حضرت عیسی علیہ السلام ،خدا کے عظیم پیغمبر

Rate this item
(0 votes)

حضرت عیسی علیہ السلام ،خدا کے عظیم پیغمبر

آج اس پیغمبر کا یوم ولادت ہے جس نے حضرت مریم جیسی عظیم خاتون کی آغوش عصمت میں آنکھ کھولی وہ پیغمبر جو اقوام عالم کے لئے مہربانی اور عدالت وانصاف کی بشارت دینے والا اور پیغام رساں تھا

جس نے گہوارے میں گفتگو کی اور غفلت کے شکار لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: میں خدا کا بندہ ہوں، خدانے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے ۔ اور جہاں بھی رہوں بابرکت قرار دیاہے اور جب تک زندہ رہوں نماز و زکوٰٰۃ کی وصیت کی ہے اور اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا بنایا ہے۔ اور ظالم وبد نصیب نہیں بنایاہے اور سلام ہے مجھ پر اس دن جب میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن دوبارہ زندہ اٹھایا جاؤں گا۔

حضرت عیسی مسیح علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے دنیا کے عدل نوازوں اور انصاف پسندوں کی خدمت میں مبارک باد پیش کررہے ہیں۔

حضرت عیسی علیہ السلام خداوند عالم کے اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں اور قرآن نے بڑے احترام کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے ۔ آپ کی ولادت کی داستان بھی بڑی حیرت انگیز ہے اور قرآن کریم نے اس کی جانب اشارہ کیا ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کو حضرت حق نے بغیر باپ کے پیداکیا آپ کی والدۂ گرامی حضرت مریم(س) کو خدائے قادر وتوانا نے شادی اور شوہر کے بغیر ماں کے عظیم مرتبہ پر فائز کیا قرآن کریم میں مریم بنت عمران کے بارے میں خدا فرماتاہے کہ وہ بڑی پرہیز گار اور پاک دامن خاتون تھیں۔

بچپن سے ہی معرفت الہی اور عبودیت و تہذیب نفس کے اس مرتبے پر فائز تھیں کہ ان کے لئے آسمانی غذائیں اور نعمتیں آتی تھیں ایک روز حضرت مریم (س) اپنے معبود سے راز ونیاز میں مشغول تھیں کہ دفعتا سید الملائکہ جبریل نازل ہوئے اور آپ کو ایک پاکیزہ بچے کی پیدائش کی بشارت دی۔خدا وند کریم نے سورۂ مریم کی سولہ سے اکیس تک کی آیات میں اس داستان کو بیان فرمایاہے ۔قرآن کریم نے حضرت عیسی (ع) اور ان پر نازل ہونے والی کتاب انجیل کی تصدیق کرتے ہوئے موجودہ مسیحیت میں رائج بعض اعتقادات کی نفی کی ہے جن میں تثلیث اور اس کے اصول و معیارات شامل ہیں۔

تثلیث کے معنی ، کسی چیز کو تین حصّوں میں تقسیم کیا جانا ہے۔موجودہ دین مسیحیت کے اعتقادات میں، تثلیث بنیادی عقیدہ ہے جو تین خداؤں یعنی باپ بیٹا اور روح القدس کی الوہیت کی بنیاد پر استوار ہے۔ نظریۂ تثلیث ، ایک سہ گانہ حقیقت کی حیثیت سے خدا کو درک کرنے اور اس کی معرفت حاصل کرنے کی تبلیغ کرتاہے ۔اس عقیدہ کی بنیاد پر خدا کی ذات یگانہ ہے لیکن تین جداگانہ ہستیوں باپ ، بیٹا روح القدس سے ملکر ایک ہے ۔یہ تینوں جداگانہ تشخص کے باوجود ایک ذات ہے اور ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں تثلیث کے عقیدے میں عیسی وہی ذات الہی ہے جو پیکر بشر میں ظاہر ہوئی ہے ۔اور حضرت مریم کے بطن مبارک میں زیور جسم سے آراستہ ہوئی ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ چاروں انجیلوں میں سے کسی میں بھی مسئلۂ تثلیث کی جانب اشارہ نہیں کیا گیاہے ۔اسی لئے مسیحی محققین کا کہناہے کہ انجیلوں میں عقیدۂ تثلیث کا سرچشمہ واضح نہیں ہے ۔ جیسا کہ بعض مورخین نے بھی لکھاہے کہ پہلے کے مسیحی تثلیث کا عقیدہ نہیں رکھتے تھے ۔عقیدۂ تثلیث تیسری صدی عیسوی کے بعد عیسائیوں کے درمیان رائج ہوا۔در حقیقت یہ بدعت، تھی جو حضرت عیسی کے بارے میں غلو اور اسی طرح مسیحیوں کے دیگر اقوام وملل میں شمولیت کے نتیجے میں مسیحیت میں شامل ہوگئی ۔خداوند کریم سورۂ مائدہ کی 77 ویں آیت میں ارشاد فرماتاہے کہ اے پیغمبر کہدو کہ اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو اور زیادہ روی سے کام نہ لو اور حق بات کے سوا کچھ نہ کہو اور ایسوں کی پیروی نہ کرو کہ جو خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا ۔دین مسیحیت میں خدا کی یکتائی کی جانب اشارہ کیا گیا ہے لیکن تثلیث کےعقیدے کے ساتھ خدا کا یگانہ و یکتا ہونا ، تضاد پائے جانے کے باعث درک وفہم میں شدید مشکلات کا باعث بناہے ۔یہ نظریہ، عقیدۂ تثلیث کو راز سربستہ اور عقل وفہم کی دسترس سے بالاتر سمجھتاہے۔غیر مسیحی دانشوروں کا کہنا ہے کہ صرف نظریۂ تثلیث قابل اثبات نہیں ہے بلکہ عہد جدید کی کتاب میں بھی ایسی باتیں ملتی ہیں جو عقیدۂ تثلیث کی بیخ کنی کرتی ہیں۔ ان دانشوروں کا کہنا ہے کہ انجیل میں ایسی عبارتیں موجود ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام سے ایسی باتیں منقول ہیں جو مکمل طور سے عقیدۂ تثلیث کے منافی ہیں۔مثال کے طور پر انجیل یوحنّا میں آیاہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ حیات جاودانی یہ ہے کہ لوگ تجھے اس حیثیت سے کہ تو خدائے یکتاہے اور عیسی مسیح کو مبعوث کیا ہے ، پہچانیں اور معرفت حاصل کریں۔ اس بیان کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام معرفت خدائے واحد و یکتا اور خدا کے رسول کی حیثیت سے مسیح کی معرفت کے حصول کو حیات جاوید سے تعبیر کرتے ہیں۔ جب کہ اس بات اور عقیدۂ تثلیث میں تضاد پایاجاتاہے۔اس لئے کہ حضرت مسیح نے یہ نہیں کہا ہے کہ تین وجہ تثلیث کی جداگانہ صورت میں معرفت حاصل کرنا حیات جاوید ہے یا یہ بھی نہیں فرمایاکہ عیسی پیکر بشری میں خدا کی ہی ذات ہے بلکہ وہ اپنےکو خدا کا رسول اور فرستادہ سمجھتے تھے۔

Read 1459 times

Add comment


Security code
Refresh