعوت دی اب بے رخی دکھا رہیں ہیں ! آخر کیوں ۔

 

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی علی(ع) نے اس گتھی کو سلجھایا ۔ عیسائیوں سے کہا کہ آپ تجملات اور سونے جواہرات کے بغیر، عادی لباس میں آنحضرت(ص)  کی خدمت میں حاضر ہو جائیں ، آپکا استقبال ہوگا۔

 

اب کارواں عادی لباس میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ نے ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور انہیں اپنے پاس بٹھایا ۔میر کارواں ابوحارثہ نے گفتگو شروع کی : آنحضرت کا خط موصول ہوا ، مشتاقانہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ سے گفتگو کریں۔

 

-جی ہاں وہ خط میں نے ہی بھیجا ہے اور دوسرے حکام کے نام بھی خط ارسال کرچکا ہوں اور سب سے ایک بات کے سوا کچھ نہیں مانگا ہے وہ یہ کہ شرک اور الحاد کو چھوڑ کر خدای واحد کے فرمان کو قبول کرکے محبت اور توحید کے دین اسلام کو قبول کریں ۔

 

-اگر آپ اسلام قبول کرنے کو ایک خدا پر ایمان لانے کو کہتے ہو تو ہم پہلے سے ہی خدا پر ایمان رکھتے ہیں ۔

 

-اگر آپ حقیقت میں خدا پر ایمان رکھتے ہو تو عیسی کو کیوں خدا مانتے ہو اور سور کے گوشت کھانے سے کیوں اجتناب نہیں کرتے ۔

 

- اس بارے میں ہمارے پاس بہت سارے دلائل ہیں؛ عیسی مردوں کو زندہ کرتے تھے

 

۔ اندھوں کو بینائی عطا کرتے تھے ، پیسان سے مبتلا بیماروں کو شفا بخشتے تھے ۔

 

- آپ نے عیسی علیہ السلام کے جن معجرات کو گنا وہ صحیح ہیں لیکن یہ سب خدای واحد نے انہیں ان اعزازات سے نوازا تھا اس لئے عیسی کی عبادت کرنے کے بجائے اسکے خدا کی عبادت کرنی چاہئے ۔

 

پادری یہ جواب سن کے خاموش ہوا۔ اور اس دوراں کارواں میں شریک کسی اور نے ظاہرا شرحبیل نے اس خاموشی کو توڑ :

 

-عیسی، خدا کا بیٹا ہے کیونکہ انکی والدہ مریم نے کسی کے ساتھ نکاح کئے بغیر انہیں جنم دیا ہے ۔

 

اس دوران اللہ نے اپنے حبیب کو اسکا جواب وحی فرمایا: عیسی کی مثال آدم کے مانند ہے؛کہ اسے(ماں ، باپ کے بغیر)خاک سے پیدا کیا گیا۔إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثِمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ{آل عمران /59}

 

اس پر اچانک خاموشی چھا گئ اور سبھی بڑے پادری کو تک رہیں ہیں اور وہ خود شرحبیل کے کچھ کہنے کے انتظار میں ہے اور خود شرحبیل خاموش سرجھکائے بیٹھا ہے۔

 

آخر کار اس رسوائی سے اپنے آپ کو بچانے کیلئے بہانہ بازی پر اتر آئے اور کہنے لگے ان باتوں سے ہم مطمئن نہیں ہوئےہیں اس لئے ضروری ہے کہ سچ کو ثابت کرنے کے لئے مباھلہ کیا جائے ۔ خدا کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہو کے جھوٹے پر عذاب کی درخواست کریں۔

 

ان کا خیال تھا کہ ان باتوں سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ اتفاق نہیں کریں گے ۔ لیکن ان کے ہوش آڑ گئے جب انہوں نے سنا:

 

اے عیسائیو! اپنے بیٹوں ، خواتین اور اپنے نفوس کو لے کے آئیں ؛ اسکے بعد مباھلہ کرتے ہیں اور جھوٹے پر الہی لعنت طلب کریں گے ۔فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ{آل عمران/61}

 

اس پرطے یہ ہوا کہ کل سورج کے طلوع ہونے کے بعد شہر سے باہر (مدینہ کے مشرق میں واقع)صحرا میں ملتے ہیں ۔ یہ خبر سارے شہر میں پھیل گئ ۔ لوگ مباھلہ شروع ہونے سے پہلے ہی اس جگہ پر پہنچ گئے ۔ نجران کے نمایندے آپس میں کہتے تھے کہ : اگر آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ)اپنے سرداروں اور سپاہیوں کے ساتھ میدان میں حاضر ہوتے ہیں ، تو معلوم ہوگا کہ وہ حق پر نہیں ہے اور اگر وہ اپنے عزیزوں کو لے آتا ہے تو وہ اپنے دعوے کا سچا ہے۔

سب کی نظریں شہر کے دروازے پر ٹکی ہیں ؛ دور سے مبہم سایہ نظر آنے لگا جس سے ناظرین کی حیرت میں اضافہ ہوا ، جو کچھ دیکھ رہے تھے اسکا تصور بھی نہیں کرتے تھے ۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ ایک ہاتھ سے حسین علیہ السلام کو آغوش میں لئے ہوئےہیں اور دوسرے ہاتھ سےحسن علیہ السلام کوپکڑ کر بڑ رہے ہیں ۔ آنحضرت کے پیچھے پیچھے انکی دختر گرامی سیدۃ النساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا چل رہی ہیں اور ان سب کے پیچھے آنحضرت کا عموزاد بھائی ، حسنین کا بابا اور فاطمہ کا شوہر علی ابن ابیطالب علیہ السلام ہیں۔

 

صحرا میں ہمھمہ اور ولولے کی صدائیں بلند ہونے لگیں ۔ کوئی کہہ رہا ہے دیکھو ، پیغمبر اپنے سب سے عزیزوں کو لےآیا ہے۔ دوسرا کہہ رہا ہے اپنے دعوے پر اسے اتنا یقین ہے کہ ان کو ساتھ لایا ہے ۔ اس بیچ بڑے پادری نے کہا : میں تو ان چہروں کو دیکھ رہا ہوں جو اگر پہاڑ کی طرف اشارہ کریں وہ بھی اپنی جگہ سے کھستا ہوا نظر آئے گا اگر انہوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو ہم اسی صحرا میں قہر الہی میں گرفتار ہو جائیں گے اور ہمارا نام صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا ۔ دوسرے نے کہا تو پھراس کا سد باب کیا ہے ؟

 

جواب ملا اس کے ساتھ صلح کریں گے اور کہیں گے کہ ہم جزیہ دیں گے تاکہ آپ ہم سے راضی رہیں۔ اور ایسا ہی کیا گیا۔

یہ دن اسلام کی فتح کا دن ہے اسی لئے مسلمان اس دن عید مناتے ہیں اور تاریخ اسلام میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔